ایک ٹافی سے عالمی ثقافتی علامت تک

ایک ٹافی سے عالمی ثقافتی علامت تک
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

کبھی کبھی کسی ملک کی ثقافت بڑی نمائشوں، تاریخی عمارتوں یا باقاعدہ ثقافتی مہمات کے ذریعے نہیں بلکہ ایک ایسی معمولی چیز کے ذریعے دنیا تک پہنچتی ہے جسے لوگ برسوں سے اپنے روزمرہ کا حصہ سمجھتے آئے ہوں۔ چین کی مشہور دودھیا ٹافی ’’وائٹ ریبٹ‘‘ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ نصف صدی سے زیادہ پہلے یہ ٹافی ایک سفارتی تحفے کے طور پر امریکہ پہنچی تھی، لیکن آج اس کا خوبصورت ریپر دنیا کے مختلف حصوں میں ایک نئے انداز سے توجہ حاصل کر رہا ہے۔

1972 میں اس وقت کے چینی وزیر اعظم چو این لائی نے دورۂ چین پر آنے والے امریکی صدر رچرڈ نکسن کو وائٹ ریبٹ دودھیا ٹافیاں بطور سرکاری تحفہ پیش کی تھیں۔ اس وقت یہ ٹافی چین کی ایک عام مگر مقبول مٹھائی تھی، تاہم آج اس کے ریپر نے خود ایک الگ شناخت حاصل کر لی ہے۔

حال ہی میں سماجی رابطوں کے ایک پلیٹ فارم پر وائٹ ریبٹ دودھیا ٹافی کی دو تصاویر نے غیر معمولی توجہ حاصل کی۔ ایک تصویر میں ٹافی اپنے معروف سرخ، نیلے اور سفید ریپر میں لپٹی ہوئی تھی، جبکہ دوسری میں اسی کاغذ کو مکمل طور پر کھول کر دکھایا گیا تھا۔ چند ہی دنوں میں اس پوسٹ کو تقریباً 60 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا اور لاکھوں افراد نے اسے پسند کیا۔ تبصروں میں وائٹ ریبٹ دودھیا ٹافی کے ٹیٹو، ٹی شرٹس، موبائل فون کورز اور محفوظ کیے گئے ریپرز کی تصاویر بھی سامنے آنے لگیں۔

چینی لوگوں کے لیے یہ منظر شاید حیران کن تھا، کیونکہ جس ڈیزائن کو بیرون ملک ایک شاندار گرافک تخلیق کے طور پر دریافت کیا جا رہا تھا، وہ چین میں کئی نسلوں کے لیے بچپن کی ایک عام یاد سے زیادہ کچھ نہیں۔ کبھی بچے اس کے ریپر کو ٹافی کھانے کے بعد پھینک دیتے تھے، کبھی اسے اسکول کی کتابوں کے درمیان رکھ دیتے تھے اور کبھی اس میں باقی رہ جانے والی ہلکی سی دودھیا خوشبو کو بھی محفوظ یاد سمجھتے تھے۔

وائٹ ریبٹ دودھیا ٹافی نے اپنی موجودہ شناخت اور شکل 1959 میں حاصل کی۔ اس سے پہلے اس ٹافی کے پیکج پر ایک مختلف ڈیزائن استعمال کیا جاتا تھا۔ موجودہ ریپر میں سرخ پس منظر کے درمیان سفید خرگوش دکھائی دیتا ہے، جبکہ دونوں جانب نیلے اور سفید خرگوشوں کی قطاریں اور چینی و انگریزی تحریر اسے ایک مکمل بصری ساخت فراہم کرتی ہے۔ کاغذ کو مکمل کھولنے پر یہ کسی چھوٹے پوسٹر کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

یہی سادگی شاید اس ڈیزائن کی سب سے بڑی طاقت بن گئی ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے چین کی تاریخ، زبان یا ثقافت سے واقف ہونا ضروری نہیں۔ سفید خرگوش، واضح رنگ، متوازن ترتیب اور روایتی انداز کی تحریر کسی بھی شخص کی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ اس کے بعد اس ڈیزائن کے پیچھے چھپی کہانی جاننے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔

چین میں وائٹ ریبٹ صرف ایک ٹافی نہیں بلکہ ایک پورے دور کی یاد بھی ہے۔ ایک ایسا زمانہ جب مٹھائیاں آج کی طرح ہر وقت دستیاب نہیں تھیں، تہواروں پر ٹافیاں خاص اہمیت رکھتی تھیں اور دودھیا ذائقے والی یہ ٹافی بچوں کے لیے خوشی کی ایک خاص چیز سمجھی جاتی تھی۔ لیکن بیرون ملک نئی نسل کے بہت سے افراد اس ڈیزائن کو ان یادوں کے بغیر دیکھتے ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک قدیم مگر تازہ نظر آنے والا تجارتی ڈیزائن ہے۔

اس ڈیزائن کی کشش کا ایک سبب اس کا روایتی اور ہاتھ سے بنایا ہوا انداز بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں انتہائی صاف اور نفیس تصاویر تیار کر سکتی ہے، ہاتھ سے بنائی گئی شکلیں اور پرانے طرز کی تحریر کسی خاص زمانے اور انسانی تخلیق کا احساس دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پرانے اور ثقافتی گہرائی رکھنے والے ڈیزائن ایک ایسے دور میں دوبارہ اہمیت حاصل کر رہے ہیں جہاں ہر چیز تیزی سے ڈیجیٹل اور یکساں ہوتی جا رہی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس ریپر کو اتنے برسوں بعد اچانک عالمی توجہ کیوں ملی؟ اس کا تعلق چین کے بارے میں بیرون ملک بڑھتی ہوئی دلچسپی سے بھی ہے۔ حالیہ برسوں میں چین کے کھانوں، موبائل ایپس، کھیلوں، کھلونوں، فیشن اور روزمرہ زندگی کے معمولات کے بارے میں عالمی سطح پر تجسس بڑھا ہے۔ سماجی رابطوں کے ذرائع نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔ ایک شخص کسی چینی چیز کی تصویر دیکھتا ہے، اسے دوسروں کے ساتھ شیئر کرتا ہے، پھر لوگ اس کے پس منظر اور تاریخ کے بارے میں جاننے لگتے ہیں۔

یہاں وائٹ ریبٹ ٹافی کی کہانی ایک اہم پہلو سامنے لاتی ہے۔ دنیا میں چین کا تعارف صرف قدیم تہذیب، عظیم تاریخی مقامات، مارشل آرٹس یا روایتی کھانوں تک محدود نہیں رہا۔ اب چین کی روزمرہ زندگی سے جڑی عام اشیا بھی عالمی ثقافتی گفتگو کا حصہ بن رہی ہیں۔

سماجی رابطوں کے الگورتھم نے بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین سے متعلق مواد جب ایک مخصوص کمیونٹی سے نکل کر وسیع عالمی سامعین تک پہنچتا ہے تو ایسی چیزیں بھی نئی زندگی حاصل کر لیتی ہیں جنہیں ان کے اصل ماحول میں شاید معمولی سمجھا جاتا تھا۔ وائٹ ریبٹ ٹافی کا ریپر بھی اسی عمل کی ایک مثال ہے۔

ثقافت کے عالمی سفر کا یہ انداز روایتی ثقافتی تشہیر سے مختلف ہے۔ عام طور پر ثقافتی مہم میں پہلے لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ کسی چیز کی اہمیت کیا ہے اور پھر اس میں دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سماجی رابطوں کی دنیا میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ کوئی شخص پہلے تصویر دیکھتا ہے، ڈیزائن پسند کرتا ہے، ٹافی خریدتا ہے یا ریپر محفوظ کرتا ہے، پھر اس کے ملک، تاریخ اور ثقافت کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا ہے۔

یہی شاید چین کی ثقافتی کشش کے لیے ایک اہم سبق بھی ہے۔ عالمی سطح پر اثر پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ یہ ضروری نہیں کہ کسی چیز کو غیر ملکی ذوق کے مطابق تبدیل کیا جائے۔ بعض اوقات اپنی اصل شناخت ہی سب سے مضبوط پہچان بن جاتی ہے۔ وائٹ ریبٹ ٹافی کا وہی ریپر آج بھی توجہ حاصل کر رہا ہے جسے کئی دہائیوں سے چینی بچے ٹافی کھانے کے بعد اتار کر پھینکتے آئے ہیں۔

ایک تصویر میں ریپر کے اندر ٹافی موجود تھی، دوسری میں وہ مکمل طور پر کھولا جا چکا تھا۔ ٹافی چند لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے، مگر اس کا ریپر ایک نئی کہانی شروع کر چکا ہے۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ ثقافت ہمیشہ بڑی اور غیر معمولی چیزوں میں نہیں چھپی ہوتی؛ کبھی ایک عام سی ٹافی کا کاغذ بھی نسلوں کی یاد، ڈیزائن کی خوبصورتی اور ایک ملک کی روزمرہ زندگی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1965 Articles with 1147842 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More