نہیں لیتے کروٹ مگر اہل کشتی

یہاں جمعے کے جمعے خشوع و خضوع کے ساتھ جب یہ دعا کروائی جاتی ہے: اللھم انصر المجاھدین فی الشام....تو کسی کے لبوں پراس قسم کے الفاظ مچلنے لگتے ہیں: بالملائکة الامریکیین و اشتراک السعودیین۔ کہ حقیقت تو یہی ہے ، بشرطیکہ کوئی غور و فکر اور تدبرسے کچھ شناسائی رکھتا ہو ۔

انکل سام کتنا اچھا اور رحم دل ہے کہ دنیا میں کہیں بھی ناانصافی نہیں دیکھ سکتا۔ شامی عوام کو بشار الاسد کی چیرہ دستیوں سے بچانا چاہتا ہے بے چارہ۔۔۔۔لگتا بھی یہی ہے اور انکل سام چاہتا بھی ہے کہ ایسا ہی لگے ۔

قارئین ! یہ تو ہے ظاہری پروپیگنڈا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سارا زور صرف اور صرف بشار الاسد جیسے کانٹے کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لئے کررہا ہے۔ Arab Spring کے نام سے جاری اس کا ایجنڈا ، عراق ، لیبیا ، مصر میں اب تک کامیابی سے چلتا رہا ہے ، مگراب بشار اس کے گلے کی ہڈی بن گیاہے۔دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے شام کے حالات کیاپہلے سے اس قدر بھیانک تھے یا اب امریکہ کے ناپاک قدم رکھنے کے بعد ہوئے ہیں؟

عرب ممالک میں بادشاہت کا خاتمہ اور اپنی من پسند حکومتیں قائم کرواناسام راج کا پرانا خواب ہے۔ پروپیگنڈے کا سارا زور اس بات پر ہے کہ شاہی حکومتیں بہت ظالم ہیں۔۔۔ سوال یہ ہے کہ وہ ظالم ہیں یا نہیں۔۔۔اس نے کیوں ٹھیکہ لیا ہوا ہے وہاں انصاف اور امن کا؟ حالانکہ اس کا مکروہ کردارتو سب پہ عیاں ہے۔
جہاں میں دہشتوں کے امیر بن کر
علم امن کے اٹھا رکھے ہیں

شامی باغیوں کو امریکی ملائکہ کی بھرپور امداد کے باوجود بشار کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔بھرپور پراپیگنڈا مہم چلا کر اسے عین اسلامی جہاد کا ثابت کیا گیا ۔ باغیوں کی تاحال دامے ، درمے ، قدمے ، سخنے مدد جاری ہے ۔ انہیں مجاہدین کا نام دیا گیا۔ یہاں تک کہ امریکہ کی جانب سے شام میں القاعدہ کی کاروائیوں کی بھی حمایت کی گئی۔ سب سے زیادہ نقصان کس کا؟ بے گناہ معصوم مسلمانوں کا۔۔۔مسلمانو! کب سمجھو گے کہ اس سارے کھیل کے پیچھے خون آشام بھیڑا کون ہے؟

سعودی شیوخ ، دامت فیوضکم ! یہودو نصاریٰ کو دوست نہ رکھنے کے احکام خداوندی تو تم لوگ عرصہ ہوا بھول چکے۔۔۔۔لگے رہو مگر یاد رکھئے گا کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟!۔ لگتا ہے اقبال نے یہ شعر آپ لوگوں کے لئے ہی کہا :
تجھے اپنے آباءسے نسبت ہو نہیں سکتی
تو گفتار وہ سیار ، تو ثابت وہ سیارہ

امریکہ فقط اپنے مفادات کا یار ۔۔۔۔اپنے فائدے کی خاطر وہ دوست بھی بن جائے گا اور دشمن بھی۔اس کی دوستی اچھی نہ دشمنی۔اپنے فائدے کے بعد وہ ہر کسی کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکتا ہے۔اگر مکھی پرویز مشرف کی طرح بعد میں بھی اسی کے نام کی مالا جھپتی رہے تو ٹھیک ۔ اگر مکھی اس کے مفاد کے خلاف .... پر پرزے نکالنے کی کوشش کرے تو ضیائ،صدام ، اسامہ وغیرہ کی طرح اس کا سرہی کچل ہی ڈالتا ہے۔

جو شروع دن سے شیروں کی طرح ڈٹ جائے،دھونس دھاندلی ، لالچ سے بھی جسے خریدنا ناممکن ہوجائے تو اسے گہری سازشوں کے ذریعے انتہائی بھیانک اندازسے نشانہ ¿ عبرت بنا ڈالتا ہے۔جیسے عزت مآب شاہ فیصل، مسٹرذوالفقار علی بھٹو ،معمر قذافی وغیرہ۔

ایک لمحے کو غور کیجئے ....1974کی تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس ، لاہور ....عالم اسلام کی جرات مند قیادت کے چیدہ چیدہ ، سامراج دشمن عالمی رہنما کہاں گئے؟ وہ جیسے بھی تھے ....کچھ شک نہیں کہ امریکی مفادات کے خلاف مسلم امہ کی بھرپور طاقت تھے ۔صد افسوس ! مخلص ، سامراج دشمن لیڈران قوم سب دشمن کی بے پناہ سازشوں کی بھینٹ چڑھا دیے گئے۔اگر مسلمانوں میں شروع دن سے میر جعفر و میر صادق نہ ہوتے تو کفار کبھی بھی اپنی سازشوں میں کامیاب نہ ہوپاتے۔

سوال یہ ہے کہ ہم اس وقت دشمن کا مقابلہ کس طرح بھرپور انداز میںکریں !؟ ۔۔۔۔پہلے ذرا چالاک دشمن کی چالوں کو دیکھئے:
سامراج نا صرف ہمارے مذہب سے اچھی طرح واقف ہے بلکہ وہ ہمارے مذہبی جذبات سے بھی بھرپور ٓگاہی رکھتا ہے۔ان مقاصد کے لئے اس کے ہاں سینکڑوں تھنک ٹینک شب و روز کام کررہے ہیں ۔ مسلمان ممالک میں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر سادہ لوح مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنا اس کا پرانا وطیرہ ہے۔سامراجی ممالک میں کئی ایسے خفیہ ادارے موجود ہیں جہاں مسلمانوں کے تمام مسالک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہاں سے فارغ التحصیل سینکڑوں ایجنٹ ، بظاہر مسلمانوں کے بھیس میں، ان کے ساتھ گھل مل کر اختلافات کو ہوا دینے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں ۔

امریکہ جو کچھ زبان سے کہتا ہے ہم اس پربلا سوچے سمجھے ایمان لے آتے ہیں ۔۔۔ بین السطور سمجھنے کی ہم نے کبھی دانستہ کوشش ہی نہیں کی ....یا پھر ہمیں اس قدر شعور ہی نہ دیا گیا ۔ہم مذہبی فریضہ سمجھ کر ایک کام کررہے ہوتے ہیں مگر دراصل سامراج کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہوتے ہیں ۔ اس کام کا حسب توقع نتیجہ ....سامراج کی جھولی میں پکے ہوئے پھل کی طرح گرتا ہے ۔اس ہمہ جہت مکروہ کھیل کی ایک مثال شیعہ سنی اختلافات کی روز افزوں بھڑکتی آگ ہے ،جس پر امریکہ بہادر اور ایک عرب ملک ہر طرح سے تیل گرا رہے ہیں ۔جس کے بھیانک نتائج طشت ازبام ہیں۔

گھناؤنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر ساری پروپیگنڈا مشینری اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ ہر شعبے میں زوال پذیر مسلمان اس قدر شعور و آگہی رکھتے ہی نہیں کہ وہ کسی کے ہاتھ کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔دانش و بینش ، تدبر و حکمت سے عاری ، جذبات انگیز تقاریر سے ہم لوگ اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے بعد سمجھتے ہیں کہ شاید دشمن ہراساں ہوگیا ہوگا ۔ ہم موٹر وے بلاک کرکے اوروہاں نماز پڑھ کر اپنی قوت ایمانی کا بھرپور مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں جبکہ بے شمار معصوم مسلمان بھائی بہنوں ، مریضوں کا راستہ روکے ان کی آہوں اور بددعاؤں میں شامل ہورہے ہوتے ہیں۔ کیا ہمارے علم میں وہ حدیث پاک نہیں ہے جس میں راستوں پہ بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے ۔راستے روکنا چہ معنی؟کیا احتجاج ریکارڈ کروانے کا فقط یہی ایک سود مند طریقہ ہے اور ہمارے دین کی تعلیم کیا یہ ہے؟ سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے دین کو کس قدر سمجھا؟ ہم کافروں کو اپنے روشن اور سچے دین کی کیسی تصویر دکھارہے ہیں؟!


ہم اکثر اوقات جس انداز سے دشمن کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہو ، وہ عین اسکی خواہش اور توقع کے مطابق ہوتا ہے ۔ ہم اپنے ہی گھر کو آگ لگا کر دشمن کو خوش کرتے ہیں ۔اپنی املاک کو نقصان پہنچا کر ہم سمجھتے ہیں ہم نے بڑا میدان مار لیا امریکہ کو دھمکا ، ڈرالیا ۔(ایسے ڈراموں میںاکثر اوقات امریکی ملائکہ کی مدد و نصرت بھی شامل حال ہوتی ہے۔ یہ اور بات کہ ملائکہ نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں)۔ہم ابھی تک ان جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھیں کہ چھوڑیں....جبکہ دشمن ہمارے ہاتھوں کو ہی کاٹنے میں لگا ہوا ہے ۔اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سب سے بڑھ کر دشمن تو ہم اپنے آپ کے ہیں۔
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی اس گھر کے چراغ سے

