چین میں ریٹائرمنٹ کا نیا انداز
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں ریٹائرمنٹ کا نیا انداز تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کا مطلب صرف اپنے گھر تک محدود رہنا نہیں رہا۔ چین میں بزرگ شہریوں کی ایک تعداد اب سال کے کچھ مہینے ایسے مقامات پر گزار رہی ہے جہاں موسم خوشگوار ہو، صحت کی سہولیات دستیاب ہوں اور روزمرہ زندگی آسان ہو۔ یوں چند دنوں کی سیر آہستہ آہستہ ایک ایسے طرزِ زندگی میں تبدیل ہو رہی ہے جس میں لوگ ہر سال موسم کے مطابق کچھ عرصہ دوسرے شہر میں گزارتے ہیں۔ ملک کے بعض علاقوں میں موسم گرما کے دوران ایسے ریٹائرڈ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو کئی ہفتوں یا مہینوں کے لیے وہاں قیام کرتے ہیں۔ وہ کسی ہوٹل میں چند دن گزار کر واپس جانے کے بجائے مقامی بازاروں سے خریداری کرتے ہیں، محلے میں چہل قدمی کرتے ہیں، آس پاس کے مقامات دیکھتے ہیں اور ایک معمول کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں۔
اس طرزِ زندگی میں موسم ایک اہم فیصلہ کن عنصر بن گیا ہے۔ گرم علاقوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے بزرگ موسم گرما میں نسبتاً ٹھنڈے علاقوں کا رخ کرتے ہیں، جبکہ شمالی علاقوں کے کچھ ریٹائرڈ افراد سردیوں میں جنوبی علاقوں میں وقت گزارنا پسند کرتے ہیں۔ یوں سال کا کچھ حصہ ایک جگہ اور باقی وقت دوسری جگہ گزارنے کا رجحان سامنے آ رہا ہے۔
یون نان، گوئی چو، گوانگ شی اور ہائی نان جیسے علاقوں میں خوشگوار موسم کے ساتھ صحت، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ ضروریات کی سہولیات بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہ مقامات بزرگ افراد کے لیے پرکشش بن رہے ہیں۔ بعض لوگ ہر سال ایک ہی شہر کا انتخاب کرتے ہیں اور کئی برس تک موسم کے مطابق وہاں واپس آتے رہتے ہیں۔
اس رجحان میں صرف موسم ہی اہم نہیں۔ بزرگ افراد کے لیے صحت کی سہولیات، رہائش کے اخراجات، بازاروں تک رسائی، نقل و حمل اور روزمرہ زندگی کی آسانیاں بھی فیصلہ کرتے وقت سامنے رکھی جاتی ہیں۔ کئی خاندان مختلف شہروں کے موسم، طبی سہولیات اور اخراجات کا جائزہ لینے کے بعد کسی ایک مقام کو اپنے موسمی قیام کے لیے منتخب کرتے ہیں۔
موسمی قیام کا ایک اہم پہلو سماجی رابطے بھی ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بعض افراد کا سماجی دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔ بچے اپنی ملازمت اور خاندان میں مصروف ہوتے ہیں، جبکہ بڑے شہروں کی بلند عمارتوں میں رہنے والے پڑوسی بھی اکثر ایک دوسرے سے زیادہ واقف نہیں ہوتے۔ ایسے میں بعض بزرگ اپنا زیادہ وقت گھر یا شریکِ حیات کے ساتھ گزارتے ہیں۔
موسمی رہائش نے اس صورتحال میں نئے سماجی مواقع پیدا کیے ہیں۔ مختلف مراکز اور رہائشی کمیونٹیز میں خطاطی، کاغذ تراشی، شاعری، ٹیبل ٹینس اور دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے بزرگ افراد نہ صرف اپنی دلچسپیوں کو جاری رکھتے ہیں بلکہ نئے دوست بھی بناتے ہیں۔
کچھ بزرگ شہری ان مقامات پر اپنی باقاعدہ سرگرمیاں بھی شروع کر دیتے ہیں۔ موسیقی یا فنون سے دلچسپی رکھنے والے افراد گروپ تشکیل دے کر پارکوں میں مشق کرتے اور مقامی تقریبات میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس طرح موسمی قیام محض رہائش کی تبدیلی نہیں رہتا بلکہ ایک فعال سماجی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔
یہ رجحان اب ایک باقاعدہ مارکیٹ کی شکل بھی اختیار کر رہا ہے۔ چین میں معمر افراد کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ریٹائرمنٹ کے بعد معیاری زندگی، صحت، تفریح اور آرام دہ قیام کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے افراد کے پاس وقت زیادہ ہوتا ہے اور وہ اپنی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے مختلف امکانات تلاش کر رہے ہیں۔
چین میں 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد پہلے ہی مجموعی آبادی کا نمایاں حصہ بن چکی ہے اور آنے والے برسوں میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس کے نتیجے میں بزرگ افراد کے لیے رہائش، سیاحت، صحت اور تفریح سے متعلق خدمات کی طلب بھی بڑھ سکتی ہے۔
پالیسی سطح پر بھی بزرگ سیاحت اور موسمی ریٹائرمنٹ کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں اس شعبے کی ترقی اور نظم و نسق کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کچھ مقامات بزرگ شہریوں کو موسم گرما یا سردیوں کے دوران اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے خصوصی منصوبے بھی بنا رہے ہیں۔ مقامات کے درمیان اس شعبے میں مسابقت بھی بڑھ رہی ہے۔ کچھ علاقے بزرگ افراد کے لیے بہتر موسم اور رہائش کی سہولت کو فروغ دے رہے ہیں، جبکہ دوسرے شہر مختلف علاقوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے وسائل اور سیاحوں کے تبادلے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چین میں موسمی رہائش کا یہ رجحان دراصل ریٹائرمنٹ کے تصور میں ایک وسیع تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اب ریٹائرمنٹ کا مطلب صرف کام سے فراغت اور گھر میں قیام نہیں بلکہ اپنی پسند کے مطابق وقت گزارنا، نئے لوگوں سے ملنا، صحت اور تفریح پر توجہ دینا اور موسم کے ساتھ زندگی کی جگہ بھی تبدیل کرنا بن رہا ہے۔
یوں چند ماہ کے لیے دوسرے شہر کا رخ کرنے والے بزرگ شہری ایک ایسی طرزِ زندگی تشکیل دے رہے ہیں جس میں سفر اور رہائش کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔ مستقبل میں چین کی بڑھتی ہوئی معمر آبادی کے ساتھ یہ اندازِ زندگی مزید عام ہو سکتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ |
|