کسی کو پسند کرنا کوئی گناہ تو نہیں

(Faraz Tanvir, Lahore)
اپنی پسند کا اظہار کرنا کوئی ناقابلِ تلافی جرم خطا گنا ہ تو نہیں جبکہ اسلام میں بالغ لڑکے اور لڑکی کے لئے والدین کی رضامندی سے اپنی پسند سے شادی کرنے کی اجازت ہے تو پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں اسے ناکردہ گناہ کی پاداش میں عمر بھر محبت سے محرومی کی سزا سنا دی گئی ۔۔۔آ ج بھی ایسا ہوتا ہے اپنے حق سے آگاہی کا شعور دے کے بھی عورت کو اپنے حق کے اظہار کی اجازت نہیں یہ کیسا انصاف ہے یہ کیسی محبت ہے یہ کیسا بھلا ہے؟؟؟

وہ یونیورسٹی کے زمانے سے ہی اسے پسند کرنے لگی تھی وہ اس کی شخصیت میں کچھ ایسا تھا کہ وہ اپنے دل میں پنپنتے محبت کے جذبات کو روک نہ پائی پہلی نظر میں ہی اسے سنجیدہ مزاج ہونے کے باوجود اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک خاص اور معصوم قسم کی مسکراہٹ نظر آتی ہے اچھے کردار اور اخلاق اس کی شخصیت کا خاص وصف ہے مجموعی طور پر اس کے یہ تمام اوصاف ہی اسے یونیورسٹی کے دیگر طلبا سے نمایاں کرتے ہیں-

وہ معصوم مسکراہٹ سنجیدہ طبیعت دراز قد سنہری رنگ روپ والا لڑکا اس کے من کو بھا گیا جب کہ وہ خود بھی کافی ذہین اخلاق و کردار اور ظاہری شخصیت کے اعتبار سے کافی معقول ہے شرم و حیا کی پیکر دکھائی دینے والی معصوم اور خوبصورت لڑکی جو صرف اپنے ساتھی طالبعلموں سے نوٹس وغیرہ کے علاوہ کوئی بات چیت نہ کرتی نہ ہی کسی سے زیادہ دوستی رکھتی بس کام کی حد تک ہی بے تکلف تھی اس سے زیادہ نہیں وہ ماسٹرز کے پہلے سال میں تھی اور وہ سینئیر تھا ایک ہی ڈیپارٹمٹ سے وابستہ ہونے کے باعث اسائنمنٹ وغیرہ کے سلسلے میں اکثر ایک دوسرے کی بات چیت ہوتی رہتی رفتہ رفتہ دونوں میں ذہنی ہم آہنگی اور یہ ذہنی ہم آہنگی رفتہ رفتہ دوستی اور پھر محبت کے رشتے میں بدل گئی لیکن وہ دونوں اس سب کے باوجود حد فاصل سے کبھی تجاوز نہ کیا اور کرتے بھی کیوں نہ دونوں نے فیصلہ کیا کے تعلیم مکمل کرنے کے بعد گھر والوں سے بات کر لیں گے یقیناً دونوں میں سے کسی کے گھر والوں کو احتراز نہیں ہو گا کیونکہ دونوں میں سے کسی میں بھی بظاہر کوئی ایسی بات وجہ تردید دکھائی نہیں دیتی بلکہ لگتا کہ جیسے اقدرت نے ان دونوں کو ایک دوسرے کے لئے ہپی تراشا ہو-

وقت اسی دوستی اور قربت میں پر لگا کر اڑتا گیا لڑکی ماسٹرز کرنے کے بعد شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو گئی اور لڑکا بھی ایم فل کے بعد پروفیسر بن چکا ہے یونیورسٹی میں دو بہنوں کی شادی کے بعد اب لڑکے کے والدین کو اپنے ہونہار بیٹے کے سر پہ سہرا سجانے کا ارمان شدت پکڑ گیا -

دوسری طرف اب لڑکی کے گھر والوں کو بھی لڑکی کی شادی کی فکر ہوئی اب موقعہ تھا کہ دونوں اپنے یونیورسٹی میں کئے گئے ارادے کی تکمیل کے لئے عملی قدم اٹھاتے اور گھر والوں کو اپنی مرضی بتا کر راضی کرتے لڑکے نے جب اپنے والدین سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ بخوشی مان گئے اور بیٹے کی پسند تک رسائی کے ذریعے کی جستجو میں لگ گئے-

دوسری طرف جبکہ لڑکے والے راضی ہیں پوری طرح تو لڑکی نے یہ درخواست کی کہ ہمارے گھر کا ماحول اتنا آزاد نہیں کہ کوئی لڑکی اپنی شادی کی بات خود کر سکے تو آپ اپنے والدین کو بھیج کر میرا رشتے کی درخوست گھر والوں کے سامنے پیش کر دیں اس پر بھی لڑکا راضی ہو گیا گھر کا ایڈریس لڑکی کے والد کا آفس کا نمبر وغیرہ لے لیا اب لڑکی کے والد سے بات کرنے کے لئے لڑکی کہ انکل جو کہ کسی نہ کسی طرح لڑکے کے والد کے واقف نکل آئے ان سے کہا کہ پہلے آپ اس سلسلے میں میرے بیٹے کے حوالے سے بات کریں تا کہ ہم باقاعدہ رشتہ لے کر ان کے گھر باآسانی جا سکیں-

لڑکی کے انکل نے بہت اعتماد سے لڑکی کے والد سے بات کی اور انہیں اپنی واقفیت کا حوالہ بھی دیا لڑکے اور والد کے بارے میں بھی بتایا کہ اچھے خاندان کے شریف لوگ ہیں مالی لحاظ سے بھی ٹھیک ٹھاک گھرانہ ہے مقدر والوں کو ایسے رشتے نصیب ہوتے ہیں-

لڑکی کے والد نے خاموشی سے انکل کی بات سنی اور پھر قدرے توقف کے بعد آنکھوں سے چشمہ اوپر بتا کے انکل کی طرف استعجابیہ نگاہ ڈالتے ہوئے دریافت کیا کہ انہیں کیسے پتہ چلا میرے گھر کا کہاں دیکھا ان لوگوں نے میری بیٹی کو ۔۔۔؟

انکل نے ساری تفصیل بیان کر دی فی الحال تو لڑکی کے والد خاموش رہے اور گھر جا کے دریافت کیا لڑکی نے اپنی والدہ کو ساری بات بتا دی اور کہہ یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے اور اب میرے لئے اپنے گھر والوں کو بھیجنا چاہتے ہیں-

اتنا سننا تھا کہ لڑکی کے والد کا غصہ آسمان سے باتیں کرنے لگا اور انہوں نے فوراً حکم صادر فرما دیا کہ یہ لڑکی کل سے سکول نہیں جائے گی گھر بٹھاؤ اسے ہم نے تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا تھا عشق لڑانے کے لئے نہیں مجھے اس کے ہاتھ میں موبائل فون یا لیپ ٹاپ نظر نہ آئے نہ ہی یہ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھی نظر آئے یوں لڑکی کو اپنی پسند کے اظہار کی پاداش میں نظر بند کر دیا گیا اور آنے جانے پر پابندی لگادی یہ کہہ کے آئیندہ میں اس لڑکے کا تذکرہ نہ سنوں جس کا انتخاب بیٹی نے خود کیا ہے اپنے لئے اور اس کی شادی کب اور کہاں ہوگی اس کا فیصلہ میں خود کروں گا-