مجھے یہ کہنے دیجئے کہ ہمارے کچھ بھائیوں کی سوچ کچھ اس انداز کی ہوتی ہے ....کہ جذبات سیکھنے چاہئیں ، عقل سلیم کی کیا ضرورت ہے؟ !.... ہم ایٹمی طاقت ہیں۔دہلی فتح کرکے دم لیں گے ۔کشمیر ی بہن بھائیوں کی مدد کو پہنچیں گے( بھلے اپنے وطن میں بیٹیوں کا دامن عصمت تار تار ہوتا رہے ۔) ہم ابھی تک اپنے ہم وطنوں کو امن و سکون ، خوشحالی و ترقی کا تحفہ نہ دے سکے ۔ہم ایک ٹانگ افغانستان میں اڑاتے ہیں تو دوسری عراق میں۔ اورشنید ہے کہ اب توکسی کی خوشنودی اور اپنے مالی فوائد کی خاطر شام میں سامراجی جہاد پرکو پہنچنے والے ہیں۔

برادران اسلام! کسی یک طرفہ ٹریفک والی لال پیلی ہفتہ وارصحافت میں خصوصیت سے چھپنے والے ، خوش فہمیوں پر مبنی کالم مثلا ”امریکہ جلد ٹوٹنے والا ہے“ پڑھ کر احمقوں کی جنت یا UTOPIA میں خوش رہنا چھوڑدیجئے ۔ امریکہ تب تک نہیں ٹوٹنے والا جب تک وہ اسلام کے روشن اصول و اقدار پرعمل کرتا رہے گا ۔ ۔۔۔۔جب تک تم جہالت ، باہمی اختلاف و انتشار ،ظلم و نا انصافی ،اور دیگر سماجی برائیوں پہ قابو نہ پالو گے تب تک ذلیل و خوار ہوتے رہو گے....تم لوگ اپنی کمزوریوں سے آگاہی کے باوجود چشم پوشی کا شکار ہو ۔نجانے کیوں بری طرح محو خواب ہو! اپنے امراض کے علاج سے آگاہی کے باوجود چشم پوشی ، تن آسانی کا نتیجہ.... ذلت و مسکنت اور ادبار۔ بقول حالی:
یہی حال دنیا میں اس قوم کا ہے
جہاز آکے جس کا بھنور میں گرا ہے
نہیں لیتے کروٹ مگر اہل کشتی
پڑے سوتے ہیں بے خبر اہل کشتی

اے اہل ایمان! تعلیم ،خصوصا جدید تعلیم ، سائنس و ٹیکنالوجی پہ عبور وقت کا تقاضا ہے۔ سامراج کی سازشوں کو سمجھئے ۔ جان لیجئے کہ اتحاد بین المسلمین آپ کی سب سے بڑی قوت ہے۔۔۔۔ دشمن سے مقابل کیجئے مگر علم و تجربہ ،تدبرو دانائی سے دشمن کی چالوں کو سمجھ کر ۔جذبات میں بہہ کر عقل سلیم سے ہاتھ مت دھوئیے۔ہمیں سستے جذبوں کی جگہ بصیرت و حکمت کی اشدضرورت ہے ۔جذبات کو تعمیری رخ دیجئے ۔ مغرب کے ایجاد کردہ وسائل کو سیکھئے ، سمجھئے اور پھر کچھ اس انداز سے استعمال کیجئے کہ.... آپ اپنے دام میں صیاد آجائے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے مذہب کامل کی اصل روح کو سمجھئے۔ مضبوط ایمان و یقین اور اتحاد باہمی کو زاد راہ بناکرپھرسے دنیا کی قیادت کیجئے۔بنی نوع انسان کی خدمت و تعمیر کے ہمہ جہت کاموں کا اعزاز آپ کے نام کیوں نہیں ہوسکتا؟!سائنس و ٹیکنالوجی کو بنی نوع انسان کی ترقی و بہبود کے لئے استعمال کرنے کی سعی کیجئے۔وہ جانوروں سے محبت کرتے ہیں ....آپ حیوانوں کو انسانوں سے پیار کرنا سکھادیجئے ۔آئیے دکھی انسانوں کے زخموں پر پھائے رکھیں۔

توحید و رسالت ہمارا ایمان .... ہمارے سروں کا تاج ....خلافت ارضی ہمارا فریضہ ۔ کُل مخلوق سے پیار ہمارا شعار ۔کچھ شک نہیں کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے ۔
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان
اللہ عطا کرے تجھے کچھ جدت کردار
 
اشرف علی عزمی
About the Author: اشرف علی عزمی Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.