تیراہ کرکٹ اسٹیڈیم: 3 کروڑ 75 لاکھ روپے خرچ، مگر تعمیر کی تصدیق کس نے کی؟

تیراہ کرکٹ اسٹیڈیم:

پشاور/تیراہ: ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں کرکٹ اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کے منصوبے پر سرکاری ریکارڈ کے مطابق 37,526,731 روپے، یعنی 3 کروڑ 75 لاکھ 26 ہزار 731 روپے خرچ ہوچکے ہیں، جبکہ منصوبے کی مجموعی منظور شدہ لاگت 49.918 ملین روپے، یعنی تقریباً 5 کروڑ روپے ہے۔اب اس منصوبے سے متعلق اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کتنی رقم خرچ ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ اس رقم کے عوض زمین پر کیا کام مکمل ہوا، کام کی پیمائش کس نے کی اور تعمیراتی کام کی تصدیق کس افسر نے کی؟دستیاب مالی دستاویز کے مطابق منصوبے پر اب تک تین بلوں کی مد میں اخراجات ظاہر کیے گئے ہیں۔

پہلا بل: 6,354,339 روپے
دوسرا آر/بل: 10,861,489 روپے
تیسرا آر/بل: 20,310,903 روپے

ان تینوں بلوں کی مجموعی رقم 37,526,731 روپے بنتی ہے، جو منصوبے کی مجموعی منظور شدہ لاگت کا تقریباً 75 فیصد ہے۔لیکن صرف بلوں کا اجرا یا ادائیگی کسی ترقیاتی منصوبے کی حقیقی پیش رفت ثابت نہیں کرتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان بلوں کے عوض کون سا کام مکمل کیا گیا؟ کیا گراؤنڈ کی سطح بندی ہوئی؟ کیا کرکٹ پچ تعمیر یا اپ گریڈ کی گئی؟ کیا باؤنڈری وال، پویلین، ڈریسنگ روم، پانی، آبپاشی، نکاسی آب یا دیگر سہولیات پر کام ہوا؟ اور اگر یہ کام ہوئے تو ہر کام کی مقدار کتنی تھی اور اس پر کتنی رقم خرچ ہوئی؟ یہ تفصیلات صرف بل، بل کے ساتھ منسلک پیمائش، Measurement Book، انجینئر کی تصدیق اور سائٹ انسپیکشن رپورٹس سے واضح ہوسکتی ہیں۔

اصل سوال: بل کس نے تصدیق کیے؟ تحقیقات کا ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ 37.526 ملین روپے کے اخراجات پر مشتمل ان بلوں کی پیمائش کس انجینئر نے کی؟ کام کی فزیکل ویریفکیشن کس افسر یا کمیٹی نے کی؟ کیا متعلقہ افسران نے خود تیراہ کرکٹ اسٹیڈیم کا دورہ کیا؟ اگر دورہ کیا تو کس تاریخ کو کیا؟ کیا ہر Running Bill کی ادائیگی سے پہلے سائٹ پر موجود کام کی پیمائش کی گئی؟ اور کیا اس پیمائش کے ساتھ تاریخ شدہ سائٹ تصاویر یا Inspection Report بھی موجود ہے؟

تیراہ کی سکیورٹی صورتحال اہم کیوں ہے؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ تیراہ وادی 2026 کے دوران سکیورٹی بحران، نقل مکانی اور محدود شہری رسائی سے متاثر رہی ہے۔ ایسے حالات میں ایک بڑے ترقیاتی منصوبے کی فزیکل مانیٹرنگ اور تصدیق کا طریقہ کار انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے منصوبے پر کام لازماً نہیں ہوسکتا تھا۔ لیکن اگر سائٹ تک رسائی محدود تھی تو پھر یہ جاننا ضروری ہے کہ محکمہ کھیل کے انجینئرز نے کام کی پیمائش اور بلوں کی تصدیق کس طریقے سے کی؟ اگر افسران نے موقع پر جاکر کام کی پیمائش کی تو اس کا سرکاری ریکارڈ موجود ہونا چاہیے۔

اگر سائٹ انسپیکشن سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ممکن نہیں تھا تو پھر بلوں کی فزیکل تصدیق کس متبادل طریقہ کار کے تحت کی گئی؟ پرانے تصاویر یا موجودہ حقیقت؟ اس منصوبے کی موجودہ حالت جاننے کے لیے پرانی تصاویر کافی نہیں۔ 3 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد اخراجات کے بعد ستمبر 2026 میں تیراہ کرکٹ اسٹیڈیم کس حالت میں ہے؟ کیا گراؤنڈ مکمل طور پر تیار ہے؟ کیا پچ کھیل کے قابل ہے؟ کیا تماشائیوں کے لیے سہولیات موجود ہیں؟ کیا باؤنڈری، ڈریسنگ روم اور دیگر تعمیراتی کام مکمل ہیں؟

کیا اسٹیڈیم عملی طور پر استعمال ہورہا ہے؟اگر نہیں، تو اس کی وجہ کیا ہے؟ ان سوالات کا جواب تازہ سائٹ انسپیکشن، تصاویر، ویڈیو، انجینئرنگ رپورٹ اور فزیکل ویریفکیشن سے ہی مل سکتا ہے۔ اب آر ٹی آئی کے ذریعے کیا معلوم کیا جارہا ہے؟اس منصوبے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے محکمہ کھیل سے یہ ریکارڈ طلب کیا جارہا ہے:

منصوبے کے ذمہ دار افسران کے نام اور عہدے‘ سائٹ انسپیکشن کرنے والے افسران کی تفصیل‘ تینوں Running Bills کی مکمل نقول‘ Measurement Book کے متعلقہ صفحات‘ ngineer's Certification ‘ Site Inspection Reports‘ تازہ ترین Progress Report ‘ منصوبے کی تازہ تصاویر ‘ Tender اور Work Order ٹھیکیدار کا نام ‘ Contract Agreement‘ کام کی Item-wise اور Work-wise تفصیل‘ ہر کام کی منظور شدہ اور مکمل شدہ مقدار‘ اب تک جاری شدہ فنڈز اور اخراجات کی تفصیل منصوبے کی اصل اور موجودہ متوقع تکمیل کی تاریخ‘ 3 کروڑ 75 لاکھ روپے کا اصل حساب کہاں ہے؟منصوبے کی منظور شدہ لاگت 49.918 ملین روپے ہے جبکہ 37.526 ملین روپے خرچ ہوچکے ہیں۔یعنی تقریباً 12.39 ملین روپے، یا 1 کروڑ 24 لاکھ روپے کی رقم ابھی مجموعی منظور شدہ لاگت میں باقی رہتی ہے۔

لیکن عوامی مفاد کا بنیادی سوال یہ ہے کہ خرچ ہونے والی رقم زمین پر کتنے کام میں تبدیل ہوئی؟اگر ریکارڈ میں لاکھوں روپے کے تعمیراتی کام درج ہیں تو وہ کام موقع پر بھی نظر آنے چاہئیں۔ اگر Measurement Book میں مخصوص مقدار درج ہے تو وہ مقدار فزیکل معائنے میں قابلِ تصدیق ہونی چاہیے۔ اور اگر انجینئر نے کام کی تکمیل کی تصدیق کی ہے تو اس تصدیق کا دستاویزی ریکارڈ بھی موجود ہونا چاہیے۔

اصل کہانی ابھی باقی ہےاس مرحلے پر دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ منصوبے میں بے ضابطگی یا کرپشن ہوئی ہے۔لیکن 37.526 ملین روپے کے اخراجات اور تیراہ کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں منصوبے کی فزیکل تصدیق ایک جائز اور اہم عوامی سوال ضرور ہے۔ اصل جواب تب سامنے آئے گا جب بلوں کو Measurement Book سے، Measurement Book کو انجینئر کی تصدیق سے، اور ان تمام دستاویزات کو زمین پر موجود تعمیر سے ملایا جائے گا۔کیونکہ سرکاری منصوبے میں اصل ثبوت صرف یہ نہیں کہ رقم ادا کردی گئی۔اصل ثبوت یہ ہے کہ رقم کہاں خرچ ہوئی، کیا تعمیر ہوا، کس نے پیمائش کی، کس نے تصدیق کی، اور آج وہ تعمیر زمین پر کس حالت میں موجود ہے؟ تیراہ کرکٹ اسٹیڈیم کے 3 کروڑ 75 لاکھ روپے کے اخراجات کی اصل کہانی انہی سوالات کے جواب میں چھپی ہے۔

#TirahCricketStadium #TirahValley #KhyberDistrict #KhyberPakhtunkhwa #KP #SportsInfrastructure #SportsDevelopment #PublicFunds #PublicSpending #GovernmentProjects #DevelopmentFunds #Accountability #Transparency #InfrastructureAudit #InvestigativeJournalism #GroundReality #KPDevelopment #Tirah #CricketInfrastructure #AIP #RTI #RightToInformation #PakistanJournalism #PublicAccountability

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1067 Articles with 820474 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More