صرف قانون پاس کرنا کافی نہیں، PSB بتائے عمل درآمد کہاں ہے؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
قومی کھیلوں کی فیڈریشنز میں عہدوں کی بندربانٹ، چیئرمین سے پیٹرن اور صدر سے سیکرٹری جنرل تک بار بار گردش کرنے والے عہدیداروں پر پاکستان اسپورٹس بورڈ کی گرفت کہاں ہے؟
پاکستان اسپورٹس بورڈ نے قومی کھیلوں کی فیڈریشنز میں برسوں سے جاری ایک بنیادی مسئلے کو تسلیم کرتے ہوئے فروری 2026 میں نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز (ٹینور) رولز 2025 کے Rule 3(6) میں ترمیم کردی۔ اب قانون صاف کہتا ہے کہ فیڈریشن کا سب سے اعلیٰ انتظامی اور عملی عہدہ صدر کا ہوگا، جبکہ چیئرمین، پیٹرن اِن چیف، پیٹرن، چیف ایگزیکٹو آفیسر یا اس نوعیت کا کوئی بھی دوسرا عہدہ صرف رسمی اور اعزازی ہوگا۔ ان عہدوں کے پاس انتظامی، مالی، عملیاتی یا بااثر اختیار نہیں ہوگا۔
لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ قانون بن گیا یا نہیں۔اصل سوال یہ ہے عمل درآمد کہاں ہے؟ PSB کے اپنے خط کے مطابق مسئلہ صرف کاغذی نہیں تھا۔ بورڈ نے خود تسلیم کیا کہ بعض عہدیدار صدر کی حیثیت سے دو چار سالہ مدتیں مکمل کرنے کے بعد چیئرمین، پیٹرن اِن چیف، پیٹرن، CEO یا اسی نوعیت کے عہدے اختیار کرکے عملی اور انتظامی اثر و رسوخ برقرار رکھتے رہے۔ PSB نے خود اس عمل کو ٹینور کی پابندی کو غیر مؤثر بنانے کے مترادف قرار دیا۔
تو پھر اگلا سوال لازمی ہے فروری 2026 کے بعد ایسے کتنے عہدیداروں کی نشاندہی کی گئی؟ کتنی فیڈریشنز کو نوٹس جاری ہوئے؟ کتنی فیڈریشنز نے اپنے آئین میں ترمیم کی؟ کتنی فیڈریشنز نے چیئرمین، پیٹرن یا CEO کے اختیارات ختم کیے؟ اور سب سے بڑھ کر: پاکستان اسپورٹس بورڈ نے عوام کے سامنے ان فیڈریشنز کی مکمل اور تصدیق شدہ فہرست کیوں پیش نہیں کی؟
PSB کے حکم کے مطابق فیڈریشنز کو 90 دن کے اندر تعمیلی رپورٹ اور اپنے ترمیم شدہ آئین کی تصدیق شدہ نقل جمع کرانا تھی۔ 11 فروری 2026 کے خط کے حساب سے یہ مدت مئی 2026 میں ختم ہوچکی ہے۔ اب ستمبر 2026 ہے۔ یعنی بنیادی سوال یہ بنتا ہے کہ 90 دن کی مدت ختم ہونے کے بعد PSB نے کیا کیا؟ اگر تمام فیڈریشنز نے قانون پر عمل کرلیا ہے تو PSB کو ایک مرتبہ میں مکمل فہرست جاری کرنی چاہیے:
فیڈریشن کا نام‘ موجودہ صدر ‘ سیکرٹری جنرل‘ چیئرمین‘ پیٹرن یا پیٹرن اِن چیف‘ CEO یا دیگر عہدے‘ ہر عہدے کے آئینی اختیارات‘ سابق عہدیدار کی گزشتہ مدت دو مدتوں کی تکمیل کی تاریخ‘ ترمیم شدہ آئین جمع کرانے کی تاریخ‘ PSB کی طرف سے منظوری یا اعتراض‘ خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی ‘یہ معلومات عوام سے چھپانے کی بجائے کھلے عام پیش کی جانی چاہئیں۔کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کوئی شخص صدر ہے یا چیئرمین۔
اصل مسئلہ اختیار ہے۔اگر کسی شخص کے پاس چیئرمین کا عہدہ ہے لیکن بینک اکاؤنٹ، مالی فیصلوں، ٹیموں کے معاملات، تقرریوں، انتخابی عمل، اجلاسوں، فنڈز یا روزمرہ انتظامی امور میں عملی اختیار بھی اسی کے پاس ہے تو صرف عہدے کا نام تبدیل کردینے سے ٹینور کی روح پوری نہیں ہوتی۔اور یہی وہ خلا ہے جسے PSB نے اپنے ہی ترمیمی حکم میں ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔مسئلہ عہدوں کی گردش کا بھی ہے
قومی کھیلوں کی متعدد فیڈریشنز میں برسوں سے یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ کیا ایک ہی محدود گروپ مختلف عہدوں کے ذریعے مسلسل انتظامی اثر و رسوخ برقرار رکھتا ہے؟آج صدر، کل سیکرٹری جنرل، پھر چیئرمین، پھر پیٹرن اور دوبارہ کسی دوسرے عہدے پر واپسی۔اگر ایک ہی شخص مختلف عہدوں کے ذریعے فیڈریشن کے فیصلوں پر مسلسل اثر رکھتا رہے تو صرف انتخابی عہدے کا نام تبدیل ہونے سے قیادت کی حقیقی تبدیلی کیسے ثابت ہوگی؟
یہی وہ سوال ہے جس کا جواب اب PSB کو دینا چاہیے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ PSB خود فیڈریشنز کی وابستگی کے لیے اس بات کو شرط قرار دیتا ہے کہ عہدیداروں کی مدت قومی کھیلوں کی پالیسی کے مطابق ہو، فیڈریشن اپنا آئین ماڈل آئین کے مطابق رکھے اور PSB کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ ہدایات پر عمل کرے۔ PSB یہ بھی کہتا ہے کہ فیڈریشن کی وابستگی کوئی حق نہیں بلکہ بورڈ کی جانب سے مقررہ شرائط کے تحت دی جانے والی منظوری ہے۔
تو پھر Rule 3(6) کی خلاف ورزی پر سوال صرف اخلاقی نہیں رہتا۔ یہ ریگولیٹری سوال بن جاتا ہے۔ صرف چھ افراد کے استعفے کافی نہیںPSB نے اپنی 35ویں بورڈ میٹنگ کے بارے میں جاری کردہ معلومات میں دعویٰ کیا کہ پہلی مرتبہ دو مدتوں کے اصول پر عمل درآمد یقینی بناتے ہوئے چھ قومی کھیلوں کی فیڈریشنز کے ایسے عہدیداروں نے عہدے چھوڑے جنہوں نے اپنی مقررہ مدت مکمل کرلی تھی۔
یہ ایک اہم اقدام ہے۔ لیکن اس کے بعد کا مرحلہ زیادہ اہم ہے۔ کیا متبادل عہدوں کے ذریعے اختیار برقرار رکھنے کی روایت بھی ختم ہوئی؟ اگر ہاں تو ثبوت کہاں ہے؟ اگر نہیں تو کارروائی کہاں ہے؟ PSB کی ویب سائٹ پر قومی کھیلوں کی فیڈریشنز کے موجودہ عہدیداروں کی فہرست موجود ہے، جبکہ انتخابی کمیشن کے تحت مختلف فیڈریشنز کے انتخابات اور امیدواروں سے متعلق اطلاعات بھی شائع کی جارہی ہیں۔ اب ضرورت صرف ناموں کی فہرست کی نہیں بلکہ اختیارات کی فہرست کی ہے۔
عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کس فیڈریشن میں کون شخص کس عہدے پر ہے، اس عہدے کے پاس کیا اختیار ہے، اور آیا وہ اختیار PSB کے نئے Rule 3(6) سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ سوال PSB سے ہے پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اگر قانون بنایا ہے تو اب اسے نافذ بھی کرنا ہوگا۔ اگر کوئی فیڈریشن اب بھی ایسے عہدے رکھتی ہے جنہیں Rule 3(6) کے تحت صرف ceremonial قرار دیا گیا ہے، مگر عملی اختیار کسی اور شخص کے پاس ہے، تو PSB کو اس کی نشاندہی کرنی چاہیے۔
اگر کسی سابق صدر نے آٹھ سال مکمل کرنے کے بعد کسی دوسرے نام یا عہدے کے ذریعے وہی انتظامی اختیار برقرار رکھا ہے تو PSB کو وضاحت دینی چاہیے کہ اسے نئے قواعد کے تحت کیسے دیکھا جارہا ہے۔ اور اگر تمام فیڈریشنز نے مکمل عمل درآمد کرلیا ہے تو پھر PSB کو تاریخ سمیت مکمل compliance list عوام کے سامنے رکھنے میں کیا رکاوٹ ہے قومی کھیلوں کی فیڈریشنز عوامی فنڈز، سرکاری سہولیات اور قومی کھیلوں کے نظام کا حصہ ہیں۔ اس لیے ان کے انتظامی ڈھانچے، عہدیداروں اور اختیارات میں شفافیت صرف فیڈریشن کا اندرونی معاملہ نہیں۔قانون بنانا پہلا قدم ہے۔قانون پر عمل کروانا اصل امتحان ہے۔ اب گیند پاکستان اسپورٹس بورڈ کے کورٹ میں ہے۔
#PakistanSportsBoard #SportsGovernance #NationalSportsFederations #SportsReforms #SportsAccountability #SportsTransparency #TenureRules #PakistanSports #SportsFederations #GovernanceInSports #PSB #NationalSportsPolicy #SportsInvestigation
|