دوسری طرف لڑکے کے والد کو فون کر کے بپھرے ہوئے لہجے میں اعلانیہ انداز سے کہا کہ میری بیٹی کا رشتہ لینا چاہتے تو ہماری لاشوں سے گزرنا پڑے گا اور اگر آپ کے بیٹے نے میری بیٹی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو آپ کو برے نتائج بھگتنا ہوں کے پولیس میں رپورٹ کروادی جائیگی آپ کے بیٹے کے خلاف اب کوئی بچیوں والا شریف آدمی چاہے گا کہ اسکی اولاد کا رشتہ ایسی جگہ ہو جہاں معروف طریقے سے رشتہ بھیجنے پر دھمکیاں جواب میں ملیں لڑکے کے والد نے سمجھایا کہ بیٹا دیکھ یہ صورتحال ہے کیا تو اب بھی چاہے گا اس لڑکی کو اپنانا ہاں اگر لڑکا صرف اپنے بارے میں سوچتا تو شاید ڈٹ جاتا لیکن اس کی یہ تربیت نہیں کے وہ محض اپنی خوشی کے لئے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے لئے بھی مشکلات کھڑی کر دے سو دستبردار ہو گیا اپنی پسند سے کے اب جیسے آصپ کی مرضی آپ خود جو انتخاب میرے لئے کریں گے مجھے منظور ہوگا-

جبکہ لڑکی کے والد نے جلد ہی اپنے جاننے والوں میں اپنے خاندان میں بات کی اور اپنے بھائی کے بیٹھے سے جو عمر میں کافی بڑا بھی تھا لڑکی کے مقابلے میں جبکہ ظاہری صورت میں اور ذہنیت کے اعتبار سے بھی لڑکی کے انتخاب سے یکسر متضاد مگر وہ بھی مشرقی لڑکی تھی چپ کر کے رہ گئی سر جھکا لیا اپنے والدین کے فیصلے کے آگے جھک گئی -

اب جئیں گے دونوں اپنا اپنا مقدر اپنی مرضی کے خلاف کے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں لیکن کیا یہ دونوں وہ خوشی حاصل کر پائینگے زندگی سے جس کے خواب دیکھے تھے دونوں کی آنکھوں نے وہ بھی پورے وظوق پورے یقین کے ساتھ کہ ان کی زندگی کے فیصلے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو گی کوئی ایسے رشتوں سے انکار نہیں کرتا قسمت والوں کو ملتے ہیں اچھے رشتے آج کل تو ویسے بھی اچھے رشتوں کا کال پڑا ہے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں لوگ ایسے رشتے مگر نصیب مقدر قسمت سب کے دٰعوے اور خوش فہمیوں کو کھا جاتے ہیں چاٹ جاتے ہیں اور پھر انسان سوچتا رہتا ہے کیا تھا جو یوں ہوتا اور یوں نہ ہوتا تو کیا۔۔۔۔۔۔؟

زندگی گزر جاتی ہے وقتے گزر جاتا ہے اولاد بھی ہو جاتی ہے شادیاں بھی ہو جاتی ہیں لیکن اپنی محبت نہ پانے کا احساس زندگی بھر انسان کی دل میں خلش بن کے چبھتا رہتا ہے اور سچی خوشی سے محروم ہی رہتا ہے محرومِ محبت ہمیشہ زندگی میں واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں کہانیاں جنم لیتی رہتی ہیں لوگ کبھی جیتے جی مرتر ہیں اور کبھی مر مر کے جی رہے ہوتے ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ کیا اپنی پسند سے اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کرنا ایسا جرم ہے کہ جس کی سزا جسکی تکلیف انسان تاحیات سہتا رہتا ہے-

کہانی تو ختم ہو گئی لیکن میرے ذہن میں یہ باتیں گردش کر رہی ہیں کئی روز سے یہ سوال ذہن میں ابھر رہے ہیں-

جو آج نظرِ قارئین کرنے کی جسارت کی ہے ملاحظہ کیجیئے

یہ اتنی بڑی خطا تو نہیں کہ کوئی تعلیم یافتہ خاتون اپنی پسند سے شادی کا اظہار کر دے لیکن اس کے لئے تو خطا بن گئی اسے تو گمان بھی نہ تھا کہ اس کے گھر والے بیٹی کے لئے اننے اچھے خاندان کے برسر روز گار مذہبی اور شریف لڑکے کے آئے ہوئے رشتے کو یوں رد کریا جائیگا ناصرف انکار بلکہ لڑکے کے گھر والوں کو دوبارہ رشتے کی بات کرنے پر لڑکے کے خلاف پولیس میں رپورٹ کروانے کی دھمکی اور یہ کہنا کہ ایسا کرنے کے لئے ہماری لاشوں سے گزرنا ہوگااور بیٹی کو دی گئی تمام سہولیات اور مراعات سے محروم کردینا موبائل فون لیپ ٹاپ واپس لے لینا ایم اے پاس لڑکی جو کہ اب ایک استاد کی حیثیت سے اسکول میں فرائض انجام دے رہی تھی اسکول کا سکول چھڑوا دینا کیا کوئی لڑکی کے احساسات و جذبات کی کیفیت کا اندازہ کر سکتا ہے کہ جو اپنے حق سے آگاہی کا شعور رکھتے ہوئے اپنے حق کا اظہار نہ کر سکتی ہو بیٹی کی مرضی کے خلاف جبراً خاندان میں رشتہ طے کر دیا گیا تو کیا لڑکی خوش رہسکے گی تا عمر کیا عمر کے کسی حصے میں شاکی نہ ہو گی اس فیصلے پر جس سے رشتہ کردیا جانا کیا بھول پائے گا لڑکی کا شوہر یہ بات کبھی کہ اس کی شریک حیات یونیورسٹی میں کسی کو پسند کرتی رہی ہے اور شادی کی خواہشمند بھی رہی ہے ۔۔۔؟کیا بھول پائے گی اپنی پہلی محبت کو جب کہ رشتے سےانکار کی ماسوا اس بات کے کہ لڑکا اور لڑکی میں پسندیدگی ہو گئی -

