ڈوپنگ قوانین میں اہم تبدیلیاں، سیمیگلوٹاءڈ اور ٹرزیپیٹاءڈ بدستور ممنوعہ ادویات کی فہرست سے باہر


ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) نے 2027 کے لیے ممنوعہ ادویات اور طریقہ کار کی نظرثانی شدہ فہرست جاری کردی ہے، جس میں سیمیگلوٹاءڈ اور ٹرزیپیٹاءڈ سمیت GLP-1 ادویات کو بدستور ممنوعہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔WADA کے ایگزیکٹو کمیٹی نے نءی فہرست کی منظوری 10 ستمبر کو دی، جو یکم جنوری 2027 سے نافذ العمل ہوگی۔ ن?ی فہرست میں ان ادویات اور طریقہ کار کی تفصیلات شامل ہیں جو مقابلے کے دوران اور مقابلے سے باہر ممنوع ہوں گے، جبکہ بعض اشیا مخصوص کھیلوں میں ہی ممنوع رہیں گی۔

بین الاقوامی ادارے WADAبنے 2026 کی فہرست کے مقابلے میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کی وضاحت کے لیے ایک خلاصہ، ترامیم نمایاں کرنے والا نظرثانی شدہ مسودہ اور نیا نگرانی پروگرام بھی جاری کیا ہے۔ نگرانی پروگرام میں ایسی ادویات اور مادے شامل ہوتے ہیں جو فی الحال ممنوع نہیں، تاہم کھیلوں میں ان کے ممکنہ غلط استعمال کے رجحانات پر WADA نظر رکھتا ہے۔2027 کی فہرست میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی پیش رفت GLP-1 receptor agonists سے متعلق ہے۔ اس گروپ میں سیمیگلوٹاءڈ اور ٹرزیپیٹاءڈ شامل ہیں، جن کا استعمال حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھا ہے۔

WADA کے ماہرین کے مشاورتی گروپ نے دستیاب ساءنسی تحقیق کا جاءزہ لینے کے بعد یہ سوال بھی زیر غور لایا کہ آیا ان ادویات کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔ تاہم WADA کے مطابق اس وقت اتنے شواہد دستیاب نہیں کہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ یہ ادویات ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کے مطلوبہ معیار پر پوری اترتی ہیں۔WADA کے ساءنس اور میڈیسن کے سینءر ڈاءریکٹر پروفیسر اولیویئر رابن کے مطابق GLP-1 ادویات کی حیثیت کا تفصیلی جاءزہ لیا گیا، لیکن فی الحال دستیاب شواہد ان کے ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

ان کے مطابق ایک کھیل سے متعلق ساءنسی تحقیق پہلے ہی جاری ہے جبکہ WADA نے ان ادویات کے کھلاڑیوں پر اثرات کا جاءزہ لینے کے لیے ایک دوسری تحقیق بھی شروع کردی ہے۔ WADA کو توقع ہے کہ ان مطالعات سے مستقبل میں حتمی فیصلہ کرنے کے لیے ضروری ساءنسی معلومات حاصل ہوجاءیں گی۔2027 کی فہرست میں کءی دیگر شعبوں میں بھی تبدیلیاں کی گءی ہیں۔ **Substances of Abuse** سے متعلق الفاظ میں ترمیم کرکے یہ واضح کیا گیا ہے کہ نتاءج کے انتظام کے دوران بعض حالات میں ادویات کے جسم میں موجود میٹابولاءٹس کو کس طرح مدنظر رکھا جاءے گا۔

کینابینوءڈز کے حصے میں بھی موجودہ ساءنسی معلومات کو شامل کیا گیا ہے، خصوصاً ایسے کینابینوءڈز کے حوالے سے جن کے اثرات ڈیلٹا-9-ٹیٹراہاءیڈروکینابینول (?9-THC) سے مشابہ ہوتے ہیں۔ کھلاڑیوں اور ان کے معاون عملے کے لیے مزید مثالیں بھی شامل کی گءی ہیں تاکہ ممنوعہ مادوں کی شناخت آسان ہو۔ہارمونز اور میٹابولک ماڈیولیٹرز سے متعلق ایک زمرے کے عنوان میں موجودہ طبی اصطلاحات کے مطابق تبدیلی کی گءی ہے۔ گلوکوکورٹیکوءڈز کے اندام نہانی کے ذریعے استعمال کو بھی واضح طور پر جاءز طریقہ استعمال میں شامل کیا گیا ہے۔

