گلوبل سائنس کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم

گلوبل سائنس کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

سائنس کی دنیا میں کسی ملک کی پہچان صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ وہاں کتنی تحقیق ہو رہی ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ اس تحقیق کو دنیا کس پلیٹ فارم پر پڑھتی، جانچتی اور تسلیم کرتی ہے۔ چین میں اب اسی سمت ایک نئی کوشش سامنے آئی ہے، جہاں حیاتیاتی علوم کے شعبے میں بین الاقوامی علمی جریدے ویٹا کی پہلی مطبوعہ اشاعت جاری کر دی گئی ہے۔ مقصد ایسا عالمی معیار کا تحقیقی پلیٹ فارم قائم کرنا ہے جہاں اعلیٰ درجے کی سائنسی تحقیق کو تجارتی مفادات سے بالاتر ہو کر جگہ مل سکے۔

ویٹا ،الائنس آف اوپن لائف سائنس سے وابستہ ہے اور اسے الائنس میں شامل جامعات اور تحقیقی اداروں نے مشترکہ طور پر قائم کیا ہے۔ یہ ایک مرکزی جریدے اور اس سے منسلک ذیلی جرائد کے ماڈل پر کام کرے گا۔ ویٹا کی خاص بات یہ ہے کہ اسے کھلے رسائی کے اصول کے تحت شائع کیا جائے گا، یعنی دنیا بھر میں محققین اس کے تحقیقی مواد تک مفت رسائی حاصل کر سکیں گے اور مصنفین سے اشاعت کی فیس بھی وصول نہیں کی جائے گی۔


یہ طریقہ کار اس تصور کو مضبوط کرتا ہے کہ سائنسی تحقیق کی قدر اس کی تجارتی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے معیار، جدت اور علمی اہمیت سے طے ہونی چاہیے۔ اگر کسی اہم تحقیق کے نتائج صرف اس لیے محدود ہو جائیں کہ محققین انہیں شائع کرنے کے لیے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، تو اس کا نقصان صرف ایک ادارے یا ملک کو نہیں بلکہ پوری عالمی سائنسی برادری کو ہوتا ہے۔

الائنس کے ارکان نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ ویٹا اور اس کے ذیلی جرائد کو تحقیقی جائزے کے دوران معروف عالمی جرائد کے مساوی حیثیت دی جائے گی۔ اس اقدام کا ایک اہم مقصد چینی تحقیقی ٹیموں کو اپنی بڑی اور بنیادی نوعیت کی دریافتیں مقامی طور پر قائم عالمی معیار کے پلیٹ فارم پر شائع کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

چین کے لیے یہ کوشش اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران ملک کی سائنسی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تحقیقی مقالات کی تعداد، حوالہ جات اور علمی اثرات کے کئی اشاریوں میں چین نے تیزی سے ترقی کی ہے، تاہم ایک اہم خلا اب بھی موجود ہے۔ چین کے بہت سے بہترین تحقیقی نتائج اب بھی بیرون ملک قائم معروف سائنسی جرائد میں شائع ہوتے ہیں، جبکہ چین ابھی تک ایسا عالمی سطح پر معروف اعلیٰ درجے کا سائنسی جریدہ قائم نہیں کر سکا جس کی حیثیت دنیا بھر میں مسلمہ ہو۔

یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر کسی ملک کی سائنسی تحقیق عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر رہی ہو تو کیا اس تحقیق کے لیے عالمی معیار کے اپنے علمی پلیٹ فارم بھی نہیں ہونے چاہئیں؟ ویٹا کا اجرا اسی سوال کا ایک ممکنہ جواب دکھائی دیتا ہے۔

چینی ماہرین کے مطابق عالمی معیار کا سائنسی جریدہ صرف ایک اشاعتی ادارہ نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی ملک کی سائنسی قوت، تحقیق کے معیار اور علمی اثر و رسوخ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے جرائد نئی دریافتوں کو عالمی سائنسی مباحث کا حصہ بنانے، محققین کے درمیان تعاون بڑھانے اور تحقیق کے اعلیٰ معیارات قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ویٹا کے منتظمین نے اس مقصد کو محض اشاعت تک محدود رکھنے کے بجائے سائنسی برادری کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنے پر زور دیا ہے جہاں تحقیق کی جانچ سخت، منصفانہ اور غیر جانب دارانہ ہو۔ اس تصور کے تحت جریدے کا بنیادی کردار سائنس اور سائنس دانوں کی خدمت قرار دیا گیا ہے۔

نئے جریدے کے کھلی رسائی کے ماڈل میں بھی خاص اہمیت ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے محققین اور ادارے موجود ہیں جو مہنگے تحقیقی جرائد تک آسانی سے رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ اگر اعلیٰ معیار کی تحقیق بغیر فیس کے دستیاب ہو تو اس کے نتائج زیادہ وسیع حلقے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس سے خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے محققین کو عالمی علمی مباحث میں زیادہ مؤثر شرکت کا موقع مل سکتا ہے۔

یہ کوشش چین میں سائنسی جرائد کے شعبے میں ایک وسیع تر تبدیلی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ اوپن لائف سائنس کے الائنس کا آغاز چائنیز مین لینڈ، ہانگ کانگ اور مکاؤ کی معروف جامعات اور تحقیقی اداروں نے مشترکہ طور پر کیا تھا اور اب اس میں 39 ارکان شامل ہیں۔ الائنس کی ترجیحات میں اعلیٰ معیار کے سائنسی جرائد کی ترقی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تحقیقی ڈیٹا پلیٹ فارمز کو کھلا اور مؤثر بنانا بھی شامل ہے۔

چین کے تناظر میں ، ویٹا کا اجرا صرف ایک نئے جریدے کی اشاعت نہیں بلکہ سائنسی طاقت کو علمی اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ تحقیق سامنے لانا ایک مرحلہ ہے، لیکن تحقیق کے لیے ایسا عالمی پلیٹ فارم قائم کرنا جہاں معیار طے ہوں، نئی دریافتیں محفوظ ہوں اور دنیا بھر کے سائنس دان انہیں اعتماد کے ساتھ قبول کریں، اس سے اگلا مرحلہ ہے۔

آنے والے برسوں میں ویٹا کی اصل کامیابی اس بات سے طے ہوگی کہ وہ کتنی اہم اور بنیادی تحقیقات شائع کرتا ہے، عالمی محققین کا اعتماد کس حد تک حاصل کرتا ہے اور علمی معیار پر کس قدر مستقل مزاجی سے قائم رہتا ہے۔ اگر یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے تو چین نہ صرف عالمی سائنسی تحقیق کا ایک بڑا مرکز رہے گا بلکہ عالمی علمی اشاعت کے میدان میں بھی اپنی مضبوط شناخت قائم کر سکے گا۔

اصل کامیابی کسی جریدے کا شائع ہونا نہیں، بلکہ ایسا علمی معیار قائم کرنا ہے جسے دنیا خود تسلیم کرے۔ ویٹا کی یہ نئی کوشش اسی سمت ایک اہم قدم ہے، جہاں تحقیق، کھلی رسائی اور علمی دیانت کو بنیاد بنا کر عالمی سائنس کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1928 Articles with 1138927 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More