یہ راز فاش ہوگیاتو تمہاری گردن اُڑادی جائیگی

(DR ZAHOOR AHMED DANISH, NAKYAL KOTLE AK)
 جب سور ج طلوع ہوتاہے تو اس کی کرنیں چار سو ظلمت کے اندھیروں کو چاک کرکے ضوء و ضیاء کی رعنائیاں بکھیرتی ہیں ،ہرچیز واضح اور صاف دکھائی دینے لگتی ہے ۔جو اوجھل تھاظاہر ہوگیا۔ایسے ہی اس آنی جانی دنیا میں ایسی ہستیاں جلوہ فروز ہوئیں جن پرفضل ربّ کی چھاچھماچھم مینہ برسی کے ان کے وجودِ مسعود سے انسانیت کے لیے فیض و برکات کے دریاپھوٹ پڑے ایسی ہی نابغہ ئ روزگار ہستی امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔

آئیے :اپنے دلوں کی صحراماند زمین کو نیک و پاکیزہ لوگوں کی سیرت کے چشمہ سے سیراب کرتے ہیں ۔
(حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ)
نام مبارک:
حضرت امام محمدبن حسین بن علی بن محمدبن علی رضا آئمہ الہدیٰ میں سے بارھویں امام ہیں۔
کنیت ولقب:
آپ کی کنیت ابوالکلام ہے اور آپ کو مندرجہ ذیل القابات سے پکاراجاتا ہے الامام بالحجۃ،المہدی ،المنتظراور صاحب زماں۔
والدہ محترمہ کانام:
آپ کی والدہ امِّ ولد تھیں ان کانام صیقل یا سوسن تھا اور نرجس بھی کہا جاتا تھا اور ان کے اور بھی بہت سے نام تھے۔
ولادتِ با سعادت:
آپ نے ٢٥٨؁ہجری ٣٠ رمضان المبارک کو سرمن رائے میں تولد کیا۔
بوقتِ حمل کے مناظر:
حکیمہ عمّہ ابو زکی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کی ایک روز میں حضرت ابو محمد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا۔
اے عمّہ: آج شب ہمارے ہاں قیام کرو کیونکہ آج رات اللہ تعالیٰ ہمیں کچھ عطا کرے گا یعنی ہمارے ہاں کچھ پیدا ہوگا۔
میں نے کہا :حضرت یہ بچہ کس سے پیدا ہوگا۔ جبکہ حضرت نرجس سے توحمل کے کوئی آثار ہی نظر نہیں آتے،،۔
آپ نے فرمایا: اے عمّہ نرجس کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ جیسی ہے اس لیے ان کا حمل ولادت سے پہلے ظاہر نہیں ہوگا،،۔
حضرت عمّہ نے کہا: میں نے وہ رات وہیں کاٹی جب آدھی رات ہوئی تو میں نے اُٹھ کر نمازِ تہجد ادا کی اور حضرت نرجس نے تہجد کے نفل ادا کئے۔
میں نے دل ہی دل میں کہا کہ صبح ہونے کوہے مگر جو حضرت ابو محمد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے اس کے آثار نظر نہیں آتے حضرت ابو محمد نے مجھے آواز دی۔
اے عمّہ جلدی مت کرو،،۔
میں اسی کمرے میں جس میں حضرت نرجس تھی واپس چلی گئی۔ آپ مجھے راستے میں ملیں آپ پر لرزہ طاری تھا۔ میں نے انہیں پکڑ کر سینے سے لگایا اور قل ھو اللہ احد ، انا انزلناہ ، آیۃ الکرسی پڑھ کر آپ پر دم کیا۔ آپ کے شکم سے آواز سنائی دی۔
جو کچھ میں نے پڑھا تھا آپ کے بچے نے بھی وہی پڑھا۔پھر میں نے مشاہدہ کیا کہ تمام گھر نور سے منور ہوگیا اور حضرت نرجس کا بچہ زمین پر سربسجودہے۔
میں نے بچے کو اٹھا لیا تو حضرت ابو محمد نے اندر سے آواز دی۔ اے عمّہ میرے بچے کو میرے پاس لاؤ۔میں بچہ ان کے پاس لے گئی ۔آپ نے بچے کو اپنی گود میں بٹھا کر اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال کر فرمایا۔ اے میرے بچے بحکم الہی گفتگو کر،،۔ پس بچے نے کہا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم وزیدان من علی الذین استضفعوا فی الارض ونجعلھم الوارثین۔
ترجمہ: اللہ کے نام سے شروع جو رحمن و رحیم ہے اور زیادہ کیا ان لوگوں کو جو کمزور ہیں ہم اس کو امام اور وارث بنائیں گے۔
بعد ازاں میں نے دیکھا کہ سبز پرندوں نے مجھے پکڑ لیا ہے۔حضرت ابو محمد رضی اللہ عنہ نے ایک سبز پرندے سے فرمایا۔ اسے پکڑ کراس کی حفاظت کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بارے میں حکم دے اللہ ہی اس امر کو پہنچانے والا ہے۔''
میں نے حضرت محمد سے دریافت کیا۔
یہ دوسرے پرندے ہیں۔
آپ نے فرمایا۔
'' یہ حضرت جبرئیل ہیں اور دیگر رحمت کے فرشتے ہیں۔''
؁پھر فرمایا۔
'' اے عمہ اسے اس کی ماں کے پاس واپس لے جاؤ'''
اور تو آنکھوں کی ٹھنڈک حاصل کر اور غم نہ کر اور یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ اسے جانتے ہیں۔
حضرت عمہ آپ کو آپ کی ماں کے پاس لے گئی، جب آپ کا تولد ہوا تو آپ ناف بریدہ اور ختنہ شدہ تھے ، آپ کے دائیں جانب بالشت بھرلمبائی میں یہ کلمات مرقوم تھے۔
جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔(الایۃ)
ترجمہ : حق آیا باطل بھاگا بے شک باطل ذلیل و رسوا ہونے والا ہے۔
پھر انہی سے مروی ہے کہ بوقت تولد آپ زمین پر دو زانو حالت میں تھے اور شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھے، آپ نے چھینک لیتے ہوئے کہا۔
الحمدللہ رب العلمین
ترجمہ : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے۔
ایک شخص نے بیان کیا کہ میں ابو محمد زکی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا۔
'' اے ابن رسول اللہ آپ کے بعد منصب ِ خلافت اور منصبِ امامت کون اداکرے گا۔
آپ یہ سن کر اندر تشریف لے گئے اور اندر سے ایک بچہ کندھے پر اٹھا کر لے آئے، بچہ ایسا تھا جیسا کہ چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے، بچہ کی عمر تین سال کے قریب تھی آپ نے اس آدمی سے فرمایا۔
'' دیکھو اگر تم اللہ تعالیٰ کے نزدیک صاحبِ عظمت نہ ہوتے تو میں تجھے ہر گز اس بچہ کی زیارت نہ کرواتا۔ اس کا نام نبی پاک کے نام پر ہے، اور اس کی کنیت یہ ہے۔
ھوالذی یملاء الارض قسطاً لما ملئت جوراً وظلما
٭٭
راز کی بات راز میں رکھنا :
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص نے بیان کیا کہ خلیفہ معتضد نے مجھے دو اور افراد کے ہمراہ بلوایا اور کہا حسن بن علی سرمن رائے میں وصال فرماچکے ہیں، اس لیے جلدی جاؤ اور ان کے گھر میں جس فرد کو بھی دیکھو اس کا سر میرے پاس لے آؤ۔
ہم آپ کے مکان میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ مکان نہایت صاف ستھرا اور پاکیزہ تھا یہاں تک کہ ابھی ابھی اس کو بنا کر فراغت حاصل کی تھی۔ ہم نے اس مکان پر پردہ پڑا ہوا پایا۔ پردہ اٹھایا تو وہاں ایک گڑھا نظر آیا۔ جب نزدیک پہنچے تو یہ گڑھا نظر نہ آیا۔ اس کے اوپر بوریا بچھا ہوا تھا اور ایک نہایت حسین وجمیل شخص اس پر قیام کیے نماز میں مصروف تھا اس نے ہماری طرف توجہ نہ کی، میرے رفقاء میں سے ایک آگے ہوا کہ اس تک پہنچ جائے لیکن وہ پانی میں ڈوب کر پھڑکتا رہا۔ آخر میں نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ ڈوبنے سے محفوظ ہوگیا۔ ازاں بعد ایک اور آدمی نے آپ تک پہنچنے کی سعی کی ، لیکن اس کا انجام بھی ایسا ہی ہوا اور میں نے اسے نجات دلوائی، میں حد سے زیادہ حیران و پریشان ہوا، میں نے گھر والے سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے کہا۔
'' قسم بخدا میں اس سے پہلے آگاہ نہیں تھا اور نہ معلوم تھا کہ ہم کہاں آرہے ہیں، میں نے جو کچھ کیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرکے معذرت خواہ ہوں۔''
میں نے جو کچھ کہا اس نے اس کی پروا نہ کی ، پھر ہم معتضد کے پاس واپس چلے گئے اور تما م و اقعہ کہہ دیا معتضد نے یہ سب کچھ سن کر کہا:
'' اس راز کو پوشیدہ رہنے دیجئے۔ اگر یہ بات لوگوں کے پاس پہنچ گئی تو تمہاری گردن اڑا دی جائے گی۔''
ان سب حالات سے دیگر اہلِ قراء کو ان کی شانِ جلالت کا علم ہوگیا ہوگا۔
(٭٭٭)
قارئین کرام :ہم تذکرۃ الصّالحین کرتے چلے آرہے ہیں ۔ لیکن ایک بات ان سب ہستیوں میں کامن تھی ۔ایک جیسی تھی ۔بتائیں وہ کیا؟چلیں میں بتاتاہوں ۔وہ یہ کہ ان سب پر ربّ کافضل تھا۔اور جس پر ربّ کا فضل ہو وہ دنیا میں بھی سرخرو اور آخرت میں بھی سرخرو ۔لہذا ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہم فضل رب کے متلاشی ہوجائیں ۔جس جس کام میں ،جس جس جگہ سے ہمیں میسرآئے لے لیں ۔یقینا آپ چونک گئے ہوں گئے کہ فضل ربّ کہاں سے ملے گا۔
قارئین کرام:ہروہ کام جس کا ربّ نے کرنے کا حکم دیااس کی بجاآوری اور جس سے منع کیا اس سے اجتناب تو ان شا ء اللہ عزوجل :ہم بھی ربّ تعالٰی کافضل پانیں والوں میں شمار ہوں گئے ۔آپ علم رکھتے ہیں ۔اچھاہے لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ اچھا،بہتر اور بہترین ہوجائے تو پھر اپنے علم پر عمل کے دھنی بن جائیں ۔فقط وعظ و نصیحت سننے اور سنانے پر اکتفاء کچھ خاص نفع بخش ثابت نہ ہوگاجب تک اس میں عمل کی شیرنی شامل نہ کی جائے ۔اسلیے تو شاعر نے کہا:
واشعار پڑھنا، وعظ سنانا تو سہل ہے
شکلوں سے احتیاط ہی مشکل ہے دوستو
اس عہد میں وہ مردِ مجاہد سے کم نہیں
ماحول کے جو مدِ مقابل ہے دوستو
جو اپنے ملکِ جسم پہ کر دے نفاذِ دیں
وہ شخص بھی تو حاکمِ عادل ہے دوستو
آسان ہے عبادت و طاعت کا التزام
بچنا مگر گناہ سے مشکل ہے دوستو
ہو کیوں نہ ایک جست میں راہِ سلوک طے
رہبر جو میرا بالغِ منزل ہے دوستو
اس کے غمِ فراق کا نالہ ہے خود گواہ
وہ ربِ کائنات سے واصل ہے دوستو

دکھلائیں رشکِ مہر کو مدحت کے ہم چراغ جرات ہماری دید کے قابل ہے دوستو
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2886 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 230 Articles with 218564 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

This article is major difference between Sunni and Shia's. It is advice to follow "lakum de nakum wali-ye deen". The missing part of this article is that the personality hide himself from World and since then guiding his followers for last little 1200 years. In other words, he is alive and his age is 1200 yrs that is why he is named as "Imam ghaib" or "Sahib e Zaman". He is like Hazrat Khizar (AS) for Ahle-Sunna.

I myself is from Ahle-bait but disagree with these stuff.
By: Syed Abu Mokaarim Ahmad, karachi on Oct, 06 2012
Reply Reply
0 Like
Allah Taala ap ko is tehreer ka ajar day.Ap ne woh sach bian kia hy jise bahut se log nhy mantay hen. jo log nhy mantay un ko chaheye k woh tareekh ahadees aur Quraan Pak ka mutaala karain.Imam Mahdi (a.s) k baray men Rasool Pak ki bahut se ahadees hen.plz mutaala krain
By: Irfan Haider, Laayh on Sep, 30 2012
Reply Reply
0 Like
yar kia hogya hy apko .muje to article me koe aese bat nazer nae ae.dr sahb ne ager lika hy to kise kitab he se lika hoga.ager apko ikhtelaf hy to jo dr sahb ne lika us ka rad karain.ye kia bat hoe chote se bat paker k baith ge hain.is se likne walon ke dil shikne hote hy.kram farmain.
By: laraib, karachi on Sep, 27 2012
Reply Reply
0 Like
me btata hon hwala...shwahidun nubuwah me ye tmama batain mojood hain.ager ap na manain to is me dr sahb ko blam na karain.mene khud mutala kia to muje trajum ke kutub me ye mwad mila............kion ghair mohzb andaz me behs kerte hain.khuda rah elm ko elm janain.boht afsos hwa ap doston ke comments per ker .ager ikhtelaf he tha to apne rae de date .apne to ftwa laga dia.dr sahb ka me be apke terah aik reader hon.mana k me boht impress hon unke elmiat se .lakin kl ko muje ikhtelaf hogay to me to trang pe aa joan.its wrong way..
By: mehboob khan adocat, karachi on Sep, 26 2012
Reply Reply
0 Like
please mujhey is tehreer ka hawala dey dien otherwise apki tehreer mein jhoot k siwa kuch nazar nahi aa raha
By: Umair Shahmir, Lahore on Sep, 25 2012
Reply Reply
0 Like
Dr. Sahib ka ye column bilkul ghalat or maangharat he... afsoos howa k Dr.Sahib ne esi kawish ki.. Allah inhe Hidayt de...ameen...

Masoom Logo ko raste se he bhtkane ki aik sazish he, Meri tamam Musalmano se guzarish he k DEEN k mamle me mustanad hawala ya Mustanad Aleem se malomat zaror zaror malomat lelen..
By: zai., karachi. on Sep, 19 2012
Reply Reply
0 Like
aap sb kuch bhi parh kr yaqeen kr letay hen... thori himat kr k hadis e mubarka ya kisi aalim say puch lia kren.
Hadise mubarka k mutabik imam mahdi qyamat say pehlay peda hongay or jb ap ki omer 40 saal hogi tb ap sb pr zahir hongay. or ap ki walida ka naam NABI KARIM SAWW ki walida k naam pr hoga or walid ka nam bhi AAP SAWW k walid k naam pr hoga or ap ko khana e kaba men ebadat k doran pehchana jay ga aik gaibi awaz aap ki nishan dehi kray gi.....ALLAH k NABI SAWW nay IMAM MAHDI k baray men tafseel say hmen agah kia hai. jo kuch writer nay koshish ki hai wo mukamal ekhtlaf hai HADES say.
By: ASIM ASHRAF, Jeddah on Sep, 17 2012
Reply Reply
0 Like
achi kawish hay mujhay kaheen say nahe laga k tarikh ko maskh kia gaya hay
jinhain laga hay wo hawalay lay k aain k unhain kahan pay kuch ghalat mehsoos
howa thats all
dr sahab ki paristar he is my star
sana karachi
By: sana , karachi on Sep, 02 2012
Reply Reply
0 Like
THE FACT WHICH SOME SCHOLARS ARE HIDING IS ALL THE TWELVE IMAMS (A.S.S) OF SHIYANAY ALI WERE THE MOST PIOUS MOST LEARNED SCHOLARS OF ALQURAN AL MAJEED. DUE TO WHICH MANY TERRORIST ARE KILLING THE PROGENY OF HOLY PROPHET (SAW) . HOW THEY WILL FACE THE HOLY PROPHET (SAW)? PL DO NOT HIDE MY COMMENTS IF YOU LOVE HOLY PROPHET (SAW).
By: ABDULLAH, LAHORE on Aug, 31 2012
Reply Reply
0 Like
Deen ka mamla he asjad sahib, Hawala to lazim he.. bagher tasdeeq kese maan len. mera nahi khyal k Hawala mangne me koi buri baat he.. apko kyun laga bura kuch samajh nahi ai baat.. Dr. Sahib ki tehreren bohat umda hn.. yahan hmko samjhne k lye hawala miljaye to bari nawazish hogi.. or agar koi mustanad hawala na desake Dr.Sahib to phr ap khud samajhdar hn.....
By: zai., karachi. on Aug, 07 2012
Reply Reply
0 Like
بہت مناسب تحریر ہے ۔تاریخ سے واقعی ہم بہت دور ہوتے چلے جارہے ہیں ۔بچوں سے انڈیاکے فلمی ہیرو کے نام پوچھو پل دو پل میں بتادیں ۔اسلامی ہیرو ،عظیم جرنیلز کا پوچھیں کچھ پتا ہی نہیں ۔ڈاکٹر صاحب بہت شکریہ ہماری علمی کمی کو پورا کیا۔
By: nida farman, LAHOOR on Aug, 06 2012
Reply Reply
0 Like
سارے کام لکھنے والے کے متھے نہ مار دیاکریں کچھ خود بھی ہمت کیا کریں ۔میراخیال ہے ڈاکٹرصاحب کے مطالعہ میں جوکتاب ہوئی ہوگی اس سے اقتباس دیاہے ۔آپ اگر اس سے انکاری ہیں تو دلیل تو منکر پر ہے ۔خداراہ سوال کریں بے جس کا معقول جواب بھی بن سکے اپنی چودراہٹ چمکانے کے لیے بس اعترا ض داغ دینا کچھ بہتر نہیں ۔دیکھیں میں بھی آپ کی طرح ایک عام قاری ہوں ڈاکٹر صاحب کی طرح بہتیرے اور بھی لکھنے والے ہیں آپ حوالہ پیش کرکے اصلاح کا ذریعہ بنیں
By: asjad naaz , karachi on Aug, 05 2012
Reply Reply
0 Like
Hawala kitab btaden, wese Imam mehdi waali baat me kuch haqeeqat nazar nahi ati... agar hawala btaden to hm bhi phrlen wo kitab.
By: zai., karachi. on Aug, 04 2012
Reply Reply
0 Like
حضرت امام مہدی کا ظہور ابھی ہونا ہے، انشاءاللہ ضرور ہو گا۔
By: Muhammad Athar Rizvi, Lahore on Aug, 03 2012
Reply Reply
0 Like
doctor sahib bohat khob. lakin apnay hawala nahi dia kay kis kitab say apnay lia hay.
By: harris, toronto on Aug, 03 2012
Reply Reply
0 Like
tareekh ko khudara masakh na kren hazrat Mehdi ka zuhoor abhi hona he,,,,,, wo kisi ghar m nai chupe or un ki walidain hazrat HASAN OR HUSAIN ki aulad se honge
By: Omer, Jeddah on Aug, 02 2012
Reply Reply
0 Like
اچھی کاوش ہے آپ کی ۔ہم اپنے بڑوں کی سیرت کو بھولتے چلے جارہے ہیں ۔نہایت خوبصورت انداز میں آپ نے تحریر رقم کی اللہ جزائے خیر عطافرمائے
By: rashid bahrve, khoshab on Aug, 01 2012
Reply Reply
0 Like
ڈاکٹرصاحب اللہ آپ کو خوش رکھے بزرگان دین کے حوالے سے جوسلسلہ آپ نے شروع کی ہے قابل تحسین ہے ۔اللہ آپ کو برکتیں عطافرمائے۔
By: saeed , LAHOOR on Jul, 30 2012
Reply Reply
0 Like
ماشا ء اللہ
By: ilyas ch, mirpoor on Jul, 30 2012
Reply Reply
0 Like
boht khob .kmal tehreer hy.
By: tahir rafiq, faisal abad on Jul, 30 2012
Reply Reply
0 Like
Language: