اتحاد اہل سنت وقت کا اہم ترین تقاضا

(محمد ساجد رضا مصباحی, جامعہ صمدیہ پھپھوند شریف ضلع اوریا یوپی)

 جب کسی قوم کا عہد زوال شروع ہوتا ہے تو وہ آپسی اختلا ف و انتشار اور مخاصمت ومعاندت کا خوگر ہو جاتی ہے۔باہمی اخوت و محبت کی فضا کو مکدر کر کے اپنی ہی قوم کے ساتھ بر سر پیکار ہو جاتی ہے۔ ان دنوں وطن عزیز میں کچھ ایسا ہی حال جماعت اہل سنت کا ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے ہماری جماعت میں اختلاف وانتشار کی جو تشویش ناک صورت حال پیدا ہو گئی ہے اور اس کا گراف جس تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے، وہ ہماری اجتماعی قوت کوپارہ پارہ کر دینے کے لیے کا فی ہے۔پوری جماعت ٹکڑیوں او رریوڑوں میں تقسیم ہو تی جارہی ہے۔عوام تو عوام،خواص بھی جماعتی مفادات سے نا آشنا ہوتے جارہے ہیں۔نفع ِعاجل اور شہرت وخود نمائی کے چکر میں وہ کسی ایسے عمل کے لیے تیار نہیں جس میں پو ری قوم کی عزت و افتخار کا ساماں ہو۔

بہت دور جانے کی ضرورت نہیں، اہل سنت و جماعت کی ماضی قریب کی تاریخ پر ہی نظر ڈالیں تو ہمیں وہ زرّین دور بھی نظر آتا ہے۔ جب اتحاد واتفاق کا بول بالا تھا۔ ہمارے علما و مشائخ باہم شیرو شکر تھے۔مشربی تعصبات سے بالا تر ہوکرایک دوسرے کی عظمت و رفعت کا اعتراف کرتے، ایک دوسرے کا ادب و احترام بجا لاتے۔یہ قد سی صفات شخصیتیں دینی و مذہبی کاموں میں ایک دوسرے کی دست وبازو ہو تیں۔محبت و مودت کی یہ پاکیزہ فضا اس لیے قائم نہیں تھی کہ اس زمانے میں مسائل پیدا نہیں ہواکر تے تھے، یا خانقاہوں، اداروں اور تنظیموں کی تعداد بہت کم تھی۔ بلکہ اس دور میں بھی بڑے اہم مسائل پیدا ہوئے۔ فکری اور نظریاتی اختلافات بھی رونما ہوئے۔خانقاہیں اور ادارے بھی قائم تھے۔ لیکن ان تمام چیزوں کے ساتھ ان نفوس قدسیہ کے دلوں میں خدا کا خوف موج زن تھا۔ وہ خلوص وللہیت کے پیکر بھی تھے۔وہ ہردم دین کی سر بلندی کے لیے کوشاں رہتے۔وہ دینی و مذہبی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے۔ ان کا کوئی بھی عمل اپنی انا کی تسکین کے لیے نہیں ہوتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے مسائل نہایت آسانی کے ساتھ حل ہو جاتے۔کسی بھی اختلاف کو پنپنے کا موقع نہیں مل پا تا۔آپسی اتحاد و اتفاق بہر حال باقی رہتا۔لیکن آج کی صورت حال اس کے بالکل بر عکس ہے۔ اخلاص کی جگہ انا کی ہوس نے لے لی ہے۔ذاتی مفادات کے حصول کے لیے بڑا سے بڑا دینی و جماعتی نقصان بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کر لیا جا تا ہے۔اختلافات کو ختم کر نے کے بجاے ایک خود غرض طبقہ انہیں مسلسل ہوا دے رہا ہے۔نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

جماعت اہل سنت میں اختلاف و انتشار کا جو سلسلہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اس کا ایک اہم اور بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت کسی ایسی مضبوط قیادت پر متفق نہیں ہو سکی ہے جسے مختلف فیہ اور متنا زع مسا ئل میں حکم بنا یا جا سکے۔جس کے فیصلے پر عمل در آمد ہر دو فریق اپنے لیے لازم و ضروری سمجھتا ہوں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے بعد اسلا میان ہند کے لیے مفتی اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃ کی ذات مرجع عوام وخواص تھی۔ان کا ہر حکم فیصلے کی حیثیت رکھتا تھا۔متنازع مسائل میں آپ کے فیصلے کو سبھی بسر و چشم قبول کیا کرتے اور آپ کا فیصلہ آخری فیصلہ ہو تا تھا۔افسوس کہ آپ کے وصال کے بعدجماعت کا شیرازہ اس طر ح بکھرا کہ پھر کسی شخصیت کی مرجعیت پر پوری جماعت متفق نہیں ہو سکی۔ ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ ان کے بعد جماعت میں کوئی ایسی شخصیت نہیں رہی جو مسلمانوں کی دینی قیادت کا فریضہ انجام دے سکے۔ اللہ کے فضل سے آج بھی اپنی جماعت میں ایسی شخصیتیں موجود ہیں جو جماعتی مسائل سے نمٹ کر اپنے دینی و مذہبی فرائض بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔بلکہ اس صورت حال کا اصل سبب یہ ہے کہ اب ہمارے دلوں میں دینی مفادات کی اہمیت نہیں رہ گئی۔ ہم دین ومذہب کے نام پر صرف اس لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہو سکتے کہ اس میں ہمارے بہت سارے دنیا وی مفادات کا خون ہوگا۔ہما ری شخصیت نمایاں نہیں ہو سکے گی،اور ہم دنیا وی جاہ و جلال کے حصول سے قا صر رہ جائیں گے۔ یقینا اسی طرز فکرکی بنیاد پر جماعتی اتحاد واتفاق کی راہیں مسدود ہو تی جارہی ہیں۔خلوص و للہیت کے فقدان نے ہماری انا کی آگ کو شعلہ جوّالہ بنا دیا ہے جس کی لپٹ سے ہما رے دینی مفادات خاکستر ہو ئے جا رہے ہیں۔

ادھر ایک دہائی کے اندر ہما ری جماعت میں شدت پسندو ں کا ایک ایسا طبقہ پر وان چڑھا ہے، جس نے آپسی اتحاد واتفاق کو پارہ پارہ کر نے میں سب سے اہم کردار اداکیا ہے۔علم ودانش اور فکر و تدبر سے نا آشنا یہ طبقہ تحقیق و تفتیش اور اصلاح کی سعی کے بغیر ہی کسی شخصیت کو جماعت سے خارج قرار دینے میں ذرا بھی دریغ نہیں کرتا۔ایسا محسوس ہو تا ہے کہ اہل سنت کا خار جہ رجسٹر ان دنوں ان ہی حضرات کے قبضے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طبقہ آئے دن اہل سنت کی کسی نہ کسی شخصیت، تنظیم اور ادرے کو جماعت کی فہرست سے خارج کرتی نظر آتی ہے۔ستم بالاے ستم یہ کہ وہ اپنی یہ نادانیاں دوسروں کو بھی تسلیم کرا نے کے درپے رہتے ہیں اور عدم اتفاق کی صورت ان کی سنیت بھی اس طبقے کے نزدیک مشکوک ہو جا تی ہے۔کسی کے لیے صلح کلیت کا حکم لگادینا گویا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔’بائیکاٹ‘کی اسلامی سزاکو ان لوگوں نے مذاق بنا دیا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اختلاف انتشار کا یہ عمل ما ضی قریب کی ایک ایسی شخصیت کے نام پرا نجام دیا جا رہا ہے، جو بر صغیر میں اتحاد اہل سنت کے سب سے بڑے علم بردار تھے۔اس طبقے کی یہ سر گرمیاں جماعتی مفادات کے حق میں حد درجہ نقصان دہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان افراد کو صراط مستقیم پر گام زن فر مائے۔

