نوجوان نسل اور ثقافتی ورثے کا رشتہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
نوجوان نسل اور ثقافتی ورثے کا رشتہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
ثقافتی ورثے کا ذکر ہو تو اکثر ذہن میں پرانی کتابیں، صدیوں پرانے فنون، تاریخی عمارتیں اور عجائب گھروں میں محفوظ نوادرات کا تصور ابھرتا ہے۔ لیکن آج کی نوجوان نسل کے لیے ثقافت صرف ماضی کی محفوظ یادگار نہیں رہی، بلکہ اسے روزمرہ زندگی، جدید ٹیکنالوجی اور تخلیقی اظہار کے ذریعے نئے انداز میں سمجھنے اور آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چین میں نوجوانوں کی ایک نئی نسل روایتی ثقافت کو جدید ذرائع سے جوڑ کر اسے وسیع حلقوں تک پہنچا رہی ہے۔ دیہی زندگی، روایتی دستکاری، کھانے، لباس اور قدیم فنون کو جدید ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے ذریعے پیش کرنے والے تخلیق کاروں نے ثابت کیا ہے کہ ثقافتی ورثہ اگر عام زندگی سے جوڑ کر پیش کیا جائے تو نئی نسل اسے محض کتابوں یا عجائب گھروں کی چیز نہیں سمجھتی۔
بیجنگ میں ہونے والے ایک ثقافتی فورم میں بھی یہی سوال نمایاں رہا کہ نوجوانوں کو ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں کس طرح فعال کردار دیا جائے۔ مختلف ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ ثقافت صرف ماضی کی حفاظت کا نام نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
اس مقصد کے لیے صرف نصابی تعلیم کافی نہیں۔ نوجوانوں کو ثقافتی ورثے کے ساتھ عملی طور پر جوڑنے کی ضرورت ہے۔ تاریخی عمارتوں سے متاثر ہو کر تعمیراتی ڈیزائن تیار کرنا، روایتی فنون کو خود آزمانا یا ثقافتی مقامات کی دستاویز سازی میں حصہ لینا ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے بچے اور نوجوان ماضی کو محض پڑھنے کے بجائے اسے محسوس اور سمجھ سکتے ہیں۔
چین میں ٹیکنالوجی نے اس عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے شروع کیے گئے بعض ڈیجیٹل منصوبوں میں نوجوان تاریخی مقامات کی تصاویر لے کر انہیں آن لائن نگرانی کے نظام میں شامل کرتے ہیں۔ اس طرح ایک طرف اہم ثقافتی مقامات کی مسلسل دستاویز سازی ہوتی ہے تو دوسری طرف نئی نسل براہ راست ان کے تحفظ کے عمل کا حصہ بن جاتی ہے۔
ثقافتی ورثے کے شعبے میں نوجوانوں کی دلچسپی صرف رضاکارانہ سرگرمیوں تک محدود نہیں۔ آثار قدیمہ، ثقافتی تحقیق، دستاویز سازی اور ڈیجیٹل تحفظ جیسے شعبوں میں بھی نوجوان ماہرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ نئی نسل کے بعض محققین نے روایتی تصورات سے ہٹ کر ان شعبوں کو اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کے طور پر منتخب کیا ہے۔
قدیم غاروں، تاریخی عمارتوں اور آثار کی کھدائی و دستاویز سازی میں کام کرنے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ آج محفوظ کیا جانے والا ہر ریکارڈ مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک قیمتی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جدید تحقیق کے ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال نے ثقافتی ورثے کی دستاویز سازی کے امکانات بھی وسیع کر دیے ہیں۔
تاہم نوجوانوں کا کردار صرف محفوظ شدہ ورثے کو برقرار رکھنے تک محدود نہیں۔ روایتی فنون سے وابستہ نئی نسل کے کاریگر اور فنکار اپنے آبائی ہنر میں نئے عناصر شامل کر رہے ہیں اور انہیں جدید صنعتوں سے جوڑنے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ روایتی مجسمہ سازی، دستکاری اور دیگر فنون کو مختصر ویڈیوز، ویڈیو گیمز، مختصر ڈراموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نئی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
یہاں مصنوعی ذہانت، تھری ڈی اسکیننگ اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز بھی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ روایتی فنکار اپنے کام اور روزمرہ زندگی کو سوشل میڈیا پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے فن کو محفوظ اور عالمی ناظرین تک پہنچا رہے ہیں۔ اس عمل میں صرف ایک ہنر کی تشہیر نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے موجود تاریخ، کہانی اور ثقافتی سوچ بھی دنیا کے سامنے آتی ہے۔
سوشل میڈیا نے ثقافتی تبادلے کی سرحدیں بھی وسیع کر دی ہیں۔ ایک روایتی چینی فن اب صرف مقامی بازار یا ثقافتی میلے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ویڈیو کے ذریعے ایشیا، یورپ اور امریکا کے ناظرین تک پہنچ سکتا ہے۔ یوں نوجوان ثقافتی ورثے کے محافظ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے نئے ترجمان بھی بن رہے ہیں۔
اس پورے عمل کے لیے سرکاری پالیسی، مالی معاونت، تعلیمی اداروں، میڈیا، ثقافتی کارکنوں اور عام شہریوں کا تعاون بھی ضروری ہے۔ ثقافتی ورثے کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا ادارے پر عائد نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک مسلسل اجتماعی کوشش ہے جس میں مختلف شعبے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ چین میں آئندہ برسوں کے لیے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور غیر مادی ثقافتی ورثے کو آگے بڑھانے کے منصوبوں میں نوجوانوں کی تربیت اور صلاحیت سازی کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثقافت کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے نئی نسل کے ذریعے آگے بڑھانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
ثقافتی ورثہ اس وقت زیادہ زندہ رہتا ہے جب وہ نئی نسل کی زندگی سے جڑ جائے۔ پرانی روایات کو صرف محفوظ رکھنے کے بجائے انہیں سمجھنا، ان میں نئے امکانات تلاش کرنا اور جدید ذرائع کے ذریعے دنیا تک پہنچانا نوجوانوں کے لیے ایک اہم کردار بن چکا ہے۔ یوں ماضی کی یادیں صرف محفوظ نہیں رہتیں بلکہ نئی تخلیقی صورتوں میں مستقبل کا حصہ بھی بنتی ہیں۔ |
|