ڈیجیٹل دور میں خواتین کے لیے نئے مواقع
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
ڈیجیٹل دور میں خواتین کے لیے نئے مواقع تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے تعلیم، کاروبار اور روزگار کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو بھی جدید مہارتوں اور تربیت تک یکساں رسائی حاصل ہو۔ چین میں جاری مختلف تربیتی پروگرام اسی مقصد کے تحت خواتین کو ڈیجیٹل معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جون 2026 میں چین کے صوبہ گوانگ تونگ میں منعقدہ تربیتی پروگرام کے دوران آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی صبا علیوا نے پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تصویر میں ترمیم کی ٹیکنالوجی استعمال کی۔ ان کے لیے یہ محض ایک نیا تجربہ نہیں تھا بلکہ جدید ٹیکنالوجی سیکھنے اور اسے عملی زندگی میں بروئے کار لانے کے امکانات سے روشناس ہونے کا موقع بھی تھا۔ وہ 10 ممالک سے تعلق رکھنے والی ان 51 خواتین میں شامل تھیں جنہوں نے اے آئی، ڈیجیٹل کاروبار اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق تربیت حاصل کی۔ ایسے پروگراموں کا مقصد ترقی پذیر ممالک کی خواتین کو وہ مہارتیں فراہم کرنا ہے جو انہیں ڈیجیٹل دور میں تعلیم، کاروبار اور روزگار کے بہتر مواقع حاصل کرنے میں مدد دے سکیں۔ اس کوشش کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب دنیا بھر میں کاروباری سرگرمیاں اور خدمات تیزی سے آن لائن پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔
لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لیے یونیسکو کی خصوصی سفیر اور چینی صدر شی جن پھنگ کی اہلیہ پھنگ لی یوان نے بھی خواتین کی پیشہ ورانہ تربیت اور ڈیجیٹل و اسمارٹ تعلیم کو وسعت دینے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجیز کو تعلیم کے معیار میں بہتری اور خواتین کی ہمہ جہت ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں چین کے تجربات گلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کی شمولیت کے معاشی امکانات بھی نمایاں ہیں۔ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کی تحقیق کے مطابق افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں ای کامرس کے شعبے میں خواتین کی زیادہ شرکت سے 2025 سے 2030 کے دوران 300 ارب ڈالر سے زائد آمدنی پیدا ہونے کی گنجائش ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل مہارتیں خواتین کے لیے معاشی خودمختاری کے ساتھ کاروباری ترقی کے نئے راستے بھی کھول سکتی ہیں۔
چین میں خواتین کی ڈیجیٹل صلاحیتیں بڑھانے کے لیے قومی سطح پر ڈیجیٹل خواندگی، دیہی ترقی اور پیشہ ورانہ تربیت کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ خواتین کی قیادت میں چلنے والے ای کامرس کاروباروں کی معاونت بھی ان کوششوں کا حصہ ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 14 ہزار سے زیادہ خواتین نے اے آئی ٹرینر کی پیشہ ورانہ مہارت کے سرٹیفکیٹ حاصل کیے، جو اس سال جاری کیے گئے ایسے سرٹیفکیٹس کا 42.3 فیصد تھے۔
چین کے انٹرنیٹ شعبے میں کاروباری افراد کی نصف سے زیادہ تعداد خواتین پر مشتمل ہے، جبکہ ڈیجیٹل تجارت، ای کامرس اور لائیو اسٹریمنگ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی خواتین نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مناسب تربیت اور مواقع میسر ہوں تو خواتین جدید ٹیکنالوجی کو روزگار اور کاروبار کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کر سکتی ہیں۔
چین اپنی مہارت اور تجربات کو بین الاقوامی سطح پر بھی شیئر کر رہا ہے۔ جولائی 2025 میں قائم کیا گیا خواتین کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے عالمی تبادلے اور تعاون کا مرکز اسی کوشش کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد مختلف ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے، تربیتی تعاون اور خواتین کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے روابط مضبوط بنانا ہے۔
اس کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں صنفی تعصب سے بچنے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک زیادہ وسیع رسائی کو یقینی بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ چین کے گلوبل اے آئی گورننس انیشی ایٹو میں مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال کے دوران صنفی تعصب ختم کرنے کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں صلاحیت سازی کے لیے بین الاقوامی تعاون سے متعلق قرارداد کی حمایت بھی اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔
ڈیجیٹل دور میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے صرف ٹیکنالوجی دستیاب ہونا کافی نہیں؛ اسے سمجھنے، استعمال کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم، کاروباری معاونت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے خواتین کو ڈیجیٹل معیشت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کی ڈیجیٹل تعلیم کو محض ایک تکنیکی ضرورت کے بجائے معاشی اور سماجی ترقی کے اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جب خواتین جدید مہارتوں سے آراستہ ہوں گی تو وہ نہ صرف اپنے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے راستے کھول سکیں گی بلکہ اپنے خاندانوں اور معاشروں کی ترقی میں بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں گی۔ |
|