رشتے اپنا راستہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

رشتے اپنا راستہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں

تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

رشتے اپنا راستہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

رشتے اپنا راستہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں

تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

1947 کی تقسیمِ ہند محض سرحدوں پر کھینچی گئی لکیروں کی داستان نہیں تھی، بلکہ یہ انسانی تاریخ کی وہ دردناک ترین ہجرت تھی جس کی تاریخ خون، آہ و بکا اور حیا کی بے مثال قربانیوں سے رقم ہوئی۔ وہ وقت جب انسانیت دم توڑ چکی تھی، معصوم بچیوں کے آشیانے اجڑ رہے تھے اور عصمت دری کے خوف سے بے شمار ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں نے اپنی آن اور آبرو کی حفاظت کی خاطر مسکراتے ہوئے کنوؤں، نہروں اور دریاؤں کی بے رحم لہروں میں چھلانگیں لگا دیں۔ زمین بے گناہوں کے پاکیزہ خون سے سرخ تھی اور فضاؤں میں صرف سسکیوں اور ماتم کا راج تھا۔
​انہی بھیانک اور ہولناک فضاؤں کے بیچ، ایک خون آلود راستے پر، اپنی دم توڑتی ماں کی بے جان لاش پر لٹکی ایک معصوم شیر خوار بچی بلک رہی تھی۔ ارد گرد حیوان نما انسانوں کا ہجوم تھا، مگر اسی تاریکی میں انسانیت کا ایک روشنی بن کر ابھرنا بھی مقدر تھا۔ محمد اقبال اور ان کی اہلیہ اللہ رکھی نے اس نادان بچی کو چپکے سے اپنے سینے سے لگایا اور اسے آغوشِ محبت میں پناہ دے کر شیخوپورہ کے ایک گاؤں میں لے آئے۔ انہوں نے اس کا نام ممتاز بی بی رکھا اور اپنی سگی بیٹی کی طرح پال پوس کر بڑا کیا۔ ممتاز اپنی جڑوں سے بے خبر، ایک مسلمان گھرانے کی محبت میں پروان چڑھتی رہیں۔
​دہائیاں گزر گئیں، یہاں تک کہ 2020 میں زندگی کی آخری سانسیں لیتے ہوئے محمد اقبال نے ممتاز کے سامنے وہ راز کھول دیا جس کا بوجھ وہ پون صدی سے اٹھائے ہوئے تھے: "تم ہماری سگی بیٹی نہیں، بلکہ 1947 کے اس خونی طوفان میں بچھڑ جانے والے ایک سکھ خاندان کا دیا ہو۔" پٹیالہ کے گاؤں سیدرانا کا نام اور سکھ خاندان کی یہ ادھوری حقیقت ممتاز کے دل میں اپنے خونی رشتوں کو تلاش کرنے کی ایک تڑپ بن گئی۔ بیٹے شہباز کی کاوشوں اور سوشل میڈیا کی مدد سے بالآخر سرحد کے اس پار ان کے بھائیوں—گرمیت سنگھ، نریندر سنگھ اور امرندر سنگھ—کا سراغ مل گیا۔
​سال 2022 میں گوردوارہ دربار صاحب، کرتارپور کی مقدس دھرتی ایک تاریخی اور رقت انگیز منظر کی شاہد بنی۔ تقریباً 75 برس قبل اپنی ماں کی لاش پر روتی ہوئی وہ ننھی بچی، اب 75 سالہ زعیف خاتون کی صورت میں اپنے ان بھائیوں کے سامنے کھڑی تھی جنہوں نے اسے شاید کب کا مردہ تسلیم کر لیا تھا۔ جب بہن بھائی ایک دوسرے سے لپٹے تو دہائیوں پر محیط جدائی، ہجرت کا درد اور ادھورے رشتوں کی کسک آنسوؤں کے سمندر میں بہہ گئی۔
​یہ ملن صرف ایک خاندان کی تسکین نہیں تھا، بلکہ تقسیم ہند کے ان ان گنت زخموں پر مرہم کی ایک نرم پھوار تھا جو یہ ثابت کرتا ہے کہ سیاست اور سرحدوں کی کھینچی ہوئی نفرت کی دیواریں چاہے کتنی ہی بلند کیوں نہ ہوں، محبت، انسانیت اور خون کے رشتے بالآخر اپنا راستہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ 
Dr.Izhar Ahmad Gulzar
About the Author: Dr.Izhar Ahmad Gulzar Read More Articles by Dr.Izhar Ahmad Gulzar: 67 Articles with 47652 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.