سوشل میڈیا:معلومات یا گمراہی؟

سوشل میڈیا: معلومات یا گمراہی؟

کیا سوشل میڈیا ہماری زندگی میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے یا منفی؟ یہ سوال بیشتر اوقات ہمارے ذہن میں آتا ہے اور ہم اپنے تجربات کے مطابق اس کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مثلاً فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر وغیرہ نہ صرف شعور بیدار کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سینکڑوں معاشرتی مسائل اور مظلوموں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بھی ہیں۔

مصنوعی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے سوشل میڈیا کی مقبولیت کو بھی بڑھایا ہے جس کی وجہ سے بے شمار کاروباری مراکز سوشل میڈیا کے ذریعے منافع کماتے نظر آتے ہیں۔ جہاں سوشل میڈیا کاروباری مراکز کے لیے فائدہ مند ہے وہیں یہ ہمارے معاشرے کی حقیقی عکاسی بھی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ معاشرتی مسائل اور جرائم پیشہ افراد کا پردہ چاک کرتا ہے۔ دنیا بھر کی خبریں ہم تک سوشل میڈیا کے ذریعے منٹوں میں پہنچ جاتی ہیں۔

سوشل میڈیا کی بدولت رجسٹرڈ انسانی حقوق کے اداروں نے لوگوں میں خدمتِ خلق کے جذبے کو بھی اجاگر کیا ہے۔ جس کی بدولت ہم گھر بیٹھے ضرورت مندوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ آموزشی اور تربیتی لحاظ سے بھی سوشل میڈیا کے بے شمار فوائد ہیں۔ مفت تعلیم اس کا نمایاں مثبت پہلو ہے۔ اس کے علاوہ ہم گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے کسی بھی ملک کے لذیذ کھانے تیار کر سکتے ہیں۔ کاروبار ہو یا تعلیمی و تربیتی معلومات، سوشل میڈیا زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے اور اس کے باعث بیشتر ترقیاتی کام کیے جا چکے ہیں۔

ہم سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار بھی کر سکتے ہیں اور گھر بیٹھے لوگوں میں آگاہی پھیلا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ جہاں پچھلی دہائیوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پیغام پہنچانے میں کئی دن لگ جاتے تھے وہاں اب سوشل میڈیا کی بدولت، محض ایک بٹن دبانے سے ہم دنیا میں کسی بھی جگہ اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔

اب یہ سوال ہمارے ذہن میں ضرور ابھرتا ہے کہ سوشل میڈیا کے بے شمار فوائد ہیں تو اس کے نقصانات کیا ہو سکتے؟ یا یہ واقعی نقصان دہ ہے کہ نہیں؟ یہ ہمارے نقصان کا باعث کن صورتوں میں بنتا ہے؟ سوشل میڈیا کی بڑھتی مقبولیت جہاں بنی نوعِ انسان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرتی نظر آتی ہے وہیں اس کا حد سے زیادہ استعمال ہمارے معاشرے کے لیے نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ان گنت فائدوں کے ساتھ ساتھ اس کے بے شمار نقصانات بھی ہیں، جن میں سب سے بڑا نقصان احساسِ کمتری ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر مصنوعی اور غیر حقیقی مواد پیش کیا جاتا ہے جسے دیکھنے والے اسے حقیقت تصور کرکے احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ احساسِ کمتری کا شکار لوگوں میں نوجوان نسل کی شرح زیادہ ہے، جو کسی بھی ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس منفی پہلو کی وجہ سے نوجوانوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا ہمارے ذہنوں میں خوف کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ جہاں قدیم دور میں پیغام ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں خط لکھے جاتے تھے اور اس عمل میں کئی دن گزر جاتے تھے وہاں اب ہر خبر (خواہ اچھی ہو یا بری) سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک چند لمحوں میں پہنچ جاتی ہے، جن میں بعض خبریں قتل و غارت گری کے بارے میں بھی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے انسان خود کو غیر محفوظ اور خوفزدہ محسوس کرتا ہے۔

سوشل میڈیا کے منفی پہلوؤں میں سے ایک سستی اور کاہلی ہے۔ اس کا حد سے زیادہ استعمال انسان میں کاہلی پیدا کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود بعض خبریں افواہوں پر مبنی ہوتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان خبروں کا مقصد انتشار اور تفریق پھیلانا ہوتا ہے۔ اور ایسی بے بنیاد خبریں انسان پر ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہیں۔ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال توازن کو بگاڑنے کے ساتھ ساتھ معمول کے کاموں میں رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ سوشل میڈیا ہماری جسمانی صحت کے لیے بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے استعمال سے قیمتی وقت کا ضیاع اور ذاتی معلومات کے افشا ہونے کا خدشہ بھی بڑھتا ہے۔ اس کا حد سے زیادہ استعمال انسان کے اندر بے وجہ بے چینی اور اداسی پیدا کرتا ہے۔

سوشل میڈیا کے استعمال میں توازن برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ ہمارا دین بھی ہمیں میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال نقصان کا باعث بنتا ہے۔

 

Aamnah raja yaseen
About the Author: Aamnah raja yaseen Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.