شرمناک شکست کے لئے کانگریس کی اعلیٰ قیادت ہی ذمہ دار

آخرکار۲۰۱۴انتخابات کا عمل اختتام پر پہنچ گیا ۔جس نے محنت کی اسے کامیابی ملنی تھی سو ملی۔اور جس نے وقت کی پاسداری نہیں کی‘ آنکھ موند کر اقتدارکا غلط استعمال کیااُسے شکست کی خاک چاٹنی پڑی۔اب یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ ہندوستان کی آزادی میں اہم کردار نبھانے والی ایک عظیم جماعت کانگریس کو اسی ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں انگریزوں کا کھل ساتھ دینے والی جماعت آریس یس نے پچھاڑدیا۔حالانکہ کانگریس بھی دودھ کی دھلی ہوئی جماعت نہیں ہے۔مگر ہندوستان کی عوام کے ایک بہت بڑے طبقہ کا یہ ماننا ہے کہ کانگریس ہمارے ملک کی ایک ایسی پارٹی ہے جو سماج کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔گویا کانگریس ہمارے ملک کی سیکیولر پارٹی ہے ۔ملک کی آزادی سے لیکر ابتک ہم نے کئی چناؤ دیکھے ہیں۔بے شک مستقبل میں بھی ایسے چناؤ ہوتے رہیں گے۔لیکن اس بارکانگریس کو اس قدر شرمناک ہار سے دوچار ہونا پڑے گا اس کا اندازہ شاید اپوزیشن نے بھی نہیں لگایا ہوگا۔کانگریس کو ملک کی پارلیمان میں پہلی مرتبہ اپوزیشن کے درجے سے بھی ہاتھ دھونا پڑاہے۔

ظاہر ہے اس کراری شکست کے بعد اب کانگریس کی آنکھ کھل جائے۔شایدوہ اب اپنے دوراقتدار کی غلطیوں کا محاسبہ بھی کرنے کے لئے راضی ہوجائے۔لیکن اس کا مستقبل قریب میں کوئی فائدہ کانگریس کو ملنے والانہیں۔کیونکہ عوام نے اسے جو موقع فراہم کیا تھا وہ دوبارہ ہرگزنہیں آئیگا۔اب اسے اس طرح کا موقع پھر سے حاصل کرنے کے لئے بہت ہی طویل اور صبر آزما انتظارکرنا ہے۔آریس یس کی فل پروف حکمت عملی کی سامنے کانگریس کی ایک نہیں چلے گی۔آج کانگریس ایک ناکام جماعت ہے جس کی باگ ڈور ایک ایسے ناتجربہ کار نوجوان کی ہاتھ میں دی گئی ہے۔جو سیاسی طور پرناپختہ ہے۔جسے عوام کی پسند اور ناپسند کاذراسا بھی اندازہ نہیں ہے۔

اگر انتخابی نتائج کے پس منظر میں کانگریس کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بلا شبہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کانگریس قیادت نے اپنے دور اقتدار میں عوام کو بہت ہی مایوس کیا۔کرپشن اور گھوٹالوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ‘ کمرتوڑ مہنگائی‘ہر مہینہ دو مہینہ میں پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ‘ کوئلہ اور ۲ جی سپکٹرم نیلامی کے ذریعہ لاکھوں کروڑوں روپوں کے گھوٹالوں سے ملک کی معیشت کو تباہ کرنے جیسے معاملوں نے کانگریس کی نیاّ ڈبودی۔علاوہ ازیں لوک پال کے لئے انا ہزارے کا اندولن اور دامنی گینگ ریپ معاملے کو صحیح ڈھنگ سے نہ نمٹنے کے سبب ملک کے نوجوان طبقے میں کانگریس حکمرانوں کے تئیں غصہ اور نفرت میں غیرمعمولی اضافہ کا ہونا۔پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ غلط وقت پر آندھرا پردیش کے بٹوارے کا فیصلہ لیا جانا۔دراصل یہ نتیجے ان جیسے لاتعدادعوام مخالف اقدامات پر کانگریس کو عوام کا انعام ہیں۔جمہوری نظام میں عام شہری اسی طرح اپنی خوشی یا ناراضگی کا جواب دیتا ہے۔

ان تمام گھپلوں سے بھی زیادہ نقصان کانگریس کو اس کی اپنی اعلیٰ کمان ہی سے پہنچاہے ۔جس نے اپنے چاروں طرف پارٹی کے ایسے لیڈروں کاگھیراcorridor بنائے رکھا جن کو میونسپالٹی کے چناؤ تک جیتنے کی مقبولیت حاصل نہیں۔کانگریس قیادت کے اطراف جتنے بھی لوگ تھے آپ ایک ایک کا نام لے لیجئے ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ملے گا ۔جس نے کبھی چناؤ کے ذریعہ پارلیمان پہنچا ہو۔ سارے ہی راجیہ سبھا سے لئے گئے چہرے جن کو عوام کے احساسات‘ عوام کے معاملات جیسی زمینی حقیقت سے کوئی دلچسپی یا واسطہ نہیں۔ایسا کرکے ہائی کمان نے نہ صرف عوام کااعتمادکھویابلکہ خود اپنی پارٹی کے کارکنوں کو بھی مایوس کیا ۔کانگریس کی اس بھاری اور شرمناک شکست کے لئے یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔کاش اس سلسلہ میں کانگریس ذرا سا احتیاط سے کام لیتی۔عوام اور پارٹی سے خود کو دور نہ ہوتی۔ اپنے اور اپنے اتحادیوں کے میگا گھپلوں کو چھپانے کا کام نہ کرتی تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کانگریس اس بری صورت حال سے ہرگز دوچار نہ ہوتی۔شکست کھاتی بھی تو کچھ وقار کے ساتھ۔

تاہم کانگریس نے اپنے دور میں کچھ عوامی بہبودی کے اسکیموں کی شروعات کا اعلان توکیا لیکن اسے موثر ڈھنگ سے ملک کی سبھی ریاستوں میں عمل درآمدنہیں کیا اور نہ ہی ان اسکیموں کی صوبائی سطح تک رسائی میں شفافیت سے کام لیاگیا۔

ان چناؤ میں سب سے زیادہ نقصان ملک کے مسلمان عوام کوپہنچا ہے جس کے لئے راست طور سے مسلمانوں کی سیاسی قیادت ذمہ دار ہے۔ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں اس مرتبہ مسلم نمائندگی صفر تک پہنچ گئی ہے۔حالیہ انتخابی نتیجے یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ مسلم نمائندگی کو آبادی کے تناسب سے یقینی بنانے میں ہماری سیاسی قیادت پوری طرح ناکام رہی ہے۔انتخابی نتائج پر نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگرسیکیولر ووٹوں کی تقسیم روکنے کی کوشش کی جاتی تو شایدیا کم از کم ۱۰۰ سیٹوں پر سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں کے امیدواروں کی جیت آسان ہوتی۔ویسے سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا رہا ہے کہ ہندوستانی پارلیمان کے جملہ ۵۴۳ سیٹوں میں سے کم سے کم ۲۱۸ پارلیمانی حلقوں پر مسلم ووٹر نتائج پر اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر افسوس اب تو صرف کف افسوس ملنے کے سوأ کچھ نہیں ہو سکتا۔خود کو سیکولر کہلانیوالی ان سیاسی جماعتوں کی اجتماعی ناکامیوں کے حوالے سے اس الیکشن کو ہمیشہ ہی یاد رکھا جائے گا۔اس چناؤ کے دوران ا ن نام نہاد سیکولر جماعتوں کا فارمولہ‘ ا ن کانعرہ ا ن پارٹیوں کا نظریہ سب کچھ دھرہ کا دھرہ رہ گیا۔جس کے نتیجے میں جمہوریہ ہند کی ایک ایسی بھیانک تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے کہ جو ملک کی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے لئے موجب تشویش بن گئی ہے۔

اب وقت آگیا ہیکہ مسلمان وقت کی نزاکت سمجھیں۔عام مسلمان خصوصاً نوجوان کافی پریشان ہے اسے سیاسی رہنمائی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے ۔چنانچہ اب مسلم قیادت پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھے ۔اور اپنے سیاسی تعلقات سے اوپر اٹھ کر قوم و ملت کے بارے میں فکر کرے۔ورنہ مستقبل قریب میں مسلم سماج کو متحدکرنا کافی مشکل ہوجائے گا۔جس کے نتائج بہت سنگین ہوسکتے ہیں۔

اس بات میں دو رائے نہیں کہ سیکولرازم کے تحفظ کے معاملے میں ایک جانب یہ الیکشن اگر شرمندگی کا احساس دلانے والا ہے تو دوسری طرف یہ تسلیم کرنے میں کوئی پس و پیش کی گنجائش نہیں ہوگی کہ اس چناؤ میں بالعموم ہم مسلمانوں کے ووٹوں کی قدروقیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔جس کے سبب مسلم نمائندگی گھٹ گئی ہے۔
 
Sharfuddin Syed
About the Author: Sharfuddin Syed Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.