چین کی "سبز ترقی" کا قانونی تحفظ

چین کی "سبز ترقی" کا قانونی تحفظ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

جب کسی ملک میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے قوانین مختلف حصوں میں بٹے ہوں تو ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط نظام قائم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ چین نے اب اس سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کے جامع ضابطہ قانون کو نافذ کر دیا ہے۔ اس قانون کے نفاذ سے ماحولیات کے تحفظ، آلودگی میں کمی، قدرتی وسائل کی حفاظت اور سبز و کم کاربن ترقی کو ایک مشترکہ قانونی فریم ورک حاصل ہو گیا ہے۔

چین کا یہ جامع ضابطہ قانون پندرہ اگست سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ مارچ میں اعلیٰ قانون ساز ادارے سے منظوری حاصل کرنے والا یہ ضابطہ قانون چین کا دوسرا باقاعدہ جامع قانونی ضابطہ ہے۔ اس میں پانچ ابواب اور ایک ہزار 242 دفعات شامل ہیں، جن میں آلودگی پر قابو پانے، ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور سبز و کم کاربن ترقی سمیت کئی اہم شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اس قانون کی اہمیت صرف نئی دفعات متعارف کرانے تک محدود نہیں۔ اس کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق 30 سے زائد قوانین، تقریباً 100 انتظامی ضوابط اور ایک ہزار سے زیادہ مقامی قوانین و ضوابط کو منظم انداز میں یکجا، مرتب اور بہتر بنایا گیا ہے۔ یوں ایک ایسا قانونی ڈھانچہ سامنے آیا ہے جس میں ماحولیات سے متعلق مختلف شعبوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔

چین میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران ماحولیاتی تحفظ کے لیے متعدد قوانین اور ضوابط بنائے گئے، تاہم مختلف قوانین میں بکھرے ہوئے اختیارات، بعض قانونی خلا اور ضوابط کے درمیان ممکنہ تضادات ایک چیلنج رہے ہیں۔ نئے ضابطہ قانون کا ایک بنیادی مقصد اسی بکھرے ہوئے نظام کو زیادہ مربوط بنانا ہے۔

اس تبدیلی سے ماحولیاتی حکمرانی کا انداز بھی تبدیل ہوگا۔ پہلے جہاں مختلف ماحولیاتی مسائل کے لیے الگ الگ قوانین اور انتظامی طریقہ کار موجود تھے، اب آلودگی، ماحولیاتی نظام، قدرتی وسائل اور سبز ترقی کو ایک وسیع تر قانونی تصور کے تحت دیکھا جا سکے گا۔


اس کا عملی اثر عدالتی نظام پر بھی پڑے گا۔ ماحولیات، ماحولیاتی وسائل اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق مقدمات میں فیصلوں کے لیے زیادہ واضح قانونی بنیاد دستیاب ہوگی۔ اس سے عدالتی کارروائی میں یکسانیت اور قانونی رہنمائی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

چین کے لیے یہ قانونی پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں گزشتہ برسوں کے دوران کئی بڑے اقدامات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔ دریاؤں، جھیلوں اور جنگلات کے تحفظ کے لیے ذمہ داری کے مختلف نظام، مرکزی سطح پر ماحولیاتی معائنہ اور نگرانی جیسے تجربات اب زیادہ جامع قانونی فریم ورک کا حصہ بن گئے ہیں۔

ان کوششوں کے نتیجے میں بعض اہم ماحولیاتی اشاریوں میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔ 2025 میں چین کے بڑے شہروں میں پی ایم 2.5 کی اوسط سالانہ سطح 28 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی، جبکہ اچھی فضائی کیفیت والے دنوں کا تناسب 89.3 فیصد رہا۔ دونوں اشاریے نگرانی کے نظام کے آغاز کے بعد بہترین سطح پر پہنچے۔


جنگلات کے معاملے میں بھی چین نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 2025 کے اختتام تک ملک میں جنگلات کا مجموعی رقبے کے لحاظ سے تناسب 25 فیصد سے تجاوز کر گیا۔ رواں صدی کے آغاز سے دنیا میں نئے قائم ہونے والے جنگلات کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کا تعلق چین سے ہے۔ اس عرصے میں چین کے جنگلاتی وسائل میں اضافہ دنیا میں سب سے زیادہ اور تیز رفتار اضافہ قرار دیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کو محض ایک الگ شعبے کے طور پر نہیں بلکہ قومی ترقی کے مجموعی عمل کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی سوچ کے تحت نئے ضابطہ قانون میں سبز اور کم کاربن ترقی کے لیے الگ باب شامل کیا گیا ہے۔

