ڈنکی، یورو اور ڈوبتے خواب
(Dr. Intikhab Ulfat, Karachi)
ڈنکی، یورو اور ڈوبتے خواب از قلم: انتخاب اُلفت کوئی بیس برس پہلے جب میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے سلسلے میں سویڈن پہنچا تو وہاں بہت سی نئی چیزوں سے واسطہ پڑا۔ موسم کی سرد مہری، لوگوں کی گرم جوشی، وقت کی پابندی، خاموش سڑکیں اور جامعات میں تحقیق کا منظم ماحول۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک ایسی دلچسپ معاشرتی حقیقت بھی سامنے آئی جس کا تعلق نہ طبیعیات سے تھا، نہ سویڈن کی تہذیب سے، بلکہ ہمارے اپنے وطن کی اس بے مثال صلاحیت سے تھا جس کے تحت پاکستانی انسان دنیا کے کسی بھی کونے تک پہنچنے کا کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ وہاں ایک صاحب میرے روم میٹ تھے۔ خاصے خوش مزاج، ملنسار اور بظاہر تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے ہوئے۔ چند دن ساتھ گزرے، پھر ایک صبح دیکھا کہ صاحب غائب ہیں۔ پہلے خیال آیا شاید کسی دوست کے ہاں گئے ہوں گے۔ دو چار دن بعد پوچھا کہ ہمارے وہ پاکستانی ساتھی کہاں تشریف لے گئے؟ جواب ملا، ’’اسپین چلے گئے ہیں!‘‘ میں نے حیرت سے کہا، ’’مگر داخلہ تو ان کا یہاں ہوا تھا!‘‘ جواب دینے والے نے میری سادہ لوحی پر کچھ اس انداز سے مسکرا کر دیکھا جیسے میں ابھی ابھی گاؤں سے پہلی مرتبہ شہر آیا ہوں۔ فرمانے لگے، ’’ڈاکٹر صاحب (نئے آنے والوں کو اسی ٹائٹل سے پکارا /ستایا جاتا تھا )! آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ داخلہ یہاں صرف آنے کے لیے لیا جاتا ہے، پڑھنے کے لیے تھوڑی! اب ان شاء اللہ دس سال میں کہیں نہ کہیں اسپین یا اٹلی میں رہنے کا کوئی قانونی راستہ نکل آئے گا پھر موجاں ای موجاں ، یورو ای یورو ۔‘‘ میں نے سوچا کہ ہم بھی کیسے عجیب ہیں۔ پہلے داخلہ لیا ، پھر کلاسوں میں جائیں گے ، تجربہ گاہوں میں کام کریں گے ، مقالے لکھیں گے اور آخر میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد وطن واپس ۔ یہاں معاملہ اس قدر سادہ ہے کہ داخلہ کسی ملک میں، قیام کسی دوسرے ملک میں اور مستقبل کا خواب کسی تیسرے ملک میں دیکھا جا رہا ہے۔ البتہ اس واقعے سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوگا کہ بیرونِ ملک جانے والے تمام پاکستانی طلبہ ایسا کرتے ہیں۔ ہزاروں پاکستانی نوجوان دنیا کی بہترین جامعات میں سنجیدگی سے تعلیم و تحقیق میں مصروف ہیں۔ میرے لیے یہ ایک مخصوص واقعہ تھا، لیکن اس نے ہمارے معاشرے کی ایک دلچسپ اور پیچیدہ ذہنیت کا دروازہ ضرور کھول دیا۔
انہی دنوں ایک پاکستانی محقق سے ملاقات ہوئی۔ صاحب خاصے معقول، پڑھے لکھے اور اپنے شعبے میں اچھی شہرت رکھنے والے تھے۔ پاکستان کے اسی خطے سے تعلق رکھتے تھے جہاں سے بیرونِ ملک جانے کے قصے بڑی دلچسپی سے سنائے جاتے ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے ایک لطیفہ سنایا جسے سن کر محفل زعفران زار ہو گئی۔ کہنے لگے، ’’جب نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھا تو انہوں نے دیکھا کہ تھوڑے فاصلے پر ایک شخص چادر اوڑھے بڑے اطمینان سے سو رہا ہے۔ آرمسٹرانگ حیران بھی ہوئے اور کچھ خفا بھی۔ وہ تاریخ رقم کرنے آئے تھے اور یہاں ایک صاحب ان سے پہلے ہی ڈیرہ جمائے پڑے تھے۔ انہوں نے قریب جا کر اسے ٹھوکر ماری اور پوچھا، 'تم کون ہو اور یہاں کہاں سے آ گئے؟' وہ شخص نیند سے بیدار ہوا، آنکھیں ملیں اور بڑے سکون سے بولا، 'گجرات، پاکستان سے آیا ہوں۔' آرمسٹرانگ کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ پوچھا، 'مگر تم چاند تک پہنچے کیسے؟' جواب ملا، 'ایجنٹ چھوڑ گیا تھا!'‘‘ محفل میں قہقہے گونج اٹھے۔ میں بھی خوب ہنسا۔ اس زمانے میں یہ لطیفہ پاکستانیوں کی غیر معمولی ہمت، جغرافیائی سرحدوں کو خاطر میں نہ لانے کی عادت اور ایجنٹوں کی حیرت انگیز پہنچ پر ایک بے ضرر طنز معلوم ہوتا تھا۔ مگر آج جب بحیرۂ روم میں ڈوبنے والی کشتیوں، سرحدوں پر مارے جانے والے نوجوانوں اور بند کنٹینروں میں دم گھٹنے سے مرنے والے انسانوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو وہی لطیفہ ایک عجیب کرب پیدا کرتا ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر نیل آرمسٹرانگ والا قصہ آج سنایا جائے تو شاید محفل میں قہقہہ بلند ہونے سے پہلے کسی کے دل میں یہ سوال ضرور پیدا ہو کہ آخر اس شخص کو چاند تک پہنچانے والے ایجنٹ نے کتنے پیسے لیے تھے، اور راستے میں کتنے مسافر زندہ بچے تھے؟
ہمارے ہاں اس غیر قانونی اور خطرناک سفر کے لیے ایک لفظ بہت مقبول ہوا ہے: ’’ڈنکی‘‘۔ انگریزی کے لفظ Donkey سے اخذ کی گئی یہ اصطلاح اب ایک پورے کاروبار، ایک مخصوص ذہنیت اور ایک خطرناک سفری طریقے کی پہچان بن چکی ہے۔ عام طور پر اس سے مراد انسانی اسمگلروں کی مدد سے مختلف ممالک کی سرحدیں غیر قانونی طور پر عبور کرتے ہوئے کسی خوش حال ملک تک پہنچنے کی کوشش ہے۔ کہیں سفر پیدل ہوتا ہے، کہیں بسوں اور ٹرکوں میں، کہیں دشوار گزار پہاڑی راستوں سے اور کہیں سمندر کی بے رحم موجوں پر ایسی کشتیوں کے ذریعے جن میں مسافروں سے زیادہ سامان بھی محفوظ طریقے سے نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ فرق بھی واضح رہنا چاہیے کہ قانونی ہجرت، پناہ کی درخواست اور انسانی اسمگلروں کے ذریعے غیر قانونی سرحدی سفر ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ ہر مہاجر مجرم نہیں ہوتا اور ہر غیر قانونی راستہ اختیار کرنے والا شخص لازماً کسی جرم کی نیت سے نہیں نکلتا۔ بہت سے لوگ غربت، بے روزگاری، خاندانی دباؤ یا بہتر مستقبل کی خواہش میں ایسے فیصلے کرتے ہیں جن کے خطرات کا انہیں مکمل اندازہ نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ایجنٹ ان کی مجبوریوں، امیدوں اور بعض اوقات لاعلمی کو کاروبار میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس کاروبار کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہاں کامیاب مسافر کی کہانی پورے گاؤں میں پھیل جاتی ہے، مگر راستے میں مر جانے والے کی داستان اکثر اس کے گھر کی چار دیواری میں دفن ہو جاتی ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں بیرونِ ملک جانا معاشرتی کامیابی کی علامت بنتا گیا ہے۔ کسی گھر کے باہر نئے ماڈل کی گاڑی کھڑی ہو، مکان کی دوسری منزل تعمیر ہو رہی ہو یا کسی شادی میں غیر معمولی اخراجات نظر آئیں تو لوگ فوراً پوچھتے ہیں، ’’لگتا ہے گھر میں کوئی باہر ہے؟‘‘ اگر جواب ہاں میں ہو تو معاشرتی مرتبہ کچھ اور بلند محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس رجحان نے محنت، تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک پہنچ جانے کو بھی کامیابی کا ایک مستقل معیار بنا دیا ہے۔ کسی نوجوان کے لیے یہ صورتحال نفسیاتی دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ہم عمر دوست یورپ میں رہتا ہے، تصویروں میں خوب صورت سڑکوں، چمکتی گاڑیوں اور صاف ستھرے شہروں کے سامنے کھڑا نظر آتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ اس تصویر کے پیچھے کتنے برس کی بے یقینی، کتنی تنہائی، کتنی معمولی ملازمتیں اور کتنے قانونی مسائل چھپے ہو سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس فرق کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ وہاں کامیابی کی تصویر ملتی ہے، اس کی قیمت کا حساب نہیں۔ ایک نوجوان اپنے دوست کی نئی گاڑی تو دیکھ لیتا ہے مگر اس کی ماہانہ اقساط، کرایہ، ٹیکس اور طویل کام کے اوقات سے بے خبر رہتا ہے۔ اس کے ذہن میں یورپ ایک ایسے مقام کی صورت اختیار کر لیتا ہے جہاں پہنچتے ہی قسمت بدل جاتی ہے۔ پھر کوئی ایجنٹ آ کر کہتا ہے کہ بس چند لاکھ روپے اور کچھ ہمت درکار ہے۔ بعض خاندان زمین بیچ دیتے ہیں، بعض زیورات گروی رکھ دیتے ہیں اور بعض قرض لے کر بیٹے کو روانہ کر دیتے ہیں۔ انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ آج کی قربانی کل کی خوش حالی میں بدل جائے گی۔
انسانی اسمگلنگ کے کاروبار کی سب سے بڑی طاقت یہی امید ہے۔ ایجنٹ کبھی اپنی خدمات کو ’’پیکیج‘‘ کہتے ہیں، کبھی سفر کو ’’سیٹنگ‘‘ قرار دیتے ہیں اور کبھی منزل تک پہنچانے کی یقین دہانی ایسے کراتے ہیں جیسے کسی سیاحتی کمپنی کا ٹکٹ فروخت کر رہے ہوں۔ نوجوان کو بتایا جاتا ہے کہ فلاں شخص کامیابی سے پہنچ گیا، فلاں نے مستقل رہائش حاصل کر لی اور فلاں اب اپنے خاندان کو بھی بلا رہا ہے۔ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ کتنے لوگ گرفتار ہوئے، کتنے واپس بھیجے گئے، کتنے راستے میں تشدد اور استحصال کا شکار ہوئے اور کتنے کبھی اپنے گھروں کو لوٹ ہی نہ سکے۔ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کی تحقیق واضح کرتی ہے کہ بحیرۂ روم تک پہنچنے والے غیر قانونی سفری راستے ایک جیسے نہیں بلکہ ان میں متعدد ممالک، مختلف جرائم پیشہ نیٹ ورک اور پیچیدہ طریقۂ کار شامل ہوتے ہیں۔ انسانی اسمگلر منزل تک پہنچنے کی کوشش کو منافع بخش کاروبار بناتے ہیں، جبکہ مسافر کے لیے ہر مرحلہ ایک نیا خطرہ لے کر آ سکتا ہے۔
