|
علامہ اقبال ؒکا مکتوب بنام تھامسن: ایک جملے کے شکوک اور علامہ اقبال کی سیاسی فکر کی اصل حقیقت 1930ئ کے خطبہ الٰہ آباد سے 1937ئ کے خطوطِ جناح تک: اصل دستاویزات کی روشنی میں تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا تمہید: ایک خط، ایک جملہ اور تاریخ کا بڑا سوال علامہ محمد اقبال کے پروفیسر ایڈورڈ جان تھامسن کے نام 4 مارچ 1934ئ کے خط کا ایک جملہ اکثر اس بحث کا مرکز بن جاتا ہے: ’’پاکستان میری اسکیم نہیں ہے۔‘‘اس جملے کو بعض اوقات اس نتیجے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ علامہ اقبال تصورِ پاکستان کے حامی نہیں تھے۔ اس کے برعکس، بعض لوگ اس خط کے الفاظ کو نظرانداز کرکے علامہ اقبال کے تاریخی کردار کا دفاع کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں طریقے تاریخی مطالعے کے لیے ناکافی ہیں۔ کسی مفکر کے سیاسی نظریے کو سمجھنے کے لیے اس کے ایک جملے کے ساتھ اس کے دوسرے بیانات، خطوط اور تاریخی حالات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں علامہ اقبال کے 1930ئ کے خطبہ الٰہ آباد، تھامسن کے نام 1934ئ کے خط اور قائداعظم محمد علی جناح کے نام 1936ئ اور 1937ئ کے خطوط کو ایک مربوط تاریخی تناظر میں پڑھنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ علامہ اقبال کے مکاتیب بنام محمد علی جناح کامجموعہ اس بحث کے لیے بنیادی مآخذ فراہم کرتا ہے۔ ان خطوط میں علامہ اقبال مسلم لیگ کی تنظیم، مسلمانوں کی سیاسی حیثیت، معاشی مسائل، ثقافتی شناخت اور مسلم اکثریتی صوبوں کی آئینی تنظیم کے بارے میں اپنے خیالات بیان کرتے ہیں (مکاتیبِ اقبال، جلد چہارم از سید مظفر حسین برنی)۔ 1934ئ کا خط: علامہ اقبال نے کس اسکیم سے اختلاف کیا؟ 4 مارچ 1934ئ کے خط میں علامہ اقبال نے اپنی سیاسی تجویز اور اُس وقت زیرِ بحث پاکستان اسکیم کے درمیان فرق واضح کیا تھا۔ ان کا اعتراض اس نسبت پر تھا کہ انہیں اس مخصوص اسکیم کا مصنف یا علم بردار قرار دیا جا رہا تھا۔اس خط کا مطالعہ کرتے ہوئے دو باتوں کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ علامہ اقبال نے اپنی تجویز اور دوسری اسکیم کے درمیان آئینی فرق بیان کیا۔ دوسری یہ کہ اس فرق سے ان کے تمام سیاسی تصورات کی نفی اخذ نہیں کی جا سکتی۔اس نکتے کی مزید وضاحت علامہ اقبال کے بعد کے خطوط سے ہوتی ہے۔ اگر وہ 1934ئ کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں کی سیاسی تنظیم کے سوال سے دست بردار ہو چکے ہوتے تو 1937ئ میں قائداعظم کو ان کی جانب سے مسلم اکثریتی صوبوں کی جداگانہ وفاقی تنظیم اور حقِ خودارادیت کی حمایت کو سمجھنا مشکل ہو جاتا۔اس لیے 1934ئ کے خط کا درست مطالعہ اس کے اصل سیاق میں ہونا چاہیے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ علامہ اقبال ایک مخصوص آئینی منصوبے کو اپنی تجویز قرار دیے جانے کی تصحیح کر رہے تھے؛ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے سوال کو غیر اہم سمجھا تھا۔
خطبہ الٰہ آباد 1930ئ: مسلم سیاسی وحدت کا واضح تصور 29 دسمبر 1930ئ کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاسِ الٰہ آباد میں علامہ اقبال نے پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبے، سندھ اور بلوچستان کو ایک سیاسی وحدت میں مجتمع کرنے کی تجویز پیش کی۔ ان کے الفاظ تھے: India is a continent of human groups belonging to different races, speaking different languages, and professing different religions [...] Personally, I would like to see the Punjab, North-West Frontier Province, Sindh and Baluchistan amalgamated into a single State. Self-government within the British Empire, or without the British Empire, the formation of a consolidated North-West Indian Muslim State appears to me to be the final destiny of the Muslims, at least of North-West India. اس خطاب سے واضح ہوتا ہے کہ علامہ اقبال مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کو محض مذہبی یا ثقافتی مسئلہ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک مسلم اکثریتی علاقوں کی جغرافیائی تنظیم، سیاسی اختیار اور آئینی حیثیت بھی بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔یہاں اس بات کا ادراک بھی ضروری ہے کہ 1930ئ کے خطبے میں 1947ئ کے پاکستان کا مکمل آئینی نقشہ حتمی طور پر موجودنہیں تھا،تاہم اس کے ابتدائی خد وخال بہرحال موجود تھے اور انہی کی بنیاد پر بعد ازاں پاکستان کی تشکیل ہوئی۔ تاریخی شواہد سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اس لیے علامہ اقبال کی تجویز، بعد کی سیاسی جدوجہد اور پاکستان کی عملی تشکیل میں تاریخی مراحل کا فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔یہی علمی توازن علامہ اقبال کے مقام کو زیادہ معتبر انداز میں سامنے لاتا ہے: ان کا تصور مسلم سیاسی وحدت کے سوال پر ایک اہم فکری بنیاد تھا، جب کہ اس تصور کی سیاسی صورت وقت کے ساتھ تبدیل ہونے والے حالات اور جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھی۔ 20 مارچ 1937ئ کا خط: مسلم سیاسی تنظیم اور اجتماعی مستقبل علامہ اقبال کے 20 مارچ 1937ئ کے خط میں مسلم سیاسی تنظیم کے بارے میں ان کی تشویش واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ قائداعظم کو لکھتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کے لیے ان کی مکمل تنظیم ضروری ہے۔ اسی خط میں وہ ایک آل انڈیا مسلم کنونشن بلانے کی تجویز دیتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے سیاسی مقاصد کو واضح طور پر پیش کیا جا سکے۔علامہ اقبال لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے نقطہ نظر سے ثقافتی مسئلہ معاشی مسئلے سے کم اہم نہیں، بلکہ بیشتر مسلمانوں کے لیے اس کی اہمیت زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ملک میں ایک جداگانہ سیاسی وحدت کے طور پر اپنے مقاصد واضح کرنے چاہییں ۔ (مکاتیبِ اقبال، جلد چہارم از سید مظفر حسین برنی)۔ یہ خط اس بات کا ثبوت ہے کہ علامہ اقبال کے نزدیک مسلم سیاست محض اقتدار کی تقسیم کا سوال نہیں تھی۔ اس میں ثقافتی شناخت، اجتماعی تنظیم اور مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں ایک واضح سیاسی پروگرام کی ضرورت بھی شامل تھی۔علامہ اقبال کی یہ تشویش کہ مسلمان ایک مؤثر سیاسی تنظیم کے بغیر اپنے اجتماعی مفادات کا تحفظ نہیں کر سکیں گے، ان کی سیاسی فکر کے بنیادی عناصر میں سے ایک تھی۔ 28 مئی 1937ئ کا خط: معاشی انصاف اور اسلامی قانون 28 مئی 1937ئ کے خط میں علامہ اقبال مسلم لیگ کے سامنے ایک اہم سوال رکھتے ہیں: کیا لیگ صرف بالائی طبقوں کی نمائندہ تنظیم رہے گی یا عام مسلمانوں کے مسائل بھی حل کرے گی؟علامہ اقبال لکھتے ہیں کہ ایسی سیاسی تنظیم جو عام مسلمان کی حالت بہتر بنانے کی امید نہ دے، عوام کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتی۔ وہ غربت اور معاشی محرومی کو مسلم سیاست کا ایک بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔اسی خط میں علامہ اقبال لکھتے ہیں: "The problem of bread is becoming more and more acute" ’’یعنی روٹی اور معاش کے مسئلے کی شدت بڑھتی جا رہی ہے‘‘۔ علامہ اقبال مزید کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک اسلامی قانون کو درست طور پر سمجھنے اور جدید تقاضوں کے مطابق اس کی ترقی کے ذریعے معاشی مسئلے کے حل کی راہ تلاش کی جا سکتی ہے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس نظام کے نفاذ اور ارتقا کے لیے آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کی ضرورت ہے (مکاتیبِ اقبال، جلد چہارم از سید مظفر حسین برنی)۔ یہاں علامہ اقبال کا تصورِ ریاست محض جغرافیائی تقسیم تک محدود نہیں رہتا۔ ان کے نزدیک سیاسی اختیار کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ مسلمانوں کو معاشی انصاف، سماجی بہتری اور اپنے قانونی و تہذیبی اصولوں کے مطابق اجتماعی زندگی کی تشکیل کا موقع مل سکے۔ اس خط سے علامہ اقبال کی سیاسی فکر کا ایک مثبت اور اہم پہلو سامنے آتا ہے: وہ ریاست کو محض شناخت کی علامت نہیں، بلکہ اجتماعی مسائل کے حل اور عام انسان کی معاشی حالت بہتر بنانے کا ذریعہ بھی سمجھتے تھے۔ 21 جون 1937ئ کا خط: مسلم اکثریتی صوبوں کی جداگانہ وفاقی تنظیم علامہ اقبال کے 21 جون 1937ئ کے خط کو اس پوری بحث میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس خط میں وہ ہندوستان کے واحد وفاقی نظام پر اپنے تحفظات بیان کرتے ہیں اور مسلم اکثریتی صوبوں کی جداگانہ وفاقی تنظیم کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: "A separate federation of Muslim provinces reformed on the lines I have suggested above, is the only course by which we can secure a peaceful India and save Muslims from the domination of non-Muslims". یعنی ان کے نزدیک مسلم صوبوں کی جداگانہ وفاقی تنظیم ایک پُرامن ہندوستان اور مسلمانوں کو غیر مسلم اکثریت کے غلبے سے محفوظ رکھنے کا راستہ تھی۔اسی خط میں علامہ اقبال سوال اٹھاتے ہیں: “Why should not the Muslims of North-West India and Bengal be considered as nations entitled to Self-determination?” Why should not the Muslims of North -West India and Bengal be considered as nation entitled to Self-determination just as other nation as in India and outside India are? یعنی شمال مغربی ہندوستان اور بنگال کے مسلمانوں کو حقِ خودارادیت کی مستحق قوموں کے طور پر کیوں نہ تسلیم کیا جائے؟(مکاتیبِ اقبال، جلد چہارم از سید مظفر حسین برنی)۔ یہ اقتباسات علامہ اقبال کے سیاسی تصور کے اس مرحلے کو نمایاں کرتے ہیں جب وہ مسلم اکثریتی صوبوں کی جداگانہ وفاقی تنظیم اور حقِ خودارادیت کو ہندوستان کے آئینی مسئلے کے حل کے لیے اہم سمجھ رہے تھے۔ اس خط کو 1934ئ کے خط کے ساتھ پڑھنے سے ایک اہم تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے۔ 1934ئ میں علامہ اقبال نے ایک مخصوص پاکستان اسکیم سے اپنی نسبت کی تردید کی، جب کہ 1937ئ میں انہوں نے مسلم اکثریتی صوبوں کی جداگانہ وفاقی تنظیم اور خودارادیت کی حمایت کی۔ دونوں بیانات کو ایک دوسرے کی نفی سمجھنے کے بجائے ان کے آئینی سیاق اور تاریخی مراحل کو سمجھنا ضروری ہے۔یہ خط علامہ اقبال کی سیاسی فکر کے بارے میں کسی ایک جملے سے زیادہ جامع شہادت فراہم کرتا ہے۔ 11 اگست 1937ئ کا خط: مسلم لیگ اور عوامی رابطہ علامہ اقبال نے 11 اگست 1937ئ کے خط میں قائداعظم کو مشورہ دیا کہ مسلم لیگ اپنی سرگرمیوں کو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کی تنظیم پر مرکوز کرے۔ انہوں نے لاہور میں مسلم لیگ کا اجلاس منعقد کرنے کی تجویز بھی دہرائی اور امید ظاہر کی کہ اس سے پنجاب میں لیگ کی مقبولیت اور عوامی رابطے کو فروغ ملے گا (مکاتیبِ اقبال، جلد چہارم از سید مظفر حسین برنی)۔ اس خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ علامہ اقبال مسلم لیگ کو محض اشرافیہ کی سیاسی جماعت کے طور پر برقرار رکھنے کے بجائے اسے عوام تک پہنچانے کے خواہاں تھے۔ ان کی نظر میں سیاسی مطالبات کی کامیابی کے لیے تنظیم، عوامی شرکت اور مسلم اکثریتی علاقوں میں سیاسی شعور کی بیداری ضروری تھی۔یہ پہلو بھی علامہ اقبال کے تاریخی کردار کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ وہ صرف سیاسی تصورات پیش نہیں کر رہے تھے؛ وہ ان تصورات کو منظم سیاسی عمل اور عوامی رابطے سے جوڑنے کی ضرورت بھی محسوس کرتے تھے۔ 30 اکتوبر 1937ئ کا خط: مسلم حکومتوں کے قیام کا مطالبہ 30 اکتوبر 1937ئ کے خط میں علامہ اقبال مسلم لیگ کی تنظیمی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے پر زور دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ تنظیم کا کام زیادہ شدت سے جاری رہنا چاہیے، یہاں تک کہ پانچ صوبوں میں مسلم حکومتیں قائم ہوں اور بلوچستان میں اصلاحات دی جائیں(مکاتیبِ اقبال، جلد چہارم از سید مظفر حسین برنی)۔ اس بیان کو اس دور کے صوبائی آئینی نظام اور مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کے تناظر میں پڑھنا چاہیے۔ یہ خط اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علامہ اقبال مسلم اکثریتی علاقوں میں سیاسی اختیار اور مسلم لیگ کی عملی قوت کو بڑھانے کے خواہاں تھے۔اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ان کی سیاسی سرگرمی کسی ایک نظریاتی بیان تک محدود نہیں تھی؛ وہ تنظیمی حکمتِ عملی، صوبائی سیاست اور مسلم عوام کی سیاسی شرکت کے معاملات میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ قائداعظم کے ساتھ خط و کتابت: علامہ اقبال کے کردار کی اہم شہادت 1936ئ اور 1937ئ کے خطوط میں علامہ اقبال بار بار قائداعظم سے رابطہ کرتے، مسلم لیگ کی تنظیم کے بارے میں تجاویز دیتے اور مسلم سیاسی مستقبل کے مسائل پر اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ان خطوط میں ان کی توجہ تین بنیادی امور پر مرکوز نظر آتی ہے: 1. مسلمانوں کی ایک مؤثر اور متحد سیاسی تنظیم۔ 2. مسلم اکثریتی علاقوں میں سیاسی اختیار اور آئینی تحفظ۔ 3. معاشی محرومی، ثقافتی شناخت اور عام مسلمانوں کے مسائل کا حل۔ ان خطوط کی روشنی میں علامہ اقبال کے کردار کو محض ایک شاعر یا فلسفی کے طور پر محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وہ مسلم سیاسی مستقبل کے بارے میں سوچنے والے ایک ایسے مفکر بھی تھے جو اپنے نظریات کو عملی سیاست، تنظیمی اصلاحات اور عوامی مسائل سے جوڑنا چاہتے تھے۔تاہم ان خطوط کو پڑھتے ہوئے یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ علامہ اقبال کی تجاویز کو بعد میں ہونے والے تمام سیاسی فیصلوں کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کردار تحریکِ پاکستان کی فکری تاریخ میں بنیادی تھا، لیکن پاکستان کا قیام ایک وسیع سیاسی عمل کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ کیا علامہ اقبال کو تحریکِ پاکستان کا فکری معمار کہنا درست ہے؟ اگر فکری معمار سے مراد وہ مفکر ہے جس نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل، مسلم اکثریتی علاقوں کی تنظیم اور حقِ خودارادیت کے سوال کو نمایاں فکری صورت دی، تو علامہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد اور 1937ئ کے خطوط اس کردار کی مضبوط شہادت فراہم کرتے ہیں۔علامہ اقبال کی اہمیت اس بات میں ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے سوال کو ایک مؤثر فکری اور آئینی شکل دی۔ قائداعظم نے مسلم لیگ کی قیادت میں اس سوال کو بعد کے سیاسی حالات میں ایک منظم سیاسی تحریک کے ذریعے آگے بڑھایا۔ دونوں رہنماؤں کے کرداروں میں فرق کو تسلیم کرنا کسی کی اہمیت کم نہیں کرتا؛ بلکہ تحریکِ پاکستان کی تاریخ کو زیادہ واضح اور معتبر بناتا ہے۔ پس علامہ علامہ اقبال کے تھامسن کے نام خط سے پیدا ہونے والے شکوک کا جواب کسی جملے کو چھپانے یا اس کے الفاظ سے انکار کرنے میں نہیں، بلکہ اس کے اصل تاریخی مفہوم کو واضح کرنے میں ہے۔4 مارچ 1934ئ کے خط میں علامہ اقبال نے اپنی تجویز اور ایک مخصوص پاکستان اسکیم کے درمیان فرق کیا۔ ان کے 1930ئ کے خطبہ الٰہ آباد میں مسلم اکثریتی علاقوں کی سیاسی وحدت کا تصور موجود ہے۔ پھر 1937ئ میں قائداعظم کے نام خطوط میں علامہ اقبال مسلم اکثریتی صوبوں کی جداگانہ وفاقی تنظیم، حقِ خودارادیت، معاشی انصاف اور مسلم لیگ کی عوامی تنظیم پر زور دیتے ہیں۔ یہ دستاویزات مل کر ایک زیادہ جامع تاریخی تصویر پیش کرتی ہیں۔ ان سے علامہ اقبال کے سیاسی تصورات کے مختلف مراحل سامنے آتے ہیں، اور یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی فکر کو ایک جملے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ اقبال کی عظمت کا حقیقی دفاع ان کے الفاظ کو تاریخی سیاق میں پڑھنے، ان کے نظریات کے ارتقا کو سمجھنے اور ان کی تجاویز کی اصل نوعیت کو تسلیم کرنے میں ہے۔ ان کے خطبہ الٰہ آباد اور قائداعظم کے نام خطوط سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کا سوال ان کی فکر کا ایک بنیادی موضوع تھا۔تاریخ کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم ہر اختلاف کو مٹا دیں، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کو سمجھیں، شواہد کو سامنے رکھیں اور عوام کو اصل دستاویزات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کا موقع دیں۔ یہی علامہ اقبال کے علمی مقام اور تحریکِ پاکستان کی تاریخ، دونوں کے ساتھ انصاف کا راستہ ہے۔
|