بیٹا بلاکرز سے متعلق تفصیلات کو مختلف بین الاقوامی کھیلوں کی فیڈریشنز میں بھی یکساں کیا گیا ہے۔ غیر منظور شدہ ادویات، ہارمونز، میٹابولک ماڈیولیٹرز، پیشاب آور ادویات، ماسکنگ ایجنٹس اور کینابینوءڈز سے متعلق حصوں میں مزید مثالیں اور وضاحتیں شامل کی گءی ہیں۔WADA کے مطابق بعض ادویات کو اس کے نگرانی پروگرام سے بھی نکال دیا گیا ہے کیونکہ جمع کیے گءے اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوا کہ فی الحال وہ کھیلوں میں انسدادِ ڈوپنگ کے حوالے سے تشویش کا باعث نہیں ہیں۔

WADA کے ڈاءریکٹر جنرل اولیویئر نیگلی نے کھلاڑیوں، کوچز، طبی عملے اور دیگر متعلقہ افراد پر زور دیا ہے کہ نءی فہرست کے نافذ ہونے سے پہلے اس میں کی گءی تبدیلیوں کا مطالعہ کریں۔WADA نے تمام انسدادِ ڈوپنگ اداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ نءی فہرست اور متعلقہ دستاویزات اپنے داءرہ اختیار میں موجود کھلاڑیوں اور ان کے معاون عملے تک پہنچاءیں تاکہ ممنوعہ ادویات یا طریقہ کار کے غیر ارادی استعمال سے بچا جاسکے۔

ممنوعہ فہرست ورلڈ اینٹی ڈوپنگ کوڈ کے تحت بین الاقوامی معیارات کا حصہ ہے۔ 2027 کے آغاز سے یہ نو بین الاقوامی معیارات میں شامل ہوگی، جبکہ اسی عرصے میں انٹیلی جنس اور تحقیقات کے حوالے سے ایک نیا بین الاقوامی معیار بھی نافذ ہوگا۔WADA ہر سال ممنوعہ فہرست کا جاءزہ لیتا ہے۔ یہ عمل جنوری میں شروع ہوتا ہے اور ساءنسی و طبی تحقیق، کھیلوں میں سامنے آنے والے نءے رجحانات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دوا ساز کمپنیوں سمیت مختلف ذراءع سے حاصل ہونے والی معلومات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

کسی مادے یا طریقہ کار کو ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کے لیے WADA کے مطابق تین میں سے کم از کم دو معیار پورے ہونا ضروری ہیں: کھیلوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی صلاحیت، کھلاڑیوں کی صحت کے لیے حقیقی یا ممکنہ خطرہ، یا WADA کی جانب سے متعین کردہ کھیل کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی۔نءی فہرست کو اس کے نفاذ سے تین ماہ پہلے جاری کیا جاتا ہے تاکہ کھلاڑیوں، کوچز، طبی عملے اور دیگر متعلقہ افراد کو تبدیلیوں سے آگاہ ہونے کے لیے وقت مل سکے۔

انسدادِ ڈوپنگ قوانین کے تحت کھلاڑی اپنے جسم میں پاءے جانے والے ممنوعہ مادوں اور استعمال کیے گءے ممنوعہ طریقہ کار کے ذمہ دار رہتے ہیں۔ اگر کھلاڑی کے معاون عملے کے ارکان ممنوعہ عمل میں ملوث پاءے جاءیں تو انہیں بھی انسدادِ ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ایسے کھلاڑی جنہیں کسی جاءز طبی وجہ سے ممنوعہ دوا یا طریقہ کار کی ضرورت ہو، وہ **Therapeutic Use Exemption (TUE)** کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ مقررہ طبی اور قانونی معیار پر پورا اترتے ہوں۔

بین الاقوامی ادارے WADA نے 2027 کی فہرست کے ساتھ تعلیمی مواد بھی تیار کیا ہے۔ نظرثانی شدہ فہرست پر عمل درآمد کے لیے ایک چیک لسٹ پہلے ہی دستیاب ہے، جبکہ کھلاڑیوں اور ان کے معاون عملے کے لیے خصوصی رہنما دسمبر میں جاری کیا جاءے گا۔2027 کی ممنوعہ فہرست، وضاحتی نوٹس اور نگرانی پروگرام کے انگریزی اور فرانسیسی ورژن جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ ہسپانوی ورژن آنے والے ہفتوں میں متوقع ہے۔ یکم جنوری 2027 کو نءے قوانین کے نفاذ کے ساتھ موباءل فون کے لیے موزوں ڈیجیٹل ورژن بھی دستیاب ہوگا۔

#WADA #AntiDoping #Doping #Sports #Athletes #Semaglutide #Tirzepatide #GLP1 #SportsMedicine #WorldAntiDopingAgency #ProhibitedList #AntiDopingRules #SportsNews #PakistanSports
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1064 Articles with 818826 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More