چین کی خلائی دوڑ سمندر تک پہنچ گئی
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کی خلائی دوڑ سمندر تک پہنچ گئی تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ
آسمان کی طرف جانے والے راکٹ کے لیے زمین ہمیشہ واحد راستہ نہیں رہتی۔ چین اب سمندر کو بھی خلائی سفر کا ایک اہم میدان بنا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں سمندری پانی سے راکٹوں کی کامیاب لانچنگ، سمندر میں راکٹ کے پہلے مرحلے کی واپسی اور دوبارہ استعمال کی کوششوں نے چین کے تجارتی خلائی شعبے کو ایک ایسے مرحلے میں پہنچا دیا ہے جہاں خلا تک رسائی صرف راکٹ بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ لانچ، واپسی اور دوبارہ استعمال کا ایک مکمل نظام تشکیل پا رہا ہے۔
ابھی حال ہی میں چین نے مشرقی ساحلی سمندری حدود سے اسمارٹ ڈریگن-3 کیریئر راکٹ کامیابی سے لانچ کیا۔ راکٹ کے ذریعے مصنوعی ذہانت پر مبنی ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹس مدار میں بھیجے گئے۔ بظاہر یہ ایک اور کامیاب سمندری لانچ تھی، لیکن اس کے پیچھے چین کی تجارتی خلائی صنعت میں ہونے والی ایک بڑی تبدیلی چھپی ہوئی ہے۔ سمندر سے راکٹ بھیجنا اب غیر معمولی تجربہ نہیں رہا بلکہ ایک باقاعدہ اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا نظام بنتا جا رہا ہے۔
چین کے ایک بڑے تجارتی سمندری خلائی مرکز سے 2019 کے بعد اب تک 27 سمندری راکٹ لانچ کیے جا چکے ہیں اور ان کے ذریعے مجموعی طور پر 166 سیٹلائٹس کو مطلوبہ مداروں میں پہنچایا گیا ہے۔ ان تمام مشنز کی کامیابی کی شرح 100 فیصد رہی ہے۔ اس مرکز میں راکٹوں کی آخری اسمبلی اور جانچ کے لیے ملک کی سب سے بڑی سہولت بھی قائم ہو چکی ہے، جہاں سالانہ 50 راکٹوں اور 50 پروپیلنٹ ٹینکس کی تیاری اور جانچ کی گنجائش موجود ہے۔
اس تبدیلی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ چین کے لیے خلائی سرگرمیاں اب صرف سرکاری منصوبوں تک محدود نہیں رہیں۔ تجارتی خلائی صنعت تیزی سے پھیل رہی ہے اور کم مدار میں بڑی تعداد میں سیٹلائٹس پہنچانے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں روایتی زمینی لانچ پیڈ کے ساتھ سمندری لانچ ایک اضافی اور زیادہ لچکدار راستہ فراہم کرتا ہے۔
سمندر سے راکٹ لانچ کرنے کا سب سے بڑا فائدہ اس کی نقل و حرکت ہے۔ ایک متحرک لانچ پلیٹ فارم کو ضرورت کے مطابق مختلف مقامات پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مخصوص مدار کے لیے مناسب راستہ اختیار کرنے، گنجان آبادی والے علاقوں سے بچنے اور بعض موسمی رکاوٹوں کے اثرات کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کھلے سمندر میں راکٹ کے واپس آنے والے حصے کی لینڈنگ یا ریکوری کے لیے بھی نسبتاً وسیع اور محفوظ جگہ دستیاب ہوتی ہے۔
یہ خصوصیت مستقبل کے دوبارہ قابل استعمال راکٹوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگر راکٹ کا پہلا مرحلہ واپس حاصل کرکے دوبارہ استعمال کیا جا سکے تو خلائی لانچ کی لاگت کم کرنے اور لانچوں کی تعداد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین اب راکٹ بھیجنے کے ساتھ ساتھ انہیں واپس لانے کے طریقوں پر بھی تیزی سے کام کر رہا ہے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ ہی چین نے راکٹ کے پہلے مرحلے کو سمندر میں ایک بڑے جال کے ذریعے کامیابی سے پکڑنے کا تجربہ کیا۔ راکٹ کے مرحلے کی علیحدگی کے چند منٹ بعد پہلا مرحلہ ایک خصوصی بحری پلیٹ فارم کی جانب واپس آیا اور وہاں نصب بڑے جال نے اسے کامیابی سے قابو کر لیا۔ یہ چین میں کسی راکٹ کے پہلے مرحلے کی کنٹرول شدہ سمندری ریکوری کی پہلی کامیاب مثال تھی۔
جال کے ذریعے راکٹ پکڑنے کا طریقہ روایتی لینڈنگ کے مقابلے میں کچھ اہم فوائد رکھتا ہے۔ اس میں راکٹ کے ساتھ بھاری لینڈنگ ٹانگیں نصب کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، جس سے مجموعی وزن گھٹانے میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح ریکوری کے دوران معمولی انحراف کو بھی بڑے جال کے ذریعے برداشت کیا جا سکتا ہے۔ پلیٹ فارم پر نصب لائڈار اور خودکار پوزیشننگ نظام راکٹ کی حرکت اور مقام کو مسلسل ٹریک کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
