علمی و ادبی،اور تنقیدی مضمون روزنامہ نیو اسٹیٹ رپورٹر: عصرِ حاضر کی صحافت میں ایک روشن مثال شاہد رشید کی ادارت، صحافتی بصیرت اور سماجی ذمہ داری کا اعتراف تحریر

علمی و ادبی،اور تنقیدی مضمون
روزنامہ نیو اسٹیٹ رپورٹر: عصرِ حاضر کی صحافت میں ایک روشن مثال
شاہد رشید کی ادارت، صحافتی بصیرت اور سماجی ذمہ داری کا اعتراف
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی -آسٹریلیا
صحافت محض واقعات کی خبر دینے، حادثات کی تفصیلات شائع کرنے یا روزمرہ کی سیاسی سرگرمیوں کو صفحات پر منتقل کرنے کا نام نہیں؛ یہ عہد کی نبض پر ہاتھ رکھنے، معاشرے کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے، حقائق کی روشنی میں رائے عامہ کی تشکیل کرنے اور انسانی زندگی کے مختلف گوشوں میں جنم لینے والے سوالات کو زبان عطا کرنے کا ایک ذمہ دارانہ عمل ہے۔ ایک معیاری اخبار اپنے عہد کی تاریخ بھی ہوتا ہے، معاشرے کا آئینہ بھی، عوام کی آواز بھی اور مستقبل کے لیے محفوظ کیا جانے والا ایک اہم دستاویزی سرمایہ بھی۔ اسی تناظر میں روزنامہ نیو اسٹیٹ رپورٹر کی صحافتی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو اس ادارے کی اہمیت محض ایک مطبوعہ اخبار کی حیثیت سے نہیں، بلکہ صحافتی روایت، فکری مکالمے اور معاشرتی آگہی کے وسیع تر تناظر میں سمجھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
روزنامہ نیو اسٹیٹ رپورٹر کے مدیرِ محترم شاہد رشید کی صحافتی خدمات کا اعتراف بھی اسی فکری پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ کسی اخبار کی شناخت صرف اس کے نام، صفحات کی تعداد یا شائع ہونے والی خبروں سے متعین نہیں ہوتی؛ اس کی اصل پہچان اس کے ادارتی مزاج، ترجیحات، زبان و بیان، موضوعات کے انتخاب اور اپنے قارئین کے ساتھ قائم ہونے والے اعتماد سے بنتی ہے۔ ادارت دراصل ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں خبر کی اہمیت پہچاننا، مختلف آرا کے درمیان توازن قائم کرنا، زبان کی تہذیب برقرار رکھنا اور معاشرتی مسائل کو سنجیدہ مکالمے کا حصہ بنانا شامل ہے۔
اس لیے شاہد رشید کی ادارت کا اعتراف صرف ایک فرد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا نہیں، بلکہ اس صحافتی عمل کی قدر شناسی بھی ہے جس کے ذریعے ایک اخبار اپنی شناخت قائم کرتا اور اپنے قارئین کے ساتھ ایک فکری و اخلاقی رشتہ استوار کرتا ہے۔
صحافت: خبر سے آگے، شعور کی تشکیل تک
انسانی تہذیب کی تاریخ میں ابلاغ نے ہمیشہ غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ جب معاشرے زبانی روایت سے تحریر، مطبوعہ کتاب اور اخبار تک پہنچے تو علم و خبر کی ترسیل نے ایک نئی صورت اختیار کی۔ اخبار نے عام آدمی کو اپنے گردوپیش سے باخبر کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اجتماعی معاملات پر غور کرنے، حکمرانوں سے سوال کرنے، سماجی ناانصافیوں کو پہچاننے اور اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہونے کا موقع فراہم کیا۔
صحافت ایک اجتماعی اثاثہ اور عوامی بھلائی کا ذریعہ ہے۔جدید صحافت کی یہی بنیادی حیثیت ہے جسے یونیسکو نے اپنی رپورٹ میں اجاگر کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق آزاد، قابلِ اعتماد اور حقائق پر مبنی صحافت ایک عوامی مفاد کی خدمت ہے، جو شہریوں کو مستند معلومات فراہم کرنے اور طاقت ور اداروں و افراد کو جواب دہ بنانے میں کردار ادا کرتی ہے (UNESCO, 2022)۔
