پاکستان اسپورٹس بورڈ کی کھلاڑیوں کی درجہ بندی: فہرست موجود، مگر تازہ معلومات کہاں ہیں؟


پاکستان اسپورٹس بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر کھلاڑیوں کی درجہ بندی کے نام سے باقاعدہ ایک حصہ موجود ہے، جس میں 46 کھیلوں اور متعلقہ اداروں کے نام درج ہیں۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ کئی کھیلوں کے کھلاڑیوں کی تازہ درجہ بندی، نمبر، پوائنٹس، کارکردگی، تصاویر اور درجہ بندی کی تاریخ عوام کے سامنے واضح طور پر موجود نہیں۔ویب سائٹ پر کھیلوں کی ایک طویل فہرست ضرور موجود ہے، تاہم یہ معلوم کرنا آسان نہیں کہ ان کھیلوں میں اس وقت پاکستان کے نمبر ایک، نمبر دو یا نمبر تین کھلاڑی کون ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان اسپورٹس بورڈ نے کھلاڑیوں کی درجہ بندی کے لیے باقاعدہ حصہ بنایا ہے تو پھر وہاں تازہ کھلاڑیوں کے نام، درجہ بندی، پوائنٹس، مقابلوں کی کارکردگی، تصاویر اور معلومات کے آخری مرتبہ تازہ کیے جانے کی تاریخ کیوں واضح نہیں؟صرف فہرست کافی نہیں

کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کھلاڑیوں کی درجہ بندی جاری کرنے کا مقصد صرف کھیلوں کے ناموں کی فہرست بنانا نہیں ہو سکتا۔اگر یہ واقعی قومی سطح کا درجہ بندی کا نظام ہے تو ہر کھیل کے ساتھ کم از کم یہ معلومات موجود ہونی چاہئیں کھلاڑی کا مکمل نام‘ موجودہ درجہ بندی ‘ حاصل کردہ پوائنٹس‘ حالیہ مقابلوں میں کارکردگی‘ متعلقہ قومی کھیلوں کی تنظیم‘ درجہ بندی کی تاریخ‘ معلومات آخری مرتبہ کب اپ ڈیٹ کی گئیں ‘ کھلاڑی کی سرکاری تصویر‘ درجہ بندی بنانے کا طریقہ کارکیا ہے ان معلومات کے بغیر عام شائقین، صحافی، محققین، کھیلوں کی تنظیمیں اور اسپانسرز یہ جاننے سے قاصر رہتے ہیں کہ سرکاری ویب سائٹ پر موجود درجہ بندی کتنی تازہ اور قابل استعمال ہے۔

یہاں اصل سوال صرف ویب سائٹ کو اپ ٹو ڈیٹ نہ کرنے کا نہیں بلکہ سرکاری کھیلوں کے اعداد و شمار کے انتظام کا ہے۔پاکستان اسپورٹس بورڈ اپنی ویب سائٹ پر مختلف سرگرمیوں، کھیلوں کے مقابلوں اور کھیلوں کی تنظیموں سے متعلق معلومات جاری کرتا ہے۔ اگر ادارہ موجودہ سرگرمیوں اور دیگر معلومات کو ویب سائٹ پر شامل کر سکتا ہے تو پھر کھلاڑیوں کی درجہ بندی جیسے اہم اعداد و شمار کو بھی باقاعدگی سے تازہ کیا جانا چاہیے۔اگر درجہ بندی متعلقہ قومی کھیلوں کی تنظیموں سے حاصل کی جاتی ہے تو سوال یہ بنتا ہے کہکیا پاکستان اسپورٹس بورڈ نے تمام قومی کھیلوں کی تنظیموں سے تازہ ترین درجہ بندی طلب کی ہے؟

اگر طلب کی ہے تو کون سی تنظیم نے معلومات فراہم کیں، کب فراہم کیں اور پاکستان اسپورٹس بورڈ نے انہیں ویب سائٹ پر کب شامل کیا؟ اور اگر کسی تنظیم نے معلومات فراہم نہیں کیں تو ویب سائٹ پر یہ واضح کیوں نہیں کیا جاتا کہ متعلقہ کھیل کی درجہ بندی تازہ معلومات موصول نہ ہونے کے باعث زیرِ التوا ہے؟کھلاڑیوں کی تصاویر کہاں ہیں؟ایک اور اہم سوال کھلاڑیوں کی تصاویر کا ہے۔

اگر سرکاری ویب سائٹ پر کھلاڑیوں کی درجہ بندی عوام کے لیے جاری کی جا رہی ہے تو کھلاڑیوں کی تصدیق شدہ تصاویر اور بنیادی معلومات بھی ہونی چاہئیں۔خاص طور پر ایسے کھیلوں میں جہاں کھلاڑیوں کے نام ایک جیسے ہو سکتے ہیں، صرف نام لکھ دینا کافی نہیں۔ تصویر، عمر یا زمرہ، کھیلوں کی تنظیم اور حالیہ کارکردگی جیسی بنیادی معلومات کھلاڑی کی شناخت کو واضح کرتی ہیں۔یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے پاس قومی سطح پر کھلاڑیوں کا مکمل اور تازہ مرکزی ریکارڈ موجود ہے یا نہیں۔
درجہ بندی کا معیار بھی واضح ہونا چاہیےدرجہ بندی کے نظام میں سب سے اہم چیز اس کا طریقہ کار ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کسی کھلاڑی نے قومی چیمپئن شپ جیتی ہے تو اسے کتنے پوائنٹس ملتے ہیں؟ اگر کسی کھلاڑی نے بین الاقوامی مقابلے میں کامیابی حاصل کی ہے تو اس کے کتنے پوائنٹس بنتے ہیں؟ کیا گزشتہ سال کی کارکردگی بھی موجودہ درجہ بندی میں شامل ہوتی ہے یا صرف حالیہ مقابلے دیکھے جاتے ہیں؟ کیا قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کے لیے الگ الگ پوائنٹس مقرر ہیں؟

اور سب سے اہم بات کیا تمام کھیلوں کے لیے ایک ہی درجہ بندی کا طریقہ کار ہے یا ہر کھیل کی قومی تنظیم اپنا الگ معیار استعمال کرتی ہے؟ یہ معلومات عوام کے سامنے ہونا ضروری ہیں۔ کن کھیلوں کی معلومات خاص طور پر غائب یا غیر واضح ہیں؟ پاکستان اسپورٹس بورڈ کی فہرست میں متعدد کھیل شامل ہیں، مگر کئی کھیلوں میں موجودہ کھلاڑیوں کی درجہ بندی تلاش کرنا مشکل ہے۔کھیلوں کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ موجودہ قومی درجہ بندی کہاں ہے؟اگر معلومات موجود ہیں تو انہیں عوامی ویب سائٹ پر واضح انداز میں کیوں نہیں دکھایا گیا؟اگر معلومات موجود نہیں تو درجہ بندی کا حصہ کیوں برقرار رکھا گیا ہے؟

اس معاملے میں پاکستان اسپورٹس بورڈ سے درج ذیل سوالات کے جواب لیے جانے چاہئیں 1۔ کھلاڑیوں کی درجہ بندی کا حصہ آخری مرتبہ مکمل طور پر کب تازہ کیا گیا؟ 2۔ ہر کھیل کی درجہ بندی کے ساتھ معلومات تازہ کیے جانے کی تاریخ کیوں درج نہیں؟ 3۔ موجودہ سرکاری درجہ بندی میں مجموعی طور پر کتنے کھلاڑی شامل ہیں؟ 4۔ درجہ بندی کے لیے پوائنٹس کس طریقہ کار کے تحت دیے جاتے ہیں؟ 5۔ کیا یہ معلومات متعلقہ قومی کھیلوں کی تنظیموں سے حاصل کی جاتی ہیں؟ 6۔ قومی کھیلوں کی تنظیموں سے تازہ درجہ بندی کتنے عرصے بعد طلب کی جاتی ہے؟ 7۔ معلومات موصول ہونے کے بعد انہیں سرکاری ویب سائٹ پر کتنے دن میں شامل کیا جاتا ہے؟8۔ کیا ہر کھلاڑی کی تصدیق شدہ تصویر اور مکمل پروفائل پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ریکارڈ میں موجود ہے؟ 9۔ اگر کسی کھیل کی قومی تنظیم نے تازہ معلومات فراہم نہیں کیں تو ویب سائٹ پر اس کی وجہ اور موجودہ حیثیت کیوں ظاہر نہیں کی جاتی؟

اصل سوال ویب سائٹ نہیں، شفافیت ہے یہ معاملہ محض ویب سائٹ کو دیر سے اپ ڈیٹ کرنے کا نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے قومی کھلاڑیوں کے اعداد و شمار اور درجہ بندی کا سرکاری نظام کس طرح کام کر رہا ہے؟ اگر پاکستان اسپورٹس بورڈ کے پاس کھلاڑیوں کی تازہ درجہ بندی موجود ہے تو اسے عوام کے سامنے واضح، قابلِ تصدیق اور باقاعدگی سے تازہ ہونے والے نظام کی صورت میں پیش کیا جانا چاہیے۔اگر تازہ معلومات موجود نہیں تو ادارے کو یہ بتانا چاہیے کہ معلومات کہاں رکی ہوئی ہیں، کون سی قومی کھیلوں کی تنظیم نے معلومات فراہم نہیں کیں اور انہیں ویب سائٹ پر کب تک شامل کیا جائے گا۔

سرکاری ویب سائٹ پر “کھلاڑیوں کی درجہ بندی” کا عنوان موجود ہونا کافی نہیں۔ عوام کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس فہرست میں موجود معلومات کتنی پرانی ہیں، کس بنیاد پر تیار کی گئی ہیں اور موجودہ قومی کھلاڑیوں کی اصل درجہ بندی کہاں دستیاب ہے۔یہی وہ سوال ہے جس کا جواب پاکستان اسپورٹس بورڈ کو دینا چاہیے۔

#PakistanSportsBoard #PlayersRanking #SportsTransparency #SportsData #PakistanSports #SportsJournalism #InvestigativeJournalism #SportsGovernance #Accountability #Athletes #Pakistan

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1068 Articles with 820564 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More