‘وٹ ڈو یو سئے۔۔۔؟‘

(Faraz Tanvir, Lahore)
‘وٹ ڈو یو سئے۔ ان دا مارننگ ٹو یؤر پیرینٹس اینڈ ٹیچرز ۔؟
جب اس کی ٹیوٹر نے پوچھا تو وہ پیاری سی گول مٹول ننھی منی سی نرسری کلاس کی یسرٰی ٹکر ٹکر اپنی ٹیچر کو استعجابیہ نظروں سے دیکھنے لگی کہ باجی نے کیا پوچھا ہےوہ اپنی ٹیوشن والی استانی کو باجی کہتی ہے
باجی نے نے اردو میں کہا کہ صبح صبح اپنے والدین اور استذہ سے کیا کہتے ہیں
اور اپنا سابقہ سوال پھر انگلش میں دہرایا یسرٰی کو مطلب سمجھانے کے بعد
وٹ ڈو یو سئے ان دا ماتننگ ٹ ئؤر پیرینٹس اینڈ ٹیچرز
یسرٰی! پرجوش اور قدرے بلند آواز کے ساتھ “السلام َ علیکم
باجی خاموش قدرے توقف کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔ جی۔۔۔۔۔ ہاں شاباش یہ بھی کہتے ہہیں لیکن آپ نے کہنا ہے ‘گڈ مارننگ‘ (کچھ متذبذبانہ انداز کچھ کھسیانی آواز کے ساتھ)
جب آپ سے یہ پوچھا جائے کہ “وٹ یو سئے ۔۔۔۔۔‘ تو آپ نے کہنا ہے ‘گڈ ماننگ)

جی کچھ سمجھے یہ واقعہ لکھنے کا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً سمجھ گئے ہیں مزید کچھ کہنے کی یا لکھنے کی ضرورت نہیں اگرچہ بہت کچھ کہنے کو اس مختصر تحریر سے اس چھوٹے سے واقعہ سے دل میں امڈ امڈ کے آ رہا ہے عملی طور پہ دکھائی دے رہا ہے کہ ہماری تہذیب ہمارا کلچر ہماری اقدار کس تیکنیک کے ساتھ رفتہ رفتہ مدغم ہوتی جارہپی ہیں کس طرح ہمارا ماحول دوسروں کے رنگ میں رفتہ رفتہ ڈھلتا جارہا ہے اور ہمیں خبر ہی نہیں ہم غور ہی نہیں کرتے ان چھوٹی چھوٹی باتوں پہ۔۔۔۔۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اب اکثر میل ملاقات کے وقت بیشتر لڑکے لڑکیاں سکول و کالج یا گھر اور دفاتر میں میل ملاقات کے وقت “ہیلو، ہائے ، گڈ مارننگ۔، بائے کہتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ان اصلاحات میں وہ محبت اور اپنائیت دکھائی نہیں دیتی جو ‘ السلام علیکم ۔۔۔ یا اللہ نگہبان، اللہ حافظ یا فی امان اللہ وغیرہ جیسے محبت اور سلامتی والے الفاظ میں ہے-

ہمیں خود ہی یہ خیال کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آئیندہ نسلوں کے ذہن و دل تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول کے رنگ میں اس طرح نہ ڈھلنے دیں کہ وہ اپنی اقدار یکسر فراموش کر دیں ہمیں خیال رکھنا ہے کہ ہماری آئیندہ نسلیں دنیا کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی بنیں وقت کے مطابق بھی چلیں لیکن وہ ساتھ ہی ساتھ اسلامی مشرقی اور پاکستانی اقدار کو اپنے ذہن و دل اپنے رویوں اپنے کردار اپنی شخصیت سے الگ نہ ہونے دیں اپنا تشخص اپنی پہچان برقرار رکھیں خود مسلمان ہیں تو مسلمان دکھائی دیں پاکستانی ہیں تو پاکستانی دکھائی دیں اپنے ہر عمل سے ثابت کریں کہ ہم ایک منفرد قوم ہے جسے زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے غیر اسلامی اقوام کی تقلید کی کوئی ضرورت نہیں ہماری اپنی پہچان ہی ہماری زندگی کا فخر ہے ہر میدان میں ہم کامیاب ہیں کسی سے کم نہیں-
ہمیں فخر ہے اپنے مسلمان ہونے پہ
ہمیں فخر ہے اپنے پاکستانی ہونے پہ
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ تا دم مرگ ہمارا ایمان اور ہمارا یہ فخر سلامت سلامت رہے ( آمین یا رب العالمین)
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 906 Print Article Print
About the Author: uzma ahmad

Read More Articles by uzma ahmad: 265 Articles with 241360 views »
Pakistani Muslim
.. View More

Reviews & Comments

اصلاحات غلط استعمال ہوا ہے یہاں لفظ “اصطلاحات“ ہے
By: uzma, Lahore on Mar, 12 2015
Reply Reply
0 Like
puri qoum he bigri hui ha,,jo qoum apni zuban ki hifzat ne kr sakti us na or kia krna ha?????? hmary samny itni misaaly ha k traqi ka lia angreezi zrori ne....pakistani qoum na soch lia ha ka koi dhang ka kaam krna he nhe
By: Nusrat, Karachi on May, 02 2012
Reply Reply
0 Like
tau aur kia Urdu theek se na aye tau koe sharmindgi nahi aur English na bool paen tau sharmindgi c shrmindgi ye bhi koe baat hai kia...? hmari Qaumi zuban ki ehmiat kia hai ye tau hamen smajhna chahye pehle puri tarah Urdu pr tau uboor hasil krlen phr seekhani degar lisaniat mein hmari pehli tarjih Arbi Farsi phr Angrezi kia khayal hai aap ka is bare mein...? waisai seekhni chahyen dusri zubanen bhi ye dichsp bhi hai aur sood mand b hi
By: uzma, Lahore on Apr, 22 2012
Reply Reply
0 Like
humari qoom to english seeknay k liy muri ja rahi hai jis ko aa jati hai us ki gurden main surya pur jata hai jis ko nahi ati woh baichara shurminda shurmina phirta rehta hai mujay yeh samj nahi ati k bai angrazon ko b to urdu nahi ati kia woh b shurmina hotay hain
By: noor, jeddah on Apr, 21 2012
Reply Reply
0 Like
محبت اور سلامتی والے الفاظ میں ہے
یہاں بھی لفظ ‘سلامتی‘ درست کر دیجئے
شکریہ
By: Faraz Tanvir, Lahore on Apr, 05 2012
Reply Reply
0 Like
اصلاح و ترمیم: مسلامن کی بجائے درست لفظ ‘مسلمان‘ اور اسی کی غلط املا سے پہلے جو ‘خود ک‘ اضافی لکھا گیا ہے برائے مہربانی ختم کر دیجئے
شکریہ
By: Faraz Tanvir, Lahore on Apr, 05 2012
Reply Reply
0 Like
Language: