وہ بھی کیا دن تھے! 27 ستمبر 1993ء کا وہ یادگاری سفر۔۔۔
(MUHAMMAD SHAKEEL, BAHAWALPUR)
| جب تین ہزار روپے، تین بریف کیس اور تین مسافر لاہور جا پہنچے۔۔!!! |
|
وہ بھی کیا دن تھے! 27 ستمبر 1993ء کا وہ یادگاری سفر۔۔۔ جب تین ہزار روپے، تین بریف کیس اور تین مسافر لاہور جا پہنچے۔۔!!!
تحریر: محمد شکیل تسکین
27 ستمبر 1993ء کے بھی کیا دن تھے۔۔۔! ستمبر کی وہی خنکی، رات کا وہی سکوت، چھوٹے شہروں کی وہی سادگی، اپنوں کا وہی احساس اور زندگی کے وہی بے تکلف رنگ۔ آج جب ستمبر 2026ء کے انہی دنوں میں رات کو ہلکی سی خنکی محسوس ہوتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے وقت کا پہیہ اچانک اُلٹا گھوم گیا ہو اور پورے 33 سال پیچھے لے جا کر مجھے دوبارہ اُسی مقام پر کھڑا کر دیا ہو جہاں سے ایک یادگار سفر شروع ہوا تھا۔ یہ محض لاہور کا سفر نہیں تھا، یہ ہم تینوں کا پہلا ایسا سفر تھا جس میں گھر والے ہمارے ساتھ نہیں تھے۔ ہم تین نوجوان، اپنے اپنے بریف کیس ہاتھوں میں لیے، جیب میں صرف ایک ایک ہزار روپے رکھے، اپنے بل بوتے پر لاہور جا رہے تھے۔ ہمارے کزن نذیر احمد بھٹی (گوشی)، میرے بڑے بھائی محمد سہیل تسکین (روشی) اور۔ میں، راقم الحروف محمد شکیل تسکین (نوشی)، آج بھی 27 ستمبر 1993ء کی وہ شام میری یادداشت میں کسی پرانی فلم کی طرح محفوظ ہے۔ نذیر احمد بھٹی رحیم یار خان سے بذریعہ بس لیاقت پور پہنچے تھے۔ ہم دونوں بھائی پہلے ہی تیار تھے۔ تینوں کے ہاتھوں میں سفری بیگ تھے اور ہم اپنی دکان ”رحمن انٹرپرائزز“ پر بیٹھے اگلی بس سے بہاول پور جانے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ وہاں سے ہمارا اَگلا پڑاؤ لاہور تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پی ٹی سی ایل کے لینڈ لائن فون رابطے کا واحد بڑا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ موبائل فون کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ سفر پر جانے سے پہلے گھر والوں کو باقاعدہ بتایا جاتا، دعائیں لی جاتیں اور پھر مسافر اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا۔ آج کے بچے شاید اِس احساس کو پوری طرح سمجھ بھی نہ سکیں کہ جب راستے میں کسی سے رابطے کا کوئی فوری ذریعہ نہ ہو تو گھر سے دور جانے کا مطلب کیا ہوتا تھا۔ ہم تینوں نے گھر والوں کو بتا کر سفر شروع کیا۔ ہر ایک کی جیب میں صرف ایک ہزار روپے تھے۔ تین ہزار روپے میں تین نوجوانوں کا لاہور کا سفر، قیام، کھانا پینا، آنا جانا اور تفریح۔۔۔ آج سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ اُس زمانے میں ہم نے یہ سب کیسے کر لیا! اور ہاتھ میں تھے وہ بریف کیس، جو اُس زمانے میں صرف سامان رکھنے کی چیز نہیں بلکہ سفر کا ایک انداز ہوا کرتے تھے۔ مرد حضرات بریف کیس ہاتھ میں لیے یوں چلتے تھے جیسے جیمز بانڈ 007 کسی مشن پر نکلا ہو۔ لیاقت پور کی ایک عجیب مجبوری آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ رات کے وقت لاہور یا کراچی جانے کے لیے ٹرین مل جاتی ہے، لیکن سرِشام بہاول پور یا دوسرے شہروں کی طرف پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ ہمیشہ رہا ہے۔ کوئی ایک آدھ بس یا ویگن مل جائے تو اُس کے لیے بھی پہلے سے بکنگ درکار ہوتی تھی۔ البتہ چنی گوٹھ یا خان پور تک کسی نہ کسی ”چھکڑا بس“ یا ویگن کا انتظام ہو ہی جاتا تھا۔ خاص لوگ اپنے عزیز و اقارب کو اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل پر چنی گوٹھ چھوڑ آتے، یا پھر چھکڑا بس چنی گوٹھ تک پہنچا دیتی۔ چنی گوٹھ، لیاقت پور سے تقریباً 17 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق کی سمت واقع ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے بہاول پور ضلع کی حدود شروع ہوتی ہیں اور قومی شاہراہ N-5، ملتی ہے۔ یہاں دن رات ٹریفک رواں رہتی ہے، اِس لیے اگر کوئی چنی گوٹھ پہنچ جائے تو آگے سفر کے امکانات روشن ہو جاتے تھے۔ لیاقت پور سے سرِشام بہاول پور پہنچنا کبھی کبھی واقعی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوا کرتا تھا۔ ایک بار میں نے ایک بس والے کو زائد کرایہ دے کر چنی گوٹھ تک کا سفر کیا تھا، لیکن آگے بہاول پور جانے کے لیے مجھے ایمبولینس میں سفر کرنا پڑا۔ یہ بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے، اِسے پھر کبھی کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔ خیر، اُس رات کافی انتظار کے بعد تقریباً دس بجے ہمیں ایک بس ملی۔ ہم اُس پر سوار ہوئے اور رات تقریباً بارہ بجے بہاول پور پہنچ گئے۔ بہاول پور پہنچ کر بھی سفر ختم نہیں ہوا تھا، اصل سفر تو ابھی باقی تھا۔ کافی دیر انتظار کے بعد، جہاں تک مجھے یاد ہے، شیر باغ چونگی کی جانب سے ایک بس آئی جو غالباً یزمان روٹ سے بہاول پور پہنچی تھی۔ بس کی ونڈ سکرین پر جلی حروف میں ”لاہور“ لکھا ہوا تھا۔ بس پر ”لاہور“ لکھا دیکھتے ہی ہم تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور فوراً سوار ہو گئے۔ بس لاری اڈا بہاول پور کے باہر تقریباً پانچ دس منٹ کھڑی رہی، پھر چل پڑی۔ کنڈیکٹر نے بندرہ پلی کراس کرنے کے بعد اپنا کام سنبھالا اور چلتے چلتے دریائے ستلج کے پرانے ٹول پلازہ تک ہمارے پاس پہنچا۔ ہم نے کرایہ ادا کیا تو کنڈیکٹر نے اپنی جیب سے تھوڑی سی روئی نکال کر ہمیں دے دی۔ ہم نے حیرت سے پوچھا کہ ”یہ کیا ہے؟“ اُس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ ”ابھی پتہ چل جائے گا۔“ اور واقعی تھوڑی ہی دیر بعد ہمیں پتہ چل گیا! جب بس لودھراں، خانیوال روڈ پر پہنچی تو پوری بس کی کھڑکیوں سے آہ و بکا شروع ہو گئی۔ اُس زمانے میں اِس سڑک کی حالت کیا تھی، یہ صرف وہی لوگ جانتے ہیں جنہوں نے اُس پر سفر کیا ہے۔ آج کی طرح ون وے سڑک نہیں تھی۔ بس کے جھٹکے، سڑک کی ابتر حالت اور کھڑکیوں سے آنے والی گرد اور کان پڑی آواز کا نہ سنائی دینا۔۔۔ تب سمجھ آیا کہ کنڈیکٹر نے ہمیں روئی کیوں دی تھی! رات بڑھتی گئی، ہوا میں خنکی بھی بڑھتی گئی اور بالآخر ساہیوال آ گیا۔ بس ”ٹی روز“ ہوٹل پر رکی۔ تقریباً پندرہ منٹ کا قیام ہوا۔ پھر سفر دوبارہ شروع ہوا۔ صبح ہونے لگی، آسمان پر پو پھوٹ رہی تھی اور لاہور اَب زیادہ دور نہیں تھا۔ وہ لاہور۔۔۔ جس میں موٹروے نہیں تھی، آج کا لاہور اور 1993ء کا لاہور، شاید دو مختلف دنیائیں محسوس ہوں۔ اُس وقت نہ موٹروے تھی، نہ شاہ پور انٹرچینج کا وہ تصور جو آج ہماری یادداشت کا حصہ ہے۔ بس سیدھی چوک یتیم خانہ، ملتان روڈ سے گزرتی ہوئی آگے بڑھتی رہی۔ پھر لیرک سینما کے سامنے سے گزری، سمن آباد کو دیکھا، اے جی آفس کی جانب سے ہوتی ہوئی داتا صاحب پہنچی اور آخرکار بادامی باغ جا کر رکی۔ بادامی باغ اُس زمانے میں لاہور کا ایک بڑا لاری اڈا تھا۔ صبح تقریباً سات، ساڑھے سات بجے ہم نے ایک ٹیکسی لی اور مغل پورہ کی جانب روانہ ہوئے۔ ٹیکسی والے نے ہمیں مغل پورہ مین روڈ پر اُتار دیا۔ اب ہمیں اپنے کزنز کے گھر جانا تھا۔ اور یہاں سے لاہور کی ایک اور روایت سامنے آئی۔ لاہوریے بھی پتے بتانے (ایڈریس بتانے) میں کراچی والوں سے کم نہیں! آپ مطلوبہ گھر کے سامنے بے شک کھڑا ہوں، لیکن راستہ بتانے والا کہے گا کہ ”آپ اِدھر سے اُدھر چلے جائیں، وہاں جا کر کسی سے پوچھ لینا۔“ آپ اُدھر پہنچیں گے تو وہاں سے جواب آئے گا کہ ”نہیں، آپ اِدھر واپس جائیں، اِدھر کسی سے پوچھ لیں۔“ بس یہی کرتے کرتے صبح آٹھ، سوا آٹھ بجے سے ہم اپنے کزنز کا گھر ڈھونڈتے ڈھونڈتے تقریباً گیارہ بجے پہنچے۔ بالآخر گھر مل گیا۔ یہ ہم تینوں کا گھر والوں سے الگ، اکیلے سفر کا پہلا تجربہ تھا، اِس لیے گھر پہنچتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ گھر فون کر کے اطلاع دی کہ ”ہم تینوں بخیریت لاہور پہنچ گئے ہیں۔“ پھر پورا دن آرام کیا۔ شام ہوئی تو لاہور ہماری جیب میں تھا۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو ہمارے خالہ زاد بھائی جمشید نے کہا کہ ”چلو، لاہور گھومتے ہیں۔“ اور یوں ہم موٹر سائیکلوں پر، بشمول فیروز بھائی کے ساتھ، لاہور کی سڑکوں پر مٹر گشت کے لیے نکل پڑے۔ پہلا پڑاؤ فورٹریس سٹیڈیم تھا۔ اور وہاں پہنچ کر ایک ایسی جگہ نظر آئی جس کی یاد آج بھی میرے لیے موسیقی کے ایک پورے دور کی یاد ہے۔ این آف بیٹ، ((An Off Beat یہ ایک آڈیو کیسٹ شاپ تھی جہاں اُس زمانے کے مشہور انڈین، پاکستانی، انگلش، ویسٹرن اور بھنگڑا البمز ملتے تھے۔ زیادہ تر ریکارڈنگ ٹی ڈی کے (TDK) کی کیسٹوں پر ہوتی تھی۔ اُس وقت عام آڈیو کیسٹ، مثلاً سونک، ایگل یا پی ایم سی کمپنی کی، تقریباً 18 یا 20 روپے میں مل جاتی تھی، لیکن TDK، کی کیسٹ الگ چیز تھی۔ 