یہ اصول ہر اس اخبار کے لیے ایک بنیادی پیمانہ فراہم کرتا ہے جو اپنے آپ کو عوامی خدمت اور ذمہ دارانہ صحافت سے وابستہ سمجھتا ہے۔ روزنامہ نیو اسٹیٹ رپورٹر کی خدمات کو بھی اسی معیار کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے کہ اخبار کس حد تک قارئین کو باخبر کرنے، مسائل کو نمایاں کرنے، مختلف نقطہ ہائے نظر کے لیے جگہ پیدا کرنے اور معاشرتی شعور کو وسعت دینے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
ایک زندہ اخبار وہ نہیں جو صرف روزانہ شائع ہو؛ زندہ اخبار وہ ہے جو اپنے عہد کے زندہ سوالات سے رشتہ قائم رکھے۔ وہ معاشرے کی خوشیوں، کامیابیوں اور امیدوں کو بھی جگہ دے اور اس کے مسائل، محرومیوں اور تضادات کو بھی نظرانداز نہ کرے۔ اس کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ قارئین اسے محض خبر حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھیں، بلکہ اپنے عہد کو سمجھنے اور اس کی تعبیر کرنے کا ایک معتبر وسیلہ بھی تصور کریں۔
شاہد رشید: صحافتی استقامت اور پیشہ ورانہ ذمہ دار
کسی مدیر کی صحافتی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کے عہد کے حالات، صحافت کو درپیش مشکلات اور خبر رسانی کے ماحول کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصاً کشمیر جیسے خطے میں صحافت کی تاریخ محض اخبارات، مدیران اور خبروں کی تاریخ نہیں، بلکہ ایسے صحافیوں کی جدوجہد کی تاریخ بھی ہے جنہیں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران غیر معمولی خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔
شاہد رشید کی صحافتی زندگی کے حوالے سے ایک اہم تاریخی پہلو یہ بھی ہے کہ ان کا نام کشمیر میں صحافیوں کو درپیش خطرات سے متعلق تاریخی ریکارڈ میں موجود ہے ۔ چنانچہ تاریخی اعتبار سے ان پر کیے جانے والے حملے بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ یہ تاریخی حوالے ایک ایسے ماحول کی نشان دہی کرتے ہیں جس میں صحافت محض قلمی سرگرمی نہیں رہتی بلکہ اس کے ساتھ ذاتی سلامتی، آزادیِ اظہار اور پیشہ ورانہ استقلال کے سوالات بھی وابستہ ہو جاتے ہیں۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی صحافی پر حملے کا واقعہ بذاتِ خود اس کی ہر صحافتی رائے یا ادارتی فیصلے کی صحت کا ثبوت نہیں ہوتا؛ البتہ ایسا واقعہ صحافیوں کی سلامتی اور آزادانہ صحافت کے تحفظ کی اہمیت کو ضرور نمایاں کرتا ہے۔ شاہد رشید کی خدمات کا منصفانہ اعتراف اسی متوازن نقطۂ نظر کا تقاضا کرتا ہے کہ ان کی صحافتی وابستگی، ادارت اور ادارے کی تاریخ کو دستاویزی شواہد کی روشنی میں دیکھا جائے۔
یونیسکو کے مطابق صحافیوں کی سلامتی آزاد صحافت اور آزادیِ اظہار کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ صحافیوں کو خوف، تشدد اور دھمکیوں سے محفوظ ماحول فراہم کرنا اس لیے ضروری ہے کہ معاشرہ مستند معلومات تک رسائی اور عوامی مفاد کے معاملات پر آزادانہ مکالمے سے محروم نہ ہو۔ اس تناظر میں شاہد رشید کا نام ایک ایسے صحافتی عہد کے مطالعے میں اہمیت رکھتا ہے جس میں خبر کی اشاعت کے ساتھ خبر نگار اور مدیر کی سلامتی کا مسئلہ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
روزنامہ نیو اسٹیٹ رپورٹر اور اردو صحافت کی روایت
اردو صحافت برصغیر کی علمی، ادبی، تہذیبی اور سیاسی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس نے زبان و ادب کی ترویج کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کی ترجمانی، سماجی اصلاح، سیاسی شعور کی بیداری اور مختلف طبقات کے درمیان مکالمے کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ اردو اخبار کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ خبر کے ساتھ زبان کی تہذیب، اسلوب کی شائستگی اور معاشرتی احساس کو بھی اپنے دامن میں سمیٹ سکتا ہے۔
بایں ہمہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ
علاقائی اور مقامی اخبارات کی اہمیت کو صرف ان کی اشاعت کے حجم سے نہیں ناپا جا سکتا۔ کئی مرتبہ یہی اخبار ان مسائل کی آواز بنتے ہیں جو بڑے ذرائع ابلاغ کی توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ مقامی آبادی کی مشکلات، تعلیمی ضروریات، شہری سہولتوں، ثقافتی سرگرمیوں اور معاشرتی تبدیلیوں کا ریکارڈ آنے والی نسلوں کے لیے انہی اخبارات میں محفوظ ہوتا ہے۔
یونیسکو کی عالمی میڈیا رپورٹ بھی اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ مقامی خبروں کے ذرائع کمزور پڑنے سے شہریوں کی قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی اور معاشرتی شرکت متاثر ہو سکتی ہے (UNESCO, 2022)۔
لہٰذا نیو اسٹیٹ رپورٹر جیسے علاقائی صحافتی اداروں کی تاریخ محفوظ کرنا، ان کے پرانے شماروں کو ڈیجیٹل صورت میں مرتب کرنا اور ان کی اداراتی روایت کا علمی مطالعہ کرنا محض ماضی کی یاد تازہ کرنے کا عمل نہیں؛ یہ صحافت کی تاریخ کو محفوظ رکھنے کی ایک اہم علمی ضرورت بھی ہے۔
شاہد رشید کی ادارت: ایک ستائشی مطالعے کے معیارات
شاہد رشید کی ادارت کا اعتراف اس لیے بھی ضروری ہے کہ مدیر اخبار کی فکری سمت متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ خبر کی ترجیح، عنوان کی تشکیل، زبان کا انتخاب، مختلف آرا کی نمائندگی اور ادارتی تبصرے کا زاویہ اسی ادارتی عمل کے اجزا ہیں۔ چنانچہ ایک اچھا مدیر خبر اور افواہ کے درمیان فرق قائم رکھتا ہے۔ وہ جذباتی ردعمل کے بجائے تحقیق، تصدیق اور سیاق و سباق کو اہمیت دیتا ہے۔ وہ اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے بچاتا ہے اور اپنی تحریر کے ذریعے قارئین کو محض کسی نتیجے تک پہنچانے کے بجائے سوچنے، سوال کرنے اور دلیل کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔
شاہد رشید کے لیے خراجِ تحسین کا بہترین اسلوب یہی ہے کہ ان کی صحافتی خدمات کو ان اصولوں کی روشنی میں سمجھا جائے اور ان کے ادارتی سفر کے مستند شواہد کو محفوظ کیا جائے۔ ایک حقیقی ستائش وہی ہوتی ہے جس کی بنیاد محض جذباتی وابستگی پر نہ ہو بلکہ تاریخی حقائق، پیشہ ورانہ اقدار اور قابلِ تصدیق خدمات پر استوار ہو۔
اگر کسی مدیر نے مشکل حالات میں اپنے ادارے کی اشاعت برقرار رکھی، اپنے قارئین سے تعلق قائم رکھا اور اپنے پیشے سے وابستگی کا مظاہرہ کیا ہو تو یہ تمام پہلو صحافتی تاریخ کا حصہ بننے کے مستحق ہیں۔
ڈیجیٹل عہد میں صحافت کا نیا امتحان
اکیسویں صدی میں صحافت ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں خبر کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ ہے، لیکن اس کے ساتھ خبر کی صحت، ماخذ کی صداقت اور معلومات کی قابلِ اعتماد حیثیت کے مسائل بھی پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک غیر مصدقہ اطلاع چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ مواد، جعلی تصاویر، تبدیل شدہ ویڈیوز اور سیاق سے الگ کیے گئے بیانات نے صحافیوں کی ذمہ داری میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ایسے ماحول میں ایک اخبار کی قدر اس بات سے نہیں بڑھتی کہ وہ سب سے پہلے خبر شائع کر دے؛ اس کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ خبر کی تصدیق کرے، متعلقہ فریقوں کا مؤقف حاصل کرے اور قارئین کو حقیقت سمجھنے کے لیے ضروری پس منظر فراہم کرے۔ یونیسکو کی 2026میں شائع ہونے والی تحریر(معیاری معلومات: ایک ایسا عوامی اثاثہ جسے خطرات لاحق ہیں) بھی قابلِ اعتماد معلومات، حقائق کی تصدیق اور معیاری صحافت کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔
روزنامہ نیو اسٹیٹ رپورٹر سمیت ہر روایتی اخبار کے لیے یہ عہد ایک نئے امکان کا دروازہ بھی ہے۔ مطبوعہ اشاعت کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارم، آن لائن آرکائیو، قارئین کی رائے، تحقیقی مضامین اور مقامی مسائل پر خصوصی سلسلے اخبار کے اثرات کو وسیع کر سکتے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل توسیع اسی وقت مفید ثابت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ ادارتی معیار، خبر کی صحت اور صحافتی اخلاقیات بھی برقرار رہیں۔
شاہد رشید جیسے مدیران کی صحافتی روایت کا جائزہ لیتے ہوئے اس سوال پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ اردو صحافت اپنے تاریخی تجربات سے کیا سیکھ سکتی ہے اور نئی نسل کے صحافیوں کو کس طرح تحقیق، زبان، اخلاقی ذمہ داری اور جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال میں بہتر تربیت فراہم کی جا سکتی ہے۔
صحافت، اخلاقیات اور عوامی اعتماد
کسی اخبار کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی عمارت، طباعتی مشینیں یا اس کے صفحات نہیں ہوتے؛ اس کا اصل سرمایہ قارئین کا اعتماد ہوتا ہے۔ یہ اعتماد برسوں کی محنت سے حاصل ہوتا ہے، لیکن ایک غیر مصدقہ خبر، غیر ذمہ دارانہ الزام یا جانبدارانہ طرزِ عمل سے متاثر بھی ہو سکتا ہے۔
ذمہ دارانہ صحافت کے چند بنیادی اصول ہیں:
درست خبر شائع کرنے سے پہلے اس کے حقائق اور ماخذ کی تصدیق کی جائے۔
غیر خبر اور رائے کے درمیان فرق واضح رکھا جائے۔
غلطی سامنے آنے پر اس کی اصلاح کی جائے۔
خبر کے انتخاب میں محض سنسنی کے بجائے اس کی معاشرتی اہمیت کو ترجیح دی جائے۔
تنقید کو دلیل، شائستگی اور حقائق کے ساتھ پیش کیا جائے۔
خبر کی اشاعت میں افراد کی عزت، نجی زندگی اور سلامتی کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے۔
یہ اصول کسی ایک اخبار تک محدود نہیں، بلکہ صحافت کے عمومی پیشہ ورانہ معیارات ہیں۔ ان کی پابندی ہی کسی ادارے کو دیرپا اعتبار عطا کرتی ہے۔
نیو اسٹیٹ رپورٹر کی خدمات کے اعتراف میں بھی یہی توقع پیش کی جا سکتی ہے کہ اخبار اپنی تاریخی شناخت کو جدید صحافتی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے معلومات کی صحت، ادارتی شفافیت اور عوامی مفاد کو اپنی ترجیحات میں نمایاں رکھے۔
خراجِ تحسین:
ایک اخبار، ایک مدیر اور ایک صحافتی روایت
شاہد رشید کے نام سے وابستہ روزنامہ نیو اسٹیٹ رپورٹر کا ذکر اردو صحافت کی اس روایت کی یاد دلاتا ہے جس میں علاقائی اخبارات اپنی زبان، اپنے قارئین اور اپنے معاشرتی ماحول کے ساتھ ایک مخصوص تعلق قائم کرتے ہیں۔ اس تعلق کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ صحافت صرف بڑے شہروں، قومی سیاست اور بین الاقوامی واقعات تک محدود نہیں ہوتی؛ اس کی جڑیں ان گلیوں، بستیوں اور معاشرتی حلقوں میں بھی ہوتی ہیں جہاں عام انسان اپنی زندگی کے مسائل سے نبردآزما ہوتا ہے۔
ایک اخبار اس وقت معاشرے کی حقیقی خدمت کرتا ہے جب وہ عام آدمی کی آواز کو اہمیت دے، علم و ادب کے لیے جگہ پیدا کرے، سماجی مسائل کو نظرانداز نہ کرے اور اختلافِ رائے کو مہذب مکالمے میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح ایک مدیر کی خدمات اس وقت دیرپا اہمیت حاصل کرتی ہیں جب اس کی اداراتی روایت صحافتی اخلاقیات، فکری دیانت اور عوامی اعتماد کے ساتھ وابستہ ہو۔
شاہد رشید کی صحافتی زندگی سے متعلق دستیاب تاریخی شواہد ان کے نام کو کشمیر کی صحافت کے ایک مخصوص تاریخی تناظر میں جگہ دیتے ہیں۔ ان کی ادارت میں نیو اسٹیٹ رپورٹر کی مکمل خدمات کا جامع اعتراف کرنے کے لیے اخبار کے اصل شماروں، اہم اداریوں، صحافتی مہمات اور ادارے سے وابستہ افراد کی شہادتوں کو یکجا کرنا مفید ہوگا۔ ایسا تحقیقی کام ان کی صحافتی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کو مزید معتبر انداز میں سامنے لا سکتا ہے۔
وقت گزر جاتا ہے، اخبارات کے صفحات پرانی فائلوں میں محفوظ ہو جاتے ہیں، مدیران اور نامہ نگار تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں، لیکن ان کے قلم سے ثبت ہونے والے الفاظ معاشرے کی اجتماعی یادداشت میں باقی رہ سکتے ہیں۔ یہی صحافت کی اصل معنویت ہے: اپنے عہد کو محفوظ کرنا، اپنے معاشرے کو اس کے سوالات سے روشناس کرانا اور آنے والی نسلوں کے لیے حقائق، خیالات اور تجربات کا ریکارڈ چھوڑ جانا۔
روزنامہ نیو اسٹیٹ رپورٹر اور اس کے مدیر شاہد رشید کے لیے خراجِ تحسین کا حقیقی مفہوم بھی اسی میں ہے کہ ان کی صحافتی روایت کو محض تعریفی جملوں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اس کی تاریخ کو محفوظ، اس کے کام کا مطالعہ اور اس کے تجربات کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔
صحافت کی عظمت کا فیصلہ صرف اس کے شائع ہونے والے صفحات سے نہیں، بلکہ اس سوال سے ہوتا ہے کہ اس نے معاشرے کو کتنا باخبر کیا، کتنے اہم سوالات کو زندہ رکھا اور حقیقت تک رسائی کے راستے کو کس حد تک روشن کیا۔
اسی لیے ایک ذمہ دار مدیر، ایک سنجیدہ اخبار اور ایک بیدار معاشرے کے درمیان تعلق محض پیشہ ورانہ نہیں، بلکہ فکری اور اخلاقی بھی ہوتا ہے۔ اگر صحافت اس تعلق کی پاسداری کرے تو وہ وقت کی گرد میں گم ہونے کے بجائے تاریخ کے حافظے میں اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔
روزنامہ نیو اسٹیٹ رپورٹر اور شاہد رشید کی صحافتی خدمات کے اعتراف کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان کے کام کو تاریخ، تحقیق، صحافتی اخلاقیات اور اردو صحافت کی وسیع روایت کے تناظر میں محفوظ کیا جائے۔ یہی اعتراف ایک فرد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صحافت کے اس بنیادی نصب العین کی تجدید بھی ہے جس کی بنیاد خبر، سچائی، شعور اور عوامی اعتماد پر قائم ہے۔
حوالہ جات
1. South Asia Terrorism Portal (SATP). (2002, July). Timeline of terrorist activities, Jammu and Kashmir: July 2002. رپورٹ ملاحظہ کریں۔
2. UNESCO. (2022). Journalism is a public good: World trends in freedom of expression and media development—Global report 2021/2022. UNESCO. اصل رپورٹ اور تعارف۔
3. UNESCO. (n.d.). Safety of journalists. صحافیوں کی سلامتی سے متعلق یونیسکو کا صفحہ۔
4. United Nations. (n.d.). World Press Freedom Day. آزادیٔ صحافت کے عالمی دن سے متعلق معلومات۔
5. Media Monitors Network. (2003, February 5). Journalists vulnerable to attacks in Kashmir. تاریخی رپورٹ ملاحظہ کریں۔
6. Right to Information Act: Newspapers published from Jammu and Kashmir. (2012, May 7). تاریخی فہرست میں نیو اسٹیٹ رپورٹر کے اندراج اور اشاعت کی تاریخ سے متعلق معلومات۔ اخبارات کی فہرست ملاحظہ کریں۔
تحقیقی نوٹ: اس مضمون میں اخبار کی تاریخ اور شاہد رشید سے متعلق قابلِ تلاش تاریخی حوالوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اخبار کی اداراتی پالیسی، مخصوص صحافتی مہمات، اشاعتی تسلسل اور قارئین پر اس کے اثرات سے متعلق مزید دعووں کے لیے اصل اخباری شماروں اور دیگر بنیادی ماخذ کی جانچ ضروری ہے۔ اس احتیاط سے مضمون کی علمی ساکھ اور ستائشی پہلو دونوں برقرار رہتے ہیں۔

Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 184 Articles with 265939 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More