لڑکی نے لڑکے سے درخواست کی کہ مجھے یقین ہے میرے والدین کو کوئی احتراز نہیں ہو گا کیونکہ لڑکا ذہین حافظ قران نیک شریف اسلامی سکالر ہے اور اب فارغ التحصیل ہونے کے بعد پنجاب کی ایک مشہور یونیورسٹی میں بطور پروفیسر درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہا ہے گھر بار بھی اچھا ہے دو بہنیں ڈاکٹر ہیں دو چھوٹے بہن بھائی بھی اعلٰی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جب کے والد بھی ایک مشہور کمپنی میں اعٰلی عہدے پر فائز ہیں معاشی اعتبار سے کوئی کمی نہیں تعلیم یافتہ مہذہب گھرانہ ہونے کے باوجود محض اس بنا پہ رشتے سے انکار کر دینا کہاں کا انصاف کیسی محبت اور کیسی شریعت ہے جبکہ ہمارے مذہب میں بالغ لڑکا لڑکی با اختیار ہیں اپنی پسند سے شادی کرنے کے لئے گھر والوں کی رضا مندی سے ۔۔۔کاش کے گھر والے اپنی اولاد کی خوشی پر راضا مندی ظاہر کر دیا کریں تو کافی حد تک اپنی اولاد کا مستقبل خوشگوار دیکھ سکتے ہیں اگرچہ آگے کے حالات اور قسمت کا کچھ پتا نہیں لیکن بخوشی اپنی اولاد کو اگر اولاد کی پسند واقعی قابل رشک ہو قابل قبول ہو تو ایسی جگہ رشتہ کرنے میں پس و پیش نہیں کرنا چاہئیے والدین کے لئے اولاد کی خوشی اور اولاد کے لئے والدین کی رضا مندی دونوں کے لئے ہی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے کاش کہ بخوشی راضی ہو جاتے اس کے والدین تو آج وہ اپنی شادی کے دن صرف والدین کے گھر سے رخصت ہونے پر آنسو نہ بہاتی بلکہ اپنی من چاہی خوشیوں کو پانے کے خیال سے بھی اس کا دامن دل بھرا ہوتاپر اس کا یہ جرم اس کے لئے خطا بن گیا جسکی پاداش میں اس سے بہت کچھ چھین لیا گیا مسکراہٹ سچی خوشی محبت بھرم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس ایک خطا بن کے رہ گئی اس کی یہ آرزو کے اپنی محبت کی شریک حیات بن سکتی ۔۔۔کاش۔۔۔؟
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 8918 Print Article Print
About the Author: uzma ahmad

Read More Articles by uzma ahmad: 265 Articles with 240555 views »
Pakistani Muslim
.. View More

Reviews & Comments

تمام قارئین کی قیمتی آرا کا بیحد شکریہ درجہ بدرجہ
خوش رہیں سلامے رہیں اللہ راضی ہو سب سے
By: uzma, Lahore on Apr, 22 2015
Reply Reply
0 Like
سلامت رہیں
By: uzma, Lahore on Apr, 22 2015
0 Like
aslmao alkum all
insan ka mehant ka be dakal hai zindagi mian magr shadi se mutlaq log jo kehaty hain ki jory asmaon pe bantay hain 100 % dursat hai is baat pe kamal yaqeen rakna chaly jo hum sochatian hain huo skata hai baziahr wo sahi lagay magar allah ke nazdak wo sai na huo so allah be barosa rakay allah karam karay ga.
mri_balti
By: m rizwan, bahawalpur on Sep, 24 2013
Reply Reply
0 Like
aslamo alecom all respected people and brother and sister
meri to ray ye ha k islam humain ijazat deta ha apni marzi se shadi karne ka halat se majbur ho jati ha larki jo shadi karti ha
halana ke shadi ak bar hoti ha is liye soch samaj k faisly karne chaye
agr daikha jay to aaj kal ka pyar kisi kam ka nahi ha bs dikhawa hota ha is liye shadi k hawaly se mai ye kahu ga larky or larki ko haq ha faisla karne ka woh apni marzi se sathi chuny agr larki ki marzi k begair us ki shadi tey kar di jay to ye larki per zulam ha uski raza mandi puch leni chaye ku k zindagi larki or larky ne guzarni hoti ha
By: asghar, khanpur on Sep, 05 2013
Reply Reply
0 Like
Mare kheal ke mutabiq yeh sab kuch insan ke apni marzi karne ur apne marzi ke pechay bagne ur use pura karne ka natija hai. Islam main pahli baat to yeh hai k hamin apne achi ur buri qismat par iman lana hota hai who Allah ki tarf se hai. Agar aap se ne emane musafil para hai to us main saaf saaf lika hai k main iman laya achi ur buri qismet par jo Allah ki tarf se hai.
Agar insan apne aap ko Allah ki marzi ke mutabiq dal lay to per sawal hi peda nai nai hota ke haam gaam main jeain. Rahi baat ak dosre ko pasand karne ki to yeh koi buri baat nai lakin Allah ne Raz posheda rakne se mana kia matlab yeh ishiq ur muhabat k chakar calane se . Ur agar bil farz hamin koi pasand a b jata hai to ham ko foran use apne gar walu ko btana chaeay ta ksi bare nuksan se bacha jae ur hamre waldain ko b chaeay ke shadi bea k moqe par ham apni beateo ki marzi ka khas keal rakain . Islam bati ki marzi ke begar nikha ko galat qarar deta hai. es main man bap ur bachon ko dano par zimadari aidh hoti hai.
By: Najeeb Shaukat, Islamabad on Sep, 04 2013
Reply Reply
0 Like
Muhtram Azeem Bhae
i bilkul lekin jantai huway bhi beshtr log ye mantai nahi iss haqeeqat ko taslim krnai se gurezaN he rehtai hain bRhtay huwey masael apni ankhon se dekhnai k bawjud bhi
buht shukria aap ki qimti ara k lye
By: Faraz Tanvir, Lahore on Sep, 02 2013
Reply Reply
0 Like
yes i am agree with u faraz sb its so impressive
By: Mohammad Farooq, kasur on Aug, 29 2013
Reply Reply
0 Like
Buhat shukria Janab Muhammad Farooq Sb
By: Faraz Tanvir, Lahore on Sep, 02 2013
0 Like
in tamaam artical parhne mai muje bhut dar laga k kahi in mai kufaryaat na ho plz ap tamaam apni atraaz or apni maalumaat ko aik baar darul efta ehle sunnat se puch li ji yai ga k kahi ham apne kisi jumle ki waja sekaafir to nai ho gae plz plz plz

By: YOUSUF QADRI, KARACHI on Aug, 20 2013
Reply Reply
0 Like
JAZAKALLAH
BUHAT SHUKRIA JANAB YOUSUF QADRI SB
By: Faraz Tanvir, Lahore on Sep, 02 2013
0 Like
hamari society mei ye b bre masala hai agr larka larki ki shadi ho b jaae to tab b log batein banate hain aur agr ye pta chal jaae k larki kisi larka ko pasand krti tab b............ lykin muhabbat jese moaamloo mei apne dil ki suni chahiye.......................but anyway nice article faraz tanvir bhai
By: Marvi***, Karachi on Aug, 10 2013
Reply Reply
0 Like
ji aap ne dusarut frmaya
buhat shukria Respected Sister Marvie Saheba
By: Faraz Tanvir, Lahore on Sep, 02 2013
0 Like
برادر فہیم ! چند برس قبل ہم نے خواتین کی نا محرم مرد استاد سے حصول علم کی حرمت کی بابت مستند علمائے کرام سے استفسار کیا تھا ان کا جواب تھا کہ پردے کے ساتھ جائز ہے ۔ دیگر مسائل و معاملات کو بھی اجتہادی قرار دے کر بڑی گنجائشیں اور رعایتیں نکال لی گئی ہیں اگر انہیں غلط مان لیا جائے تو پھر علماء سے بڑا منافق اس دور میں کوئی اور نہیں ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas,USA on Jul, 29 2013
Reply Reply
0 Like
merai mohtaram islami bhai ab is article ko ap parhain dobara ismain kahin pardey ka zikar hai?matlab ek bat apney khod man li in satoor main k pardey k sath jaiz hai beparda na hoon
thik main nai is article main yehi bat nishandahi kari k bepardigi ki wja sai isqh e mijazi yani karam isqh (larkey larkiyun ka )parwan charta hai
dosri bat apne kehi k pardey k sath jaiz hai
is k liyan main ek ajib hikayat byan karta hun jo main nai khod shaikh zulfiqar naqsbandi shb sai suni waqiya bhit mashoor hai mjhai sanad yad nahi per waqiya ko sanad yani refrence ki zarorat nahi
hazrat musa alleh salam nai ALLAH sai mulaqat ka motalba kyun kara?ALLAH k bar bar mana karney per unki zid kyun barti gai ?or dosra ALLAH sai ksi or rasool ya nabi nai unko dunya mian apni ek jhalak dikhlanai ki khowahish kyun nahi kari ?hazrat musa alleh salam ALLAH sai mustaqil bunyad per humkalam hotey thai go k unkey or ALLAH k darmiyan parda hail tha per insan honey k natai bashri taqazai k tehat ALLAH sai milney ki famaish kri kyun k wo ALLAH ki awaz suntai thai to unko apney MEHBOOB ko daikhney ka shoq hua or ALLAH sai zid kar bethey
yani humkalam honey ki waja sai
or ksi nabi nai ALLAH sai mustaqil kalam nahi kara jbhi ksi nabi nai ALLAH sai mulaqat ki wish zahir nai kari
to is sai ek bat ki wazahat hoi k pardey sey bhi koi awaz insan sunai ga to usko daikhnai ki talb hogi bhalai wo 7 asman k fasley per ho or jo perdey main saney hi ho to kya usko daikhney ka dil nahi karey ga?or mjhai ye batai hoi nihayat sharam seh kehna par raha hai k bhot sai madaris main inhi osolon ko apna ker khawateen ko pardey sai talim di gai or woi kharafat ka shikar hoi yani haram isqh ka isi waja sai bhot sai banat k madaris ap orteen chala rahin hain un main mardooon ka koi dakhal nahi
or chalain apki bat bari kar laitain hain agar diyai gai article main agar padra hi hota to shayad isqh parwan na chartah to main nain apney pehlai comments main isi taraf isharah kara tha k na hoga bepardigi oryani fahashi ka bans na bajai gi haram isqh ki been
By: mirzafahimbaig, karachi on Aug, 01 2013
0 Like
ویری نائس بہت اچھا لکھا ہے میں بھی ان سوالوں کے جھرمٹ میں پھنسی ہوئی ہوں کہ ایس صورت مین ایک لڑکی کو کیا کرنا چاہیے بیٹی ہونے کا فرض ادا کرے اور ساری عمر سمجھوتا کرتے اور سسکتے گزار دے یا جو اسلام نے بھی اسے حق دیا ہے اس حق کا استعمال کرے۔۔
آپ کے ارٹیکل نے میرے کچھ سوال کلیئر کر دیئے لیکن کچھ میں میں پھر سے الجھ گئی ہوں۔
By: pakiza, Montreal on Jul, 29 2013
Reply Reply
0 Like
بہت شکریہ پاکیزہ بہن آپ کے تبصرے کا وقت کیساتھ ساتھ یہ سوالات بھی کلئیر ہو جائیں گے یا پھر کسی عالم سے کنسلٹ کر لیجئے بہت ممکن ہے کنفیوژن دور ہو جائے الجھن دور ہو جائے
By: Faraz Tanvir, Lahore on Sep, 02 2013
0 Like
اللہ کسی کو ایسے مایوس کن حالات میں نہ ڈالیں۔۔ آمین
By: malik sheraz, London, UK on Aug, 07 2013
0 Like
آپ کے اپنے دِل کی گواہی آپ کی الجھن کا جواب بھی ہے اور سلجھاؤ بھی۔۔۔ذرا سا غور کر کے دیکھئے خانہء دِل میں پوری ایمانداری اور سچائی کے ساتھ جھانکیے دل سے پوچھئیے یقیناً تسلی بخش جواب مِل جائیگا آپ کو اور امید ہے کہ آپ کی الجھن بھی سلجھ جائیگی
By: (......), Pakistan on Jul, 31 2013
0 Like
WALEDAIN, MAA AUR BAAP, YEH BHOOL JATE HAIN KE ALLAH NE AULAAD KHAS KAR LADKIYAN ALLH KE AMANATH HAIN, RISHTEY TO ALLAH PEHLEY HE HAR EK KE MUQADDAR MAIN LEKHDETA HAI . TAB HE TO HAR EK KO US KI CHAHATH NASEEB NAHE HOTI . RAHE MAA BAAP ,UN KO TO CAHHEYA KE WOH AMEEN BANAY AUR AMANATH DARI KA HAKH ADA KAREEN, MAGAR AJEEB BAATH HAI WOH KHUD KHUDA BAN JATE HAIN AUR ALLAH KE MARZI PAR AMPNI MARZI THOP KAR AMANTH MAIN KHIYANATH KARNE KA JURM KAR BAITH THAY HAIN , HALANKEY AKHIR MAIN ALLAH HI KE MARZI CHALTI HAI PAR WOH GUNAHGAAR BAN JATI HAIN. ALLAH HAMEEN NAIK TAUFEEK ATA FARMAYE AUR AMANTH DAAR BANE RAHNE KI HIDAYTH ATA FARMAYE AMEEN.
By: ABDUL RAHMAN, BANGALORE INDIA on Jul, 27 2013
Reply Reply
0 Like
حرام اور حلال میں تمیز کے لئے ہی سوال کیا ہے کہ حرام طریقہء کار کے ذریعے حاصل کی گئی تعلیم و تربیت کے ثمرات سے فیض اٹھانا اور کافروں اور مشرکوں کی ایجادات و مصنوعات استعمال کرنا حرام کیوں نہیں ہے؟ اگر فتوے ہماری ویب پر جاری ہوتے ہیں تو ان کی صراحت بھی انہی صفحات پر کی جائے ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas,USA on Jul, 16 2013
Reply Reply
0 Like
فہیم بھائی! ایجوکیشن آرٹیکلز کی کیٹیگری کے تحت ایک تحریر شائع ہوئی ہے " اسکول اور مدرسے کی جنگ " کے عنوان سے وہ آپ ضرور پڑھئے حصول علم کی نوع کے حوالے سے آپ کو جو غلط فہمی ہے شائد دور ہو سکے ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas,USA on Jul, 30 2013
0 Like
bat article per thi to main nai jahan tak sahi ilam tha bata dya k gher mehram sai ksi kisam ki talim hasil karna haram hai
