اگر میں خان صاحب کا حامی ہوتا تو۔۔۔۔۔

(Sardar Ayub, )
اگر میں خان صاحب کا حامی ہوتا تو آج اس مشکل وقت میں اُن کے ساتھ ہوتا۔اگر میں خان صاحب کا حامی ہوتاتو گھر میں آرام سے بھیٹنے اور ٹیلی ویژن دیکھنے بجائے ریڈ زون میں ہوتا، اگر میں خان صاحب کا حامی ہوتاتو صرف سوشل میڈیا پر انہیں سپورٹ نہ کرتا بلکہ اُنہیں ووٹ بھی دیتا،اگر میں خان صاحب کا حامی ہوتاتو گھر میں اپنے بزرگوں سے لڑنے بجائے انہیں باتوں سے قائل کر کے اپنی پارٹی کی طرف مائل کرتا،اگر میں خان صاحب کا حامی ہوتاتو کبھی تنقید کرنے والوں کو گالیاں نہ دیتا بلکہ انہیں بحث ومباحثہ سے مطمئن کرتا، اگر میں خان صاحب کا حامی ہوتاتو آزادی مارچ آنے سے صاف انکار کرتانہ کہ اسلام آباد آنے کی جھوٹے وعدے کرتا، اگر میں خان صاحب کا حامی ہوتاتو جاوید ہاشمی صاحب کو نہ گالیاں دیتا اور نہ اُن کے پوسٹر جلاتابلکہ ان کے فیصلے کا قدر کرتا۔وہ جاوید ہاشمی ، جب جماعت اسلامی کو چھوڑتے ہیں تو جماعت اسلامی کے کسی کارکن یا رہنماء کی طرف سے انہیں گالیاں نہیں دی جاتی، وہ جاوید ہاشمی ، جب مسلم لیگ (ن)کو چھوڑتے ہیں تو (ن)کے کارکن اور رہنماء دُکھی تو ہوجاتے ہیں لیکن ان کے پوسٹر کوجلاتے نہیں۔اگر میں خان صاحب کا حامی ہوتاتو خان صاحب کو کبھی بنی گالا نہ جانے دیتا بلکہ انہیں لوگوں کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا،اگر میں خان صاحب کا حامی ہوتاتو سوشل میڈیا پر کسی صحافی کو گالیوں سے نہ نوازتا بلکہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا، اگر میں خان صاحب کا حامی ہوتاتو پہلے سول نافرمانی سے انکار کرتا اور اگر اقرار کرتا تو اس پر عمل ضرور کرتا۔۔۔۔۔۔

ان سب باتوں کے باوجود میں کسی پارٹی کا کارکن نہیں بن سکتا کیونکہ میں ایک صحافی ہوں ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صحافی کا نہ تو کسی پارٹی سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی کسی سیاستدان کا متوالا ہوتا ہے، وہ اپنے پیشے کی عزت کرتے ہوئے صرف سچ اور حق کا راستہ اختیار کرتا ہے، بات تب بگڑتی ہے جب کوئی صحافی سچ اور حق کا دامن چھوڑ کر، صحافتی قوانین توڑ کر کسی پارٹی یا سیاستدان کی جھو ٹے وعدوں اور غلط کاموں کی پردہ پوشی میں لگ جاتے ہیں، لیکن ایسا بہت کم صحافی کرتے ہیں جن کی وجہ سے آج صحافت کا معزز پیشہ بدنام ہو رہاہے۔

اب ایک خاص موضوع کی طرف آتا ہوں۔بعض دفعہ کسی پارٹی کے سپورٹرز صحافیوں کو اُن کے خلاف کچھ لکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔اگر کوئی صحافی کسی پارٹی کے رہنما ء کے خلاف ایسی بات کریں جو ان کے سپورٹرز کو گوارا نہ لگے تو پھر ان سپورٹروں کی طرف سے اس صحافی کو گالیوں کا تخفہ ضرور مل جاتا ہے،اب آپ بتائیں کہ جب کسی پارٹی کے سپورٹرز کسی صحافی کو گالیاں دیں تو پھر وہ صحافی ان کے پارٹی کے حق میں کوئی بات کیسے کر سکتا ہے ؟؟؟

ایسا ہی ایک واقعہ کل سوشل میڈیا پر میرے ساتھ پیش آیا۔میں نے ایک گروپ میں صرف مثبت (Status) پوسٹ کیا کہ“ اگر میں عمران خان صاحب کا حامی ہوتا آج گھر میں نہیں بلکہ ریڈ زون میں ہوتا۔“ پھر اس کے بعدکیا ہوا کہ خان صاحب کے وہ سوشل میڈیا سپورٹرز جنہیں واقعی ریڈزون میں اپنے لیڈر کے ساتھ ہونا چاہیے تھا، نے مجھ پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔انہوں نے میرے لئے وہ الفاظ استعمال کیے جن سے کبھی میرا واسطہ نہیں پڑا تھا، میں انہیں جواب دینا چاہتا تھا لیکن دو وجوہات کی بنا پر میں خاموش رہا۔ایک یہ کہ میری وجہ سے کسی صحافی کا نام بدنام نہ ہوجائے اور دوسری بات کہ میں ایک فلسفے پر
(you will never reach your destination if you stop and throw stones at every dog that barks) عمل کرتا آرہا ہوں ۔

میرا پوسٹ منفی بھی نہیں تھا پھر بھی مجھے گالیوں سے نوازا جا رہا تھا۔میں نے کئی بار اپنے کالموں کے ذریعے جناب نواز شریف کو مثبت تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن کبھی یاسر عباسی، سردار سعود اور مسلم لیگ (ن)کے سپورٹرز نے مجھے گالیاں نہیں دی ۔اب میں سمجھ گیا کہ لوگ مسلم لیگ (ن)سے اتنے متاثر کیوں ہیں۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر اکثر صحافیوں کو نازیبا الفاظ سے یاد کئے جاتے ہیں جو ایک مہذب قوم کے منہ پر کالا دھبے کے مترادف ہے۔وہ صحافی جنہوں نے جمہوریت کیلئے بہت تکالیف برداشت کیں،وہ صحافی ، جنہیں نہ تو دھوپ کی پروا ہوتی ہے اور نہ سردی اور بارش کا خوف ہوتا ہے۔آپ لوگ اپنے غیر اخلاقی کاموں کا مظاہرہ کرتے رہو اور ہم صحافی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔دیکھتے ہیں فتح کس کی ہوتی ہیں۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 317 Print Article Print

Reviews & Comments

Language: