ا ئمہ ا کرام میں ا ما م ا بو
حنیفہ ؒ ،ا ما م ما لکؒ، امام شا فعیؒ، اور ا مام ا حمد بن حنبلؒ مشہور ہیں
ا ئمہ ا ر بعہ کے بعد آ نے وا لے علما ء کی جب ہمتیں کو تا ہ اور عزا ئم
ضعف کا شکار ہو گئے تو ا ئمہ کی تقلید نے جنم لیا ہر جما عت اس پر ا کتفا
کر نے لگی کہ ایک معین ا ما م کے مسلک کو ا ختیار کر کے ہر مسئلے میں اسی
کی طر ف ر جو ع کیا جائے اور ا پنے ا مام کے ا ستد لا ل کے خلا ف کو ئی فتو
ی ٰ نہ د یا جا ئے یو ں مکمل فقہی مسلک معر ض و جو د میں آ تے چلے گئے ا
ئمہ ا ر بعہ کے در میا ن ا صول د ین میں کو ئی نز ا ع نہیں یہ لو گ اﷲ تعا
لی کی صفات پر ا یما ن لا نے میں متفق ہیں قر آن کر یم کو ا ﷲ تعا لی کا
کلا م اور ا یما ن کے با رے میں دل اور ز با ن کی تصد یق ضروری جا نتے ہیں
یا د ر ہے کہ تقلید صرف ا جتہا دی مسا ئل میں کی جا تی ہے آج تک کو ئی ا ما
م ا یسا نہیں گزرا جسکا نقطہ نظر یہ ہو کہ لو گ قر آن و حد یث کو چھو ڑ کر
یا ان کے سا تھ سا تھ میر ے قو ل کی بھی پیر و ی کر یں ۔۔۔۔۔۔۔
یہ سو چنا غلط ہے کہ ا ئمہ ا ر بعہ کی تما م تر جدو جہد ا پنے اپنے مسلک کی
تر و یج کے لیئے تھی یا ا نھو ں نے جو ا جتہا د کیا و ہ ا سکی پیرو ی کرا
نا چا ہتے تھے بس ہو ا یو ں کہ اگر ا یک امام نے کسی مسئلے میں ا جتہا د
کیا اور دو سرے امام کو اس مسئلے میں حد یث یا کسی صحا بی کا قو ل یا فتو ی
میسر آ گیا تو اس نے پہلے امام کے ا جتہاد کو چھو ڑ کر حد یث یا صحا بی ؓ
کے فتو ی پر عمل شرو ع کر دیا کیو نکہ د ین ا سلا م ا ﷲ اور اسکے ر سول ﷺ
کا ہے جو کتا ب و سنت کی تکمیل سے مکمل ہو چکا ہے ا ر شاد با ری تعا لی ہے
ــــآج ہم نے تمہارے لیئے تمہا را د ین مکمل کر د یا اور ا پنی نعمتیں تم
پر پو ری کر د یں اور تمہا رے لیئے ا سلام کو بطو ر د ین پسند کیا (ا لما
ئدہ)
ا ئمہ ا ر بعہ نے نہا یت سختی کے سا تھ شخصی تقلید سے منع کر تے ہو ئے فر
ما یا کہ کسی کے لیئے یہ جا ئز نہیں کہ و ہ ہما ری د لیل جا نے بغیر ہما رے
قو ل کو ا ختیا ر کر ے ہر ا مام کا یہ ہی فر ما ن ر ہا ۔۔۔کہ جب صحیح حد یث
ہو تو و ہی میرا مذ ہب ہے یعنی کہ صحیح حد یث کی مو جو د گی میں میر ے قو ل
کو چھو ڑ کر صحیح حد یث پر عمل کر یں قرآن و سنت کے بھر پو ر مطا لعہ کے
بعد بھی ا گر کسی مسئلے کو سمجھنے میں د شوار ی ہو تو صحا بہ اکرا م ؓ ،تا
بعین ، تبع تا بعین اور پھر ا ئمہ اکرا م اور محد ثین عظا م کے ا قوا ل اور
فتو یٰ کی طر ف ر جو ع کیا جا سکتا ہے ا ﷲ تعا لیٰ نے بعض کو بعض پر علم و
حکمت دا نا ئی اور تفقہ میں فضیلت عطا فر ما ئی ہے ا نہو ں نے ہم سے ز یا
دہ د ین کو سمجھا اس لیئے انکی علمی فہم و فرا ست اور فقہی ا صو لو ں سے ا
ستفا دہ کر نا چا ہیئے تا ہم کسی ایک امام کی تقلید اور دو سرو ں سے تعصب
روا ر کھنا معرو ف ا صو لو ں کے خلا ف ہے ا ﷲ تعا لیٰ سے د عا ہے کہ وہ حق
کو سمجھنے اور صرا ط مستقیم پر چلنے کی تو فیق عطا فر ما ئے ۔آ مین |