میدان سے پہلے خوراک کی جنگ: ایشین گیمز میں پاکستانی ہاکی ٹیم کا مسئلہ

جاپان میں جاری 20ویں ایشین گیمز میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کو ایک ایسے مسئلے کا سامنا ہونے کی اطلاعات ہیں جو میدان سے باہر پیدا ہوا ہے، لیکن اس کے اثرات میدان کے اندر کھلاڑیوں کی کارکردگی تک پہنچ سکتے ہیں۔ مسئلہ مناسب اور بروقت حلال خوراک کی دستیابی کا ہے۔

ایشین گیمز میں مختلف ممالک کے ہزاروں کھلاڑی اپنے ملکوں کی نمائندگی کے لیے جاپان پہنچے ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ پاکستانی ہاکی ٹیم ایک اہم بین الاقوامی مقابلے کی تیاری میں مصروف ہے، لیکن سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی سمیت بعض مسلمان ممالک کے کھلاڑیوں اور عہدیداروں کو رہائش گاہوں پر حلال خوراک کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔18 ستمبر کو سامنے آنے والی پاکستانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق رہائش گاہ میں دستیاب حلال کھانا بعض اوقات ضرورت کے مقابلے میں کم پڑ جاتا ہے اور کھلاڑیوں کو کھانے کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

بظاہر یہ ایک معمولی انتظامی مسئلہ لگ سکتا ہے، لیکن کھیلوں کی دنیا میں خوراک صرف بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں۔خوراک کھلاڑی کی توانائی، جسمانی بحالی، تربیت اور آئندہ مقابلے کے لیے تیاری کا بنیادی حصہ ہے۔ایک کھلاڑی کے لیے کھانے کی ایک پلیٹ کتنی اہم ہے؟ایک پیشہ ور ہاکی کھلاڑی کا جسم تربیت اور مقابلے کے دوران مسلسل توانائی استعمال کرتا ہے۔ دوڑ، تیز رفتار حرکت، جسمانی ٹکراو اور مسلسل کھیل کے بعد جسم کو دوبارہ توانائی حاصل کرنے کے لیے مناسب خوراک اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

مقابلے یا تربیت کے بعد مناسب مقدار میں خوراک نہ ملے تو مسئلہ صرف بھوک تک محدود نہیں رہتا۔ جسمانی بحالی متاثر ہوسکتی ہے، تھکن برقرار رہ سکتی ہے اور اگلی تربیت یا مقابلے کے لیے جسم مطلوبہ حالت میں نہ پہنچ سکے۔اسی لیے بڑے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں کھلاڑیوں کی غذائی ضروریات کو کھیلوں کی تیاری کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔لیکن اصل سوال کچھ اور ہےسماجی ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والی بعض اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی مناسب حلال خوراک نہ ملنے کے باعث خالی پیٹ تربیت کرنے پر مجبور ہیں اور بعض کھلاڑی اپنی جیب سے باہر موجود پاکستانی یا پنجابی کھانوں کے مراکز سے کھانا خرید رہے ہیں۔

یہ دعوے سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔لیکن ذمہ دارانہ صحافت میں یہاں ایک اہم فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔حلال خوراک کی کمی کے بارے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں رپورٹس موجود ہیں، تاہم پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے خالی پیٹ تربیت کرنے یا ذاتی رقم سے باہر سے کھانا خریدنے کے مخصوص دعووں کی آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔اس لیے ان دعووں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے متعلقہ ذرائع سے منسوب کرنا اور پاکستانی حکام سے براہ راست تصدیق حاصل کرنا ضروری ہے۔

ایک اہم تضاد بھی سامنے آتا ہےاس معاملے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایشین گیمز کے منتظمین نے کھلاڑیوں کی مختلف مذہبی اور غذائی ضروریات کو پہلے ہی اپنے انتظامات میں شامل کرنے کی بات کی تھی۔ایشین اولمپک کونسل کے مطابق کھیلوں کے کھانے کے انتظامات میں حلال اور سبزی خور خوراک بھی شامل کی گئی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ حلال خوراک کے تصور کو نظر انداز کرنے کا نہیں بلکہ اس سہولت کی دستیابی، مقدار، وقت اور مختلف رہائش گاہوں تک رسائی کا ہوسکتا ہے۔مرکزی کھانے کے مرکز میں حلال خوراک دستیاب ہونا ایک بات ہے، جبکہ مختلف ہوٹلوں میں مقیم کھلاڑیوں کو ان کے تربیتی اور مقابلوں کے اوقات کے مطابق بروقت اور مناسب مقدار میں حلال خوراک ملنا دوسری بات۔

اس سال ایشین گیمز میں روایتی مرکزی کھلاڑیوں کے گاو¿ں کا انتظام نہیں کیا گیا۔ ایشین اولمپک کونسل اور منتظمین کے مطابق ہزاروں کھلاڑیوں اور عہدیداروں کو مختلف مقامات پر رہائش فراہم کی گئی ہے۔رہائش کے انتظامات میں ہوٹلوں کے علاوہ عارضی رہائش اور بحری جہاز بھی شامل ہے۔اس طرح کے بڑے اور مختلف نوعیت کے رہائشی نظام میں خوراک، آمدورفت اور کھلاڑیوں کی بنیادی ضروریات کو ایک ہی معیار پر برقرار رکھنا منتظمین کے لیے یقیناً ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے۔


پاکستانی ہاکی ٹیم کے لیے یہ ایشین گیمز محض ایک عام کھیلوں کا مقابلہ نہیں۔ان کھیلوں میں ہاکی کے نتائج دو ہزار اٹھائیس کے لاس اینجلس اولمپکس میں رسائی کے راستے سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔بین الاقوامی ہاکی فیڈریشن کے مطابق ایشین گیمز کا ہاکی چیمپئن براہ راست لاس اینجلس اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرے گا، جبکہ دیگر نمایاں ٹیموں کے لیے اولمپک کوالیفائنگ مقابلوں کا راستہ موجود ہوگا۔ایسے میں تیاری کا ہر پہلو اہم ہوجاتا ہے۔تربیت، جسمانی فٹنس، کھیل کی حکمت عملی، آرام اور جسمانی بحالی کے ساتھ مناسب خوراک بھی اسی تیاری کا حصہ ہے۔اب سوال پاکستانی انتظامیہ سے ہے

اس معاملے میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پاکستانی دستے کی انتظامیہ سے چند بنیادی سوالات کے جواب سامنے آنے چاہئیں۔کیا پاکستانی ہاکی ٹیم کی رہائش گاہ پر روزانہ مطلوبہ مقدار میں حلال خوراک دستیاب ہے؟ کیا کھلاڑیوں نے خوراک کی کمی کی باقاعدہ شکایت کی؟ کیا اس معاملے پر ایشین گیمز کے منتظمین سے رابطہ کیا گیا؟ اگر کھلاڑیوں کو باہر سے کھانا خریدنا پڑا تو کیا اس کے اخراجات پاکستانی دستہ برداشت کرے گا؟اور سب سے اہم سوال ‘ کیا پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے متبادل خوراک کا کوئی انتظام موجود ہے؟ یہ سوالات کسی ادارے پر الزام لگانے کے لیے نہیں بلکہ صورتحال کو واضح کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

کھیلوں میں عام طور پر توجہ گول، فتح، شکست اور تمغے پر ہوتی ہے۔ لیکن ایک کھلاڑی کی کارکردگی کے پیچھے ایک مکمل نظام کام کرتا ہے۔وہ کہاں رہتا ہے، کیا کھاتا ہے، کب تربیت کرتا ہے، تربیت کے بعد اسے مناسب خوراک اور آرام ملتا ہے یا نہیں، اگلے مقابلے سے پہلے اس کا جسم کس حد تک بحال ہوتا ہے، یہ سب چیزیں اس نظام کا حصہ ہیں۔ پاکستانی کھلاڑیوں سے میدان میں ملک کے لیے بہترین کارکردگی کی توقع کرنا بالکل فطری ہے۔ لیکن ان کھلاڑیوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔

ایشین گیمز میں مقابلہ صرف میدان کے اندر نہیں ہوتا۔ ایک ٹیم کی تیاری کا معیار اس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ میدان سے باہر اس کے کھلاڑیوں کے لیے بنیادی سہولیات کا کتنا موثر انتظام کیا گیا ہے۔حلال خوراک کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کم از کم اس بات کی متقاضی ہیں کہ پاکستانی متعلقہ ادارے صورتحال واضح کریں اور اگر واقعی کمی موجود ہے تو اسے فوری طور پر دور کریں۔ کیونکہ جو کھلاڑی ملک کا پرچم بلند کرنے کے لیے میدان میں اترنے والا ہو، اس کے لیے مناسب خوراک کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ اس کی تیاری کا بنیادی حق ہے۔

#PakistanHockey #AsianGames2026 #PakAthletes #PHF #POA #PakistanSports #HockeyPakistan #AsianGames #AthleteWelfare #SportsNutrition #SportsManagement #AichiNagoya2026 #LA28 #OlympicQualification

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1061 Articles with 816092 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More