چین میں مصنوعی ذہانت کی نئی صنعتی دوڑ

چین میں مصنوعی ذہانت کی نئی صنعتی دوڑ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں مصنوعی ذہانت اب صرف جدید ٹیکنالوجی کا موضوع نہیں رہی بلکہ صنعت، کاروبار اور روزمرہ خدمات میں عملی تبدیلی کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ ملک کے مختلف حصے اپنی مقامی صلاحیتوں اور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی صنعت کو آگے بڑھا رہے ہیں، جبکہ قومی سطح پر مربوط منصوبہ بندی اس عمل کو ایک مشترکہ سمت دے رہی ہے۔ یوں چین میں ایک ایسا مصنوعی ذہانت کا صنعتی منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے جس میں مقامی خصوصیات اور قومی تعاون ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

تازہ اقتصادی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مصنوعی ذہانت سے متعلق صنعت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کے استعمال کے نئے شعبے سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف علاقوں نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کے مخصوص راستے اختیار کیے ہیں۔ کہیں جدید چپس اور صنعتی روبوٹس پر توجہ ہے، کہیں آپٹیکل مواصلات اور نیٹ ورکنگ کو بنیاد بنایا جا رہا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں سستی اور صاف توانائی کو مصنوعی ذہانت کے لیے کمپیوٹنگ مراکز قائم کرنے کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت چین میں تیزی سے ایک تکنیکی تصور سے عملی پیداواری قوت میں تبدیل ہو رہی ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ صنعتی چینز، تحقیق، نقل و حمل، سیاحت، سرکاری خدمات اور دیگر شعبوں میں بھی داخل ہو رہی ہے۔

چین کی مصنوعی ذہانت کی بنیادی تنصیب میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اس پورے عمل میں بعض بڑے صنعتی مراکز کو نمایاں برتری حاصل ہے۔ ٹیکنالوجی، افرادی قوت اور مکمل صنعتی چینز کی موجودگی نے کچھ بڑے علاقوں کو مقامی مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر میں آگے رکھا ہے۔ ان علاقوں نے 2026 سے 2030 کے لیے اپنے ترقیاتی منصوبوں میں عالمی مصنوعی ذہانت کی مسابقتی صلاحیت کو اہم ہدف قرار دیا ہے، جس میں ٹیکنالوجی، صنعتی نظام اور عملی استعمال کے شعبوں میں جامع ترقی شامل ہے۔

ملک کے بڑے ٹیکنالوجی مراکز میں مصنوعی ذہانت کے لارج ماڈلز کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔اس کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے وابستہ سینکڑوں بڑے صنعتی ادارے بھی تیزی سے کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دے رہے ہیں۔

لیکن چین کی حکمت عملی صرف چند بڑے شہروں تک محدود نہیں۔ ملک کے مختلف حصے اپنی مخصوص صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی صنعت میں الگ الگ راستے اختیار کر رہے ہیں۔ کچھ علاقوں میں مصنوعی ذہانت کے لیے درکار چپس کی تیاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ بعض حصے آپٹیکل مواصلات، ڈسپلے، نیٹ ورک اور ٹرمینل آلات کی مکمل صنعتی چین تشکیل دے رہے ہیں۔

اسی طرح بعض علاقوں میں مصنوعی ذہانت نے روایتی معاشی کردار کو بھی بدلنا شروع کر دیا ہے۔ جہاں پہلے کسی علاقے کی شناخت بنیادی طور پر نقل و حمل کے مرکز کے طور پر ہوتی تھی، وہاں اب بڑے سائنسی کمپیوٹنگ کلسٹر قائم کیے جا رہے ہیں ، جس سے مصنوعی ذہانت پر مبنی سائنسی تحقیق اور صنعتی استعمال کے لیے نئی گنجائش پیدا ہوئی۔

دوسری طرف کچھ کم ترقی یافتہ یا نسبتاً دور دراز علاقوں نے قدرتی وسائل کو اپنی طاقت بنا لیا ہے۔ صاف توانائی، وافر پانی اور نسبتاً ٹھنڈا موسم ایسے علاقوں کو بڑے کمپیوٹنگ مراکز کے لیے موزوں بنا رہے ہیں۔ اس طرح مصنوعی ذہانت کی صنعت صرف بڑے شہروں تک محدود رہنے کے بجائے ملک کے مختلف حصوں میں پھیل رہی ہے۔

اس کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی اضافی کمپیوٹنگ صلاحیت مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچا رہی ہے۔ ہر سال کروڑوں سیاح موسم گرما میں ٹھنڈے موسم اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ان ٹھنڈے علاقوں میں آتے ہیں۔ ان کے سفر، رہائش، کھانے، خریداری اور تفریح سے پیدا ہونے والا وسیع ڈیٹا اب ثقافت اور سیاحت کے لیے مقامی مصنوعی ذہانت کے لارج ماڈل کی تیاری میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیاحوں کو ذہین رہنمائی اور زیادہ بہتر خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

چین کے لیے یہ ماڈل اس لحاظ سے اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو صرف ٹیکنالوجی کے چند مراکز تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔ قومی سطح پر بڑے کمپیوٹنگ مراکز، علاقائی مراکز اور مقامی سطح کے کمپیوٹنگ وسائل کو مربوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ متعلقہ ادارے کمپیوٹنگ طاقت کے لیے قومی سطح پر مربوط خودکار نگرانی کا نظام بھی قائم کر رہے ہیں تاکہ دستیاب وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

چین کے اس ماڈل سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی حقیقی طاقت صرف بڑے ماڈلز یا طاقتور کمپیوٹرز میں نہیں بلکہ انہیں مقامی ضروریات سے جوڑنے میں ہے۔ اگر کسی علاقے کے پاس چپس بنانے کی صلاحیت ہے تو وہاں مصنوعی ذہانت کی صنعتی چین اسی بنیاد پر تشکیل دی جا سکتی ہے، اگر صاف توانائی وافر ہے تو اسے کمپیوٹنگ مراکز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، اور اگر سیاحت بڑی صنعت ہے تو مصنوعی ذہانت کو سیاحتی خدمات بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہی چین کے موجودہ مصنوعی ذہانت ماڈل کا اہم پہلو دکھائی دیتا ہے: مرکزی سمت، مقامی خصوصیات اور باہمی تعاون۔ اس حکمت عملی کے تحت ہر علاقے کو ایک ہی راستے پر چلانے کے بجائے اس کی اپنی طاقت کو قومی صنعتی نظام سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آنے والے برسوں میں اصل مقابلہ صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ کس ملک کے پاس سب سے طاقتور مصنوعی ذہانت کا ماڈل ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کون اسے صنعت، روزگار، خدمات اور معاشی ترقی میں زیادہ مؤثر انداز سے تبدیل کر سکتا ہے۔ چین کی موجودہ پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو وسیع پیمانے پر عملی معیشت سے جوڑنے کی کوشش اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1928 Articles with 1138929 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More