ان دنوں بر صغیر میں گمراہ اور باطل فرقوں کی سر گرمیاں عروج پر ہیں۔ سواد اعظم اہل سنت وجماعت کے معتقدات و مسلمات کے خلاف باطل افکار و نظریات کی اشاعت پر پو ری توانائی صرف کی جا رہی ہے۔ باطل فرقے اپنے گمراہ کن نظریات کی اشاعت کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال بھی بڑی مہارت سے کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے نئی نسل کے تعلیم یافتہ طبقے کی اکثریت ان فرقوں کے دام فریب میں پھنستی جا رہی ہے۔دیوبندی، وہابی،قادیانی، جماعت اسلامی، نیچری اور نہ جانے کتنے فرقے ہیں جن کا واحد نشانہ اہل سنت وجماعت ہے۔ان فرقوں کی ساری توانائی اسی جماعت حق کے خلاف صرف ہو رہی ہے۔ایسے حا لات میں ان فرقوں کی سرکوبی اورسواداعظم اہل سنت وجما عت کے معتقدات کے تحفظ کے لیے اتحاد اہل سنت کتنا ضروری ہو گیا ہے، بیان کر نے کی ضرورت نہیں۔


رئیس التحریر علامہ یسین اختر مصباحی کے بقول:
”وقت کا شدید مطالبہ ہے کہ متعدد غیر منظم سنی حلقے اپنے مسائل حل کر نے اورمخالفین کا مقابلہ کر نے کے لیے خلوص دل سے کوئی ایسی تدبیر نکالیں کہ یہ ساری ندیاں نالے مل کرایک بیکراں سمندر میں تبدیل ہو جائیں یا کم از کم دیانت دارانہ وفا قی جماعت تشکیل دے کر ایک مضبوط و مستحکم اور بلند وبالاعمارت کی بنا ڈال کر اپنے خون جگر کا نقش جمیل اس کے درو دیوار میں ثبت کر یں اور اس کے فروغ و بقا کی راہ میں اپنی تمام تر کو ششیں صرف کر دیں۔

جس روز ایسا نقشہ سامنے آگیا تو پھر ید اللہ علی الجماعۃ کے بموجب قدرت کی نوازشات اور اس کی عنایات کا دروازہ اس طرح کھل جائے گاکہ اطراف ہند ہی نہیں بلکہ اس کی موج رحمت سے نہ جانے کتنے ملک اور کتنی قومیں نہال اور شاد کام ہو جائیں گی“(نقوش فکر،ص:۳۷)

ظاہر ہے یہ سب اسی وقت ممکن ہو سکے گا جب ہماری خانقاہیں، ہمارے ادارے، ہماری تنظیمیں اور ہمارے قائدین اپنے دلوں سے نفع عاجل اور شہرت وخود نمائی کے جذبے کو نکال پھیکیں اور نہایت خلوص کے ساتھ کاروان اہل سنت کی زمام قیادت کو اپنے ہا تھوں میں لیں۔ بنام اہل سنت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر دین کی فلاح و بہبودی اور جماعتی مفادات کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کر نے کا عہدکریں۔آپس میں محبت و خلوص کا ماحول پیدا کریں۔ ایک دوسرے کی عظمت ورفعت کا لحاظ اورادب و احترام کا خیال رکھیں۔ تمام سنی ادارے اور تنظیمیں مسلک حق کی اشاعت ہی کے لیے ہیں۔کوئی تنظیم یا ادارہ کسی دوسرے ادارے کو اگر اپنا حریف سمجھتا ہے تو یہ بڑی بھول ہے۔

اگر ہماری جماعت کا کوئی فرد کسی غلط راستے پر جا رہا ہے تو اس کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے اس کی اصلاح کی کوشش ہو نی چاہیے۔غلطیاں کہاں نہیں ہوتیں؟غلطیوں کی اصلاح کی جائے۔اصلاح مفاسد کے لیے حکمت وتدبر کا قرآنی اصول اپنا یا جائے۔ کسی بھی معاملے میں عجلت اور بے جا شدت جما عتی اتحادکے حق میں حد درجہ ضرررساں ہے۔

کاش! ان امور پر توجہ دی جا ئے تو پھراتحاد اتفاق کی وہی بہاریں ہماری نظروں کو خیرہ کریں گی جن کا مطالعہ ہم اپنے اسلاف کی تاریخ میں کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے لیے کوئی ایسی سبیل پیدا فرمادے کہ ہم اپنے گزشتہ سارے اختلافات کو بھلا کر تلافی مافات کے لیے ایک پرچم تلے جمع ہو جائیں۔ آمین

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 579 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجد رضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجد رضا مصباحی: 22 Articles with 16799 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