چین کی ہائی ٹیک ڈھال

چین کی ہائی ٹیک ڈھال
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

بارشیں تیز ہوں، دریا بپھر جائیں یا سیلابی پانی اچانک آبادیوں کی طرف بڑھنے لگے، ایسے میں چند منٹ بھی بہت اہم ہوتے ہیں۔ چین میں قدرتی آفات سے نمٹنے کا نظام اب صرف امدادی کارروائی شروع ہونے کے بعد حرکت میں نہیں آتا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے خطرے کو پہلے ہی تلاش کرنے اور اس کے اثرات کو کم کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ ڈرونز، فائبر آپٹک سینسرز، برقی مقناطیسی آلات اور جدید ریسکیو پل اسی بدلتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

رواں برس سیلابی موسم کے دوران چین کے کچھ علاقوں میں دریائی پشتوں اور بندوں کی نگرانی کے لیے ڈرونز اور جدید سینسرز کا استعمال کیا گیا۔ ان ٹیکنالوجیز کی مدد سے ایسے مقامات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں جہاں پانی اندر داخل ہو رہا ہو یا زمین کے نیچے رساؤ کا عمل شروع ہو چکا ہو۔ یوں بندوں کی حالت کا ایک طرح سے ’’سی ٹی اسکین‘‘ کیا جا رہا ہے۔

اس جدید نظام میں سب سے پہلے ڈرونز بڑے رقبے پر پھیلے دریائی پشتوں اور بندوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ حرارتی کیمروں اور دیگر سینسرز سے لیس یہ ڈرونز ایسے مشتبہ مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں پانی کے رساؤ یا اندرونی کمزوری کا خدشہ ہو۔ اس کے بعد فائبر آپٹک سینسرز پانی میں پیدا ہونے والی انتہائی معمولی ارتعاشات کو محسوس کرکے طویل فاصلے تک رساؤ کے ممکنہ مقامات کا سراغ لگاتے ہیں۔

اگلے مرحلے میں برقی مقناطیسی آلات بند کے اندر پانی کے بہاؤ کے راستوں کا تعین کرتے ہیں اور زیر زمین پانی کی نقل و حرکت کی سہ جہتی تصویر تیار کرتے ہیں۔ حاصل ہونے والا تمام ڈیٹا ایک کلاؤڈ پلیٹ فارم پر منتقل کیا جاتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کے الگورتھم ممکنہ خطرات کا مزید جائزہ لیتے اور ان کی تصدیق کرتے ہیں۔

چین میں تیار کیا گیا یہ نظام 95 فیصد سے زیادہ نگرانی کی درستگی حاصل کر چکا ہے۔ اب تک اسے 50 سے زیادہ بڑے معائنہ جاتی آپریشنز میں استعمال کیا جا چکا ہے، جن کے دوران تقریباً 1200 کلومیٹر طویل دریائی پشتوں اور بندوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس عمل میں پانی کے رساؤ، اندرونی کٹاؤ اور دیگر خطرات کے 175 سے زیادہ واقعات کی نشاندہی کی گئی۔


یہ ٹیکنالوجی اس لیے بھی اہم ہے کہ بعض اوقات بند کے اندر پانی کے داخل ہونے یا رسنے کے ابتدائی آثار انسانی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے۔ اگر ایسے خطرات بروقت سامنے نہ آئیں تو معمولی رساؤ آگے چل کر بڑے شگاف یا بند ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔ جدید سینسرز اس پوشیدہ خطرے کو اس وقت سامنے لانے میں مدد دے رہے ہیں جب اس پر قابو پانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

قدرتی آفات کے دوران چین کی جدید تیاری صرف نگرانی تک محدود نہیں۔ سیلابی پانی میں پھنسے لوگوں اور بھاری سامان کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے جدید طاقت سے چلنے والے تیرتے پل بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ماڈیولر ریسکیو نظام ہے جسے کرین یا پانی میں موجود عملے کی مدد کے بغیر مختصر وقت میں نصب کیا جا سکتا ہے۔

فولڈ ہونے والے تیرتے حصے ایک خصوصی ٹرک کے ذریعے موقع پر پہنچائے جاتے ہیں، جہاں وہ خودکار طریقے سے پانی میں اتر کر ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ تقریباً دس منٹ میں یہ نظام 10 میٹر طویل اور 8.3 میٹر چوڑا تیرتا پلیٹ فارم بنا سکتا ہے۔ ضرورت کے مطابق اسے بڑی کشتی نما فیری، تیرتے گودی یا عارضی پل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان ٹیکنالوجیز کا بڑھتا ہوا استعمال چین کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماضی میں ہنگامی حالات میں تجربے اور فوری ردعمل پر زیادہ انحصار کیا جاتا تھا، جبکہ اب ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور مسلسل نگرانی کو فیصلہ سازی کا اہم حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد صرف آفت کے بعد امداد پہنچانا نہیں بلکہ خطرے کو پہلے ہی شناخت کرکے نقصان کو کم سے کم کرنا ہے۔

اس تبدیلی کے ساتھ ہنگامی آلات کی ایک بڑی صنعت بھی تشکیل پا رہی ہے۔ حال ہی میں متعلقہ چینی وزارتوں کی جانب سے جاری کیے گئے پانچ سالہ منصوبے میں 2030 تک ہنگامی آلات کے شعبے کی پیداواری قدر اور تکنیکی صلاحیت میں نمایاں اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے میں بنیادی ٹیکنالوجیز میں نئی پیش رفت، جدید ہنگامی آلات کے وسیع استعمال اور عالمی سطح پر مسابقت رکھنے والی کمپنیوں کی تیاری پر بھی زور دیا گیا ہے

اس سے قبل بھی متعلقہ اداروں نے 2027 تک 20 سے زیادہ اہم ٹیکنالوجیز میں پیش رفت، 20 سے زیادہ اقسام کے جدید آلات کی تیاری اور 30 سے زیادہ اقسام کے جدید ہنگامی آلات کے وسیع استعمال کا ہدف مقرر کیا تھا۔

چین میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کا یہ سفر دراصل ایک بڑے تصور کی طرف پیش قدمی ہے، جس میں خطرہ سامنے آنے کا انتظار کرنے کے بجائے اسے پہلے تلاش کیا جاتا ہے، اعداد و شمار سے اس کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور پھر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ ڈرونز آسمان سے نگرانی کرتے ہیں، سینسرز زمین کے اندر چھپے خطرات کا سراغ لگاتے ہیں اور جدید ریسکیو آلات مشکل حالات میں لوگوں تک پہنچنے کا راستہ بناتے ہیں۔یوں مصنوعی ذہانت، سینسرز، ڈیجیٹل نظام اور جدید انجینئرنگ مل کر قدرتی آفات کے خلاف ایک ایسی حفاظتی دیوار تشکیل دے رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد صرف تباہی کے بعد نقصان کم کرنا نہیں، بلکہ تباہی سے پہلے خطرے کو پہچان کر انسانی جانوں اور املاک کو محفوظ بنانا ہے۔

 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1965 Articles with 1146971 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More