اس کا ایک بنیادی مقصد ماحولیات کے تحفظ اور اقتصادی ترقی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے۔ چین کے موجودہ ماڈل میں یہ تصور نمایاں ہو رہا ہے کہ ترقی ماحولیات کے تحفظ کے ذریعے بھی ممکن ہے اور بہتر ماحولیات معاشی ترقی کے لیے نئی بنیاد بھی فراہم کر سکتی ہے۔

چین نے حالیہ برسوں میں سبز صنعتوں کے فروغ میں بھی تیزی دکھائی ہے۔ ملک میں آٹھ ہزار سے زیادہ قومی سطح کی سبز فیکٹریاں قائم ہو چکی ہیں، صاف توانائی پر مبنی دنیا کا سب سے بڑا بجلی کا نظام تشکیل پا چکا ہے، جبکہ صاف فولاد کی پیداوار کے حوالے سے بھی بڑے پیمانے پر صلاحیت پیدا کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کاربن اخراج کی تجارت کا دنیا کا سب سے بڑا بازار بھی قائم کیا گیا ہے۔

15ویں پانچ سالہ منصوبے، یعنی 2026 سے 2030 تک کی ترقیاتی حکمت عملی، میں بھی اقتصادی اور سماجی ترقی کی جامع سبز تبدیلی کو اہم ترجیح بنایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صنعت، توانائی، شہری زندگی اور روزمرہ استعمال کے طریقوں میں ایسی تبدیلیاں لانے کی کوشش جاری رہے گی جن سے وسائل کے استعمال اور کاربن اخراج میں کمی آئے۔

چین نے ماحولیاتی تحفظ کو صرف ملکی معاملہ نہیں سمجھا بلکہ اس تجربے کو دوسرے ممالک کے ساتھ بھی شیئر کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض ممالک میں چین کی پانی بچانے والی زرعی تکنیکوں کو اختیار کیا گیا ہے، جبکہ صحرائی علاقوں میں شمسی توانائی کے منصوبوں کے ذریعے صاف توانائی پیدا کرنے کے تجربات بھی سامنے آئے ہیں۔

نئے ضابطہ قانون میں بین الاقوامی تعاون کے لیے بھی خصوصی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ چین ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کر رہا ہے۔

یہ پہلو موجودہ عالمی صورتحال میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید بارشیں، خشک سالی، جنگلات کی آگ اور حیاتیاتی تنوع میں کمی جیسے مسائل کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں۔ ایسے مسائل کے لیے مختلف ممالک کے قوانین اور پالیسیوں میں باہمی تعاون بھی ضروری ہے۔

چین کا نیا ماحولیاتی ضابطہ قانون اس حوالے سے ایک دلچسپ مثال پیش کرتا ہے کہ ماحولیات کو اقتصادی ترقی کے بعد کا موضوع سمجھنے کے بجائے ترقی کے قانونی اور معاشی ڈھانچے میں ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ تجربہ قابل توجہ ہے، کیونکہ وہاں ماحولیاتی تحفظ، روزگار، صنعتی ترقی اور توانائی کی ضروریات کے درمیان توازن ایک بڑا چیلنج ہے۔

چینی تناظر میں اس قانون کی اصل طاقت اس کے حجم میں نہیں بلکہ اس سوچ میں ہے جسے یہ قانونی شکل دیتا ہے۔ اگر قانون، نگرانی، صنعتی پالیسی، مقامی انتظامیہ اور عوامی شرکت ایک ہی سمت میں کام کریں تو ماحولیاتی تحفظ محض ایک سرکاری مہم نہیں رہتا بلکہ قومی ترقی کا مستقل حصہ بن سکتا ہے۔

اب اصل امتحان اس ضابطہ قانون کے نفاذ کا ہے۔ مضبوط قانون اسی وقت مؤثر ثابت ہوتا ہے جب اس پر یکساں انداز میں عمل ہو، مقامی سطح پر نگرانی مضبوط ہو، صنعتوں کو واضح ذمہ داریاں دی جائیں اور ترقی کے نام پر ماحولیات کے تحفظ کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ چین کے لیے آئندہ مرحلہ یہی ہوگا کہ قانونی اصولوں کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔

وسیع تناظر میں ،ماحولیاتی بحران اب دنیا کے مستقبل کا مسئلہ نہیں بلکہ موجودہ دور کی حقیقت بن چکا ہے۔ ایسے میں چین کی جانب سے ماحولیاتی تحفظ، سبز ترقی اور کم کاربن معیشت کو ایک جامع قانونی ڈھانچے میں جوڑنے کا فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سبز جدیدیت کو اب صرف پالیسی نہیں بلکہ قانون کی طاقت کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1965 Articles with 1146889 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More