بعض نوجوان ایران اور ترکی کی جانب زمینی راستوں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ بعض شمالی افریقہ پہنچ کر اٹلی یا اسپین جانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ لیکن راستے کا نقشہ اور منزل کا وعدہ دو الگ چیزیں ہیں۔ کاغذ پر بنی ہوئی ایک لکیر آسان لگتی ہے، مگر حقیقت میں اس کے درمیان صحرا، پہاڑ، سرحدی نگرانی، بھوک، پیاس، گرفتاری اور تشدد کی بے شمار صورتیں حائل ہو سکتی ہیں۔
اس کاروبار کا سب سے خوف ناک چہرہ سمندر میں دکھائی دیتا ہے۔ چودہ جون 2023 کو یونان کے ساحل کے قریب پائلوس کے مقام پر ایک کشتی ڈوبی جس نے پاکستان سمیت کئی ممالک کے سیکڑوں خاندانوں کو سوگوار کر دیا۔ اس کشتی میں پاکستانی، شامی، مصری اور دوسرے ممالک کے مسافر موجود تھے۔ اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں اور مہاجرت سے متعلق اداروں کے مطابق کشتی میں سات سو پچاس تک افراد سوار ہونے کا اندازہ لگایا گیا، لیکن صرف ایک سو چار افراد کو زندہ بچایا جا سکا، بیاسی لاشیں ملیں اور سیکڑوں افراد لاپتا رہے۔ حادثے کے حالات اور امدادی کارروائیوں کے بارے میں سنگین سوالات بھی اٹھائے گئے۔
ذرا تصور کیجیے کہ ایک ایسی کشتی جس میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ انسان ٹھونس دیے گئے ہوں، کھلے سمندر میں بے قابو ہو جائے۔ چاروں طرف پانی ہو، اوپر تاریک آسمان اور نیچے سمندر کی بے رحم گہرائیاں۔ کوئی اپنے بھائی کو آواز دے رہا ہو، کوئی اپنے بچے کو سینے سے لگائے ہوئے ہو، کوئی کشتی کے کسی تختے کو پکڑ کر زندگی کی آخری امید تلاش کر رہا ہو۔ ان مسافروں میں سے ہر ایک کے پاس ایک کہانی تھی۔ کوئی ماں کا قرض اتارنا چاہتا تھا، کوئی بہن کی شادی کے لیے رقم کمانا چاہتا تھا، کوئی اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دینا چاہتا تھا۔ مگر سمندر نے ان سب کے خوابوں کو ایک ہی المیے میں تبدیل کر دیا۔ سب سے زیادہ دردناک صورتحال ان خاندانوں کی ہوتی ہے جنہیں نہ اپنے پیارے کی زندگی کی خبر ملتی ہے اور نہ موت کا یقین۔ وہ مہینوں ایک فون کال کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ کسی ماں کے لیے اس سے بڑا عذاب کیا ہوگا کہ وہ نہ بیٹے کی واپسی کی امید چھوڑ سکتی ہے، نہ اس کے لیے فاتحہ پڑھنے کا حوصلہ جمع کر پاتی ہے۔ اور یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا۔ دسمبر 2024 میں یونان کے قریب ایک اور کشتی حادثے میں پاکستانی مسافروں کے متاثر ہونے کی خبریں آئیں۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ابتدائی طور پر ایک پاکستانی کی موت اور سینتالیس کے بچائے جانے کی تصدیق کی تھی، جبکہ مزید افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی موجود تھیں۔
ایسے واقعات میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہر حادثے کے بعد کچھ دن خبریں چلتی ہیں، حکومتی بیانات جاری ہوتے ہیں، ایجنٹوں کے خلاف کارروائیوں کا اعلان ہوتا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہے اور اگلی کشتی روانہ ہونے کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ جولائی 2026 میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کے دستاویزات میں جون 2023 کے بعد سات بڑے کشتی سانحات میں کم از کم 335 پاکستانیوں کی ہلاکت کا ذکر تھا۔
یہ تعداد اپنے اندر صرف اعداد نہیں رکھتی بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے ٹوٹے ہوئے خواب بھی سموئے ہوئے ہے۔ انسانوں کو اعداد و شمار میں بدل دینا ہماری انتظامی مجبوری ہو سکتی ہے، لیکن ان کے دکھ کو اعداد تک محدود کر دینا ہماری اخلاقی ناکامی ہوگی۔ ہر مرنے والے کا ایک نام تھا، ایک گھر تھا، کچھ یادیں تھیں اور ایسے لوگ تھے جو اس کے واپس آنے کا انتظار کرتے تھے۔
سمندر کے علاوہ خشکی کے راستے بھی کم خطرناک نہیں۔ غیر قانونی سرحدی سفر کرنے والے افراد کئی مرتبہ ایسے علاقوں سے گزرتے ہیں جہاں مسلح گروہ، جرائم پیشہ نیٹ ورک اور سخت سرحدی نگرانی موجود ہوتی ہے۔ کچھ کو اغوا کرکے خاندانوں سے مزید رقم طلب کی جاتی ہے، بعض مارپیٹ اور جبری مشقت کا شکار ہوتے ہیں اور کچھ سرحدی تشدد یا مسلح جھڑپوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ہر واقعے کو کسی خاص سرحدی فورس سے منسوب کرنے سے پہلے آزادانہ تحقیق ضروری ہے، لیکن ایسے سفر کے دوران تشدد کا خطرہ حقیقی ہے۔ اکتوبر 2026 میں اقوامِ متحدہ کے اداروں کی ایک رپورٹ نے بتایا کہ یورپ پہنچنے والے بہت سے نابالغ پناہ گزین اور تارکینِ وطن راستے میں جسمانی تشدد، اغوا، اذیت اور جبری مشقت جیسے تجربات سے گزرے۔
بعض مسافروں کو بند گاڑیوں اور کنٹینروں میں اس طرح بھرا جاتا ہے کہ مناسب ہوا، پانی اور حرکت کی گنجائش تک باقی نہیں رہتی۔ دنیا کے مختلف غیر قانونی سفری راستوں پر بند ٹرکوں اور کنٹینروں میں دم گھٹنے یا شدید گرمی سے اموات کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ جس شخص نے بہتر زندگی کی تلاش میں گھر چھوڑا تھا، وہ کبھی ایک ایسی بند جگہ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے جہاں سامان پہنچانے کی سہولت تو موجود ہوتی ہے، مگر انسان کے سانس لینے کی ضمانت نہیں۔ اس سے زیادہ سفاک کاروباری منطق اور کیا ہوگی کہ مسافر کی حیثیت ایک زندہ انسان کے بجائے منتقل کیے جانے والے مال کی سی ہو جائے؟
بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار اس المیے کی وسعت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ عالمی ادارۂ مہاجرت کے مطابق 2025 میں دنیا بھر کے مہاجرتی راستوں پر کم از کم 7,667 افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے، یعنی اوسطاً روزانہ تقریباً اکیس انسان۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ہر حادثہ رپورٹ نہیں ہوتا اور بہت سے افراد کا سراغ کبھی نہیں مل پاتا۔
یہ اعداد صرف پاکستان کے نہیں بلکہ عالمی مہاجرت کے المیے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈنکی کا مسئلہ محض چند پاکستانی اضلاع یا چند ایجنٹوں تک محدود نہیں۔ یہ دنیا کے مختلف حصوں میں موجود معاشی عدم مساوات، مسلح تنازعات، انسانی عدم تحفظ، قانونی راستوں کی کمی اور جرائم پیشہ نیٹ ورک کے باہمی تعلق سے پیدا ہونے والا مسئلہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا نے سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے، لیکن انسانوں کو محفوظ اور باقاعدہ طریقے سے نقل مکانی کے مواقع فراہم کرنے میں اب بھی بہت سی مشکلات موجود ہیں۔ بلاشبہ ہر ملک کو اپنی سرحدوں، امیگریشن قوانین اور قومی سلامتی کے تحفظ کا حق حاصل ہے، مگر اس حق کے ساتھ انسانی زندگی کی حفاظت اور بنیادی حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال ہمارے اپنے حکمرانوں، پالیسی سازوں اور معاشرتی رہنماؤں کے سامنے آتا ہے۔ آخر پاکستان کے نوجوان اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے پر کیوں آمادہ ہو جاتے ہیں؟ کیا وہ محض عیش و آرام کے خواہش مند ہیں؟ کیا انہیں اپنے وطن سے محبت نہیں؟ یا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کے فیصلوں کے پیچھے مختلف محرکات کارفرما ہوتے ہیں۔ کسی کو بے روزگاری پریشان کرتی ہے، کسی کو معاشی غیر یقینی، کسی کو محدود پیشہ ورانہ مواقع اور کسی کو اپنے خاندان کی بڑھتی ہوئی ضروریات۔ بعض افراد بیرونِ ملک رہنے والے رشتہ داروں کی کامیابی سے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ بعض معاشرتی مقابلے اور دکھاوے کی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ ہر شخص جو بیرونِ ملک بہتر زندگی تلاش کرنا چاہتا ہے، اپنے وطن سے بے وفا نہیں ہوتا۔ انسان صدیوں سے بہتر مواقع، سلامتی اور معاشی تحفظ کی تلاش میں ہجرت کرتا آیا ہے۔ خود ہماری تہذیب اور تاریخ میں نقل مکانی، تجارت، تعلیم اور روزگار کے لیے سفر کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ مسئلہ ہجرت نہیں، بلکہ وہ خطرناک اور غیر قانونی راستے ہیں جن پر انسان کو دھوکے، مجبوری یا غیر حقیقی توقعات کے ذریعے ڈال دیا جاتا ہے۔
اس صورتحال میں والدین اور خاندانوں کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ کئی مرتبہ نوجوان کی خواہش کو گھر والے اپنی معاشی مشکلات کے حل کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔ کسی کو امید ہوتی ہے کہ بیٹا یورپ پہنچ کر گھر بنوائے گا، کسی کو یقین ہوتا ہے کہ خاندان کے قرض اتر جائیں گے اور کسی کے خیال میں ایک فرد کی کامیابی پورے خاندان کا مستقبل تبدیل کر دے گی۔ امید رکھنا کوئی جرم نہیں، مگر جب امید حقیقت سے بے نیاز ہو جائے تو خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ ایجنٹ اسی خلا میں داخل ہوتا ہے۔ وہ خاندان کو کامیابی کے ایسے خواب دکھاتا ہے جن میں ناکامی کا امکان سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔ لوگ کبھی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پھر جب رابطہ منقطع ہو جاتا ہے تو گھر والے ایجنٹ کے دفتر، تھانے، سرکاری محکموں اور سفارت خانوں کے چکر لگانے لگتے ہیں۔ بعض ایجنٹ روپوش ہو جاتے ہیں، بعض نئے نام سے کاروبار شروع کر دیتے ہیں اور بعض کے خلاف کارروائیاں قانونی پیچیدگیوں میں الجھ جاتی ہیں۔ مسئلے کا حل صرف چند گرفتاریاں نہیں بلکہ ایسے نیٹ ورک کی مالی، انتظامی اور سماجی بنیادوں تک پہنچنا ہے۔ اس کے ساتھ نوجوانوں کو قانونی تعلیم، روزگار اور ہجرت کے قابلِ اعتماد راستوں کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ کوئی شخص صرف لاعلمی کی وجہ سے اپنی جان داؤ پر نہ لگا دے۔ میرا سویڈن والا روم میٹ اگر آج سامنے آ جائے تو شاید میں اس سے کئی سوالات پوچھوں۔ کیا وہ واقعی اسپین پہنچ گیا تھا؟ کیا اسے وہاں قانونی رہائش مل گئی؟ کیا اس نے تعلیم مکمل کی؟ کیا وہ اپنے خوابوں کی زندگی گزار رہا ہے؟ یا برسوں کی بے یقینی اور عارضی کاموں نے اسے تھکا دیا؟ مجھے اس کی بعد کی زندگی کا علم نہیں، اس لیے اس کی کہانی کو کامیابی یا ناکامی کی قطعی مثال بنانا درست نہیں ہوگا۔ لیکن اس واقعے نے مجھے ایک بات ضرور سکھائی تھی کہ بعض اوقات انسان کی منزل اور اس کے سفر کا اعلان ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی کا داخلہ تعلیم کے لیے لیا گیا تھا، مگر اصل مقصد کسی دوسرے ملک تک پہنچنا تھا۔ اس میں ایک طنزیہ پہلو ضرور تھا، لیکن آج میں اسے صرف مزاحیہ واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کر سکتا۔ وہ زمانہ اور تھا جب ایسے قصے سن کر ہم پاکستانیوں کی غیر معمولی چالاکی اور ایجنٹوں کی پہنچ پر ہنس دیتے تھے۔ اب اسی ثقافت کا زیادہ خوف ناک چہرہ ہمارے سامنے ہے۔ اب ایجنٹ صرف مسافر کو منزل تک پہنچانے والا کردار نہیں رہا بلکہ بعض اوقات اس کے ہاتھوں انسان کی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیلا جاتا ہے۔
اب آخر میں ایک مرتبہ پھر اسی چاند والے لطیفے کی طرف لوٹتے ہیں۔ نیل آرمسٹرانگ نے چادر اوڑھے ہوئے شخص سے پوچھا تھا، ’’تم یہاں کیسے پہنچے؟‘‘ اور اس نے اطمینان سے جواب دیا تھا، ’’ایجنٹ چھوڑ گیا تھا۔‘‘ اس لطیفے میں پاکستانی مزاح کی ساری خوبیاں موجود تھیں: برجستگی، مبالغہ، غیر متوقع انجام اور اپنی قوم کی عادات پر ایک بے ضرر چوٹ۔ مگر وقت نے اس کی معنویت بدل دی ہے۔ آج سوچتا ہوں کہ اگر وہی شخص چاند کے بجائے کسی سرحد کے قریب بے ہوش پڑا ملتا، کسی کنٹینر میں دم گھٹنے سے مر جاتا یا کسی ڈوبتی کشتی میں آخری سانس لے رہا ہوتا تو کیا ہم پھر بھی اس لطیفے پر اسی طرح ہنس سکتے تھے؟ شاید نہیں۔ اور شاید ہنسنا بھی نہیں چاہیے۔ قوموں کی زندگی میں بعض لطیفے ایک مرحلے پر آ کر اجتماعی المیے کا عنوان بن جاتے ہیں۔ ڈنکی کلچر بھی اب محض غیر قانونی سفر کا نام نہیں رہا۔ یہ ہمارے نوجوانوں کی بے چینی، خاندانوں کی توقعات، معاشی مشکلات، سماجی نمود و نمائش اور انسانی اسمگلروں کی بے رحمی کا مجموعہ بن چکا ہے۔ ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہوگا جہاں نوجوان کو بہتر مستقبل کے لیے سفر کرنے کا حق بھی حاصل ہو اور اسے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کی ضرورت بھی پیش نہ آئے۔ جہاں بیرونِ ملک جانا ایک باعزت انتخاب ہو، مایوسی سے پیدا ہونے والی مجبوری نہیں۔ جہاں تعلیم، ہنر، تحقیق اور محنت کے ذریعے آگے بڑھنے کے امکانات موجود ہوں۔ اور جہاں کسی ماں کو اپنے بیٹے کی کامیابی کی خبر کے بجائے سمندر سے اس کی لاش آنے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ |
|