or rehi bat rana sahab apkai sawal ki wo main araz karunga thori mehnat karain or ksi mofti ya alim sai sawal karain hum jahil ek dosrai sai behas main lag jatain hian sahi bat ka ilam hota nahi or phr behas ki waja sai dil kharab hota hai
or rahi bat fatwai ki to maf karyai ga main nai koi fatwa nahi diya or na main nai din main koi nai bat banai balkai main nai din ki bat batai jo is khaksar k ilam main aye olma e akram k faiz sai bad ALLAH k fazal sai
hadis hai jiska mafhom hai ilam hasil karna her musalman per farz hai dunya ka ilam nahi din ka ilam is sai morad hai paki na paki farz wajibat sunat wagaira ka ilam na k metric inter bsc etc ka ilam ye sub hunar k zumrai main ata hai or phr apko kehdun ye main nain fatwa nahi diya or iski misal choti si hai ye k agar koi shaks mar jai to qabar main us sai ye sawal nahi hoga k metric ka certificate dikho inter ka ya xyz us sai uskey rab ka or oskey din ka pocha jata hia
khair ap bhi thori zehmat karain or ksi alim sai pochain unkai pas yaqinan apkey sawal ka jwb hoga meharbani kar k ap pochain or mjhai bhi batain wo kya farmatain hain
or khudara din main behas sai guraiz karain behas alim k liyain rehmat or awam k liyain zehmat hai
domestic masrofiyat der sai reply ka sabab bani
By: fahim baig, karachi on Jul, 27 2013
0 Like
afsos hota hai society nay taleem yafta ka laqab tou hasil kar liya magar apni farsudgi nahi chori.
your aarticle is real face of our society
By: uzma mumtaz, Hyderabad pakistan on Jul, 09 2013
Reply Reply
0 Like
ji durust frmaya sister aap ne
buht shukria
By: Faraz Tanvir, Lahore on Sep, 02 2013
0 Like
بہت عرصہ بعد فراز تنویر تمہاری تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے تم نے وہی باتیں بیان کی ہیں جوکہ میرے دل کی آواز ہیں؟ ہم محض نام کے ہی مسلمان رہ گئے ہیں ، محض چند اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں اور دوسرے فرقے کے لوگوں سے مطلب کے سوا تعلق نہیں رکھتے ہیں اور شادی جیسے مقدس فریضے کو بھی ہم لوگوں نے کاروباری ذہنیت کے طرح سوچا ہواہے دین کی تعلیمات کے مطابق سیرت،اخلاق اور خاندان کی بجائے کچھ اور دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے ہیں کہ ہمارے مذہب نے پسند کی شادی کا حکم مرد اور عورت دونوں کو دیا ہوا ہے مگر ہم نے اس کو اپنی انا اور مذہب فرقے کی بنیاد بنا لی ہے ،آج نہیں تو کل ضرور اس کا حساب اس ذات کے دربار میں دینا ہوگا جو انصاف کرنے والا ہے اور تب ایسے لوگوں سے اس بات کا کوئی جواب نہیں بن پائے گااور وہ سخت عذاب میں مبتلا ہونگے جو کہ اسلام کی تعلیمات کو غلط طور پر استعمال کرتے ہیں ہر کسی کو اپنے عمل کا حساب دینا ہوگا؟؟؟
By: ZULFIQAR ALI BUKHARI, Islamabad on Jul, 06 2013
Reply Reply
0 Like
السلام و علیکم برادر محترم صحیح تجزیہ کیا ہے آپ نے بہت شکریہ آپ نے تحریر کو پڑھا اور اپنی قیمتی آرا و تبصرہ پیش کیا
By: Faraz Tanvir, Lahore on Sep, 02 2013
0 Like
برادرم مرزا فہیم بیگ صاحب! آپ چاہیں تو ہمیں جاہل مطلق بھی متصور کر سکتے ہیں کیونکہ جید و مستند علمائے کرام کا بھی اجتہادی مسائل پر اتفاق رائے نہیں ہے ۔ استاد کا درجہ باپ کے برابر ہوتا ہے وہ کوئی نامحرم وغیرہ نہیں صرف استاد ہوتا ہے ۔ ابھی ہمارا سوال ہے کہ کیا حرام طریقہء کار کے ذریعے حاصل کی گئی , عورت کی تعلیم , قابلیت اور مہارت سے فائدہ اٹھانا اور اپنے معاملات و مسائل کے حل کے لئے اس سے رجوع کرنا حرام نہیں ہے؟ علمائے کرام کے گھر کی خواتین کو جب کوئی طبی مسئلہ لاحق ہوتا ہے تو وہ کیوں کسی لیڈی ڈاکٹر کا پتہ کر کے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں؟ یہ تو وہ عورت ہے جس نے نامحرم ہم جماعتوں کے ساتھ نامحرم استادوں سے پڑھا ہے اور اب بھی پیشے کے حوالے سے نامحرم اشخاص سے واسطہ رابطہ رہتا ہے ۔ تو پھر یہ علماء اس لعنتی جہنمی عورت کی محتاجی سے نجات کا کوئی توڑ کیوں نہیں نکالتے؟ نامحرموں کی سربراہی و نگرانی میں کام کرنے والی عورتوں کے ہاتھ سے تیار کردہ ملبوسات و دیگر مصنوعات استعمال کرنا مردوں پر کیوں حرام نہیں ہے؟ کھیتوں کھلیانوں میں نامحرم مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے والی عورتوں کے ہاتھ سے تیار کردہ اناج سے پکا ہؤا کھانا کھانا حرام نہیں ہے؟اور تو اور اس پورے انٹر نیٹ کو چلانے والے عملے کی اچھی خاصی تعداد خواتین ماہرین و کار کنان پر مشتمل ہے جن کو تربیت نامحرم استادوں نے دی تو کیا اس انٹرنیٹ کا استعمال حرام نہیں ہے؟ مطلب صرف یہ ہے کہ حرام تعلیم و تربیت کے ثمرات سے فیض اٹھانا حرام کیوں نہیں ہے؟ وہ کیونکر جائز ہو جاتا ہے؟ عورت کی اعلا تعلیم کے خلاف بڑھ چڑھ کر فتوے تو صادر کئے جاتے ہیں مگر پاکستان جیسی اسلامی مملکت میں نکھٹو نکمے جؤاری ہیروئنچی نام نہاد شوہر اپنی بیویوں کو زبردستی باہر بھیج کر ان سے محنت مزدوری کراتے ہیں ان کی کمائی کھاتے ہیں پھر انہی کے ناک کان کاٹتے ہیں ان پر تیزاب پھینکتے ہیں انہیں جلا کر مارتے ہیں اس ظلم کو روکنے کے لئے ان علماء نے کیا کردار ادا کیا؟ کیا اسلام صرف عورت کے پردے اور مرد کی داڑھی اور شلوار کا نام ہے؟
By: Rana TBassum Pasha(Daur), Dallas,USA on Jul, 04 2013
Reply Reply
0 Like
merai bradran e islam bhai apnai farmaya k ustad ko maa ya baap ka darja equal hota hai apnai sahi farmaya lekin wo larki k liyain orat or larkey k liyain mard ustad ka darja hai
warna aj mashra apney usi gher mehram ustad ya ustani sahiba k haram ishq main kyun mubtila hai?
ek nai kai qisai hain k ustad k haram isqh main kai student mubtilah hain or kai ustad e karam apney student k ishq main mubtila hain
ap batain baap ka apni sagi beti ya maa ka apney sagai betai sai koi haram ishq ho sakta hai?koi arbo main sai ek nalaiq nikal aye to alag bat hai warna muslims main esa nai han usrad shagird k her shakh per ollo betha hai ki misdaq her jaga her gali mohalai main ye affair nazar ayengai
is shair ki misdak k jiski ibtida ho ghalat kaisai sahi ho uski intiha
khair main nai koi lambi chori behas nai karni bat woi k gher mehram ka parna parhana haram hai ek sath baqi apkey tamam sawalat to uskia liyain woi bat karunga k app ksi mustanad darul ullom sai mashwara karain wo apko mustanid or moddallil jwb farmain gai behas awam k liyain zehmat or olma k liyain rehmat hai

or apki education ka pochnai ka maqsad ye tha jaisai doctor sai dawai milti hai wakil sai qanoon samaj ata hai engineer engineering karta hai isi tarhan alim sai ALLAH milta hai humnai A 4 APPLE B 4 BOY parha hai or OLMA nai A sai ALLAH or B sai BISMILLAH parha hai hum nai hunar parha hai dunya kamania k tariqey parhai hain school main olma nai wo ilam parha hai jiska hukum ALLAH nai kara hai hamari talim MBA B,a PHD MBBS etc sub hunar hai yani dunya kamanai k tariqey ye haram ya mana nai per haqiqi ilam sai morad din ka ilam hai itna ilam her musalman per hasil karna her musalman mard or orat per farz hai k halal haram ki tamiz a jai
By: mirzafahimbaig, karachi on Jul, 06 2013
0 Like
zbrdast Halal aur Haram ka fatwa sadir krdena tau buht asan hai lekin amali taur pe aur haqeeqat mein halal o haram kia hai is ka kuchh pta nahi hota halal haram keh kr jina haram krdyna taraqi o kamyabi k rastai masdud kr dena bs yehi kam reh gaya hai bs in naam nehad fatwa sadi krne walon ka Islam k naam le kr bs drana aur paspa krdena agay baRhne waloN ko
Weldon Rana Tabasum sb
jio....
By: (......), Pakistan on Jul, 04 2013
0 Like
kisi ko pasand karna bura nai lakin muja yeah btain jo ollad apna maAn bapp sa itna pyarr karti ha k un ki marzi ya pasand sa shadi nai ker sakti. or jahan tak mashrea main begarr ki bat ha wo sb islam pa na chalna ki waja sa ha. islam na her cheez ki aik had mukerar ki ha . Allah ke Rasoul(SAAWW) KI MASALI ZINDAGI AP KA SAMNA HA . MORE THAN 80% MAAN BAPP KI MARZI OR 12%APNI MARZI SA KAMYAB SHADI GUZAR RAHAIN HAIN. ISLAM HI BEHTAREEN RASTA HA OR IS RASTA KE KHILAFF NA TO HUM JA SAKTA HAIN NA HAMAREA MAAN BAP.
By: HASEEB, BIRMINGHAM on Jun, 30 2013
Reply Reply
0 Like
BESHAK HR MUAMLE MEIN ISLAM AUR QURAN K TALEEMAT K MUTABIQ AMAL KRNA USWA E RASOOL SALLALAHO ALAIH E WASALM K MUTABIQ HR MUMAMLE KO NIBHANA HE BEHTREEN HAI KHAS TAU PR AIK MUSALMAN K LYE
KAASH K TMAM WALDAIN KHUD BHI AUR APNI OLAD KO BI DUNYAVI TALEEM K SATH SATH DEENI MALOOMAT KI FRAHMI K BHI ITNI HE DILCHASPI SE MAWAQAY FARAHAM KREN JITNI K DUNYAVI TARAQI HASIL KRNE K LYE DUNYAVI TALEEM K LYE KOSHAN REHTAI HAIN (AAMEEN) aisa ho jaey tau muashrai se bigaR ka yaksar khatmai ka imkan mutawaqa ho sakta hai
By: Faraz Tanvir, Lahore on Jul, 01 2013
0 Like
its caused by hypocracy of society.................................ghar walon ki marzi ki shadi se so kisam ke masail kharay hotain hain aaj kal.....................
By: azeem, lahore on Jun, 27 2013
Reply Reply
0 Like
larka larki ka ek sath makloot talim hasil karna haram hai or namehram sai parhna bhi haram hai
kisi ko atraz ho to mustand darul ullom sai rojo karai
quran pak ki roshni main ahadis ki roshni main makhloot talim haram hai or ye haram isqh ki amajgah hain yahin sai nai nasal main haram isqh ki parwarish hoti hai aj ktnai school colleges coching center badnam hain k wahan yehi haram isqh parwan char raha hai agar nazar ki hifazat kari jai or makhloot mahul sai bacha jai to na larkiyan agwah hon na bhaag kar court marrage karain
By: mirza fahim baig, karachi on Jun, 22 2013
Reply Reply
0 Like
mere bhai jb ap larkion ko un rights se bhi mehroom kr do gy jo unhein ALLAH ne diye hein to wo court nhi jaye gi to kahan jae gi,kiya aap us se court jane ka bhi haq cheen laina chahte hein? apne haq k liye larne ka bhi haq cheen laina chahte hein? aj hum na to islam k bataye hue raste pe chal rahe hein na hum pak k qanoon ko mante hein,bs apne he banaye hue farsooda rawajon k neeche pis rahe hein,baiti apne parents se apni psnd ki shadi ka izhar krti hai to uss k sth wo salook kiya jata hai k ainda kisi ki himmat nhi hoti aesa krne ki,angrez chale gaye pr aaj bhi humare ander se ghulami k jaraseem nhi gaye,k aaj bhi ya to log apne haq k liye bolte he nhi or agr bolein to society uska wo hashar krti hai k mat poocho..mirza bhai jb neumonia ki waja se fever hota hai to humein fever k treatment pe zor nhi daina chahiye,humein uss bacteria ko eliminate krna hota hai jo neumonia cause krta hai,fever khud bakhud theek ho jata hai,aap mujhe pakistan k har ghar ka mahol theek kr do or parents k ander shahoor paida kr do,mein guarentee daita hun k kidnapping bhi khatm ho jae gi or bhag kr court marriages bhi,co education ki misaal fever k jaisi hai ,ye aik bht chota masla hai,or humare mulk me pehle he education ki bht kami hai aap ye school colleges bhi bnd kr do gy to phir iss mulk ka ALLAH he hafiz hai,or pak k pas itna sarmaya nhi k larkey or larkion ko alag alag hr cheez provide kr sake,to humein yoon he guzara chalana hoga,sirf apne rawaiyon me tabdeelian laani hon gi,yoon fatweh dene ka time nhi hai ye,aqal k nakhun lo kuch...
By: Dr.Qazi Shoaib Rehman, Cienfuegos.Cuba on Jul, 26 2013
0 Like
rana sahab ap ki education kahan tak hai?
apki talim ?
By: mirza fahim baig, karachi on Jul, 02 2013
0 Like
اس بات کا مطلب ہے کہ یہ جو نوجوان لڑکے خواتین اساتذہ سے پڑھتے ہیں تو یہ بھی حرام ہے؟
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas,USA on Jul, 02 2013
0 Like
na mehram sai talim hasil karnai ka masla rana tabasum sahab ap ksi mustanad darul ollom sai pata karlain ksi chaltai phirtai molvi ya islamic scoler sai nahi ya TV k bikaou anker sai nahi wo khod haram kam kar rahain hain tv per a kar
khair kabab walon sai kabab milata hai pani walai sai pani milta hai methai walais sai mithai milti hai or ALLAH walon sai ALLAH milta hai ap pakistan k koi bhi mustanad madarsai sai online rabta kar saktain hain maslan AHSAN UL ULLOM MADARSAI BINNORIA JAMAI RASHIDIA YA DARUL OLLUM KORANGI K AREA sub apko farqai wariyat sai pak or quran o sunat ki roshni main jawab daingai
truetasawwuf.org/
ye website bhi visit kar saktain hain is websibte per haram isqh ka janaza nikala jata hai
By: mirza fahim biag, karachi on Jun, 28 2013
0 Like
مرزا صاحب! آپ کی بیشتر باتیں درست ھیں مگر یہ آپ کو کہاں سے پتہ چلا ھے کہ نا محرم سے پڑھنا حرام ھے؟
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas,USA on Jun, 25 2013
0 Like
ji koe ikhtelaf nahi .... bilkul durust maloomat faraham ki hain aap ne lekin waqt ko zmaney ko pichhay qarun e wusta k daur k hisab se kon chala paega kia makhloot taleem ya makhloot mulazmaton ka Nizam Islam dunia ya Khud Pakistan se makhdoosh kia ja sakta hai....aj k daur mein kitni laRkyaN aur laRkai hain jinhen kisi ko pasand krne ya na pasand krne se roka ja skta hai kitno ki nigah aur dil ko paband kia ja sakta hai aj k dor mein k na dekhain na sochanin na chahen kisi ko....agar aisa mumkin ho jaey tau khoob wgrna waqt aur halat k mutabiq Islami taleemat ki roshni ne dusra hl talash kia jana he iska behtr hl hai hr tarah ki sakhti pabandi k bawjud bhi ksi ka dil ksi pe istarah ajaey k wo kisi ko apna jewan sathi muntakhib krna chahye tau Islami shara k mutabiq pasand ki shadi ko 2 khandano ki bahimi razamandi se arrange merriage bna denai mein bhi kuchh qabahat nahi kia kehtai hain iss barai mein..... ??????
By: (......), Karachi on Jun, 25 2013
0 Like
its so sad real story, and its story Resemblance with my lift story. its my request to all parents plz plz plz read the thinking of your kids.
By: AZM, Lahore on Jun, 20 2013
Reply Reply
0 Like
well said Shahid bhai.... ap ne boht he sahi kaha ha
By: kaleem, Bahawal Nagar on Jun, 17 2013
Reply Reply
0 Like
Wa AlykumusSalam Wa Rahmatullahe Wa Barakatuhu,

Dear Faraz, I appreciate that you nicely tried to reply my comments and you have been quite decent in it. Being a muslim we have a touchstone to settle any dispute, it's Islam and only Islam, and the specialists of Islam are ULAMA (I am talking about authenticated Aalim who has a valid degree and relevant IFTAA experience, not just an ordinary HAFIZ, KHATEEB OR IMAM MASJID). If we are sick we go to medical specialists and ask for their opinion and we do not have debate with them that you are prescribing me a wrong medicine, same way we shall put any dispute to an (we can have more than one opinions as well) AALIM and seek his guidance. The issue of our society is that we will never ever debate with a doctor or a lawyer or an IT expert when we seek their advice on any issue for which they are experts, even if it is against our own ideas and thoughts, because we know that this person has a valid knowledge background and he knows better than myself. But when we discuss any issue with an AALIM to get Islamic perspective, very few of us will calmly accept his FATWA (advice) if it is against their personal concepts on the same issue, even though we know that this person has spent around 10 years in studying Islamic subjects and he has also done 2-3 years internsihpt with and Authentic MUFTI, and he knows much much better than us because he has spent his life in this field, but still we will not accept his words, we go to another MUFTI than another, but we rarely do this in case of a doctor or lawyer etc..

I am sorry I was a bit de-railed, but the point was that we have to NIP THE EVIL FROM THE BUD, just follow simple Islamic rules and do not let such love cases happen (i do agree with you that these likings are very natural that is why Allah has told us the ways HOW MAY WE AVOID SUCH CASES and control the situation before it becomes worse, as it was in case of your article's hero & heroine). This would not have happended if these two have been keeping their eyes low on the ground, as Allah Kareem says, and the gir not only does PARDAH but also studies in a girls college. Now if this professor sb. seek her rishta from her parents, they will certainly not refuse because now they know that their beloved daughter have not not broken their faith.

Once again I thank you, and pray for your success....
By: Shahid, Lahore on May, 20 2013
Reply Reply
0 Like
Assalam o
Alaikum Wa Rahmatullah e Wabarrakato hu.....
JAZAKALLAH
THanks again for your reply indetail ya i agree no more debate from me about this topic...but every one he or she talk about any subject according to his or her own mental approach and you have much more knowledge about Islam than me i really appriciated... yes aik Muslim k liye Islam se baRh kr kuchh nahi hona chahye tasleem hai ...kash k aisa mumkin ho jaey or ho b sakta hai k hm Musalman apne tamam muamlat mein Islami taleemat k mutabiq khud ko qaem rakh sakain tau msla he khtm ho jaey ye masael he jnm na lein jinki lapet mein aj hamara muashra hai...any ways i salute your Jehad jari rakhyega apna ye Qalmi Jehad
Stay Blessed Forever
By: Faraz Tanvir, Lahore on May, 21 2013
0 Like
Faraz as per writing is concerned, your article is good but I would say you are seeing only one side of the picture. You must put yourself in the shoes of the parents of that girl and then feel their feelings of being deceived by their daughter, whom they trusted blindly and allow her to be in a co-ed environment to gain knowledge, not to have affair with someone, the question of how good was they guy comes after that.

May be you are too broad minded to accept this, but her family background certainly does now allow such things.

Now see what our religion says, if we become good Muslims and have separate do not allow co-ed in our society, this would not have happened at all. Response of girls parents was not because she liked someone but because she broke her parents faith in her. I have got my masters degree from a co-ed institute as well and I am a witness of what happens there.

Islam does allow the girl to like or dislike someone but not in this way. The correct way is that girls parents would let her know about the boys whose parents have asked girls parents for wedding, and now girl can choose anyone of them or reject all of them on the basis of their personality, religiousness, income, attitude etc.....

Now if a girl select one of them to get married with, parents of both boy and girl would arrange a chance for them to have a look at each other so that they could see the appearance of their TO BE life partner, this can be done in some family event or else but it must not a meeting in loneliness. This would be the last step in this relationship because all other things, parents have already verified.