60 روپے تک کی وہ بھی خالی یعنی بغیر ریکارڈنگ کے جبکہ 90 منٹ کی کیسٹ تقریباً 120 روپے میں ملتی تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں نے وہاں سے اپنا سنگیت، گروپ یوکے، (Apna Sangeet)، کا البم ”Jam To The Bhangra“ خریدا تھا جبکہ Jon Bon Jovi، کا اُس وقت دُنیا بھر میں مقبول نیا البم ”Keep The Faith“ بھی لیا جو آج بھی میری میوزک لائبریری میں محفوظ ہیں۔ این آف بیٹ والوں سے میری بعد میں بھی خط و کتابت کے ذریعے دوستی رہی۔ لیاقت پور سے لاہور خط لکھا کرتا اور ایسے آڈیو البمز جو عام آڈیو کیسٹ کمپنیاں جاری یا ریلیز نہیں کرتیں یا آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے تھے، وہ TDK کی خالی کیسٹ میں ریکارڈ کر کے وی پی پارسل کے ذریعے بھجوا دیا کرتے تھے۔ Guns N' Roses، کا مقبولِ زمانہ ”Use Your Illusion I & II،“ بھی انہی سے منگوایا تھا، جو دو حصوں پر مشتمل دو کیسٹوں میں تھا۔ بعد ازاں جونی زی (تیز) ، اسٹیریو نیشن، کا مشہور آڈیو البم ”Vibes“ بھی این آف بیٹ، کے ذریعے ہی ملا۔ ذرا آج کے نوجوان سوچیں کہ لاہور سے لیاقت پور ایک کیسٹ منگوانے کا مطلب 240 سے 300 روپے خرچ کرنا تھا! اور ہم طالب علم تھے۔ اتنے پیسے کیسے جمع کرتے تھے؟ شاید کئی کئی دن کا جیب خرچ بچا کر، کئی خواہشیں موخر کر کے، پھر کہیں جا کر ایک کیسٹ منگوائی جاتی تھی۔ اُس زمانے میں ایک اچھی ٹینس بال تقریباً 10 روپے میں مل جاتی تھی۔ نوجوان گلیوں میں اس پر نیٹو کی ٹیپ چڑھا کر کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ آج کی نسل کے لیے شاید یہ سب کسی فلم کا منظر ہو، لیکن ہمارے لیے یہ زندگی تھی۔ کیسٹوں کی خریداری کے بعد ہم الحمراء ہال پہنچے۔ اُس زمانے میں غالباً ایک ہی الحمراء ہال ہوا کرتا تھا۔ بعد میں الحمراء 2 بنا اور شاید آج الحمراء 3 بھی موجود ہے۔ ہم نے مرحوم غیاث الدین (شوکی خان) کا مشہور مزاحیہ سٹیج ڈرامہ ”میں پیا تیری“ دیکھا۔ یہ وہ دور تھا جب الحمراء میں فیملیز باقاعدگی سے ڈرامہ دیکھنے آیا کرتی تھیں۔ سٹیج پر جگتیں ہوتی تھیں، قہقہے لگتے تھے، مگر امان اللہ، ببو برال، سہیل احمد، انور علی، مستانہ اور دوسرے فنکاروں کی زبان اور مزاح میں ایک خاص شائستگی ہوا کرتی تھی۔ یہاں کسی ایک دور یا فنکار کو موردِ الزام ٹھہرانا مقصود نہیں، کیونکہ اِس بارے میں مختلف فنکاروں اور شائقین کے مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔ بہرحال، میری ذاتی یادداشت میں اُس دور کا سٹیج ایک مختلف ماحول رکھتا تھا۔ ”میں پیا تیری“ ایک بہترین سٹیج ڈرامہ تھا۔ شو ختم ہوا تو جمشید اور فیروز بھائی نے ہماری ملاقات شوکی خان سے کرائی۔ کافی دیر گفتگو ہوئی۔ پھر شوکی خان ہمارے ساتھ پیدل ہی سڑک پر آگئے۔ میری حس مزاح بھی شاید اُس رات کچھ زیادہ ہی جاگ رہی تھی۔ میں برجستہ جملے شوکی خان کو سناتا رہا اور وہ بھی اُسی برجستگی سے جواب دیتے رہے۔ شوکی خان کا اپنا ہی ایک الگ لیول تھا۔ برجستگی، فقروں کی ادائیگی، چہرے کے تاثرات اور وہ چیز جسے آج ہم Body Language، کہتے ہیں۔۔۔ سب کچھ کمال کا امتزاج تھا۔ اُن میں بناوٹ نہیں تھی۔ سکرپٹ کی لائن بولتے تو اُسے اپنے انداز سے ایسا رنگ دے دیتے کہ وہ محض ایک جملہ نہیں رہتا بلکہ زندہ مزاح بن جاتا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم شوکی خان کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔ پاکستان ایک بہترین فنکار سے محروم ہوا اور میرے خیال میں اُن کا ایک مخصوص فنی خلاء آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ الحمراء سے نکلے تو لاہور کے مشہور زمانہ لکشمی چوک پہنچے۔ قریب ہی رائل پارک تھا جہاں فلم ڈسٹری بیوٹرز کے مختلف دفاتر ہوا کرتے تھے۔ کئی دفاتر میں اندر جانے اور وہاں کے ماحول کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا۔ اِسی دوران مرحوم سینئر اداکار یوسف خان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یوسف خان ایک با رعب اور دبدبہ رکھنے والی شخصیت تھے۔ پاکستان فلم انڈسٹری میں اُن کا ایک نمایاں مقام تھا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم یوسف خان کو بھی اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین اِس کے بعد دوبارہ لکشمی چوک آئے، خوب سیر ہو کر لاہوری کھانے کھائے۔ اُس زمانے میں لاہور میں ”فوڈ اسٹریٹ“ نام کی کوئی چیز یا تصور نہیں تھا۔ مگر کھانا؟ وہ لاہور کے پاس تب بھی کم نہیں تھا! رات کے تقریباً دو سے تین بجے کا وقت تھا جب ہم لاہور ریلوے سٹیشن پہنچے۔ قریب ہی، شاید آج بھی موجود ہو، لاہور ہوٹل کے پاس موٹر سائیکلیں سائیڈ پر لگائیں۔ پھر ایک قریبی چائے کے سٹال پر جا بیٹھے۔ اُس زمانے میں چائے آج کے خوبصورت کپوں اور مگوں میں نہیں بلکہ مخصوص رائج پیالوں میں آتی تھی۔ چائے پی اور پھر رات کے سفر کے بعد صبح تقریباً ساڑھے چار بجے واپس مغل پورہ پہنچ گئے۔ یوں ایک ہی دن میں ہم نے لاہور کا ایک ایسا چہرہ دیکھ لیا تھا جسے آج یاد کرتے ہیں تو لگتا ہے جیسے ہم کسی اور ہی زمانے میں جا بسے تھے۔ اگلے روز ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے کئی سال بعد مجھے بار بار حیران کیا۔ گزشتہ پندرہ، اٹھارہ برسوں میں پورے پاکستان نے جس طرز کی کیبل نشریات دیکھی ہیں، ہم اُس کا ایک ابتدائی نمونہ 1993ء ہی میں دیکھ چکے تھے۔ ہمارے خالہ زاد بھائی ریلوے کوارٹرز میں رہتے تھے۔ گھر کے آخری کوارٹرز میں سے ایک شخص ہمارے گھر آیا۔ اُس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ جمشید بھائی باہر گئے تو میں بھی ساتھ تھا۔ وہ شخص پنجابی میں پوچھ رہا تھا کہ ”اَج دوپہر نوں کہڑی فلم چلوواں؟“ انہوں نے بھارتی فلم ”خدا گواہ“، امیتابھ بچن والی، چلانے کی فرمائش کی۔خدا گواہ غالباً 1992ء میں ریلیز ہوئی تھی جس نے باکس آفس پر شاندار کامیابی حاصل کی اور اپنے دور کی وہ فلم اپنے گانوں کی وجہ سے سپر ہٹ قرار پائی تھی۔ ہم اندر آ گئے۔ دوپہر کو ٹی وی آن کیا تو کسی چینل کو تبدیل کیے بغیر فلم چلنے لگی۔ گانے بھی خود بخود آگے ہو رہے تھے۔یعنی اگر ہمیں کوئی گانا یا سین پسند نہیں ہے تو وہ از خود بذریعہ ریمورٹ کوئیک فارورڈ کر دیا جاتا تھا جس کی پہلے سے انسٹریکشنز دے دی جاتی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ ”یہ کیسے ہو رہا ہے؟“ پتہ چلا کہ جن لوگوں نے وی سی آر کا زمانہ دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ VCR کی ایک لیڈ (Lead)، ہوتی تھی جو ایک طرف وی سی آر اور دوسری طرف ٹی وی سے منسلک ہوتی تھی۔ اُس شخص نے اُسی بنیادی تصور کو استعمال کرتے ہوئے ایک گھر سے دوسرے گھر تک تاروں اور کنیکٹرز کے ذریعے کئی گھروں کو جوڑ رکھا تھا اور ایک ہی فلم پوری لائن کے گھروں میں چل رہی تھی۔ بعد میں یہی طرزِ عمل ترقی کرتا گیا، کیبل کا نظام بنا، پھر ہر گھر میں سٹلائٹ چینلز آنے لگے۔ اور آج؟ کیبل کے ذریعے انٹرنیٹ گھروں تک پہنچ رہا ہے، ٹی وی باکس لگ رہے ہیں اور ایک وقت میں جو چیز ہمیں حیران کرتی تھی، وہ آج معمول کی بات بن چکی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ لاہور میں بھارتی سرکاری ٹی وی ”دور درشن“ کی نشریات بھی آیا کرتی تھی۔ ہم اگر کبھی مغل پورہ نہ جائیں تو علاقہ سوڈیوال (پنڈ) لاہور میں اپنے ایک اور خالہ زاد بھائی رضوان کے گھر جا کر دور درشن دیکھا کرتے تھے، جو اب اِس دُنیا میں نہیں رہے۔ اللہ تعالی رضوان کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، وہ بہت ہی چھوٹی عمر میں ایک ناگہانی حادثے میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو گیا تھا۔ آج کے بچے یوٹیوب پر جن کارٹونوں کو دیکھتے ہیں، ہماری نسل نے اُن میں سے کئی کردار 1980ء کی دہائی کے وسط میں لاہور جا کر ”دور درشن“ پر دیکھے رکھے تھے۔ ”مونگلی“ بھی انہی میں سے ایک تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس زمانے کا مونگلی اُس دور کا تھا اور آج کا مونگلی (Mongli) جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جدید ہو چکا ہے۔ پھر وقت بدل گیا۔۔۔ وقت کا دھارا تیزی سے چلتا رہا، ہم بڑے ہوتے گئے، شہر بدلتے گئے، ٹیکنالوجی بدلتی گئی، لوگ بدلتے گئے اور پھر ایک دن احساس ہوا کہ ہم اُس زمانے سے بہت دور نکل آئے ہیں جسے ہم کبھی معمول سمجھتے تھے۔ آج 33 سال پہلے کے وہ مناظر یاد آتے ہیں تو دل کے اندر ایک عجیب سی کسک پیدا ہوتی ہے۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ ہم جوان ہو رہے تھے، یہ صرف اِس لیے نہیں کہ سفر میں مزہ تھا، یہ صرف اِس لیے نہیں کہ تین ہزار روپے میں لاہور گھوم لیا کرتے تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ معاشرہ کچھ اور تھا۔ شہر چھوٹے تھے مگر لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے، ہر شخص دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہونے کو اپنا فرض سمجھتا تھا، دوسرے کی بہن، بیٹی، بہو کو بھی اپنی عزت سمجھا جاتا تھا، چوری چکاری کی کوئی واردات کبھی کبھار سننے کو ملتی تو لوگ کئی دن اِس کا ذکر کرتے تھے۔ قتل؟ ناحق خون؟ ایسا واقعہ سالوں میں کہیں سننے کو ملتا اور جب کبھی ایسا ہوتا تو سرِشام آسمان لال ، آندھی سی چلتی تو بڑے بوڑھے کہتے کہ ”کہیں کوئی آج ناحق قتل ہو گیا ہے۔“ یہ جملہ آج بھی کانوں میں گونجتا ہے۔ وہ زمانہ جب بعض سرکاری نوکریاں بھی ”بری“ سمجھی جاتی تھیں، ہم نے وہ دور بھی دیکھا جب پولیس، پٹواری یا اوورسیئر کی نوکری کو لوگ بسا اوقات اچھا نہیں سمجھتے تھے، معاشرے میں ملازمت سے زیادہ کردار، عزت اور کاروبار کو اہمیت دی جاتی تھی، لوگ اخلاقیات، دینی اور دُنیاوی اصولوں کی پابندی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے، بے جا کسی کو تکلیف پہنچانے سے گریز کیا جاتا تھا، لوٹ مار، کرپشن، اقرباء پروری اور فریب جیسے الفاظ معاشرے میں موجود ضرور تھے، مگر آج کی طرح روزمرہ گفتگو کا حصہ نہیں لگتے تھے۔ پھر نہ جانے کیا ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے معاشرے میں جھوٹ، فریب، مکر، اغواء، قتل، ڈکیتی اور عدم برداشت جیسے رویے بڑھتے چلے گئے۔ ہم نے ترقی تو بہت کی، موبائل آ گیا، انٹرنیٹ آگیا، سوشل میڈیا آ گیا، کیبل آ گئی، دُنیا ہماری ہتھیلی میں آ گئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انسان بھی اِتنا ہی قریب آیا؟ ہم نے دُنیا سے رابطہ بڑھا لیا، مگر ایک دوسرے سے فاصلے بڑھا لیے، ہم نے معلومات میں اضافہ کیا، مگر برداشت کم کر دی، ہم نے سہولتیں بڑھا لیں، مگر احساس کم کر دیا، ہم نے رفتار حاصل کر لی، مگر سکون کھو دیا اور سب سے بڑھ کر ہم نے خود کو ذات، برادری، زبان، قومیت اور مفاد کے خانوں میں تقسیم کر لیا۔ آج بسا اوقات انسان دوسرے انسان کو صرف اِس لیے برداشت نہیں کرتا کہ وہ اُس کی برادری کا نہیں، اُس کی زبان نہیں بولتا، اُس کے علاقے سے نہیں، اُس کے گروہ کا نہیں یا اُس کے سیاسی و سماجی دائرے سے تعلق نہیں رکھتا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ہم دوبارہ 1980ء سے 1990ء کی دہائی کے اُن برسوں کی کچھ خوبیاں واپس لا سکیں گے؟ وہ غیرت، وہ حمیت، وہ احساس، وہ پڑوسی، وہ رشتہ داری، وہ ایک دوسرے کے دُکھ میں شریک ہونے کا جذبہ، وہ اجنبی کے لیے بھی احترام، وہ بزرگوں کی عزت، وہ بچوں کی حفاظت، وہ معاشرتی شرم جو انسان کو غلط کام سے روک دیا کرتی تھی۔ زمانہ واپس نہیں آتا، یہ حقیقت ہے۔ 1993ء دوبارہ نہیں آئے گا۔ نہ وہ بریف کیس آئیں گے، نہ وہ ایک ہزار روپے والی جیب، نہ وہ بس کا سفر، نہ وہ لودھراں خانیوال روڈ کی کھڑکیوں سے آنے والا شور اور گرد و غبار، نہ وہ TDK، کی مہنگی کیسٹیں، نہ An Off Beat، کی دکان، نہ وہ وی پی پارسل، نہ وہ الحمراء کی وہ شام، نہ شوکی خان کی برجستہ گفتگو، نہ لکشمی چوک کی وہ رات اور نہ وہ لاہور جو ہماری آنکھوں کے سامنے بدل گیا۔ لیکن شاید اُس زمانے کی خوبیاں واپس آ سکتی ہیں، ٹیکنالوجی پیچھے نہیں جائے گی اور نہ ہی اُسے جانا چاہئے، ترقی بھی رکنی نہیں چاہئے مگر ترقی کے ساتھ انسانیت بھی چل سکتی ہے، ہم جدید موبائل رکھ کر بھی پرانے زمانے کا احساس رکھ سکتے ہیں، ہم انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے بھی سچ بول سکتے ہیں، ہم دنیا بھر سے رابطے میں رہتے ہوئے بھی اپنے پڑوسی کا دُکھ سن سکتے ہیں، ہم اپنے مفاد کے ساتھ ساتھ دوسرے کے حق کا بھی خیال رکھ سکتے ہیں۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اُس ماضی کو واپس نہیں لا سکتے، لیکن ماضی کی اچھی اقدار کو مستقبل میں ضرور لے جا سکتے ہیں۔ آخر میں۔۔۔ ایک سفر جو آج بھی جاری ہے۔۔ 27 ستمبر 1993ء کو ہم تین نوجوان لیاقت پور سے لاہور کے سفر پر نکلے تھے۔ گوشی، روشی اور نوشی، تین بریف کیس، تین ہزار روپے، ایک بس، ایک خواب اور ایک ایسا سفر جس کا اختتام شاید لاہور پہنچ کر نہیں ہوا۔ وہ سفر آج بھی جاری ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس وقت ہم لاہور کی سڑکوں پر سفر کر رہے تھے اور آج یادوں کی گلیوں میں سفر کرتے ہیں۔ اُس وقت ہمارے ہاتھ میں بریف کیس تھا، آج ہاتھ میں موبائل ہے، اُس وقت گھر فون کر کے بتانا پڑتا تھا کہ ”ہم پہنچ گئے ہیں“، آج ایک لمحے میں ویڈیو کال ہو جاتی ہے، اُس وقت ایک TDK، کیسٹ خریدنے کے لیے کئی دن جیب خرچ بچانا پڑتا تھا، آج دُنیا بھر کی موسیقی چند سیکنڈ میں سامنے آ جاتی ہے، اُس وقت کیبل چند گھروں کو جوڑنے کی کوشش تھی، آج پوری د،نیا ایک سکرین میں سمٹ آئی ہے لیکن دل کے کسی کونے میں آج بھی وہی 27 ستمبر 1993ء بیٹھا ہوا ہے اور جب ستمبر کی راتوں میں پھر سے وہی خنکی محسوس ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی بہت دور سے آواز دے رہا ہو کہ ”نوشی! چلو، بس آگئی ہے۔۔۔ لاہور جانا ہے!“ میں پلٹ کر دیکھتا ہوں۔۔۔ نذیر احمد بھٹی (گوشی) ہاتھ میں بریف کیس لیے کھڑے ہیں، محمد سہیل تسکین (روشی) پاس کھڑے مسکرا رہے ہیں اور میں۔۔۔ محمد شکیل تسکین (نوشی)۔۔۔ آج بھی اُسی عمر میں کھڑا ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس وقت سفر لاہور کا تھا اور آج سفر یادوں کا ہے کہ وہ بھی کیا دن تھے۔۔۔!
(واضح رہے کہ زیب نظر تصویر ہم تینوں بھائیوں کی سال 2019 ء میں اکٹھے کار میں بیٹھے لاہور جانے کی ہے۔ ) |
|