مرغا ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں

(Yousuf Alamgarian, Rawalpindi)
انسانی زندگی میں مرغے کی ہمیشہ سے بڑی اہمیت رہی ہے۔ ہر کوئی کسی نہ کسی مرغے کو پکڑنے کے چکر میں ہوتا ہے۔ہمارے معاشرے میں مرغا پکڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی چور کو پکڑنا۔ پولیس برسوں چورکے پیچھے لگی رہتی ہے پھر تھک ہار کر اس کے ساتھ والے بندے کو پکڑ کرلے آتی ہے۔ گویا یہاں نہ چور پکڑا جاتا ہے نہ مُرغا۔ گئے وقتوں میں لوگ ہفتہ ہفتہ کسی کے ہاں مہمان رہ کر چلے جاتے تھے لیکن مرغاہاتھ نہیں آتا تھا۔ اس سازش میں گھر والے برابر کے شریک ہوتے تھے۔ وہ بچوں کو آنکھ کے اشارے سے بتا دیتے تھے کہ مرغے کا پیچھا ضرور کرنا ہے پکڑنا نہیں ۔ بسا اوقات تو ہاتھ آیا ہوا مرغا پھر سے ہوا میں اُچھال دیا جاتا ہے جیسے وہ خود پھڑ پھڑا کر ہاتھ سے نکل گیا ہو۔مرغا پکڑنے پر مامور ٹیم اُسے گھیرگھار کر گھر میں لگی ہوئی پرالی یا پھرمشیٹیوں(کپاس کی ڈنڈیوں) کے ڈھیرکی جانب لے جاتی تاکہ مرغا کہیں جائے پناہ تلاش کرلے۔ ’مرغاپکڑ ٹیم ‘ کو پسینے سے شرابور دیکھ کر مہمان کا دل بھی پسیج جاتا اور وہ میزبان کو یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا کہ یار جو کچھ گھر میں ہے وہی پکا لو۔میرے لئے اتنی ”چیچ“ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

کوئی شخص کہیں مہمان گیا تو گھر والوں نے اُس کے سامنے مشورے کرنا شروع کردیئے کہ مہمان کے لئے کیا پکائیں ۔کوئی کہتا کہ کدو گوشت پکا لیں تو دوسرا کہتا آج شاید گوشت کا ناغہ ہو تو تیسرا کہتابریانی پکا لیں ۔ لیکن اُسے فوراً بتایا جاتا کہ اس کے لئے بھی گوشت تو چاہئے ہی ہے نا۔ جب میزبان کسی منطقی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام ٹھہرے تو میزبان جس کی گھر میں پَھدک پَھدک کر کُڑکُڑکرتے مرغے پر گہری نظر تھی بولا اس طرح کریں کہ آپ میری گھوڑی پکا لیں میں آپ لوگوں کے مرغ پر بیٹھ کر چلا جاﺅں گا۔لیکن اس کی مذکورہ جسارت کو بھی میزبانوں نے یہ کہتے ہوئے ہنسی میں اُڑا دیا کہ لو یہ کیا بات ہوئی بھلا ! مرغے پر آپ کیسے بیٹھیں گے؟ اور ساتھ ہی انہوں نے حفظِ ماتقدم کے طور پر مرغ کو بلی اور مہمان دونوں سے بچانے کے لئے ٹوکرے کے نیچے چھپا دیا۔

مرغے کے بارے میں سنا ہے کہ جب وہ ایامِ جوانی کی سرحدوں کو چھوتا ہے تو کسی مکان کی چھت کے درمیان نہیں چلتا۔ مبادا چھت نیچے نہ بیٹھ جائے۔ وہ چھت سے دوسری چھت تک کا سفر جاری رکھتا ہے اور اس وقت تک جاری رکھتا ہے جب تک اُس کی کسی مرغی سے مڈ بھیڑ نہ ہو جائے۔ کئی مرغے تو اپنے اوچھے ہتھکنڈوں کی وجہ سے کئی بار ذبح ہونے سے بال بال بچتے ہیں لیکن ناشکری کا عنصر ا س حد تک نفسیانی خواہشات پر غالب آجاتا ہے کہ وہ پنگے بازی سے باز نہیں آتے۔

