امامت کون کرواۓ(شریعت کیا کہتی ہے)

(Zubair Tayyab, Lahore)
سوال:سجدے میں جانے کے وقت اول ہاتھ زمین پر رکھے یا زانو،اوراُٹھنے کے وقت کس کو پہلے اُٹھائے؟
جواب: پہلے زانورکھے اس کے بعد ہاتھ اور اٹھنے کے وقت اول ہاتھ اُٹھائے پھرزانو۔
حدیث:حضرت وائل بن حجر(رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو ہاتھوں سے پہلے زانوزمین پررکھتے اور جب اُٹھتے تو ہاتھوں کو زانو سے پہلے اُٹھاتے۔﴿ ترمذی و نسائی وابو دائود﴾

سوال:جیسے مرد کو فرض نماز باجماعت پڑھنے سے پچیس یا ستائیس نماز کا ثواب حاصل ہوتا ہے عورتوں کے لئے بھی یہی ہے یا کچھ کم ہے؟
جواب: عورتوں کے لئے بالکل اس کے بر عکس معاملہ ہے، ان کو جماعت سے نماز پڑھنے میں جس قدر ثواب ملتا ہے علیحدہ اور تنہا پڑھنے میں اس کا پچیس گنا ثواب دیا جاتا ہے وہ جہاں تک تنہائی اور مکان کے گوشہ میں نماز پڑھیں زیادہ اجر ہوگا یہانتک کہ مکان کے صحن میں نماز اداکرنے سے اتنا ثواب اور فضیلت نہ ہوگی جس قدر مکان کے دالان اور کوٹھے میں حاصل ہوتی ہے اور اگر دالان کے بھی کونے اور گوشہ میں گھس کر پڑھیں تو اور بھی زیادہ اجر اور فضیلت پائیں۔
حدیث: عورت جس نماز کو تنہا پڑھے بہ نسبت جماعت میں پڑھنے کے اس﴿ بلاجماعت پڑھی ہوئی﴾ نماز کی فضیلت پچیس درجہ زیادہ ہے۔ ﴿مسند الفردوس للد یلمی﴾
حدیث:حضرت ابن مسعود(رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہے کہ عورت کی نماز مکان کے اندر﴿ یعنی دالان وغیرہ میں﴾ بہتر ہے بہ نسبت صحن میں پڑھنے کے اور اس کی نماز مکان کے گوشہ میں بہتر ہے بہ نسبت مکان﴿یعنی دالان وغیرہ﴾ کے﴿مطلب یہ ہے کہ جس قدر اندر اور پردے میں ہوتی جائے ثواب بڑھتا جائے گا﴾﴿ ابو دائود﴾

سوال: فقہ کی کتابوں میں نابینا کی امامت کو مکروہ لکھا ہے یہ کراہت ہر ایک نابینا کی امامت میں ہوگی یا بعض میں؟
جواب:کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اکثر نابینا لوگوں سے پاکی نا پاکی میں پوری تمیز اور احتیاط نہیں ہو سکتی، پس جو نابینا پورا احتیاط رکھنے والا اور پاک صاف ہو اس کی امامت مکروہ نہ ہوگی اور اگر عالم اور پرہیزگار بھی ہو تو اس کی امامت اولیٰ اور افضل ہوگی اگرچہ نابینا ہو۔
حدیث:حضرت عائشہ(رض) فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے غزوئہ تبوک میں تشریف لیجانے کے وقت عبداللہ بن ام مکتوم(رض) ﴿ نا بینا﴾کو مدینہ میں نماز پڑھانے کیلئے اپنا قائم مقام بنا دیا تھا۔﴿طبرانی فی الکبیرو ابو یعلیٰ وابو دائود ازانس(رض)﴾
حدیث:حضرت عبداللہ بن عمیر(رض) جو بنی حطمہ کے امام تھے وہ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ ہی میں میں بنی حطمہ کا امام تھا حالانکہ میں نابینا تھا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں بھی گیا تھا حالانکہ نابینا تھا۔﴿ طبرانی فی الکبیر﴾

سوال:امام نے اس ارادہ سے نماز شروع کی کہ بہت بڑی سورت پڑھ کر نہایت اطمینان سے نماز ادا کروں گا،نماز کی حالت میں کوئی سخت ضرورت پیش آگئی مثلاً بڑے زور سے بارش ہوگئی یا جس گاڑی میں مسافروں کو سوار ہونا ہے اس کے آنے کی آواز آگئی تو نماز کو مختصر کر دینا یا شروع کی ہوئی سورت کو درمیان میں چھوڑ دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:اس قسم کی ضرورتوں میں جائز بلکہ مسنون یہی ہے کہ قرأت کو کم اور نماز کو جلد ختم کردے ورنہ خود اس کااور مقتدیوں کا دل نماز میں نہ رہے گا نمازپڑھنا گراں ہوجائے گا بلکہ بعض کو نمازچھوڑ کر بھاگنے کی نوبت آئے گی۔
حدیث:حضرت ابو قتادہ(رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کو دراز پڑھنے کے ارادے سے شروع کرتا ہوں ﴿ اور نماز کے درمیان میں﴾ بچہ کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو چونکہ مجھ کو اس کی ماں کے دل کی پریشانی کا خیال ہوتا ہے لہٰذا نماز کو مختصر کر دیتا ہوں﴿کہ کبھی ایسانہ ہوکہ فتنہ میں پڑجائے یعنی صبر نہ کر سکے اور نماز کو چھوڑ دے۔﴿بخاری و ترمذی ﴾

سوال:اگر نماز پڑھتے ہوئے امام کی آواز رک جائے یا کھانسی وغیرہ کوئی عذر پیش آجائے یا قرآن شریف بھول جائے اور یاد نہ آئے تو شروع کی ہوئی سورت کو درمیان میں چھوڑ کر رکوع کر دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اگر بقدر تین آیت الحمد کے بعد پڑھ چکا ہے تو اس قسم کے عذر میں مناسب یہی ہے کہ درمیان میں چھوڑ کر رکوع کر دے۔
حدیث:حضرت عبداللہ بن سائب(رض)کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نمازمیں سورئہ مومنوں پڑھنی شروع فرمائی، پڑھتے پڑھتے جب موسیٰ اور ہارون علیہما السلام﴿ یا عیسیٰ﴾ علیہ السلام کے ذکر پر پہنچے تو آپ کو کھانسی آگئی آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ﴿وہیں﴾ رکوع کر دیا﴿ بخاری شریف﴾

سوال:فجر کے وقت جب جماعت کی نماز شروع ہوگئی ہو سنتیں پڑھنا جائز ہے یا نہیں اور اگر جماعت جاتی رہنے کے خوف سے ان سنتوں کو چھوڑ دیا تو کس وقت ادا کرے؟
جواب:چار وقت میں تو نماز فرض جماعت سے ہوجانے کے بعد کسی نفل یا سنت کو شروع کرنا نہ چاہئے بلکہ جماعت میں شریک ہوجانالازم ہے صرف صبح کی سنتوں میں اس قدر اجازت ہے کہ اگر امام بڑی بڑی سورتیں پڑھتا ہے اور اس شخص کو امید ہے کہ سنت پڑھنے کے بعد بھی بالکل جماعت نہ چھوٹے گی بلکہ دوسری رکعت مل جائے گی تو مسجد کے کسی گوشہ میں امام سے دور یا مسجد کے آس پاس﴿جیسے وضو کی جگہ یا حجرہ وغیرہ﴾سنت پڑھ سکتا ہے لیکن امام متصل جماعت کے برابر پڑھنا مکروہ ہے اور اسی طرح جماعت بالکل چھوٹ جانے کا خوف ہو تو سنت نہ پڑھے جماعت میں شریک ہوجائے اور آفتاب نکلنے کے بعد سنت کو قضا پڑھ لے اگر کسی کام یا ضرورت کی وجہ سے آفتاب نکلنے تک انتظار نہیں کر سکتا تو اپنے کام میں لگ جائے جب آفتاب بلند ہوجائے دورکعت پڑھ لے اور اگر موقعہ ہی نہ ملے یا بھول گیا تب بھی گنہگار نہ ہوگا لیکن سر سے بار ٹالنے کے لئے فرض کے بعد فوراً ہی اس کو پڑھ لینا اور طلوع آفتاب کا انتظار نہ کرنا سخت مکروہ ہے اس سے تو نہ پڑھنا بہتر ہے۔
حدیث:رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب جماعت شروع ہوجائے تو فرض نماز کے سوا کسی نماز کو نہ پڑھنا چاہئے لیکن فجر کی سنتیں پڑھ سکتا ہے۔﴿بیہقی﴾
حدیث:حضرت ابو ہریرہ(رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے صبح کی سنتیں نہ پڑھی ہوں اس کو چاہئے کہ آفتاب طلوع ہونے کے بعد پڑھے﴿ ترمذی و ابن ماجہ﴾
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zubair Tayyab

Read More Articles by Zubair Tayyab: 115 Articles with 122794 views »
I am Zubair...i am Student of Islamic Study.... View More
27 Nov, 2012 Views: 931

Comments

آپ کی رائے
محترم طارق محمود صاحب!
اللہ رب العزت آپ کے علم و عمل میں مزید اضافہ فرمائیں۔۔آمین
ایک بات یہ ہے کہ یہ ثابت ہے فجر کے سنت دوسرے تمام سنن و نوافل سے زیادہ موکد، زیادہ فضیلت والے ہیں۔ اس حدیث شریف کے علاوہ بہت سی احادیث میں اس کا بیان آیا ہے۔ اسی وجہ سے اگر فضیلت حاصل کرنے کے لۓ صبح کی نماز کے کلی طور پر قضاء ہونے اور جماعت کے چھوٹ جانے کا خوف نہ ہو تو فجر کی سنتیں پڑھنا مستحسن ہے۔ کیونکہ ان سنتوں کے ادا کے بارے میں بے حد تاکید آیٔ ہے۔حوالے کے لیے آپ کتب فقہ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ( مختص القدوری۔، الھدایہ، کنز الدقائق)
By: Zubair Tayyab, Lahore on Dec, 05 2012
Reply Reply
0 Like
محترم زبیر صاحب،
جب احادیث میں موجود ہے کہ کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے تو مستحسن عمل کیسے ہو گا جبکہ فجر کے بعد سنت پڑھنے کی اجازت احادیث سے ثابت ہے اور اس حدیث میں جو میں نے نقل کی ہے اس میں وہ صحابی رضی اللہ عنہ سنت کے بعد جماعت میں شامل ہو گئے تھے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو اچھا نہیں جانا تو پھر یہ کیسے مستحسن ہو سکتا ہے اگر اپ کی نظر میں یہ مستحسن عمل ہے تو اس کی دلیل احادیث سے پیش کر دیں ظاہر سی بات ہے مختص القدوری ،الھدایہ ، اور کنز الدقائق میں احادیث سے دلائل دیئے ہو گے فقہ اپنی طرف سے تو کچھ نہیں کہہ سکتے ان کا منبع استدلال قرآن اور احادیث ہے تو انہوں نے یقینا نقل کیا ہو گا آپ مجھے کم از کم حوالاجات عنایت کردیں میں خود ڈھونڈ لوں گا کیونکہ میں اس مسئلے میں ایک طرف ہونا چاہتا ہوں کہ فجر میں سنت پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ، حوالہ عنایت ضرور کریں نوازش ہو گی۔
By: tariq mehmood, Karachi on Dec, 06 2012
0 Like
محترم زبیر صاحب،
یہ روایت مجھے مل گئی ہے اور روایت یہ ہے “إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة إلا ركعتي الصبح“ اس کو مسلم اور دیگر کتب نے بھی نقل کیا ہے مگر اس کے اضافی الفاظ“إلا ركعتي الصبح“ ضعیف سند سے نقل ہوئے ہیں اس میں دو راوی حجاج بن نصیر اور عباد بن کثیر ضعیف ہیں انہوں نے عمرو بن دینار کی سند سے یہ اضافہ کیا ہے جو اور کسی نے بیان نہیں کیا ان کے بارے میں حافظ ابن حجر کا تبصرہ پیش ہے “عباد بن كثير الرملي الفلسطيني ويقال له التميمي واسم جده قيس ضعيف“ عباد بن کثیر کو انہوں نے ضعیف کہا ہے اور دوسرا حجاج بن ںصیر ہے “ حجاج بن نصير بضم النون الفساطيطي بفتح الفاء بعدها مهملة القيسي أبو محمد البصري ضعيف“ ان دونوں راویوں کو حافظ ابن حجر نے ضیعف کہا ہے اس لئے یہ روایت قابل قبول نہیں ہے اس لئے فجر میں بھی اگر جماعت کھڑی ہو تو سنتیں نہیں پڑھ سکتے جیسا اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے “ دخل رجل المسجد ورسول الله صلى الله عليه و سلم في صلاة الغداة فصلى ركعتين في جانب المسجد ثم دخل مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما سلم رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يا فلان بأي الصلاتين اعتددت ؟ أبصلاتك وحدك أم بصلاتك معنا ؟(صحیح مسلم کتاب الصلاہ باب كراهة الشروع في نافلة بعد شروع المؤذن ) ۔اللہ ہم کو قرآن اور حدیث پر عمل کی اور اس کے مطابق اپنی اصلاح کرنے کی توفیق دے۔ آمین
By: tariq mehmood, Karachi on Dec, 04 2012
Reply Reply
0 Like
یہ سنن بیہقی ہے۔ حدیث کا ایک ادنی طالبعلم بھی اس سے واقف ہے۔رقم حدیث تو فی الحال میرے علم میں نہیں۔ لیکن کتاب کے شروع میں دی گئی فہرست میں سے باب بیان الفجر میں اس حدیث کا ذکر ہے۔
By: Zubair Tayyab, Lahore on Dec, 01 2012
Reply Reply
0 Like
محترم زبیر صاحب،
بیہقی کی بھی کئی کتب ہیں (١) بیہقی شعب الایمان(٢) سنن الکبریٰ(٣) الصغریٰ(٤)دلائل النبویٰ، ان میں سے کونسی بیہقی ہے مکمل حوالہ دیں ورنہ ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔
By: tariq mehmood, Karachi on Dec, 03 2012
0 Like
محترم زبیر طیب صاحب،
فجر کی سنتیں جماعت کے وقت پڑھنے کے بارے میں جو اپ نے بیہقی کا حوالہ دیا ہے یہ کونسی بیہقی ہے اور رقم حدیث بھی بتا دیں تو بڑی مہربانی ہو گی جزاک اللہ ۔
By: tariq mehmood, Karachi on Nov, 30 2012
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