مصنوعی ذہانت اور بچوں کی تعلیم کا نیا رخ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
مصنوعی ذہانت اور بچوں کی تعلیم کا نیا رخ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
ایک شاپنگ مال میں نصب عام رہنمائی بورڈ اگر صرف دکان کا راستہ بتانے کے بجائے یہ بھی سمجھ سکے کہ کہاں لوگوں کا ہجوم بڑھ رہا ہے، کہاں بھگدڑ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، کسی پالتو جانور کی موجودگی کو محسوس کر سکے اور حالات کے مطابق اپنی روشنی تبدیل کر سکے تو یہ محض ایک سائن بورڈ نہیں رہتا بلکہ ایک ذہین نظام بن جاتا ہے۔ چین میں ایسے ہی ایک تصور پر کام کرنے والے کم عمر طلبہ اس بات کی مثال ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب نئی نسل کے لیے صرف ایک جدید ٹیکنالوجی نہیں بلکہ سیکھنے، تخلیق کرنے اور مسائل حل کرنے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔
چین میں ایک قومی یوتھ اے آئی مقابلے کے فائنل میں دو کم عمر طلبہ نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ایسے رہنمائی بورڈ کا منصوبہ پیش کیا جو اپنے اردگرد کے ماحول کو محسوس کرتے ہوئے مختلف خدمات انجام دے سکتا ہے۔ اس نظام میں عام دستیاب سینسرز اور مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کیے گئے ہیں۔ مقصد ایک عام تجارتی تنصیب کو ایسے ذہین نظام میں تبدیل کرنا ہے جو لوگوں کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ تجارتی مراکز کو زیادہ محفوظ اور بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکے۔
چین میں مصنوعی ذہانت کی یہ دلچسپی اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ کئی دہائیوں سے سائنس اور ٹیکنالوجی کو قومی ترقی کی بنیادی قوت سمجھا جاتا رہا ہے۔ ریاضی، طبیعیات اور کیمسٹری جیسے مضامین پر زور دینے سے لے کر کمپیوٹر تعلیم کو کم عمری میں متعارف کرانے تک، نئی نسل کو ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی کوشش مسلسل جاری رہی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں پروگرامنگ بھی ریاضی اور انگریزی کی طرح بچوں کی ابتدائی تعلیم اور غیر نصابی سرگرمیوں کا حصہ بنتی گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں بچوں کے لیے روبوٹکس، پروگرامنگ اور عملی ٹیکنالوجی کی کلاسز کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ بعض بچے کم عمری میں بصری پروگرامنگ سے آغاز کرتے ہیں، پھر ازخود یا باقاعدہ تربیت کے ذریعے پیچیدہ پروگرامنگ زبانوں تک پہنچتے ہیں۔
اس پورے نظام نے ایک ایسی تربیتی زنجیر تشکیل دی ہے جو اسکول کے بعد ہونے والی سرگرمیوں، روبوٹکس کلبوں اور پروگرامنگ مقابلوں سے شروع ہو کر اسکول اور اعلیٰ تعلیم تک پہنچتی ہے۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو بعض صورتوں میں اعلیٰ جامعات میں داخلے کے خصوصی مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے حالیہ تیز رفتار فروغ نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ چین میں مصنوعی ذہانت کے لارج ماڈلز تیار کرنے والی کمپنیوں اور تحقیقی ٹیموں نے ٹیکنالوجی کو زیادہ قابل رسائی بنایا ہے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں کے لیے مصنوعی ذہانت اب کسی دور دراز ٹیکنالوجی کے بجائے ان کے اپنے معاشرے میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی حقیقت بن چکی ہے۔
لیکن چین میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم کا دائرہ اب اسکول کے بعد کی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہنے والا۔ رواں سال جاری کیے گئے ایک منصوبے کے تحت پرائمری اسکول سے جامعات تک تعلیم کے مختلف مراحل میں مصنوعی ذہانت کے کورسز متعارف کرانے پر زور دیا گیا ہے۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ بچے اس ٹیکنالوجی کو سمجھیں، اس کے ساتھ کام کرنا سیکھیں اور مستقبل کے ایسے معاشرے کے لیے تیار ہوں جہاں مصنوعی ذہانت روزمرہ زندگی کا حصہ ہوگی۔
اس حوالے سے چین میں ایک اہم سوچ یہ سامنے آ رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو الگ تھلگ مضمون بنانے کے بجائے اسے مختلف مضامین کے ساتھ جوڑا جائے۔ چھوٹے بچوں کے لیے کھیل اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے بنیادی تصورات متعارف کرانے، درمیانی جماعتوں میں مصنوعی ذہانت کو طبیعیات اور دیگر مضامین کے ساتھ جوڑنے، جبکہ بڑی جماعتوں میں تحقیق اور مسئلہ حل کرنے پر توجہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے مقابلوں میں بھی اس نئے تعلیمی رجحان کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ بعض طلبہ نے ایسے نظام تیار کیے ہیں جو نوجوانوں میں ذہنی دباؤ کی ابتدائی علامات کو شناخت کرنے اور آن لائن مدد فراہم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے متعدد نظام استعمال کرتے ہیں۔ ایسے منصوبوں میں حفاظتی انتظامات بھی شامل کیے جاتے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت کی غلط معلومات یا غیر مناسب ردعمل کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
تاہم چین میں مصنوعی ذہانت کو تعلیم میں شامل کرنے کے ساتھ اس کے ممکنہ منفی اثرات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ ایک اہم خدشہ یہ ہے کہ اگر طلبہ یادداشت، حساب، مطالعے، تحریر اور بنیادی سوچ کے کام مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے حوالے کر دیں تو ان کی بنیادی علمی صلاحیتیں کمزور ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں وہ مصنوعی ذہانت کی غلطی کو پہچاننے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔
اسی لیے مصنوعی ذہانت کو استاد یا طالب علم کا متبادل بنانے کے بجائے معاون ذریعہ سمجھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ بنیادی علم، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی اہلیت اب بھی تعلیم کی بنیاد رہیں گی۔ مصنوعی ذہانت ان صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن ان کی جگہ نہیں لے سکتی۔
یہی سوچ چین کے تعلیمی منصوبوں میں بھی نظر آتی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کی تعلیم کے ساتھ کردار سازی، طلبہ کی جسمانی و ذہنی صحت اور ہمہ گیر نشوونما کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یعنی مقصد صرف ایسے بچے تیار کرنا نہیں جو مصنوعی ذہانت استعمال کرنا جانتے ہوں بلکہ ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو ٹیکنالوجی کو ذمہ داری اور سمجھ داری سے استعمال کر سکیں۔
اسی پس منظر میں چین سائنس کی تعلیم کے روایتی طریقہ کار پر بھی نظرثانی کر رہا ہے۔یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں معلومات حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ کسی سوال کا فوری جواب مل سکتا ہے، لیکن سوال پیدا کرنا، تجربہ کرنا، ناکامی سے سیکھنا اور کسی نامعلوم مسئلے کا حل تلاش کرنا اب بھی انسانی صلاحیتوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ چین کے موجودہ تجربے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو تعلیم میں شامل کرنے کا سب سے مؤثر راستہ صرف نئے آلات، سافٹ ویئر یا لارج ماڈلز متعارف کرانا نہیں بلکہ پورے تعلیمی انداز کو زیادہ عملی، تخلیقی اور تحقیق پر مبنی بنانا ہے۔ اگر نئی نسل کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ اس کی حدود، خطرات اور ذمہ داریوں کو بھی سمجھایا جائے تو یہ ٹیکنالوجی محض ایک نئی مہارت نہیں رہے گی بلکہ مستقبل کی تعلیم اور معاشرے کی تعمیر میں ایک مؤثر معاون بن سکتی ہے۔
اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب مصنوعی ذہانت بچوں کی سوچ کو محدود کرنے کے بجائے اسے مزید وسیع کرے، انہیں تیار جوابات دینے کے بجائے بہتر سوال پوچھنا سکھائے اور کتابی علم کو حقیقی دنیا کے مسائل سے جوڑ دے۔ چین میں تعلیم اور مصنوعی ذہانت کا موجودہ امتزاج اسی بڑے مقصد کی طرف ایک اہم قدم دکھائی دیتا ہے۔ |
|