جھیل میں تیرتے سفید پھول سے خوشحال زندگی تک

جھیل میں تیرتے سفید پھول سے خوشحال زندگی تک
تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ

گرم موسم میں کسی جھیل کا صاف نیلا پانی، کنارے پر لہراتے سبز درخت اور پانی کی سطح پر تیرتے سفید پھول بظاہر ایک خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات یہی پھول اس سے کہیں بڑی کہانی بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ چین کی ایک مشہور ارہائی جھیل میں ایک نایاب آبی پودے کی واپسی اس بات کی علامت بن چکی ہے کہ برسوں کی ماحولیاتی بحالی کس طرح ایک بگڑتے ہوئے آبی نظام کو دوبارہ زندگی دے سکتی ہے، اور پھر یہی ماحولیاتی بہتری مقامی معیشت اور لوگوں کے روزگار کے لیے نئی راہیں بھی کھول سکتی ہے۔

چین کے صوبہ یوننان میں واقع ارہائی جھیل آج صاف پانی، سرسبز پہاڑوں اور پھولوں سے سجے خوبصورت مناظر کے باعث سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ جھیل میں تیرتے سفید پھول ایک آبی پودےاوٹیلیا ایکومیناٹا کے ہیں جو چین میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے اور پانی کے معیار کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ اسے صاف، شفاف اور کیلشیم سے بھرپور پانی درکار ہوتا ہے اور آلودہ پانی میں اس کا زندہ رہنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے اس پودے کو قدرت کا ایک ایسا قدرتی پیمانہ بھی سمجھا جاتا ہے جو آبی ماحول کی صحت کے بارے میں خاموشی سے آگاہ کرتا ہے۔

کچھ دہائیاں پہلے یہی جھیل اس کے برعکس منظر پیش کرتی تھی۔ 1990 کی دہائی کے آغاز میں زرعی آلودگی میں اضافے کے باعث پانی کا معیار مسلسل خراب ہونے لگا اور جھیل میں نیلے سبز کائی کے پھیلاؤ کے واقعات بڑھ گئے۔ 1996 میں شدید کائی نے جھیل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پانی بدبودار اور گدلا ہو گیا جبکہ آبی ماحول کو شدید نقصان پہنچا۔ حالات اس قدر خراب ہوئے کہ حساس آبی پودا تقریباً ختم ہی ہو گیا۔

یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی تھی کہ پانی کے وسائل کی حفاظت صرف ماحولیات کا معاملہ نہیں بلکہ زراعت، شہری زندگی، سیاحت اور مقامی معیشت سے بھی براہ راست جڑی ہوئی ہے۔ اگر جھیل آلودہ ہو جائے تو اس کے اثرات پانی تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا مقامی نظام متاثر ہوتا ہے۔

اس کے بعد چین میں جھیل کی بحالی کے لیے برسوں تک مرحلہ وار اور اہدافی اقدامات کیے گئے۔ آلودگی کے ذرائع کو کم کیا گیا، آبی ماحول کی نگرانی مضبوط بنائی گئی اور ماحولیاتی نظام کی بحالی پر توجہ دی گئی۔ ان کوششوں کے نتیجے میں پانی کا معیار بتدریج بہتر ہوا اور 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران جھیل کا پانی مسلسل بہترین درجے، یعنی گریڈ ٹو، کے معیار پر برقرار رہا۔

اس تبدیلی کا سب سے خوبصورت ثبوت وہی سفید پھول ہیں جو اب دوبارہ جھیل کی سطح پر نظر آتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس آبی پودے کا پھیلاؤ 2021 میں تقریباً 90 ہزار مربع میٹر تھا، جو 2026 میں بڑھ کر 9 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ صرف ایک پودے کی واپسی نہیں بلکہ پورے آبی ماحولیاتی نظام کی بحالی کی علامت ہے۔

چین کا نیا ماحولیاتی تحفظ کا جامع ضابطہ قانون بھی ایسے ہی ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ کو قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ حال ہی میں نافذ ہونے والے اس ضابطہ قانون میں دریاؤں اور جھیلوں کے ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی کو ملک گیر سطح پر منظم کرنے کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ اس سے پانی کے وسائل کے تحفظ کو زیادہ جامع قانونی فریم ورک حاصل ہوا ہے۔

لیکن اس کہانی کا دلچسپ پہلو صرف یہ نہیں کہ ایک آبی پودا واپس آ گیا۔ اصل اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب ماحولیات کی بہتری مقامی لوگوں کی آمدنی اور روزگار سے جڑ جاتی ہے۔

ماحولیاتی بحالی کے بعد اس آبی پودے کو صرف قدرتی حسن کے طور پر نہیں دیکھا گیا بلکہ اس کے معاشی امکانات بھی تلاش کیے گئے۔ تحقیق اور تجربات کے ذریعے اس کی باقاعدہ کاشت کے طریقے تیار کیے گئے، جن سے زیادہ پیداوار اور بار بار فصل حاصل کرنا ممکن ہوا۔ یوں ایک ایسا پودا جو کبھی ماحولیاتی تباہی کی وجہ سے تقریباً ختم ہو گیا تھا، اب مقامی معیشت کا حصہ بننے لگا ہے۔

کچھ مقامی افراد نے برسوں پہلے کم آمدنی کے باعث اس کی کاشت چھوڑ دی تھی، لیکن بہتر پیداوار اور منظم فروخت کے نظام کے بعد دوبارہ اس شعبے میں واپس آئے۔ بعض کاشت کار اب مستقل ماہانہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں، جبکہ کچھ نے گزشتہ سال ایک لاکھ یوآن سے زیادہ کمائے اور اس سال اپنی کاشت کا رقبہ بھی بڑھا دیا ہے۔

اس ماڈل کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ کاشت کاروں کو اپنی پیداوار کی فروخت کے لیے الگ سے بازار تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ متعلقہ مراکز پیداوار کی خرید اور فروخت کا انتظام سنبھالتے ہیں، جس سے مقامی افراد کو آمدنی کے بارے میں زیادہ اعتماد حاصل ہوتا ہے۔


اس آبی پودے کی کاشت کا رقبہ اب 200 ہیکٹر سے تجاوز کر چکا ہے اور اس سے ہر سال متعدد مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کی بنیاد پر چائے، نباتاتی کافی، بسکٹ اور دیگر مصنوعات بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ یوں ایک قدرتی پودا جھیل کے ماحولیاتی نظام، زراعت، خوراک اور مقامی صنعت کے درمیان ایک نیا تعلق پیدا کر رہا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ماحولیاتی تحفظ کا تصور محض درخت لگانے یا پانی صاف کرنے سے آگے بڑھتا ہے۔ اگر قدرتی وسائل کی بحالی کے بعد ان کے پائیدار معاشی استعمال کے راستے بھی پیدا کیے جائیں تو ماحولیات اور ترقی ایک دوسرے کے مخالف نہیں رہتے بلکہ ایک دوسرے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

جھیل کی بحالی نے سیاحت کو بھی نئی طاقت دی ہے۔ صاف پانی، خوبصورت ساحل، پھولوں سے بھرے مناظر اور مقامی ثقافت نے اس علاقے کو سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بنا دیا ہے۔ 2025 میں اس خطے میں سیاحوں کی تعداد 12 کروڑ سے تجاوز کر گئی، جبکہ بڑی تعداد میں طویل مدت کے لیے آنے والے افراد نے بھی مقامی سیاحت اور خدمات کے شعبے کو تقویت دی۔


اس تجربے سے چین کی ’’خوبصورت چین‘‘ مہم کا ایک اہم پہلو بھی واضح ہوتا ہے۔ خوبصورت ماحول صرف دیکھنے کے لیے اچھا منظر نہیں بلکہ ایک ایسا سرمایہ بھی ہے جس سے سیاحت، زراعت، خوراک، روزگار اور مقامی کاروبار کو مسلسل فائدہ پہنچ سکتا ہے۔چین نے 2026 سے 2030 تک کے عرصے کے لیے خوبصورت چین کی تعمیر کا منصوبہ بھی مرتب کیا ہے، جس میں ماحولیاتی معیار میں مجموعی بہتری، سبز پیداوار اور سبز طرز زندگی کے فروغ اور مقررہ وقت پر کاربن اخراج کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے اہداف شامل ہیں۔

چینی تجربے کی سب سے اہم بات شاید یہی ہے کہ ماحولیاتی بحالی کو ایک الگ منصوبے کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اسے معاشی اور سماجی ترقی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک صاف جھیل پہلے ایک محفوظ ماحولیاتی نظام بنتی ہے، پھر سیاحت کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، اس کے بعد مقامی پیداوار اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور آخرکار قدرتی وسائل مقامی خوشحالی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

کسی جھیل کی سطح پر کھلنے والا ایک چھوٹا سا سفید پھول بظاہر معمولی منظر ہو سکتا ہے، مگر جب وہ برسوں کی آلودگی کے بعد دوبارہ نمودار ہو تو اس کا مطلب بہت بڑا ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ قدرت کو اگر مناسب موقع اور تحفظ دیا جائے تو وہ خود کو دوبارہ سنبھال سکتی ہے۔ چین میں جھیل کی بحالی کی یہ کہانی اسی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ صاف ماحول صرف آنے والی نسلوں کے لیے تحفہ نہیں، بلکہ آج کی معیشت، روزگار اور بہتر زندگی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1965 Articles with 1146937 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More