چین میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی نئی ترجیحات

چین میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی نئی ترجیحات
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

آئندہ چند برسوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی دنیا کی معاشی اور صنعتی ترقی میں پہلے سے زیادہ اہم کردار ادا کرنے والی ہیں۔ چین نے بھی اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے 2026 سے 2030 تک کے عرصے کے لیے سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا نیا منصوبہ جاری کیا ہے، جس میں بنیادی تحقیق، جدید ٹیکنالوجیز اور پائیدار ترقی سے متعلق شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے اس منصوبے کا مقصد سائنسی تحقیق کی بنیادی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرنا، مختلف خطوں میں تحقیق کے وسائل کو بہتر انداز میں منظم کرنا اور اہم شعبوں میں نئی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے زیادہ مربوط نظام تشکیل دینا ہے۔ اس کے تحت بنیادی اور بین الشعبہ تحقیق کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اہم سمجھے جانے والے شعبوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

اہم ترجیحی شعبوں میں انٹیگریٹڈ سرکٹس، اے آئی، کوانٹم ٹیکنالوجی، لائف سائنسز، بایوٹیکنالوجی، برین انٹرفیس ٹیکنالوجی اور کنٹرولڈ نیوکلیئر فیوژن شامل ہیں۔ ان شعبوں کو مستقبل کی سائنسی اور صنعتی ترقی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ آپٹو الیکٹرانکس، خلائی تحقیق، انفارمیشن، سمندر، توانائی اور نئے مواد سے متعلق ٹیکنالوجیز پر بھی توجہ دی جائے گی۔ پائیدار ترقی کے حوالے سے زراعت، زمین اور قدرتی وسائل، ماحول، سمندری تحقیق اور ماحولیاتی نظام جیسے شعبے ترجیح میں شامل ہیں۔ بنیادی تحقیق کے میدان میں ریاضی، طبیعیات، کیمیا، حیاتیات، فلکیات اور ارضی علوم کو اہمیت دی گئی ہے۔

منصوبے کا ایک اہم پہلو مختلف علاقوں میں سائنسی تحقیق کے وسائل کو مربوط کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک درجہ وار علاقائی نظام تشکیل دینے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ ملک کی بڑی علاقائی ترقیاتی حکمت عملیوں کو سائنسی اور تکنیکی معاونت فراہم کی جا سکے۔ بیجنگ، شنگھائی اور گوانگ ڈونگ۔ہانگ کانگ۔مکاؤ گریٹر بے ایریا کو اہم سائنسی مراکز کے طور پر مزید مضبوط کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر بڑے خطوں کو سائنسی تحقیق کے اس نظام میں اہم رابطہ مراکز کا کردار دیا جائے گا۔
مصنوعی ذہانت کو سائنسی تحقیق میں زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا بھی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز ریاضی، کمپیوٹر سائنس، کنٹرول سائنس اور سائنسی ڈیٹا کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نئی سائنسی سہولیات اور نظام تیار کرے گی۔

اس سلسلے میں سائنس ون اومنی فاؤنڈیشن ماڈل، ذہین سائنٹسٹ سسٹمز، سائنسی معلوماتی ذخیرے اور سائنسی ڈیٹا سینٹر جیسے منصوبوں کو آگے بڑھانے کا ارادہ ہے۔ ان نظاموں کا مقصد محققین کو زیادہ تیزی سے معلومات حاصل کرنے، ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور مختلف تحقیقی شعبوں کے درمیان تعاون بڑھانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

سائنسی تحقیق کے بنیادی ڈھانچے کو بھی ڈیجیٹل، نیٹ ورکڈ اور ذہین نظاموں میں اپ گریڈ کیا جائے گا۔ قومی سطح کے اہم سائنسی بنیادی ڈھانچے اور سائنسی مشاہدے و تحقیق کے مراکز میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھایا جائے گا تاکہ تحقیق کے عمل کو زیادہ مربوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔

ڈیٹا کے شعبے میں بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ مختلف ذرائع سے سائنسی معلومات جمع کرنے اور انہیں یکجا کرنے، معیار اور ضوابط میں یکسانیت پیدا کرنے اور ڈیٹا سکیورٹی مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ مختلف ڈیٹا نظاموں کے درمیان باہمی رابطے اور معلومات کے بہتر استعمال کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ اہم سائنسی منصوبوں کے لیے زیادہ مضبوط بنیاد فراہم ہو سکے۔

سائنسی تحقیق کو صنعتی ترقی سے جوڑنا بھی اس منصوبے کا اہم مقصد ہے۔ جدید صنعتی نظام کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اہم شعبوں، کلیدی علاقوں اور بڑے منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ تحقیق کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات تیار کرنے کے ساتھ ساتھ صنعت کی ضروریات کو بھی سائنسی تحقیق کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار دیا جائے گا، تاکہ لیبارٹری میں حاصل ہونے والی کامیابیاں عملی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں میں زیادہ تیزی سے منتقل ہو سکیں۔

اس منصوبے میں صرف سائنسی تحقیق پر توجہ نہیں دی گئی بلکہ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی مشترکہ ترقی کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ قومی سطح کے سائنسی و تکنیکی تھنک ٹینک کی تعمیر، تحقیقی اداروں میں انتظامی اصلاحات، سائنسی کامیابیوں کی منتقلی اور عملی استعمال، ساتھ ہی بین الاقوامی سائنسی تبادلوں اور تعاون کو بھی آئندہ برسوں کی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر یہ منصوبہ بنیادی تحقیق سے جدید صنعت تک سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں کو ایک مربوط نظام میں آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔ اے آئی، کوانٹم ٹیکنالوجی، بایوٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، توانائی اور نئے مواد جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ سائنسی ڈیٹا اور تحقیقی بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے پر توجہ چین کے مستقبل کے سائنسی نظام کی سمت واضح کرتی ہے۔

آنے والے برسوں میں اس حکمت عملی کے تحت بنیادی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی ضروریات کے درمیان تعلق مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ سائنسی کامیابیاں تحقیق گاہوں تک محدود رہنے کے بجائے معاشی اور سماجی ترقی میں عملی کردار ادا کر سکیں۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 2021 Articles with 1184916 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More