ہر مسئلے کا حل پابندی نہیں ہوتا
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
ہر مسئلے کا حل پابندی نہیں ہوتا تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
شہر جتنا بڑا ہوتا ہے، زندگی کی آوازیں بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہیں۔ گاڑیوں کا شور، تعمیراتی کام، کھیلوں کی سرگرمیاں، کاروباری مراکز اور رہائشی علاقوں میں ہونے والی روزمرہ کی مصروفیات مل کر ایسا ماحول بنا دیتی ہیں جہاں سکون کے چند لمحے بھی مشکل محسوس ہونے لگتے ہیں۔ چین میں اب شہری ترقی کے اسی نسبتاً نظر نہ آنے والے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ’’پُرسکون آبادیوں‘‘ کا تصور تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
کچھ سال پہلے بعض رہائشی علاقوں میں کھیلوں کے مراکز سے آنے والی گیندوں کی آوازیں اور سیٹیوں کا شور قریبی گھروں کے لیے روزمرہ پریشانی بن گیا تھا۔ بعد میں ان مراکز میں آواز جذب کرنے والے مواد، دوہرے شیشوں والی کھڑکیوں اور دیگر صوتی رکاوٹوں کا استعمال کیا گیا، جس سے شور میں نمایاں کمی آئی اور رہائشیوں کو دوبارہ پرسکون ماحول میسر آیا۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، لیکن اس کے پیچھے چین کے شہروں میں جاری ایک بڑی تبدیلی موجود ہے۔ تیزی سے پھیلتے شہروں میں گھروں، سڑکوں، کاروباری مراکز، تعمیراتی مقامات اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے جگہ محدود ہوتی جا رہی ہے۔ نتیجتاً مختلف سرگرمیاں ایک دوسرے کے قریب آتی جا رہی ہیں اور شور شہری زندگی کا ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
چین نے اس مسئلے کا حل صرف شور کرنے والوں کو روکنے میں نہیں بلکہ رہائشی ماحول کی مجموعی منصوبہ بندی میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی مقصد کے لیے مئی 2023 میں ’’پُرسکون آبادیوں‘‘ کا قومی آزمائشی پروگرام شروع کیا گیا۔ 2025 کے اختتام تک ملک بھر میں 3 ہزار 272 پُرسکون آبادیاں قائم کی جا چکی تھیں، جن سے 24 لاکھ سے زیادہ خاندان مستفید ہوئے۔
اب اس کوشش کو مزید مضبوط قانونی بنیاد بھی مل گئی ہے۔ چین کا ماحولیاتی تحفظ کا جامع ضابطہ قانون نافذ ہو چکا ہے، جس میں شور کی آلودگی کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لیے خصوصی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری شور کو اب محض روزمرہ کی معمولی شکایت نہیں بلکہ ماحولیاتی معیار اور شہری زندگی کے اہم مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس مسئلے کی شدت کا اندازہ شور سے متعلق شکایات سے بھی ہوتا ہے۔ 2025 میں چین کے بڑے شہروں کو شور کے حوالے سے تقریباً 68 لاکھ 30 ہزار شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں تقریباً 73 فیصد شکایات سماجی اور روزمرہ زندگی کے شور سے متعلق تھیں۔ پڑوسیوں کا شور، خراب آلات اور عوامی مقامات پر ہونے والی مختلف سرگرمیاں عام شکایات میں شامل رہیں۔
چین میں بعض عوامی مقامات پر اجتماعی ورزش اور رقص بھی شہری شور کے مسئلے کا حصہ بن گئے ہیں۔ خاص طور پر شام کے اوقات میں کھلے میدانوں میں اجتماعی سرگرمیوں سے آس پاس کے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم ’’پُرسکون آبادی‘‘ کے تصور میں مقصد یہ نہیں کہ شہری زندگی کی تمام آوازیں ختم کر دی جائیں۔
اصل مقصد یہ ہے کہ روزمرہ سرگرمیوں اور رہائشیوں کے سکون کے درمیان ایک مناسب توازن قائم کیا جائے۔ اس کے لیے مختلف علاقوں میں مقامی حالات کے مطابق مختلف طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔
نئی رہائشی آبادیوں میں شور کو تعمیر کے بعد کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے منصوبہ بندی کے ابتدائی مرحلے ہی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ کم شور پیدا کرنے والی سڑکیں، درختوں اور سبزے کی قدرتی پٹیاں، پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کے راستوں کی علیحدگی اور خودکار شور مانیٹرنگ کے آلات جیسے اقدامات اختیار کیے جا رہے ہیں۔
پرانے رہائشی علاقوں میں صورتحال مختلف ہے۔ وہاں موجود عمارتوں اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے ساتھ شور کے ذرائع کو بھی کم کیا جا رہا ہے۔ بعض جگہوں پر پرانی لفٹیں تبدیل کی گئی ہیں، نکاسی آب کے ڈھکنوں اور دیگر عوامی سہولیات کی مرمت کی گئی ہے تاکہ روزمرہ زندگی میں پیدا ہونے والی غیر ضروری آوازیں کم ہوں۔لیکن صرف تعمیراتی تبدیلیاں ہر مسئلے کا حل نہیں۔ شور اکثر پڑوسیوں کے درمیان تنازع بھی بن سکتا ہے، اس لیے مقامی انتظامیہ اور رہائشی کمیٹیوں کو ثالثی کا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔
کچھ آبادیوں میں رہائشیوں، انتظامیہ، جائیداد کے منتظمین اور اجتماعی سرگرمیوں میں شریک افراد کے درمیان باقاعدہ اتفاق رائے پیدا کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اجتماعی رقص کے لیے رات کا ایک مخصوص وقت مقرر کیا گیا اور اس وقت کے بعد میدان کی روشنیاں بند کر دی جاتی ہیں۔ یوں کسی سرگرمی پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے اس کے لیے مناسب وقت اور جگہ مقرر کی گئی۔یہ طریقہ شہری انتظام کے ایک اہم اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہر مسئلے کا حل پابندی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات بہتر انتظام، باہمی مشاورت اور واضح اصول زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
اسی سوچ کو تعمیراتی کاموں تک بھی پھیلایا جا رہا ہے۔ بعض رہائشی علاقوں میں گھروں کی تزئین و آرائش کے دوران پیدا ہونے والے شور کو شکایت آنے کے بعد حل کرنے کے بجائے پہلے ہی منظم کرنے کا نظام بنایا گیا ہے۔ تعمیراتی کام کو مختلف مراحل میں تقسیم کرکے شور کے ممکنہ ذرائع کی نگرانی کی جاتی ہے، جبکہ ٹھیکیداروں کے لیے کام کے مخصوص اوقات اور مکمل طور پر بند ماحول میں کام کرنے کی شرائط مقرر کی جاتی ہیں۔
اس پورے تجربے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ چین شہری ترقی کو صرف بلند عمارتوں، سڑکوں اور جدید سہولیات کی تعمیر کے طور پر نہیں دیکھ رہا بلکہ رہنے کے معیار کو بھی شہری ترقی کا حصہ بنا رہا ہے۔ صاف ہوا، سبز جگہ، مناسب روشنی اور محفوظ سڑکوں کے ساتھ اب پرسکون ماحول بھی بہتر شہری زندگی کی ایک ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
تاہم اس پروگرام کے سامنے کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ پُرسکون آبادیوں کے منصوبے ابھی پورے ملک میں یکساں طور پر نہیں پھیل سکے۔ بعض پرانے رہائشی علاقوں اور کچھ وسطی و مغربی حصوں میں ایسی سہولیات نسبتاً کم ہیں۔ اسی طرح ایک مرتبہ شور کم کرنے کے اقدامات مکمل کر دینا کافی نہیں، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ آلات خراب ہو سکتے ہیں اور نئے شور کے ذرائع پیدا ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے آئندہ برسوں میں باقاعدہ معائنہ، مسلسل نگرانی اور وقتاً فوقتاً جائزے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ چین نے 2026 سے 2030 تک شور کی آلودگی کی روک تھام کے منصوبوں میں پُرسکون آبادیوں کی تعمیر کو مزید شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اگلا قدم صرف کسی ایک محلے کو پرسکون بنانا نہیں بلکہ پورے شہری ماحول کو بہتر طور پر منظم کرنا ہو سکتا ہے۔ صوتی ماحول کے نقشے، جدید نگرانی کے نظام اور مختلف علاقوں میں شور کی سطح کا مسلسل جائزہ لے کر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کہاں شور زیادہ ہے، اس کا اصل سبب کیا ہے اور اسے کم کرنے کے لیے کس قسم کی مداخلت ضروری ہے۔
چین کے تجربے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ شہری زندگی میں سکون خود بخود پیدا نہیں ہوتا، اسے بھی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔ ایک کھیل کے میدان کی آواز ہو یا تعمیراتی کام کا شور، اصل مقصد سرگرمیوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں اس انداز میں منظم کرنا ہے کہ شہر زندہ بھی رہے اور رہنے کے قابل بھی۔
آخرکار ایک اچھا شہر وہ نہیں جہاں کوئی آواز سنائی نہ دے، بلکہ وہ ہے جہاں ترقی کی آواز انسانی سکون پر حاوی نہ ہو۔ چین کی ’’پُرسکون آبادیوں‘‘ کی کوشش اسی توازن کی تلاش ہے، جہاں جدید شہری زندگی، معاشرتی سرگرمیاں اور لوگوں کے آرام کو ایک ساتھ جگہ دی جا سکے۔ |
|