Hope you will honestly read, feel and rate my comments.
By: Shahid, Lahore on May, 15 2013
Reply Reply
0 Like
اسلام علیکم محترم شاہد صاحب
آپ کا تبصرہ پڑھا خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا آپ کی آرا کے لئے تہہ دل سے مشکور ہوں لیکن کچھ اور عرض کرنا ناگزیر ہے پیشگی معذرت اگر کوئی بات مزاج پہ گرں گزرے تو۔۔۔۔
آپ کے نظرئے سے کوئی اختلاف نہیں لیکن راقم کو تصویر جسقدر دکھائی دی اسی قدر پیش خدمت کر دی۔۔۔آپ کا تجزیہ و تبصرہ درست لیکن انسانی احساسات و جزبات کی بھی کوئی اہمیت ہوتی ہے ہمارے معاشرے کی اقدار ہمیں بہت سے مسائل سے محفوظ رکھتی ہیں لیکن کسی کے لئے پسندیدگی کے جزبات کا پیدا ہونا کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی غیر فطری ہے مخلوط اداروں کا ماحول راقم کے پیش نظر بھی ہے لیکن ایسا معاملہ سب کے ساتھ نہیں اورنہ ہی سب ایک جیسے ہوتے ہیں کسی کو چاہنا اور گھر والوں کی رضامندی سے پسند کی شادی کرنا معیوب نہیں والدین اپنی جگہ درست لیکن کوئی لڑکی کے گھر رشتہ بھیجنا چاہے تو مناسب اور موزوں الفاظ کے ساتھ رشتہ واپس کرنے کا حکم پے غصے اور جزبات پر قابو پانا بھی اسلام کی تعلیم ہے کسی لڑکی یا لڑکے کے والدین یہ عذر بھی بیان کر کے رد کر سکتے ہیں کہ ان کے خاندان سے باہر رشتہ نہیں کرتے معذرت کی جا سکتی ہے جبکہ اسلام میں خاندان سے باہر شادی کرنے کی پابندی نہیں مسلمان ہونا نیک ہونا شرافت ہونا تعلیم یافتہ ہونا معاشی طور پہ خوشحال ہونا یہی دیکھا جاتا ہے نا۔۔۔؟ ایک اور سوال کیا اچھے مسلمان اور نیک انسان پسند کی شادی کرنے کا حق نہیں رکھتے یا جو لوگ پسند کی شادیاں کرتے ہیں وہ نیک انسان یا اچھے مسلمان نہیں ہوتے ۔۔؟
اخبارات میں آئے روز آپ خبریں یقینا پڑھتے ہوں گے معاشرے میں کس قدر بگاڑ پیدا ہوتا جا رہا ہے خود کشی قتل و غارت گری نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں اضافہ پاگل پن کے دورے پڑنا ان سب کی وجوہات ظاہر ہے ۔۔۔۔ مذہب سے دوری مذہب ایک محدود زمانے کے لئے نہیں قیامت تک کے انسانوں کے لئے ہے اسلام کی تعلیم ہر زمانے کے لئے ہے ہر زمانہ سابقہ زمانے سے مختلف ہوتا ہے اور اس کے تقاضے بھی مختلف ہوتے ہیں بدلتے ہوئے زمانے کی اقدار و روایات سے خود کو محفوظ رکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہر زمانہ ہر معاشرت اپنے دور کے انسان کی زندگی پر لازمی اثر انداز ہوتی ہے اور یہ حقیقت بھی ہے تو ہر زمانے کے اعتبار سے ہی قرآن پاک کی تعلیم کے مطابق مسائل کا حل سمجھنا چاہئیے نہ کہ لکیر کے فقیر بن کے روایات اور وہ روایات جو اسلام کی نہیں بلکہ خود انسان کی اپنی پیدا کردہ ہیں جو انسان کو سہولت نہیں ذلت رسوائی ذہنی و جسمانی اذیت دینے والی ہیں فساد برپا کرنے والی ہیں انسان کو انسان اور انسانیت سے دور کرنے والی ہیں تقسیم کردیا ہے جنہوں نے انسان کو کئی فرقوں طبقوں گروہوں خاندانوں اور نسلوں میں تعصب اور کینہ پیدا کردیا ہے ایک دوسرے کے لئے دلوں میں خیر موضوع کی طرف ٓتے ہیں۔۔۔ زندہ درگور کرنے کا کیا مطلب ہے۔۔ محض زمین میں دفن کردینا انسان کا جزباتی قتل کسی کے احساسات آرزؤں تمناؤں کی موت کیا یہ زندہ درگور کرنا نہیں۔۔۔؟ آپ بھی کہیں گے فراز کہاں کی بات کہاں لے گئے یہ بحث بہت طویل ہے اسے یہیں چھوڑتے ہیں اگر کوئی بات کوئی بیاں مزاج پہ گراں گزرا تو معذرت اور اگر اختلاف ہے کسی بات سے تو بےدھڑک اظہار کر دیجئے گا
باقی واقعہ یا تحریر لکھنے کا جو بھی مقصد پیش نظر۔۔۔ ایک آرزو ایک حسرت ایک تمنا ہے کہ کاش دو محبت کرنے والوں کو ایک کرنے میں گھر والے راضی ہو جایا کریں جہاں اپنی اولاد کی اتنی خوشیاں اتنے ناز پورے کرتے ہیں وہیں ان کے جیون ساتھی کا انتخاب اگر وہ خود کرنا چاہیں تو ان کی مددگار بن جایا کریں اپنی اولاد کو بخوشی اپنے گھر سے برضا و رغبت راضی کر دیا کریں کم سے کم معاشرے کا کوئی مسئلہ تو کسی بگاڑ کے بغیر حل ہو جائے کسی کا مسئلہ تو بااحسن و خوبی خوش اسلوبی سے انجام پاجائے
باقی ہر انسان کا اپنا نظریہ ہوتا ہے زندگی محبت اور شادی کے معاملات کے متعلق جبکہ راقم کا انسانی احساسات و جزبات اور محبت کے متعلق اپنا ہی نقطہء نظر ہے جس سے آپ صاحبان اختلاف بھی کر سکتے ہیں اور اتفاق بھی باقی بندے نے تو جو دیکھا جو سنا جو محسوس کیا جو چاہا وہ لکھ دیا محض ایک انسان ہونے کے ناطے جو ٹھیک لگا
بہت شکریہ ایک بار پھر بطور آرٹیکل تحریر کو اچھا سمجھنے کا
ہمیشہ خوش رہیں اللہ آپ پر ہمیشہ اپنی رحمتوں کا سایہ قائم و دائم رکھے
By: Farza Tanvir, Lahore on May, 17 2013
0 Like
DiL Bahar aya Ye article Parh Kar But it Was Superb Nd Reality Of our society They Are Still Illiterate................. :(
By: Raaj, karachi on May, 14 2013
Reply Reply
0 Like
yes this is the reality of our society..............
Thanks for your compliments on article
Allah Bless you Always
By: faraz tanvir, Lahore on May, 15 2013
0 Like
Language: