کھیلوں کا حساب کتاب کہاں ہے؟ پاکستان اسپورٹس بورڈ کی خاموشی پر سوال

پاکستان میں کھیلوں کے میدانوں میں صرف کھلاڑی ہی مقابلہ نہیں کرتے، یہاں فائلیں بھی دوڑتی ہیں، بجٹ بھی خرچ ہوتا ہے، گرانٹس بھی جاری ہوتی ہیں اور قومی کھیلوں کی فیڈریشنز بھی اپنے اپنے نظام کے تحت کام کرتی ہیں۔ لیکن جب بات ان سب کے مالی حساب کتاب کو عوام کے سامنے رکھنے کی آتی ہے تو معاملہ اچانک سست پڑ جاتا ہے۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ کی ویب سائٹ پر قومی کھیلوں کی مختلف فیڈریشنز کے آڈٹ ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو ایک عجیب صورتحال سامنے آتی ہے۔ 2023-24 کے لیے 32 اندراجات موجود ہیں، تاہم ان میں سے ایک اندراج مختلف قومی کھیلوں کی فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز کے آڈٹ اسٹیٹمنٹس اور بینک اسٹیٹمنٹس کی تفصیلات پر مشتمل ہے، جبکہ باقی 31 اندراجات انفرادی فیڈریشنز اور کھیلوں کی تنظیموں کے آڈٹ ریکارڈ سے متعلق ہیں۔اس کے بعد 2024-25 کا ریکارڈ آتا ہے، جہاں 25 فیڈریشنز اور کھیلوں کی تنظیموں کی آڈٹ رپورٹس موجود ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ 2025-26 کہاں ہے؟مالی سال 2026-27 شروع ہو چکا ہے۔ کیلنڈر بھی 2026 کا ہے، لیکن پاکستان اسپورٹس بورڈ کی عوامی طور پر دستیاب فہرست میں 2025-26 کی آڈٹ رپورٹس کا مکمل ریکارڈ نظر نہیں آتا۔ یہ محض ویب سائٹ اپ ڈیٹ نہ ہونے کا معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ یہاں اصل سوال ویب سائٹ کا نہیں، نگرانی کا ہے۔ اگر قومی کھیلوں کی فیڈریشنز نے 2025-26 کے آڈٹ اکاؤنٹس تیار کر لیے ہیں تو پاکستان اسپورٹس بورڈ نے انہیں اپنی ویب سائٹ پر کیوں شائع نہیں کیا؟

اگر فیڈریشنز نے آڈٹ رپورٹس تیار ہی نہیں کیں تو بورڈ نے ان سے رپورٹس کیوں نہیں مانگیں؟ اگر رپورٹس طلب کی گئی تھیں تو کتنی فیڈریشنز نے جواب دیا؟ کتنی فیڈریشنز نے رپورٹس جمع نہیں کرائیں؟ جنہوں نے رپورٹ جمع نہیں کرائی، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ اور اگر رپورٹس پاکستان اسپورٹس بورڈ کے پاس موجود ہیں لیکن صرف ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کی گئیں تو پھر عوام سے یہ معلومات چھپانے کی وجہ کیا ہے؟

یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کیونکہ قومی کھیلوں کی فیڈریشنز کسی عام نجی ادارے کی طرح کام نہیں کرتیں۔ ان کا تعلق پاکستان کے قومی کھیلوں کے نظام سے ہے۔ ان کی سرگرمیوں، مقابلوں، تربیتی پروگراموں اور انتظامی امور کے ساتھ سرکاری اداروں کا تعلق موجود ہوتا ہے اور مختلف شکلوں میں حکومتی وسائل اور سہولتیں بھی اس نظام کا حصہ بنتی ہیں۔ایسے میں ان کے مالی معاملات کا آڈٹ عوامی دلچسپی کا معاملہ ہے۔

آڈٹ رپورٹ صرف ایک رسمی دستاویز نہیں ہوتی۔ اس سے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کسی ادارے کی آمدن کتنی تھی، اخراجات کہاں ہوئے، اثاثے کیا ہیں، واجبات کتنے ہیں اور مالی معاملات کس حد تک دستاویزی اور قابلِ جانچ ہیں۔لیکن اگر آڈٹ رپورٹس ہی کئی سال کی تاخیر سے سامنے آئیں تو پھر نگرانی کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟

یہاں پاکستان اسپورٹس بورڈ کو ایک اہم وضاحت دینا ہوگی۔یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ بورڈ نے جان بوجھ کر معلومات چھپائی ہیں۔ اس دعوے کے لیے مزید دستاویزی ثبوت ضروری ہیں۔ لیکن یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر معلومات دستیاب ہیں تو انہیں عوام کے سامنے لانے میں تاخیر کیوں ہے، اور اگر معلومات دستیاب نہیں ہیں تو انہیں حاصل کرنے کے لیے بورڈ نے کیا اقدامات کیے ہیں؟

اصل مسئلہ یہی ہے۔ ایک مضبوط نظام میں آڈٹ رپورٹ صرف بنائی نہیں جاتی بلکہ اسے مقررہ وقت پر جمع بھی کرایا جاتا ہے، متعلقہ ادارہ اس کی جانچ بھی کرتا ہے اور جہاں قانون یا پالیسی اجازت دے وہاں اسے عوامی سطح پر دستیاب بھی بنایا جاتا ہے۔اگر اس پورے عمل میں کہیں رکاوٹ ہے تو اس رکاوٹ کی نشاندہی ہونی چاہیے۔ مثلاً پاکستان اسپورٹس بورڈ یہ بتا سکتا ہے کہ 2025-26 کے لیے کتنی قومی فیڈریشنز کو آڈٹ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ کتنی نے مقررہ وقت میں رپورٹ جمع کرائی۔ کتنی رپورٹس نامکمل ہیں۔ کتنی زیرِ جانچ ہیں اور کتنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہیں۔یہ تفصیلات سامنے آ جائیں تو بہت سے سوالات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔

لیکن جب ریکارڈ ہی نامکمل ہو تو سوال بڑھتے جاتے ہیں۔اور یہی پاکستان کے کھیلوں کے نظام کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ میدان میں شکست یا کامیابی فوراً نظر آ جاتی ہے، لیکن ادارہ جاتی ناکامی اکثر فائلوں کے اندر چھپی رہتی ہے۔کسی فیڈریشن کی کارکردگی صرف اس کے کھلاڑیوں کے میڈلز سے نہیں ناپی جا سکتی۔ ادارے کی مالی شفافیت، انتظامی نظم، آڈٹ کی بروقت تکمیل اور عوامی معلومات تک رسائی بھی اسی کارکردگی کا حصہ ہیں۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ اگر واقعی قومی کھیلوں کی فیڈریشنز کی نگرانی کرتا ہے تو اسے صرف کھیلوں کے مقابلوں اور ٹیموں کی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مالی اور انتظامی تقاضے پورے ہو رہے ہیں یا نہیں۔آخر میں سوال بہت سادہ ہے: 2023-24 کی آڈٹ رپورٹس موجود ہیں، 2024-25 کی بھی متعدد رپورٹس موجود ہیں، لیکن 2025-26 کا مکمل ریکارڈ کہاں ہے؟

کیا فیڈریشنز نے رپورٹیں جمع نہیں کرائیں؟ کیا پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ان سے رپورٹس طلب نہیں کیں؟ کیا رپورٹس بورڈ کے پاس موجود ہیں مگر ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کی گئیں؟ یا پھر کسی کو عوام کے سامنے مکمل مالی تصویر رکھنے کی جلدی ہی نہیں؟ ان سوالات کا جواب الزام سے نہیں، ریکارڈ سے ملنا چاہیے۔ اور اگر پاکستان اسپورٹس بورڈ کے پاس اس کا واضح جواب اور مکمل ریکارڈ موجود ہے تو اسے عوام کے سامنے رکھنے میں آخر تاخیر کس بات کی؟کھیلوں کے میدان میں شفافیت کا مطالبہ کرنے سے پہلے کھیلوں کے اداروں کے حساب کتاب میں شفافیت دکھانا ہوگی۔

#PakistanSportsBoard #SportsFederations #AuditReports #SportsTransparency #FinancialTransparency #SportsGovernance #Accountability #PakistanSports #PublicFunds #SportsAdministration #SportsAccountability #AuditTransparency

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1064 Articles with 817228 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More