چین کی موجودہ پیش رفت کو دیکھا جائے تو سمندری خلائی سرگرمی ایک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں لانچ اور ریکوری ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں۔ پہلے سمندر کو صرف راکٹ لانچ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، پھر زیادہ دور کھلے پانیوں سے تجارتی لانچ کی گئی اور اب راکٹ کے واپس آنے والے حصے کو بھی سمندر میں محفوظ طریقے سے حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی سامنے آ رہی ہے۔
اس سلسلے میں رواں سال ایک اور اہم تجربہ بھی ہوا جب چین کے ایک نجی ادارے نے مشرقی ساحلی سمندر سے تقریباً 170 کلومیٹر دور کھلے پانیوں سے تجارتی راکٹ لانچ کرکے متعدد سیٹلائٹس مدار میں پہنچائے۔ اس مشن نے نہ صرف سمندری لانچ کی صلاحیت کو مزید وسعت دی بلکہ زیادہ پیچیدہ سمندری حالات، نمکین ہوا اور مصروف بحری راستوں میں راکٹ آپریشن کے لیے عملی تجربہ بھی فراہم کیا۔
سمندری ماحول اپنی مشکلات بھی رکھتا ہے۔ لہریں، سمندری دھارے، نمکیات اور موسم راکٹ اور لانچ پلیٹ فارم دونوں کے لیے اضافی تقاضے پیدا کرتے ہیں۔ لیکن چین کی پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان مشکلات کو ایک مستقل رکاوٹ کے بجائے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کیے جانے والے مسائل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نجی چینی خلائی کمپنیاں بھی دوبارہ قابل استعمال راکٹوں اور سمندری ریکوری کی تیاری تیز کر رہی ہیں۔ کچھ بڑے راکٹ منصوبوں میں پہلے ہی سمندر میں واپسی کو ڈیزائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اگر یہ تجربات کامیاب رہتے ہیں تو آنے والے برسوں میں سمندر سے لانچ اور سمندر میں ریکوری تجارتی خلائی مشنز کا معمول بن سکتی ہے۔
اس پیش رفت کے پیچھے پالیسی حمایت بھی موجود ہے۔ چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے میں پہلی مرتبہ خلائی شعبے میں ملک کی طاقت بڑھانے کو قومی ترجیحات میں نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ تجارتی خلائی صنعت کی ترقی، سیٹلائٹ انٹرنیٹ اور نجی اداروں کو خلائی بنیادی ڈھانچے تک رسائی دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ پالیسی سمت تجارتی کمپنیوں کے لیے اہم ہے کیونکہ خلائی صنعت میں صرف سرمایہ یا ٹیکنالوجی کافی نہیں ہوتی۔ لانچ پیڈ، مدار اور فریکوئنسی کے وسائل، نگرانی کے نیٹ ورک اور تجربہ کار بنیادی ڈھانچے تک رسائی بھی ضروری ہوتی ہے۔ متعلقہ وسائل کو وسیع تر صنعتی حلقوں کے لیے دستیاب بنانے سے نئی کمپنیوں کے لیے داخلے کی رکاوٹیں کم اور جدت کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
چین کے لیے اس پورے عمل کا اصل مقصد صرف زیادہ راکٹ لانچ کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا خلائی صنعتی نظام قائم کرنا ہے جو بار بار، تیزی سے اور کم لاگت پر مشنز انجام دے سکے۔ ہر سمندری لانچ نئے اعداد و شمار فراہم کرتی ہے، جن سے موسم کی پیش گوئی، لانچ شیڈول، راکٹ کنٹرول اور ریکوری کے نظام مزید بہتر کیے جا سکتے ہیں۔
سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے تقاضوں اور کم مدار میں بڑے سیٹلائٹ نیٹ ورکس کی تشکیل کے ساتھ مستقبل میں لانچوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ایسے ماحول میں سمندری لانچ پلیٹ فارم صرف ایک متبادل راستہ نہیں رہیں گے بلکہ خلائی بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔
چین کی موجودہ پیش رفت کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے کہ خلائی دوڑ اب صرف زمین سے آسمان تک جانے کی دوڑ نہیں رہی۔ اس میں سمندر بھی شامل ہو چکا ہے۔ راکٹ سمندر سے اٹھ رہے ہیں، سیٹلائٹس مدار میں پہنچ رہے ہیں اور مستقبل میں راکٹ کا کچھ حصہ واپس اسی سمندر میں اتر کر دوبارہ سفر کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے آگے بڑھا تو چین کی تجارتی خلائی صنعت کے لیے سمندر محض ایک لانچ مقام نہیں بلکہ کم لاگت، بار بار اور زیادہ لچکدار خلائی سفر کی نئی بنیاد بن سکتا ہے۔ |
|