چین میں بلیوں کے لیے منفرد پناہ گاہیں
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں بلیوں کے لیے منفرد پناہ گاہیں تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
شہری زندگی کی مصروفیات میں بعض اوقات چند لمحوں کا سکون کسی بڑے تفریحی مقام کے بجائے ایک خاموش گوشے میں ملتا ہے، جہاں انسان جانوروں کے ساتھ وقت گزار سکے۔ چین میں اسی خیال کو بلیوں کی دیکھ بھال اور سیاحت سے جوڑنے کا ایک منفرد تجربہ سامنے آیا ہے، جہاں بلیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے ساتھ لوگوں کو ان کے قریب وقت گزارنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔
چین کے شہر چھونگ چھنگ میں قائم ایک بلیوں کے پارک نے نئے سال کے آغاز پر تقریباً 600 بلیوں کے ساتھ کام شروع کیا تھا، لیکن چند ماہ بعد وہاں موجود بلیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی۔ تقریباً 30 ہزار مربع میٹر رقبے پر قائم اس پارک نے اب تک 1300 سے زیادہ بلیوں کو ریسکیو یا اپنی تحویل میں لیا ہے، جبکہ 240 سے زائد بلیاں مستقل گھروں میں منتقل کی جا چکی ہیں۔
بلیوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ ان کی خوراک، علاج، صفائی اور رہائش کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ پارک انتظامیہ کے مطابق ویٹرنری خدمات مجموعی آپریٹنگ اخراجات کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔ موجودہ آمدنی سے روزمرہ نظام چل رہا ہے، تاہم منافع کمانا اب بھی مشکل ہے۔ یہ پارک ایک ایسے مقام پر قائم کیا گیا ہے جو طویل عرصے سے غیر استعمال شدہ تھا۔ مقامی حکومت نے زمین کرائے کے بغیر فراہم کی، جبکہ پارک کے اخراجات ٹکٹوں، اندرونی کاروباری سرگرمیوں اور وہاں قائم کاروباروں سے حاصل ہونے والے کرائے سے پورے کیے جاتے ہیں۔ داخلے کی فیس نسبتاً کم رکھی گئی ہے، تاہم سیاحوں کی تعداد موسم کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ گرم موسم میں روزانہ چند سو افراد آتے ہیں، جبکہ مصروف ترین دنوں میں ہزاروں افراد یہاں پہنچ چکے ہیں۔
پارک میں جانوروں کی دیکھ بھال، صفائی اور سکیورٹی سمیت مختلف ذمہ داریوں کے لیے باقاعدہ ملازمین موجود ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صرف رضاکارانہ جذبے یا عطیات پر انحصار کرتے ہوئے جانوروں کی طویل مدتی دیکھ بھال ممکن نہیں۔ اسی لیے ریسکیو کے عمل کو تجارتی سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ بلیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مستقل آمدنی حاصل ہو سکے۔
پارک کی بنیادی ٹیم میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو پہلے آوارہ بلیوں کے ریسکیو گروپس سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کے تجربے میں یہ بات سامنے آئی کہ جانوروں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ خوراک، علاج اور رہائش کے اخراجات بھی مسلسل بڑھتے ہیں، جبکہ مالی وسائل اکثر عطیات، سرکاری معاونت یا رضاکاروں کی ذاتی رقم پر منحصر ہوتے ہیں۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے یہ تصور پیش کیا گیا کہ بلیوں کی دیکھ بھال کے اخراجات کا ایک حصہ سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پورا کیا جائے۔
یہ تجربہ چین میں پالتو جانوروں کی بڑھتی ہوئی معیشت کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ شہری علاقوں میں کتوں اور بلیوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ان کی خوراک، علاج، دیکھ بھال اور دیگر خدمات سے متعلق مارکیٹ بھی مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہے۔ اس صورت حال نے جانوروں سے متعلق نئی خدمات اور کاروباری ماڈلز کے لیے گنجائش پیدا کی ہے۔
تاہم ایسے پارکوں کے لیے گنجائش ایک اہم مسئلہ ہے۔ موجودہ پارک میں محدود تعداد میں ہی بلیوں کو محفوظ طریقے سے رکھا جا سکتا ہے۔ اگر تعداد مقررہ حد کے قریب پہنچ جائے تو نئی بلیوں کو تحویل میں لینے کا عمل محدود کرنا ہوگا۔ انتظامیہ ان آوارہ بلیوں کو منتقل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کرتی جو رہائشی علاقوں میں باقاعدگی سے لوگوں سے خوراک حاصل کرتی ہیں، کیونکہ وہ اپنے ماحول سے مانوس ہو چکی ہوتی ہیں۔ تحقیق سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ آوارہ بلیوں کی تعداد کم کرنے کے لیے وقتی اقدامات کافی نہیں۔ مسلسل نس بندی کے ساتھ بلیوں کو پرورش کے لیے لینے کے مواقع اور خوراک و وسائل کے بہتر انتظام جیسے اقدامات کو یکجا کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
بلیوں کو پرورش کے لیے لینے کے عمل کے لیے سخت شرائط رکھی گئی ہیں اور نئے مالکان کی بعد ازاں نگرانی بھی کی جاتی ہے۔ اب تک یوں دی گئی بلیوں میں سے کسی کو واپس نہیں لانا پڑا۔ دوسری جانب پارک میں آنے والے افراد کے لیے بھی واضح اصول موجود ہیں۔ کم عمر بچوں کے داخلے پر پابندی ہے، جبکہ سیاحوں کو بلیوں کا پیچھا کرنے یا ان کی مرضی کے خلاف انہیں اٹھانے سے منع کیا جاتا ہے۔ بہتر رہنمائی کے باعث خراش یا کاٹنے جیسے واقعات میں بھی کمی آئی ہے۔
اسی نوعیت کا ایک اور چھوٹے پیمانے کا تجربہ ہاربن شہر میں بھی کیا گیا، جہاں ایک معروف سیاحتی مقام پر بلیوں کا پارک قائم کیا گیا ہے۔ یہاں بھی ریسکیو کی گئی بلیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے ساتھ سیاحت کو آمدنی کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ بلیوں کو سیاحوں کے سامنے لانے سے پہلے طبی معائنہ، ویکسی نیشن، نس بندی اور دیگر ضروری اقدامات کیے جاتے ہیں، جبکہ بیمار جانوروں کے لیے الگ جگہ موجود ہے۔ سردیوں میں شدید سردی کے باعث بلیوں کے لیے گرم اندرونی مقامات کا انتظام کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر سیاحوں کی تعداد پارک کی گنجائش سے بڑھ جائے تو داخلہ محدود کیا جائے گا، کیونکہ جانوروں کی فلاح کو سیاحوں کی تعداد پر ترجیح دی جائے گی۔
چین کے بعض علاقوں میں پالیسی سطح پر بھی پالتو جانوروں سے متعلق سیاحت کو فروغ دینے اور آوارہ جانوروں کے بہتر انتظام کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جانوروں کی فلاح اور سیاحت کو ایک ایسے نظام سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو طویل مدت تک برقرار رہ سکے۔
رات کے وقت جب گرمی کی شدت کم ہوتی ہے تو لوگ ان پارکس کا رخ کرتے ہیں۔ کچھ بلیوں کو دیکھتے ہیں، کچھ خاموشی سے سیڑھیوں پر بیٹھے رہتے ہیں اور بعض کے قریب خود بلیاں آ جاتی ہیں۔ یہی سادہ سا تجربہ ان پارکس کی اصل کشش بن رہا ہے، جہاں انسان چند لمحوں کے لیے شور اور مصروفیت سے دور رہ کر جانوروں کے ساتھ سکون کا وقت گزار سکتا ہے۔ |
|