|
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی امریکہ کی ایک ندی میں نر
ڈولفن مادہ ڈولفن کو اپنی طرف لبھانے اور حریفوں کو ڈرانے کے لیے پیڑوں کی
شاخیں، جھاڑیوں اور گیلی مٹی کا استعمال کرتے ہیں۔
محقیقین کے مطابق نر ڈولفن جب مادہ ڈولفن
کے ساتھ ہوتے ہیں تو وہ ان چیزوں کو انہیں اپنی طرف راغب کرنے کے لیے استمعال
کرتے ہیں۔ وہ مادہ ڈولفن کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے پیڑوں کی شاخوں اور
گیلی مٹی کو پانی پر تیز تیز مارتے ہیں۔ |
سائنس کے ایک رسالے ’بائیولوجی لیٹرز‘
میں محقیقین نے لکھا ہے کہ اس سے پہلے ڈولفن میں اس طرح کا برتاؤ نہیں دیکھا
گیا ہے۔
بوٹو یا نر ڈولفن جنوبی امریکہ کی دو ندیوں میں پائے جاتے
ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اب ان بوٹو ڈولفن کی تعداد کم ہورہی ہے۔
برطانیہ اور برازیل کے ایک رسرچ گروپ نے
تین برس تک ایمازن کے سیلاب زدہ جنگلی علاقوں میں ڈولفن کے محبت کرنے کے اس
انداز کا جائزہ لیا ہے۔
گروپ کے ارکان اور سینٹ اینڈریوز
یونیورسٹی میں ’سی میملز رسرچ یونٹ‘ کے ٹونی مارٹن کہتے ہیں ’سمندر میں یہ نر
ڈولفن رسمی طور مادہ ڈولفن کو راغب کرنے کے لیے لکڑی کے ٹکڑے، شاخیں لیکر
پانی میں کودتے ہیں۔‘
|
مارٹن مزید بتاتے ہیں کہ بوٹو یہ چيزیں اپنے منھ میں لیکر
اکثر پانی سے سیدھے اوپر اٹھتے ہیں اور پھر اسی زاویے پر پانی میں واپس چلے
جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نر ڈولفن مادہ کو اپنی
طرف راغب کرنے کے لیے ان لکڑی اور گیلی مٹی کو ٹکڑوں کو پانی پر مارتے ہیں۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نرمادہ میں غضب کا غصہ بھی پایا جاتا ہے اور اس بات کی
تحقیقات باقی ہے۔
پروفیسر مارٹن کے گروپ نے اس بات کو واضح
کیا کہ لکڑی اور مٹی کے ٹکڑوں کا استمعال صرف نر ڈولفن میں ہی پایا گیا ہے اور
یہ ان چیزوں کا تب زیادہ کرتے ہیں جب وہ مادہ ڈولفنوں سے گھرے ہوتے ہیں۔
|
|
مادہ کو راغب کرنے کی کوشش کرتے وقت نر
ڈولفن بہت جوش ہوتا ہے لیکن یہ کبھی نہیں دیکھا گيا کہ وہ غصہ میں اپنے نر
ساتھیوں کو مارتے ہوں۔
تین برس پہلے سائنسدانوں نے دریافت کیا تھا
کہ آسٹریلیا میں بوتل نما ناک والی ڈولفن ربڑ کے ٹکڑے لیکر یا تو کھانے کے تلاش
کرتی ہیں یہ اپنے حریف کوبھگاتی ہیں۔ لیکن ایسی کسی چيز کا استمعال محبت کے
اظہار کے لیے کیا جانا ایک نایاب تلاش ہے۔
مسٹر مارٹن کا کہنا ہے کہ ’میں نے سوچا تھا
کہ اس طرح کی بات دیگر جانوروں میں بھی پائی جاتی ہوگی لیکن جب میں اپنے دوستوں
اور ساتھ میں کام کرنے والوں سے بات کی تو پتہ چلا کہ صرف ون مانوس یعنی گوریلا
ہی ایسی حرکتیں کرتے ہیں لیکن وہ اتنے مہذب نہیں ہوتے ہیں۔‘!
یہ بات واضح نہیں ہوئی کے نر ڈولفن نے یہ
برتاؤ کب اور کیسے کرنا شروع کیا۔ڈولفن بول کر بات چیت کرتے ہیں اور کہا جا
سکتا ہے کہ بعض حرکتیں کرکے وہ اپنی مادہ ڈولفن کو بہتر طریقے سے لبھا سکتے ہیں
اور حریف کو ڈرانے میں بھی مدد ملتی ہے۔
دنیا بھر میں ڈولفن کی تعداد دھیرے دھیرے
کم ہوتی جارہی ہے۔ چین کی بیجی ڈولفن گزشتہ دو برسوں میں تقریباً ختم ہی ہوگئی
ہے جبکہ جنوبی افریقہ کی انڈس اور بلائنڈ ریور ڈولفن کی تعداد کم ہوکر 3 ہزار
رہ گئی ہے۔ اس کے برعکس جنوبی امریکہ کے ایمازون اور اورینیکو ندی میں رہنے
والے ڈولفن اچھی حالت میں ہیں اور صحت یاب ہیں
|
|