مرغوں کی یہی مستی جب خرمستی میں تبدیل ہوتی ہے تو وہ جگہ جگہ چونچ لڑانے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے اکثر مرغے چلوعشق لڑائیں‘ گانے کی بجائے چلو چونچ لڑائیں گنگناتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس قسم کے مرغوں کو لوگ آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ۔ جن مرغوں کو دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلنے کی عادت پڑجاتی ہے اُن کی پھر ساری عمر آوارہ منشی میں گزرتی ہے۔ایسے مرغوں کو لوگ لہسن کی کا شیں اور دیسی گھی کھلا کھلا کرانہیں‘ ان ہی کی برادری کے کسی مرغے کے خلاف لڑنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔خیراس سے مرغوں کوبھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ خود بھی کچھ زیادہ پختہ کردار کے حامل نہیں ہواکرتے۔

کسی دیہاتی مرغ کی شہری مرغ سے ملاقات ہوئی ۔ شہری نے دیہاتی مرغے سے پوچھا یار زندگی کیسے گزرتی ہے۔ معمولات کیا ہیں۔ اُس نے کہاکیا بتاﺅں۔ صبح اٹھتے ہیں روٹین کی دو چار” بانگیں“ دیتے ہیں پھر آپ کی بھابھی کے ساتھ تھوڑی دیر باہر ٹہلنے جاتے ہیں۔ دوپہر کو واپس آتے ہیں تو کوئی اوردوست آجاتی ہے اس کے ساتھ گھومنے نکل گئے۔ شام کو آئے اور سوگئے۔ شہری مرغا بہت متاثر ہوا اُس نے کہا یار تمہاری تو موجیں ہیں۔ ہمارے شہر میں تو اتنا کھلا ڈھلا ماحول نہیں ہے۔ صبح اٹھ کر ”بانگ شانگ“ خیر ہم بھی دیتے ہیں۔دانا دنکا ہمیں گھر میں ہی مل جاتا ہے۔ پوٹہ بھرکے کھاتے ہیںپھر ذرا طبیعت مچلتی ہے تو گھر کے ساتھ ہی پولٹری فارم کی جالی کے اس پار اٹھکلیاں کرتی ہوئی مرغیوں کے سامنے ایک پَراُٹھا کر پیرا گلائیڈنگ کا مظاہرہ پیش کرکے آنکھوں ہی آنکھوں میں ان کی ستائش لپیٹ کر گھر آجاتے ہیں۔

جہاں معاشرے میں مرغوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا جاتا ہے‘ وہاں مرغیوں کی مارکیٹ ویلیو بھی کچھ کم نہیں۔یہ ان کی اہمیت ہی ہے کہ وہ صرف سبزی ہی نہیں محاوروں میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ وگر نہ دو ملاﺅں میں مرغی حرام کی بجائے مرغا حرام بھی تو کہا جاسکتا تھا۔!

مرغ ان چندجانداروں میں سے ہے جس کی اہمیت کم ہونے کے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ گویا ان کی اہمیت مسلم ہے۔ اس لئے مرغ کو صرف مرغ نہیں ”مرغِ مسلم“ کہا جاتا ہے۔ مرغ کا نام اب ایک برانڈ کی شکل اختیار کرچکاہے۔ کسی نے دال بھی بیچنی ہو تو مرغ دال کہہ کر بیچتا ہے۔ اکثر سکولوں کے اساتذہ کی مرغوں میں دلچسپی دیدنی ہوتی ہے۔ ان کے گھروں میں مرغ بنے نہ بنے وہ سکولوں میں بچوں کو مرغا بنانے میں کبھی لیت و لعل سے کام نہیں لیتے۔

پولیس‘ کسٹم یا انکم ٹیکس والوں کے کوئی بھاری آسامی ہاتھ لگ جائے تو اسے بھی کوڈ ورڈز میں ”مرغا“ ہی کہتے ہیں اور دوستوں کو فخر سے بتاتے ہیں کہ یار ایک مرغا ہاتھ لگا ہے دعا کر کچھ اُگل دے۔ بعض مرغے بہت پکے ہوتے ہیں ان کو الٹا بھی لٹکا دیں تو کچھ نہیں بتاتے اور کچھ صرف نام کے مرغے ہوتے ہیں وہ کسی کو سبزی کاٹنے کے لئے چھڑی تیز کرتے دیکھ لیں تو انہیں ٹھنڈے پسینے آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ بہر کیف ہمارے ہاں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے ”مرغے“ مرغا کھلا کر بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیںشائد اسی لئے مرغن اشیاءسے منع کیا جاتا ہے۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 496 Print Article Print
About the Author: Yousaf Alamgirian

Read More Articles by Yousaf Alamgirian: 51 Articles with 50180 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: