قائداعظم کا کھیلوں کا وژن، 78 سال بعد پاکستان کے کھیل کہاں کھڑے ہیں؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پاکستان کے قیام کے ابتدائی دنوں میں ہی بانی? پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کھیلوں کو محض تفریح نہیں بلکہ نوجوانوں کی تربیت، نظم و ضبط، کردار سازی اور قومی دفاع کا اہم ذریعہ قرار دیا تھا۔ ان کا واضح تصور تھا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوگا اور کھیل انہیں مضبوط، منظم اور ذمہ دار قیادت کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پہلے پاکستان اولمپک گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی سے کراچی میں ملاقات کے دوران قائداعظم نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے پہلے صدر احمد ای ایچ سے کھیلوں کے فروغ کے لیے خود کو وقف کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب موجودہ نسل قیادت کے منصب پر نہیں رہے گی تو ملک کی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوگی، اس لیے نوجوانوں کو ایسی تربیت دی جانی چاہیے جو انہیں پاکستان کی سالمیت، اتحاد اور نظریے کے دفاع کے قابل بنائے۔یہ بیان اس دور میں سامنے آیا جب پاکستان کو وجود میں آئے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا، لیکن اس کے باوجود کھیلوں کو قومی تعمیر کا حصہ سمجھا جا رہا تھا۔
پاکستان کے پہلے قومی کھیل 23 سے 25 اپریل 1948 تک کراچی کے پولو گراؤنڈ میں منعقد ہوئے۔ ان مقابلوں میں مشرقی پاکستان، جو اب بنگلہ دیش ہے، اور مغربی پاکستان کی مختلف صوبائی اکائیوں سے کھلاڑیوں اور کھیلوں کے حکام نے شرکت کی۔مجموعی طور پر 140 ایتھلیٹس نے ان مقابلوں میں حصہ لیا۔ کسی غیر ملکی ملک سے کھلاڑیوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ پہلے قومی کھیلوں میں باسکٹ بال، باکسنگ، سائیکلنگ، ٹریک اینڈ فیلڈ، والی بال، ویٹ لفٹنگ اور کشتی کے مقابلے شامل تھے۔ یہ امر اہم ہے کہ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد قومی سطح پر کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کھیلوں کو ریاستی اور قومی زندگی کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا تھا۔
آج، 1948 کے اس تصور کو تقریباً 78 سال گزر چکے ہیں، مگر پاکستان کے کھیلوں کا منظرنامہ کئی بنیادی سوالات اٹھاتا ہے۔ کرکٹ ملک کا سب سے مقبول کھیل ضرور ہے، لیکن اس کے مقابلے میں ہاکی، اسکواش، ایتھلیٹکس، والی بال، باکسنگ، ریسلنگ، سائیکلنگ، ٹینس، ویٹ لفٹنگ اور دیگر کھیلوں کو مسلسل مالی، انتظامی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا سامنا ہے۔ باصلاحیت نوجوانوں کی کمی پاکستان میں نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اور کھیلوں کے ادارے ان نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت، جدید سہولیات اور مسلسل مسابقتی مواقع فراہم کر رہے ہیں؟ کئی کھیلوں میں پرانا سامان، خستہ حال میدان، محدود تربیتی سہولیات اور جدید کوچنگ کی کمی کھلاڑیوں کی ترقی میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
پاکستان میں کرکٹ کی مقبولیت اپنی جگہ، لیکن قومی کھیلوں کی پالیسی میں کرکٹ کی غیر معمولی بالادستی نے دیگر کھیلوں کے لیے دستیاب وسائل، میڈیا کوریج اور اسپانسرشپ کے مواقع کو محدود کیا ہے۔مسئلہ کرکٹ کی مقبولیت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان نے دیگر کھیلوں کے لیے بھی وہی منظم نظام، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی توجہ پیدا کی ہے جو ایک عالمی معیار کی اسپورٹس نیشن بننے کے لیے ضروری ہے؟اگر ایک نوجوان ایتھلیٹ، باکسر، ہاکی کھلاڑی، ویٹ لفٹر یا ریسلر کو مناسب کوچ، جدید سامان، غذائی سہولت، کھیل کا میدان اور مسلسل بین الاقوامی مقابلے ہی میسر نہ ہوں تو صرف اس نوجوان کی محنت سے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
پاکستان میں جب کسی کھلاڑی کو عالمی سطح پر کامیابی ملتی ہے تو اسے قومی ہیرو قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اکثر سوال یہ نہیں پوچھا جاتا کہ اس کھلاڑی کو عالمی سطح تک پہنچنے کے لیے کس نظام نے تیار کیا؟ کیا ہمارے پاس اسکول سے قومی سطح تک ٹیلنٹ کی نشاندہی کا مؤثر نظام موجود ہے؟ کیا ضلعی اور صوبائی سطح پر کھیلوں کی سہولیات باقاعدگی سے استعمال اور اپ گریڈ ہو رہی ہیں؟ کیا کھلاڑیوں کے لیے جدید کوچنگ، اسپورٹس سائنس، فزیوتھراپی، غذائیت اور اسپورٹس میڈیسن کی سہولیات دستیاب ہیں؟ اور سب سے اہم سوال: کھیلوں کے لیے مختص سرکاری فنڈز کا کتنا حصہ واقعی کھلاڑی تک پہنچتا ہے؟ یہ سوال صرف وفاقی یا صوبائی حکومتوں سے نہیں بلکہ کھیلوں کی ان تمام تنظیموں سے بھی پوچھا جانا چاہیے جو قومی اور صوبائی سطح پر کھیلوں کے انتظام کی ذمہ دار ہیں۔ قائداعظم نے نوجوانوں کو پاکستان کی دولت اور مستقبل قرار دیا تھا۔ ان کے نزدیک نوجوانوں کو مضبوط اور منظم بنانے میں کھیل بنیادی کردار ادا کر سکتے تھے۔ آج پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا حصہ بہت بڑا ہے، مگر اگر کھیلوں کے میدان خستہ حال ہوں، سامان پرانا ہو، تربیتی نظام کمزور ہو اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو مستقل مواقع نہ ملیں تو یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ ہم قائداعظم کے اس وژن پر کتنا عمل کر رہے ہیں۔قائداعظم نے 1948 میں کھیلوں کو قومی تعمیر کا ذریعہ سمجھا تھا۔ 2026 میں پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ کھیلوں کو تقریبات، تقاریر اور وقتی کامیابیوں سے نکال کر ایک مستقل قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔کیونکہ قومیں صرف میدان میں میڈل جیتنے سے نہیں بنتیں، بلکہ ایسے نظام سے بنتی ہیں جو ہزاروں نوجوانوں کو میدان تک پہنچنے کا موقع فراہم کرے۔
#PakistanSports #QuaidEAzam #MuhammadAliJinnah #SportsInPakistan #NationalGames #PakistanOlympicAssociation #SportsDevelopment #YouthDevelopment #SportsGovernance #SportsCrisis #PakistanAthletes #SportsInfrastructure #SportsPolicy #InvestInSports #Cricket #Hockey #Athletics #Wrestling #Boxing #Volleyball #Squash #PakistanYouth #SportsJournalism #SportsReform #Pakistan2026 |