شب برأت اور ہماری ذمہ داری

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)

آج شب برأت منائی جارہی ہے۔ سب سے پہلی بات تو عموماً اسے شب بارات کہا جاتا ہے جب کہ اس کا نام شبِ برأت ہے بارات کا تعلق شادی بیاہ سے ہے جب کہ برأت کا مطلب ہے بری ہونا یعنی گناہوں سے بری ہونا۔ اس شب کے حوالے سے مختلف خیالات پائے جاتے ہیں، بعض کے نزدیک اس کا منانا درست نہیں ہے اور بعض گروہوں کے نزدیک اس کا اہتمام سے منانا نہایت ضروری ہے۔

دیکھیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نبی مہربان ﷺ نے سب سے زیادہ نفلی روزے شعبان میں ہی رکھے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہمیں معلوم ہے کہ نبی اکرم ﷺ پندرہ شعبان کے بعد نفلی روزے رکھنا کم کردیتے تھے ۔ گویا کہ یہ مہینہ رمضان کی تیاری کا ہے یعنی اب تمہیں اپنے آرام و سکون کو چھوڑ کر دن بھر روزے اور رات کو عبادتِ الٰہی میں مشغول ہونا پڑے گا۔
 


شعبان کی پندرہویں شب کے حوالے سے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ رسول ِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرما یا :اﷲ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں اپنی تمام مخلوق کی جانب نظرِ رحمت فرما کر ان کی مغفرت فرما دیتے ہیں سوائے دو لوگوں کے جو اﷲ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اورجو اپنے دل میں دوسروں کے خلا ف کینہ و بغض رکھتے ہیں۔(ابنِ ما جہ :حدیث نمبر1390)

اس رات کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور اس کی لذتیں ختم ہو نے والی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ شعبا ن کی پندرہویں رات جنت البقیع کے قبرستان تشریف لے گے ۔اپنی امت کے افراد کے لیے دعا فرمائی اور ایک خاموش پیغام دیا کہ دنیا کی رنگینیوں میں مبتلا ہو کر اپنی قبر کو مت بھولو جو دن رات تمہیں پکار پکار کر اپنی تنہائی اور بے گا نگی کی یا دہانی کروا رہی ہے ۔

اس رات کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ گنہگاروں کو ہر وقت معافی دینے کے لیے تیار ہے ۔اس کی رحمت اس کے غضب پر بھاری رہتی ہے اور اس نے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھا ہے ۔اگر دن کا گنہگار رات کو اور رات کا گنہگار دن کو آکر اُس کی رحمت کا دروازہ کھٹکھٹائے تو اسے یقیناً کھلا ہوا پائے گا۔ اس کی داددو دہش کا عالم یہ ہے کہ وہ گناہ سے توبہ کرنے والے کو گناہ گار کہنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے ۔ حضورِ اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے ’’گناہ سے توبہ کرنے والا یوں شمار ہوتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ‘‘(بخاری)

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ شعبان کی پندرہویں شب کو اﷲ تعالیٰ قریب کے آسمان پر جلوہ افروز ہوتے ہیں اور ہر گناہ گار کے گناہوں کو معاف فرماتے ہیں اگرچہ اس کے گناہ بنو کلب کی بکریوں کے جسم کے بالوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔(ترمذی)

ان تمام باتوں سے یہ معلوم ہوا کہ یہ رات بہت فضیلت والی ، برکت والی ہے اور یوں تو اﷲ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ ہی کھلا رہتا ہے لیکن پیارے نبی ﷺ کے ارشادت کی روشنی میں یہ پتا چلتا ہے اس رات کو اﷲ تعالیٰ بندوں کی مغفرت اور ان کو گناہوں سے برأت کا خصوصی موقع فراہم کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ہو کیا رہا ہے۔

یہاں میں خصوصاً سندھ اور کراچی کی بات کروں گا کہ یہ اس رات کو خصوصی طور پر لوگ قبرستانوں میں جا کر اپنے مرحومین کے لیے فاتحہ خوانی کرتے ہیں، ان کی قبروں کو صاف ستھرا کرتے ہیں۔ سرکاری طور پر بھی اس رات کے لیے قبرستانوں میں روشنی کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہاں تو بات ٹھیک ہے لیکن شعبان کی آمد کے ساتھ ہی گلی محلوں میں بم پٹاخوں کی آوازیں گونجنے لگتی ہیں۔ بالخصوص چائنہ بم بچوں کا مرغوب بم ہے۔ پھلجڑیاں، ڈبریاں اور کئی اقسام کے آتش بازی کے سامان ۔
 


معلوم نہیں کہ اس متبرک رات کا تعلق کب اور کس نے آتش بازی سے جوڑ دیا لیکن سینہ بہ سینہ جو روایت چلی آرہی ہیں ان کے مطابق برصغیر میں ہندو اور مسلمان ساتھ ساتھ رہتے تھے، ہندوؤں کا ایک تہوار دیوالی ہے ، جس میں پٹاخے ، آتش بازی ، پھلجڑیاں جلائی جاتی تھیں۔ مسلمان بچے اور نوجوان اس تہوار میں گیر دلچسپی لیتے تھے ۔ مسلم بزرگوں کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ بچے ہندوؤں کے رنگ میں نہ رنگ جائیں ، اس لیے انہوں نے مسلمان بچوں اور نوجوانوں کو ترغیب دی کہ یہ بڑی متبرک اور فضیلت والی رات ہے اس لیے اس رات کو آپ لوگ آتش بازی کرلیا کریں۔ اس طرح مسلمانوں میں اس رات کو آتش بازی سے جوڑا گیا ۔ (واﷲ اعلم )

غور کرنے کی بات ہے کہ ہم اس متبرک رات کے فضائل سمیٹنے کے بجائے اپنا سرمایہ آگ میں جھونک رہے ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان پٹاخوں کی ہیبت ناک آوازوں سے گھروں میں چھوٹے بچوں اور بزرگوں کے آرام میں خلل پڑتا ہے۔ جب کہ ایسے کئی واقعات بھی اخبارات میں آچکے ہیں کہ پٹاخوں کے باعث آتشزدگی ہوئی اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔ ایسے واقعات بھی علم میں آئے کہ ایسے پٹاخوں کے باعث کئی لوگ جھلس بھی جاتے ہیں ، اور معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں بالخصوص آنکھوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات تو عام ہیں۔

اﷲ تعالیٰ نور ہیں اور فرشتوں کو نور سے بنایا جب کہ شیطان آگ یعنی نار ہے ۔ اﷲ تعالیٰ اس رات کو بندوں کو آگ سے بچا کر جنت کی طرف لے جانے کا اعلان کررہے ہیں اور ہم نادانستگی میں شیطان کو خوش کرتے ہوئے آگ کا کھیل کھیلتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بھائی ، بچوں، کزنز کو سمجھائیں، انہیں اس رات کی فضیلت اور آتش بازی کے نقصانات سے آگاہ کریں اور انہیں آگ کے خطرناک کھیل سے روکنے کی کوشش کریں۔

Reviews & Comments

Subhanallah....
Excellent web ....
By: Roomy Habeeb, AMBUT on May, 12 2017
Reply Reply
0 Like
Oar wo jo kahte thei ke sal bhar ka rizq likha jata ha, Zindagi, mout ke faisele hote hein,
By: Muhammad saleem, Rawalpindi on Jun, 02 2015
Reply Reply
1 Like
Afreen hai un " Muslim Buzurgon" per... jinhon neh hindus ki qabehh rasam khatam karney key bajaye bachon ko aur targheeb de di ??!! ... Hum Muslamano ka almia hi yehi hai key Allah key Quran ko chor kar aur baqi sab kuch pakar liya hai... yeh sarey firqey... yeh rasoom o riwaj... quran ki asal taleemat ko bhula deney ka hi nateeja hain.
By: Azam Hameedi, Karachi on Jun, 02 2015
Reply Reply
2 Like
jab se mazhbi chutian khatam ki hai hakoomat ne ................shab barat aor shab e meraj mazhbi tehwaron ki ahmiat khatam ho kar reh gai hain.please khuda ra yeh chutian bahal karan take hamri nai nasal kuch mazhbi tehwar bhi jan sake...................
By: azeem, lahore on Jun, 02 2015
Reply Reply
2 Like
جزاک اللہ ھو خیراً کثیرا
By: Uzma, Lahore on Jun, 02 2015
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
Shab-E-Barat falls in the month of Shaban, which is the 8th month in the Islamic calendar. Traditionally, this month is also called the month of Separation, as the Arabs used to leave their families and wander in search of Water. In Arabic language, Shab E Barat is known as Lailatul Bara'at, meaning the night of emancipation.