اسکولوں میں پی ای ٹی استاد موجود، کھیل غائب! آخر بچے کھیلیں تو کس کے ساتھ؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
سرکاری اسکولوں میں جسمانی تعلیم کے اساتذہ کی 675 آسامیاں خالی، مگر اصل سوال یہ ہے کہ جہاں استاد موجود ہیں، وہاں کھیلوں کا میدان کتنا آباد ہے؟
خیبرپختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا اپنا نظام ہے، امتحانات کا اپنا نظام ہے، چھٹیوں کا اپنا نظام ہے، اور کھیلوں کا معاملہ تو ایسا ہے کہ بعض اوقات کھیل کا نام سنتے ہی لگتا ہے جیسے کسی نے اسکول میں چھٹی کا اعلان کر دیا ہو۔سالانہ اسکول مردم شماری رپورٹ 2023-24 کے مطابق صوبے کے مستحکم اضلاع میں جسمانی تعلیم کے اساتذہ کی 4,124 منظور شدہ آسامیوں میں سے 3,449 پُر ہیں جبکہ 675 خالی ہیں۔ پشاور میں 58 آسامیاں خالی ہیں، ایبٹ آباد میں 44، بونیر میں 42 اور سوات میں 41۔
اب سوال یہ ہے کہ پی ای ٹی استاد کا کام کیا ہے؟ کیا وہ صرف حاضری لگانے، رجسٹر سنبھالنے اور کھیلوں کے سامان کی فہرست مکمل کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے، یا اس کا کام بچوں کو میدان میں لے جانا، انہیں دوڑانا، کھیل سکھانا اور مستقبل کے کھلاڑی تیار کرنا بھی ہے؟اگر پی ای ٹی استاد کا کام جسمانی تعلیم دینا ہے تو پھر اسکول کے بچے جسمانی طور پر تعلیم یافتہ ہو رہے ہیں یا صرف نصابی کتابوں کے بوجھ تلے جسمانی طور پر تھک رہے ہیں؟
ذرا ایک منظر تصور کریں۔ اسکول میں پی ای ٹی استاد موجود ہے، بچے بھی موجود ہیں، چھٹی کی گھنٹی بھی موجود ہے، لیکن کھیلوں کا میدان ویران ہے۔ کرکٹ کی گیند شاید اسٹور میں آرام کر رہی ہے، فٹبال کسی الماری میں اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے اور والی بال کا جال شاید اسی دن کے خواب دیکھ رہا ہے جب کوئی اسے لگانے کی زحمت کرے گا۔ یہ منظر طنزیہ ہے، کسی مخصوص اسکول کی تصدیق شدہ صورت حال نہیں۔ اصل صورت حال جاننے کے لیے اسکولوں کا ریکارڈ اور عملی معائنہ ضروری ہے۔
پی ای ٹی استاد کا کام کیا ہے؟جسمانی تعلیم کے استاد کی ذمہ داری صرف بچوں کو کھیلنے کی اجازت دینا نہیں۔ اسے کھیلوں کے بنیادی اصول سمجھانے، جسمانی ورزش کروانے، بچوں کی صلاحیتیں پہچاننے، ٹیم ورک سکھانے اور اسکول کی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔بچہ فٹبال کھیلنا چاہتا ہے تو اسے فٹبال کے اصول معلوم ہونے چاہییں۔ کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے تو اسے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کی تربیت ملنی چاہیے۔ دوڑ میں دلچسپی ہے تو اس کی صلاحیت کو آگے بڑھانے کا موقع ملنا چاہیے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ان سرگرمیوں کا ریکارڈ کہاں ہے؟ کتنے اسکولوں میں باقاعدہ کھیلوں کی کلاسیں ہوتی ہیں؟ کتنے اسکول سالانہ کھیلوں کے مقابلے منعقد کرتے ہیں؟ کتنے بچوں کو ضلعی اور صوبائی سطح تک پہنچنے کا موقع ملتا ہے؟اگر ان سوالات کے جواب میں صرف ایک رجسٹر پیش کیا جائے تو پھر رجسٹر کی کارکردگی اور میدان کی کارکردگی میں فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔بچے کھیلوں میں کیوں نظر نہیں آتے؟
اس سوال کا جواب صرف پی ای ٹی استاد کو مورد الزام ٹھہرا کر نہیں دیا جا سکتا۔ ممکن ہے کسی اسکول میں میدان ہی نہ ہو، کہیں کھیلوں کا سامان ناکافی ہو، کہیں کلاسوں کا دباؤ ہو، کہیں کھیلوں کے لیے وقت مقرر نہ ہو اور کہیں انتظامیہ کی توجہ کھیلوں کے بجائے صرف امتحانی نتائج پر مرکوز ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ بعض اسکولوں میں کھیلوں کی سرگرمیاں باقاعدگی سے ہوتی ہوں، مگر ان کی تفصیل عوامی ریکارڈ میں موجود نہ ہو۔اس لیے اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بچے کھیلنے کیوں نہیں آتے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسکول انہیں کھیلنے کے مواقع کتنے فراہم کرتے ہیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھانے والے بچوں کی تعداد کتنی ہے۔
اگر اسکول میں کھیلوں کا میدان موجود ہو، سامان دستیاب ہو، استاد تعینات ہو اور پھر بھی سرگرمیوں کا کوئی ریکارڈ نہ ہو تو محکمہ تعلیم کو ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس نظام کی نگرانی کون کر رہا ہے۔سرکاری ملازمت ہے یا کھیلوں کی ذمہ داری بھی؟جسمانی تعلیم کے استاد کی ملازمت کا مقصد بچوں کی جسمانی نشوونما اور کھیلوں میں دلچسپی کو فروغ دینا ہے۔ اس لیے اس کی کارکردگی کا جائزہ صرف حاضری سے نہیں بلکہ اس کی ذمہ داریوں اور عملی نتائج سے بھی ہونا چاہیے۔
البتہ کسی استاد کو محض اس وجہ سے غیر فعال قرار دینا درست نہیں کہ کسی رپورٹ میں کھیلوں کے نتائج درج نہیں۔ اس کے لیے اس کی تدریسی ذمہ داریوں، حاضری، اسکول کے وسائل اور کھیلوں کی سرگرمیوں کا ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے محکمہ تعلیم کو چاہیے کہ ہر اسکول کے لیے کھیلوں کا سالانہ کیلنڈر، ہفتہ وار جسمانی سرگرمیوں کا شیڈول اور مقابلوں کی تفصیل مرتب کرے۔ اسکول سربراہان اور متعلقہ افسران اس پر عمل درآمد کی نگرانی کریں اور طلبہ کی شرکت کا ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جائے۔
آخری سوال: کھیلوں کا استاد ہے تو کھیل کہاں ہیں؟ خیبرپختونخوا کے مستحکم اضلاع میں 675 پی ای ٹی اساتذہ کی آسامیاں خالی ہونا ایک انتظامی مسئلہ ہے۔ لیکن جہاں اساتذہ تعینات ہیں، وہاں کھیلوں کی سرگرمیوں کے نتائج جاننا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آخر پی ای ٹی استاد کو صرف اس لیے رکھا گیا ہے کہ اسکول کے عملے کی فہرست میں ایک نام مزید شامل ہو، یا اس لیے کہ بچے میدان میں اتریں، صحت مند رہیں، کھیل سیکھیں اور اپنے اسکول کا نام روشن کریں؟ کیونکہ اگر اسکول میں استاد بھی ہو، بچے بھی ہوں اور کھیلوں کا سامان بھی، مگر کھیلوں کی کارکردگی کا حساب ہی نہ ہو تو پھر سوال اٹھانا بنتا ہے۔ ورنہ کل کو بچے کرکٹ کے بارے میں مضمون لکھیں گے، فٹبال کی تصویر بنائیں گے اور جسمانی تعلیم کے عملی امتحان میں شاید یہی بتائیں گے کہ کھیلنے کے لیے میدان بھی ضروری ہوتا ہے!
#KhyberPakhtunkhwa #SchoolSports #PETTeachers #PhysicalEducation #EducationSystem #SchoolGames #EducationAccountability #SportsDevelopment #InvestigativeJournalism #KikxNow
|