آٹھ رکعات تراویح پڑھنے والوں سے کچھ سوالات

(افتخار الحسن رضوی, Gujranwala)
برصغیر اور اس سے ملحقہ کچھ ممالک میں رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی کچھ شریر اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے امت کو تقسیم کرنے میں پورا زور لگاتے ہیں، ایمان تازہ کرنے اور نیکیوں کے اس موسم میں نت نئی خرابیوں کے علاوہ ایک اہم مسئلہ نماز تراویح کی رکعات کا ہے۔ شروع سے ہی امت میں متفقہ طور پر بیس رکعات تراویح ادا کی جاتی رہیں مگر ہندوستان کے کچھ لوگوں نے ماضی قریب میں اسے بھی متنازعہ بنا دیا۔ حرمین شریفین ، بلاد عرب ، شرق و غرب اور کرہ ارض پر موجود امتِ مسلمہ کی اکثریت بیس رکعات ادا کرتی ہے اور یہ جمہور کا مذہب ہے۔ عوام الناس کے ذہنوں میں موجود غلط فہمی اور ان لوگوں کی جہالت کو روکنے کی نیت سے پہلے کچھ روایات مستند کتبِ حدیث سے پیشِ خدمت ہیں جو کہ بیس ترایح پر دلیل و ثبوت ہیں۔

1۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام سفیان ثوری، ابن مبارک رضی اللہ عنہم وغیرہ بیس رکعت تراویح کے قائل ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں :
و اکثر اهل العلم علی ماروی عن علی و عمر غيرهما من اصحاب النبی صلی الله عليه وآله وسلم عشرين رکعت و هو قول سفيان الثوری، و ابن المبارک و الشافعی و قال الشافعی هکذا ادرکت ببلد مکتة يصلون عشرين رکعت.
(جامع ترمذی، ابواب الصوم، باب ماجاء فی قيام شهر رمضان، جلد 1)

اکثر اہل علم کا عمل اس پر ہے جو حضرت علی و حضرت عمر و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، بیس رکعت۔ یہی حضرت سفیان ثوری، ابن مبارک، امام شافعی کا قول ہے، امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے شہر مکہ میں یہی عمل پایا کہ لوگ بیس رکعت پڑھتے ہیں۔

یہ روایت کس واضح اور روشن انداز میں بیان کر رہی ہے کہ امت کے جلیل القدر ائمہ کرام رضی اللہ عنہم متفقہ طور پر تراویح کی بیس رکعات کے قائل ہیں۔ اس روایت میں ائمہ اربعہ میں سے ایک امام سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ کا نام شامل نہیں لیکن انہوں نے الگ سے احادیث شریف پر عظیم کتاب "موطا امام مالک" میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل فرما کر اس فتنے کو لگام ڈال دی۔
کنا نقوم فی عهد عمر بعشرين رکعت.
(مؤطا امام مالک)
ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعت پڑھتے تھے۔
مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبد الرزاق میں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ حکم منقول ہے؛
یحی بن سعید کہتے ہیں کہ
ان عمر بن الخطاب امر رجلا ان يصلی بهم عشرين رکعة.
(مصنف ابن ابی شيبه، 1 : 393، مصنف عبد الرزاق، 1 : 262)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو بیس رکعت تراویح پڑھانے کا حکم دیا۔

قارئین کرام توجہ فرمائیے؛ وہ لوگ جو آٹھ تراویح کا شور کرتے ہیں ان کے پاس کوئی ایک ضعیف حدیث بھی نہیں ہے جس میں صراحت ہو کہ آٹھ رکعات تراویح پڑھو اور یہاں اللہ کے حبیب ﷺ کے خلیفہ جناب عمر رضی اللہ عنہ حکماً فرما رہے ہیں کہ بیس رکعات تراویح پڑھو۔ سبحان اللہ عزوجل۔

اس کے علاوہ تراویح کی بیس رکعات پر علماء کرام کی تصانیف اور تحقیقات کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔ یہاں میں چند سوالات درج کر رہا ہوں، جو لوگ آپ کے آس پاس میں آٹھ رکعات پڑھنے کے قائل ہیں ان سے یہ سوالات کیجئیے انشاء اللہ حق واضح ہو جائے گا۔
1۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ حرم مکہ اور حرم مدینہ میں کبھی آٹھ رکعات نماز تراویح با جماعت ادا کی گئی ہو؟
2۔ شریعت اسلامیہ میں عمل کی ایک شرعی حیثیت ہوتی ہے، عمل یا تو غلط ہوتا ہے یا درست، اگر آپ کے نزدیک آٹھ تراویح درست ہیں تو حرمین شریفین میں آج بھی بیس رکعات با جماعت ادا کی جاتی ہیں۔ آپ دونوں میں سے کون غلط؟ حرمین شریفین والے یا آپ؟
3۔ ملتِ اسلامیہ میں اس وقت تقریباً ستاون اسلامی ممالک ہیں، کیا آپ بتا سکتے ہیں کسی ایک ملک میں سرکاری سطح پر آٹھ رکعات تروایح ادا کی جاتی ہیں؟
4۔ تروایح کی رکعات میں ہند و پاک کے علماء پر ہی کیوں اعتراض، آٹھ تراویح کی وکالت سعودی علماء کے سامنے کیوں نہیں کرتے؟ اور سعودی عرب میں آٹھ تراویح پڑھانے کے لئیے وہاں کے علماء پر کیوں زور نہیں دیتے؟
5۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیس تراویح کا حکم جاری فرمایا ، کیا آپ کوئی ایک ضعیف روایت بھی دکھا سکتے ہیں جس میں دور ِ عمر رضی اللہ عنہ یا ان کے بعد کے ائمہ و مشائخ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس حکم سے ذرہ برابر اختلاف کیا ہو؟
6۔ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے علماء و اسلاف اور قرنِ اولٰی کے ائمہ کو اختلاف نہیں تھا تو آپ کل کی پیداوار ہیں، آپ کس بنیاد پر اختلاف کر رہے ہیں؟
7۔ سعودی عرب میں حرمین شریفین اور تمام بڑی مساجد میں با جماعت بیس رکعات تروایح ادی کی جاتی ہیں، ہندوستانی و پاکستانی غیر مقلد علماء وہاں موجود ہوتے ہیں، جب آپ کے سامنے ایک غیر شرعی عمل ہو رہا ہوتا ہے تو آپ کلمہ حق کیوں بلند نہیں کرتے اور ان لوگوں کو بیس رکعات کی ادائیگی سے کیوں نہیں روکتے؟
8۔ عالمِ اسلام کی عظیم درسگاہ جامعۃ الازہر کے مفتی، علماء اور فضلاء بیس رکعات پڑھتے ہیں، کیا آپ نے ہندوستان و پاکستان سے باہر نکل کر کبھی ان علماء کو بھی دعوتِ مناظرہ دی یا صرف ہند و پاک میں ہی فرقہ پرستی پھیلانا مقصود ہے؟
9۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں تراویح کا با جماعت عمل شروع کیا، بیس رکعات بھی انہیں سے ثابت، آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہزاروں صحابہ کرام علیہم الرضوان حیات و موجود تھے، کسی ایک صحابی نے بیس رکعات پر اعتراض نہیں کیا، کسی ایک کتاب سے کوئی ایک اعتراض ثابت نہیں۔۔۔ تو اب ہم اصحابِ رسول کے قول و فعل کا اعتبار کریں گے یا آپ کی تاویلات مبنی بر جہالت مانیں؟
10۔ ہم اوپر لکھ چکے اور مزید ثابت کرنے کو تیار ہیں کہ امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام مالک رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی بیس رکعات ثابت ہیں اور یہی چاروں امام امت اسلامیہ کے لئیے رہنماء ہیں، حرمین شریفین میں بھی امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کی جاتی ہے تو اس قدری وزنی دلائل اور ائمہ امت کے اقوال کی موجود گی میں کیا یہ ضرورت باقی رہتی ہے کہ ہم ہندوستان میں پیدا ہونے والی کسی مولوی کی بات پر یقین کر کے تراویح کی رکعات آٹھ مان لیں؟

سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم (متوفی ۱۹۹۹) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب (التراویحُ أکْثَرُ مِنْ ألْفِ عَامٍ فِی الْمَسْجِدِ النبوی) لک ھی ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں تصنیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسجد نبوی میں نماز تراویح ہورہی ہوتی ہے تو بعض لوگ آٹھ رکعت پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں ، ان کا یہ گمان ہے کہ آٹھ رکعت تراویح پڑھنا بہتر ہے اور اس سے زیادہ جائز نہیں ہے، اس طرح یہ لوگ مسجد نبوی میں بقیہ تراویح کے ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی اس محرومی کو دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ،لہٰذا میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں؛ تاکہ ان لوگوں کے شکوک وشبہات ختم ہوں اور ان کو بیس رکعت تراویح پڑھنے کی توفیق ہوجائے․․․․ اس کتاب میں ۱۴۰۰ سالہ تاریخ پر مدلل بحث کرنے کے بعد شیخ عطیہ محمد سالم لکھتے ہیں: اس تفصیلی تجزیہ کے بعد ہم اپنے قراء سے اولاً تو یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیا ایک ہزار سال سے زائد اس طویل عرصہ میں کسی ایک موقع پر بھی یہ ثابت ہے کہ مسجد نبوی میں مستقل آٹھ تراویح پڑھی جاتی تھیں؟ یا چلیں بیس سے کم تراویح پڑھنا ہی ثابت ہو؟ بلکہ ثابت تو یہ ہے کہ پورے چودہ سو سالہ دور میں بیس یا اس سے زائد ہی پڑھی جاتی تھیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی صحابی یا ماضی کے کسی ایک عالم نے بھی یہ فتویٰ دیا کہ ۸ سے زائد تراویح جائز نہیں ہیں اور اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو اس فتوے کی بنیاد بنایا ہو۔
11۔ سعودی عالمِ دین جو کہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے امام و شیخ تھے، انہوں نے آٹھ تروایح کو غلط سمجھا اور اس پر مکمل کتاب لکھ ڈالی اور کتاب بھی چیلنج سے بھرپور۔۔۔ آٹھ تراویح پڑھنے والوں نے آج تک اس کتاب کا جواب کیوں نہیں دیا؟ آپ دونوں میں سے کون غلط؟ امام مسجد نبوی یا آپ؟
صبحِ قیامت تک ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں ہو گا۔ میری گزارش ہے کہ تقسیم در تقسیم اس قوم پر رحم کیجئیے اور امت کے متفقہ مسائل میں شرانگیزی نہ کیجئیے۔ اس قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے اس لئیے اگر آپ عملِ خیر نہیں کر سکتے تو ماہِ مقدس میں اپنی شرارتوں سے دوسروں کو اذیت بھی نہ دیجئیے۔ تمام قارئین و محبین سے گزارش ہے کہ تروایح کی بیس رکعات مکمل ادا کیجئیے۔ اس سے کم نوافل ہو سکتے ہیں تراویح نہیں ہو گی۔
وما علینا الا البلاغ۔
علم و عمل کا جذبہ پانے، روحانی و شرعی مسائل جاننے کے لئیے ہمارا فیس بک پیج لائیک کیجئیے۔
https://www.facebook.com/IHR.Official
رہنمائی کے لئیے ہمیں ای میل کیجئیے۔
[email protected]
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Iftikhar Ul Hassan Rizvi

Read More Articles by Iftikhar Ul Hassan Rizvi: 62 Articles with 207480 views »
Writer and Spiritual Guide Iftikhar Ul Hassan Rizvi (افتخار الحسن الرضوی), He is an entrepreneurship consultant and Teacher by profession. Shaykh Ift.. View More
16 Jun, 2015 Views: 2764

Comments

آپ کی رائے
all dear brothers i request to all of to refrain from this unnecessary discussion. i have all to gather a different question from all of u. that is purpose of all "ebadah " is to develop good character in muslim society. that character is not visible neither in those who offer 20 nor in those who offer 8. what is fun discuss all. point of discussion should have let us becomes human being required by Allah Almighty and our beloved profit Muhammad peace be upon him. the character which was demanded by Allah and his Messenger is not visible any where in all muslim countires. muslim world is full of "zulm" birbry injustice and what and what not in this situation to discuss number of rakats 8 or 20 seems to be ridiculous. please stop it and try to become muslims those r honest, truthful, united as enjoined by Allah, duty full and fear from Allah in all situation and perform their duties completely. please worry about those who not offer even faraz namaz do not worry about those who offer 8 rakats. May Allah guide all of us towards his true path with unity and piety.
By: Muhammad Adeel, Lahore on Jul, 09 2015
Reply Reply
0 Like
Bhai ,, Harmeen me 20 Raqat Nahi Hoti ..
Wo Is Tarha Hai Ke ,,
Ek Imam 10 Parha Kar Chala JatA hai .. AUr Dosra Akar Phir 10 Parhata hai ..
Jis Ki Reh Jati HAi Wo Dosry Imam Ke Sath Parhta hai Kyo Ke Ramzan ME Har Kisi Ko Jaga Nahi Milti
ab agar farz kary ke asar ki namaz ke 4 farz parha kar imam chala jaie aur dosra akar bhi 4 farz parhaie un logo ko jin ki reh gaie thi
to asar ki namaz 8 Farz ki hogaie ?
aur sodia me mere chahco 35 saal reh kar aie hai .. unho ne to kabhi 20 raqat nahi parhi .. ap ko kisne kaha mere pyare bhai ?
By: Sufyan Shaikh, Karachi on Jun, 26 2015
Reply Reply
4 Like
اسلامُ علیکم برادر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں رضوی صاحب اب بلا وجہ کی حجت نہیں کرینگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے شک حرمیں میں ایک امام دس رکعات پڑھا کر چلا جاتا ہے اور دوسرے امام صاحب آکر دس رکعات پڑھاتے ہیں تاکے جو لوگ پڑھنے سے رہ گئے ہیں وہ پڑھ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے اگر کسی نے تراویی نہ بھی پڑھی ہو تو اس کا گناہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک اضافی عبادت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سے آپ کو اجر ملتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جذاک آللہ خیراً
By: farah ejaz, Karachi on Jul, 08 2015
2 Like
MashaALLAH..... Bohat hi ahsan andaz me ap ne apni baat samjae..... Hadees e aisha me 8 rakaat tahajud hain aue 3 witar muraad hain.. Allah hamain deen ko samajne k liyay jayyed ulama k pass baithne ki sohbat ataa kare
By: hafiz qamar, rawalpindi on Jun, 26 2015
Reply Reply
1 Like
اللہ آپ کو ہدایت دے۔ رضوی صاحب آپ کے تیور کچھ یوں بتارہے ہیں کہ آپ کٹ حجتی کرنا چاہتے ہیں۔ آپ اپنے حوالوں کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ چکے ہیں اس بات سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ وہ صحیح ہیں یا غلط، اور سوالات آپ کے اس قدر غضب کے ہیں کہ اگر کوئی اس کا جواب دینے لگے تو دلوں میں موجود کدورتوں میں مزید اضافہ ہوجائے۔ منہاج صاحب نے ان تمام احادیث کی اسناد پر بحث کرتے ہوئے ثابت کردیا ہے کہ وہ ضعیف ہیں۔ پھر بھی آپ اس طرف توجہ دینے کو تیار نہیں کیونکہ شاید آپ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان کی بات کو جھٹلا نہیں سکتے۔

1۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ حرم مکہ اور حرم مدینہ میں کبھی آٹھ رکعات نماز تراویح با جماعت ادا کی گئی ہو؟
جواب: آپ حرم مکہ کا کیوں حوالہ دے رہے ہیں، سنت نبوی کے بارے میں کیوں نہیں دریافت فرماتے؟ اگر بفرض محال حرمین میں آٹھ رکعت تراویح پڑھائی جانے لگے تو کیا آپ اپنی بیس رکعتوں سے دستبردار ہوجائیں گے؟ آپ کا سوال ہی غلط ہے۔

2۔ شریعت اسلامیہ میں عمل کی ایک شرعی حیثیت ہوتی ہے، عمل یا تو غلط ہوتا ہے یا درست، اگر آپ کے نزدیک آٹھ تراویح درست ہیں تو حرمین شریفین میں آج بھی بیس رکعات با جماعت ادا کی جاتی ہیں۔ آپ دونوں میں سے کون غلط؟ حرمین شریفین والے یا آپ؟
جواب۔ یہاں صحیح یا غلط کا فیصلہ کرنا تشدد سے کام لینا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ آٹھ رکعت تراویح سنت ہیں، مگر بیس رکعت ادا کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رکعات کی تحدید نہیں کی بلکہ صرف یہ کہا کہ دو دو رکعتیں پڑھو۔ آپ اپنے اس سوال سے ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کررہے ہیں جو کہ غلط ہے۔

3۔ ملتِ اسلامیہ میں اس وقت تقریباً ستاون اسلامی ممالک ہیں، کیا آپ بتا سکتے ہیں کسی ایک ملک میں سرکاری سطح پر آٹھ رکعات تروایح ادا کی جاتی ہیں؟
جواب: شاید کوئی ایک بھی نہیں۔ مگر پھر بھی سنت یہی ہے کہ آٹھ رکعت تراویح۔

4۔ تروایح کی رکعات میں ہند و پاک کے علماء پر ہی کیوں اعتراض، آٹھ تراویح کی وکالت سعودی علماء کے سامنے کیوں نہیں کرتے؟ اور سعودی عرب میں آٹھ تراویح پڑھانے کے لئیے وہاں کے علماء پر کیوں زور نہیں دیتے؟
جواب: یہ مسئلہ صرف یہاں کا نہیں ہے۔ وہاں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ سعودی علمائے کرام نے اس کا فیصلہ بغیر کسی ٹکراؤ کی صورت حال پیدا کئے دیا ہے۔

5۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیس تراویح کا حکم جاری فرمایا ، کیا آپ کوئی ایک ضعیف روایت بھی دکھا سکتے ہیں جس میں دور ِ عمر رضی اللہ عنہ یا ان کے بعد کے ائمہ و مشائخ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس حکم سے ذرہ برابر اختلاف کیا ہو؟
جواب: جس روایت میں حضرت عمر نے بیس تراویح کا حکم دیا اس کی سند قابل استدلال نہیں ہے، اس کا رد کرنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔

6-اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے علماء و اسلاف اور قرنِ اولٰی کے ائمہ کو اختلاف نہیں تھا تو آپ کل کی پیداوار ہیں، آپ کس بنیاد پر اختلاف کر رہے ہیں؟
جواب: بیس رکعت ادا کرنے سے روکنا بھی غلط ہے اور آٹھ رکعت پڑھنے والوں پر تفرقہ کا الزام لگانا بھی زیادتی ہے۔ جو آٹھ رکعت پڑھتا ہے وہ سنت پر عمل کرتا ہے اسے نہ ٹوکیں، البتہ اس کیلئے بہتر یہی ہے کہ اگر وہ جماعت کے ساتھ پڑھ رہا ہے تو بیس رکعت پوری پڑھ لے۔

7- سعودی عرب میں حرمین شریفین اور تمام بڑی مساجد میں با جماعت بیس رکعات تروایح ادی کی جاتی ہیں، ہندوستانی و پاکستانی غیر مقلد علماء وہاں موجود ہوتے ہیں، جب آپ کے سامنے ایک غیر شرعی عمل ہو رہا ہوتا ہے تو آپ کلمہ حق کیوں بلند نہیں کرتے اور ان لوگوں کو بیس رکعات کی ادائیگی سے کیوں نہیں روکتے؟
جواب: یہ بات صحیح نہیں ہے۔ کہیں بیس پڑھی جاتی ہیں اور کہیں آٹھ۔ اور اللہ کا فضل ہے کہ وہاں اس قسم کا ہنگامہ نہیں کیا جاتا جو یہاں کیا جاتا ہے۔

8-عالمِ اسلام کی عظیم درسگاہ جامعۃ الازہر کے مفتی، علماء اور فضلاء بیس رکعات پڑھتے ہیں، کیا آپ نے ہندوستان و پاکستان سے باہر نکل کر کبھی ان علماء کو بھی دعوتِ مناظرہ دی یا صرف ہند و پاک میں ہی فرقہ پرستی پھیلانا مقصود ہے؟
میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ بیس رکعت پر اعتراض کرنا غلط ہے اور اسی طرح آٹھ رکعت پڑھنے والوں پر فرقہ پرستی کا الزام لگانا بھی درست نہیں۔ اس قسم کے لطیف اختلاف سے امت میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا اور خدا کرے آئندہ بھی نہ ہو۔ ہاں البتہ اگر کوئی ملا اسے اپنی ناک کے وقار کا مسئلہ بنالے تو پھر پریشانی کی بات ہے۔

9-سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں تراویح کا با جماعت عمل شروع کیا، بیس رکعات بھی انہیں سے ثابت، آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہزاروں صحابہ کرام علیہم الرضوان حیات و موجود تھے، کسی ایک صحابی نے بیس رکعات پر اعتراض نہیں کیا، کسی ایک کتاب سے کوئی ایک اعتراض ثابت نہیں۔۔۔ تو اب ہم اصحابِ رسول کے قول و فعل کا اعتبار کریں گے یا آپ کی تاویلات مبنی بر جہالت مانیں؟
جواب: یہ کون سی روایت ہے؟میرا خیال ہے اس روایت کی سند کی تنقیح منہاج صاحب نے کردی ہے ذرا اسے دیکھ لیں۔ اب کیا ہم آپ سے یہ پوچھیں کہ آپ سنت رسول کو مانتے ہیں یا ایسی حدیث کو جو استدلال کے قابل نہیں ہے؟

10-ہم اوپر لکھ چکے اور مزید ثابت کرنے کو تیار ہیں کہ امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام مالک رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی بیس رکعات ثابت ہیں اور یہی چاروں امام امت اسلامیہ کے لئیے رہنماء ہیں، حرمین شریفین میں بھی امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کی جاتی ہے تو اس قدری وزنی دلائل اور ائمہ امت کے اقوال کی موجود گی میں کیا یہ ضرورت باقی رہتی ہے کہ ہم ہندوستان میں پیدا ہونے والی کسی مولوی کی بات پر یقین کر کے تراویح کی رکعات آٹھ مان لیں؟
جواب: بڑی عجیب بات ہے۔ امام مالک تو چھتیس رکعات کے قائل ہیں؟ بقیہ تین اماموں کے ہاں بیس پر اتفاق ہے۔ جب ائمہ اربعہ ہی میں اختلاف ہے تو پھر ہم کیا کریں۔ قابل لحاظ بات آپ کے اس آخری سوال میں یہ ہے کہ آپ آٹھ رکعت کے مسئلہ کو ہندوستان میں پیدا ہونے والے مولوی کی بات خیال کررہے ہیں جبکہ یہ بات سنت نبوی سے ثابت ہے۔

برائے مہربانی اس مسئلے کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔
By: جواد شہاب, Aurangabad - India on Jun, 24 2015
Reply Reply
4 Like
بارک اللہ فیک برادر جواد
By: farah ejaz, Karachi on Jul, 08 2015
2 Like
بارک اللہ فیک برادر جواد شہاب
By: Baber Tanweer, Karachi on Jun, 30 2015
2 Like

جواد شہاب،

ما شاء اللہ بھائ، بہت عمدہ جوابات دے ہیں، اللہ آپ کو جزاۓ خیر دے.
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Jun, 26 2015
2 Like
آپ لوگوں کے اندر یہی خرابی ہے کہ جب جکڑے اور پکڑے جائیں تو پھر آئیں بائیں شائیں سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ اتنے طویل تبصرے کر رہے ہیں جو کہ بالکل مفید نہیں ہیں۔ یہ تمام روایات و حوالہ جات میرے علم میں ہیں، اور میں انہیں سمجھتا ہوں الحمد للہ۔ میں نے ان سوالات کا جواب طلب کیا ہے جو اس آرٹیکل میں ہے، اس کا جواب کون دے گا؟ جس ترتیب اور نکات سے میں سوالات درج کئیے ہیں اسی ترتیب سے آپ جواب لکھ دیں۔ یہاں طویل تبصرے کے لئیے آپ کے پاس وقت بھی ہے اور الفاظ بھی تو میرے سوالات کا جواب کیوں نہیں لکھ دیتے؟ اپنا دامن صاف کیجئیے، جواب لکھئیے بات ختم۔
By: افتخار الحسن رضوی, گوجرانوالہ on Jun, 22 2015
Reply Reply
0 Like
رضوی صاحب آپ نے خود ہی وہ لکھ دیا جو اصل نقطہ ہے یعنی آپ کے سوالات آئیں بائیں شائیں ہیں. ایک ہی سوال کا کبھی ناک پکڑا گیا ہے کبھی بازو کھینچا گیا ہے کبھی منہ نوچا گیا ھے اور کبھی پاؤں. اسلیے مجھے اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں. آپ کے مضمون میں صرف روایت کو درج کرنے پر زور ہے مگر تحقیقا اس روایت کا کیا مقام ہے، اسکی آپ کو فکر ہے اور نہ معلوم کرنے کی خواہش؟ یا شاہد اندھی تقلید کا شاخسانہ.
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Jun, 23 2015
1 Like
rizvi sahab, is ka bhi mutalia farmaaein:

http://www.ircpk.com/tehqeeqi-wa-ilmi-mazameen/6311-ilyas-ghuman-ka-jawab.html (ilyaas ghumman sahab k taraaweh k 15 dalaail aur un k jawabaat)

http://www.ircpk.com/books/zubair-ali-zai/3582-tadad-rakat-e-qayam-ka-tahkiki-jaiza.html (ta'daad-e-rak'at qayaam ramadhaan ka tahqeeqi jaaiza azz shaykh haafidh zubair ali zay rahimahullah)

In sha Allaah in sab ka muta'liaa farmain, aap k tamaam ashakalaat ka shaafi jawabaat in mai moujood hai. Allaah hamei haqh ki taraf ruju' karne waala dil ataa farmae, ameen.
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Jun, 18 2015
Reply Reply
0 Like
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

رکعات تراویح
روزے میں تراویح بھی رمضان کا وہ نفل عبادت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین سے ثابت ہے اور اسکا احتمام کرنا چاہیے

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابیہ بن کعب اور تمیم الداری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائیں.

(حوالہ: موطا امام مالک جلد 1 صفحہ 114 حدیث 249، و سندہ صحیح)

اسی طرح سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں 11 رکعات پڑھتے تھے.

حوالہ: سنن سعید بن منصور بحوالہ الحاوی للفتاوی جلد 1 صفحہ 349 صحیح سند)

ان شاء اللہ موضوع تعداد تراویح کو سمجھنے کے لۓ کچھ نقاط کو سمجھنا ضروری ہے ماہ رمضان (کی راتوں) سیدہ عائیشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ، مفہوم: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور کسی دوسرے مہینے میں 11 رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے.

(حوالہ: صحیح بخاری جلد 1، 154 حدیث 1147)

ایک اور حدیث ہے، صلوۃ اللیل مثنی مثنی

مفہوم: رات کی (نفلی) نماز دو دو رکعتیں ہے.

مسلم جلد 1، 516-519

ان روایتوں سے ظاھر ہوا کہ نفل کی کوئ تعداد نہیں وہ جتنی پڑھو جائز ہے لیکن اگر تراویح کو سنت معقدہ کی نیت سے پڑھو تو لمبا پڑھو اور 11 (8+3) پڑھنا چاہیے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ تو تہجد کا عمل ہے اور تراویح نہیں. یہ کہنا صحیح نہیں کیونکہ پوچھنے والے نے رمضان اور غیر رمضان دونوں کا پوچھا اور یہ کسی صحیح یا حسن لزاتہ روایت سے ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن 3 رات تراویح ادا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علیحدھ سے تحجد بھی پڑھی.

بلکہ تیسری رات جو تراویح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کی وہ رات کو اس پہر ادا کی کہ صحابہ کو ڈر ھوا کہ شاید ان سے سحری (نہ) رہ جاۓ. یعنی اگر آپ نے اس رات تراویح رات اتنی دیر سے ادا کی تو تحجد کب ادا کی؟ اسی طرح متفق علیہ حدیث میں 10 رکعت قیام الیل اور 1 وتر کا ذکر بھی ہے. تہجد اور تراویح ایک ہی نماز کا نام ہے یعنی دونوں قیام الیل کا نام ہی ہے جیسے ہم نے پہلے ذکر کیا اور یہ بات انور شاء کشمیری دیوبندی صاحب نے فیض الباری جلد 2 صفحہ 420 میں بھی درج کی اور اسی طرح رشید احمد گنگوہی دیوبندی صاحب نے بھی لطائف قاسمیہ صفحہ 13 تا 17 میں ایسا ھی اقتباس نقل ہے.

یقینا مختلف علماء کا عمل تراویح کے حوالہ سے مختلف رہا ھے کسی نے 11 کسی نے 23 کسی نے 36 کسی نے 41 رکعت وغیرھ پڑھنے کو ترجیع دی اور ھر علماء کے پاس شائد دلیل ہوں مگر چونکہ تراویح ایک نفل عبادت ہے اس لۓ اس میں گنجائش رہے گی اگر کوئ شخص اس کو سنت مئکدہ کی نیت سے پڑھے تو پھر مختلف روایت کو محدیثین کی اصول حدیث اور درایت حدیث سے جانچنا ضروری ہے اسلۓ یہ کہنا کہ صرف 20 پر امت کا اجماع ہے صحیح نہیں.

بعض احباب 20 رکعات کے لیے چند روایات پیش کرتے ہیں، جن میں سے چند ایک مجمل تحقیق کے ساتھ مندرجہ ذیل ہیں:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ (صحابہ و تابعین) رمضان میں 23 رکعات (یعنی 20 تراویح اور 3 وتر) پڑھتے.

(حوالہ: مؤطا امام مالک، باب: کتاب الصلاۃ فی رمضان، رقم: 248

یہ روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے. کیونکہ اس کے راوی یزید بن رومان نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا.

(نصب الرایۃ للزیلعی 163/3

لہذا یہ روایت منقطع ہوئ جب کہ موطاء امام مالک میں اس روایت سے متصل روایت میں صحیح سند کے ساتھ 11 رکعت ثابت ہے. جو میں نے پہلے ہی اوپر ذکر کر دی ہے. انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب کے بقول متصل کو منقطع پر ترجیع حاصل ھوتی ھے (حوالہ: العرف الشذی، 11)

اسی طرح علامہ نیموی حنفی نے بھی آثار اسنن میں اسے منقطع کہا. اس سے ثابت ھوا کہ اس روایت یا ایسی روایات سے اہم موضوع پر استدلال کرنا صحیح نہیں. اسی طرح قرآن و حدیث اور صحیح یا حسن نصوص کے فہم صحابہ کے خلاف ضعیف اقوال یا تابعی کے اقوال پیش کرنا بھی حجت نہیں ہوتا.

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو 20 رکعت تراویح پڑھائے.

(حوالہ: ابن ابی شیبہ کتاب الصلوۃ
حدیث: 7764)

اس روایت کے بارے میں نیموی حنفی نے حاشیہ آثار السنن صفحہ 253 پر لکھا، مفہوم: "یحیی بن سعید الانصاری نے عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا." یعنی اس روایت کی سند منقطع ہے اور استدلال کے قابل نہیں.

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کےزمانے میں لوگ (صحابہ و تابعین) رمضان میں 23 رکعات (یعنی 20 تراویح اور 3 وتر) پڑھتے.

(حوالہ: بیہقی حدیث: 4618)

اس روایت کی سند شاذ ہے اسکے مقابلہ میں مؤطا امام مالک کی 8 والی روایت سے امام طحاوی نے استدلال کیا اور عینی حنفی نے صحیح کہا اور نیموی نے اسنادہ صحیح کہا (آثار السنن صفحہ 250) جن حنفی اور دیوبندی علماء نے 8 کو سنت ہونا تسلیم کیا ان میں سے چند یہ ہیں ابن ہمام، طحطاوی، ملا علی قاری، حسن بن عمار شرنبلانی، عبدالحی لکھنوی، انور شاہ کشمیری، خلیل احمد سہارنپوری وغیرہ.

اسی طرح کم و بیش 10 سے زیادہ اہم علماء کے اقوال 11 کے حق میں ھیں اسلیے بعض احباب کیا یہ کہنا کہ اجماع صرف 20 رکعت پر ہے، یہ کہنا کسی طور بھی جائز نہیں ہے.

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ بعض احباب کا یہ کہنا ہے کہ سعودی عرب اور حرمین میں بھی 20 رکعت تراویح پڑھی جاتی ہیں. اس سلسلہ میں عرض ہے کہ دلیل قرآن وسنۃ اور صحیح یا حسن نصوص پر فہم صحابہ ہے ورنہ حرمین میں تو ھاتھ بھی ناف سے اوپر باندتھے ہیں، آمین بالجہر بھی کہتے ھیں، رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین بھی کرتے ہیں، اسی طرح یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ نہیں بلکہ فوق العرش ہے (اپنی شان وعزمت کے ساتھ) اور فوق العرش پر ہونے کے باوجود رب تعالی تمام امور کا علم اور ان پر قدرت وطاقت رکھتا ہے، تمام اتہحیات پر تشہد میں شہادت کی انگلی اٹھا کر ہلاتے ہوۓ دعا مانگتے ہیں صرف اشہد ان لا الہ الا اللہ پر اٹھا کر خود ساختہ عمل نہیں کرتے، اسی طرح حرمین میں اور سعودی عرب میں توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسماء والصفات کو اپنی زندگیوں میں رائج کرنے اور پڑھانے پر خاص توجہ دی جاتی ہے جبکہ ھمارے ہاں اسکا اتنا احتمام نہیں کیا جاتا. حرمین میں تراویح نفل نماز کی حیثیت سے پڑھی جاتی ہے اسی لۓ آخری 10 دن تراویح کے علاوہ 10 رکعت صلاۃ الیل بھی پڑھی جاتی ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ حدیث مسلم کے مطابق نفل کی کوئ حد نہیں 20 پڑھو یا 40. میرے تجربہ کے مطابق سعودی عرب میں حرمین کے علاوہ زیادہ تر مسجدوں میں 11 ہی ادا کی جاتی ہیں، واللہ اعلم، اور ھدایت دینے والا تو اللہ عزوجل ہی ہے، وما علینا الا البلاغ.

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=48717
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Jun, 18 2015
Reply Reply
3 Like
اخی بابر تنویر،
جزاک اللہ خیرا. مگر ہم حق پرست ہیں اور کسی چیز میں غلو سے کام نہیں لیتے اور حق یہ کہ میں ایک عام سا بندہ ہوں دین کے کسی شعبہ کا فاضل نہیں، البتہ علماء عرب و عجم کی تحقیقات و سوالات جوابات دیکھتا رہتا ہوں. اس تحقیق کے مختلف عنصر محدث حافظ زبیر علی زئ رحمہ اللہ اور علامہ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی تحقیق سے لیے گیے ہیں. اللہ انہیں جزاۓ خیر دے، آمین
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Jun, 26 2015
1 Like
ابن چشتی صاحب آپ کا مطلب کیا یہ ہے کہ دنیا ان روایات سے واقف ہے اور پھر بھی ان سے استفادہ کرنے سے قاصر ہے؟ رضوی صاحب کے اعتراضات کے جوابات تو میں نے خیر ضبط نفس سے کام لے کر دے دئیے مگر آپ یہ کیوں چاہتے ہیں کہ منہاج صاحب سعودی علمائے کرام سے حجت کریں، جبکہ یہ سوال انہوں نے اٹھایا ہی نہیں ہے وہ لوگ آپ کی طرح ایک آسان مسئلہ پر اختلاف ہونے پر چراغ پا نہیں ہوتے بلکہ معاملے کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھتے ہیں اور اسی لئے وہاں پر یہ مسئلہ اس قدر نہیں اچھلتا جس طرح یہاں اچھالا جارہا ہے۔
By: جواب شہاب, Aurangabad - India on Jun, 24 2015
2 Like
جی ابن چشتی صاحب یعنی دنیا ان حوالوں سے واقف ہے اور میرے خیال میں دنیا سے آپ کی مراد اہل تقلید ہیں۔ تو جب وہ ان تمام حوالوں سے واقف ہیں تو انہیں تسلیم کیون نہیں کرتے۔ اسے اندھی تقلید اور ہٹ دھرمی کے علاوہ کچھ اور نام نہیں دیا جاسکتا۔
بارک اللہ فیک اخی الفاضل منہج السلف۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Jun, 24 2015
2 Like
ابن چشتی صاحب

بات یہ ہے کہ میں نے آپ کے علامہ صاحب کو بتا دیا ہے کہ نفل کی نیت سے 30 بھی پڑھ سکتے ہو اور 20 بھی جو عمل سعودی عرب میں کیا جاتا ہے مگر سنت کی نیت سے 8، 10 اور 13 تک ثابت ہے. اور 20 والی روایات سب ضعیف ہیں. اور کتابوں کے حوالے بھی لکھ دے ہیں جنکو ڈائندلوڈ کر کے پڑھ سکتے ہیں. افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس آرٹیکل کے سوالات میں محظ آئیں بائیں شائیں ماری گئی ہے ایک ہی سوال کا کبھی ناک پکڑا گیا ہے کبھی بازو کھینچا گیا ہے کبھی منہ نوچا گیا ھے اور کبھی پاؤں. اسلیے مجھے اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں. ہمارے لیے دلیل قرآن والسنۃ اور فہم صحابہ وسلف ہے جو صحیح یا حسن روایات سے ثابت ہو ضعیف سے نہیں اور وہ اجماع جو جمہور سے ثابت ہو. ہمارے لیے دلیل نہ تو آئیں بائیں شائیں ہے. نہ یہ کہ حنفی ماتریدی کیا کہتے ہیں اور نہ یہ کہ جامعہ الازہر کے اشعری مفتی کیا فرماتے ہیں؟

آپ کے علامہ صاحب نہ تو اس سے واقف ہیں کہ ہر روایت کی سند ہوتی ہے اور اسکی درایت ہوتی ہے اور محدثیں ہر روایت حدیث کے راویوں کو جدا جدا پڑتال کرتے ہیں جس کو علم الرجال کہا جاتا ہے اور جرح وتعدیل کرتے ہیں. اور پھر اس روایت پر اپنی تحقیق کے مطابق صحت وسقم کا حکم لگاتے ہیں. اس علم پر محدثین نے بڑی کتب تحریر فرمائیں مثلا حافظ ابن حجر عسقلانی نے حافظ یوسف عبدالرحمن ابن مزی کی تہذیب الاکمال کو تہذیب التہذیب کی شکل میں ترتیب دیا جو 4 یا پانچ جلدوں میں موجود ہے جس میں راویوں کے حالات مذکور ہیں. اسی طرح تقریب التہذیب کو تصنیف کیا جو 1 جلد میں ہے اور یہ سب علم الرجال سے تعلق رکھتی ہیں. یہ صرف حافظ ابن حجر کی چند کتابوں کا ذکر تھا. حافظ ذھبی نے بھی بہت کام کیا. مگر کاش کے آپ کے علامہ صاحب اور انکے علماء کبھی علم روایت (حدیث کو صرف روایت کر دینا) سے آگے بڑھ کر علم درایت (روایت کے راویوں پر جرح یا تعدیل) سے محبت کریں.

آخر میں یہ بھی کہوں گا کہ آپ کے علامہ صاحب نے صریح جھوٹ بولا ہے کہ حرمین میں احمد بن حنبل کی تقلید کی جاتی ہے بلکہ حق تو یہ ہے سعودی کے علماء قرآن والسنۃ پر فتوی دیتے ہیں سعودی کے چند کبار علماء یہ ہیں شیخ عبدالعزیز بن باز، شیخ محمد بن صالح عثمین. رحمہما اللہ. شیخ صالح الثہیمی، شیخ عبدالعزیز آل الشیخ، الشیح صالح ابن محمد لہیدان، الشیخ صالح فوزان، الشیخ محدث مدینہ عبدالمحسن البدر، الشیخ محدث ربیع بن ھادی حفظھم اللہ وغیرہ. انکے سوال وجواب یوٹیوب پر موجود ہیں اور یہ سعودی علماء ہیں. یہ اپنے علم کے مطابق، صرف قرآن والسنۃ پر اپنا فتوی دیتے ہیں، جس سے دلائل کی رو سے متفق یا غیر متفق ہوا جاسکتا ھے، مگر یہ سوچ کہ وہ تقلید کرتے ہیں یہ سوچ باطل ہے.
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Jun, 23 2015
0 Like
حوالوں کی بارش تو آپ نے ایسے کی ہے جیسے دنیا ان روایات سے ناواقف ہے۔ آپ سچ کیوں تسلیم نہیں کرتے؟ علامہ افتخار الحسن رضوی صاحب نے جو اعتراضات اور سوالات پوچھے ہیں ان کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ پھسلنے کی عادت کیوں نہیں جاتی آپ لوگوں کی، سوال چنا جواب گندم؟؟؟ اور یہ جواب آپ سعودی علماء کو کیوں نہیں دیتے؟
اگر آپ واقعی سچے ہیں تو اس آرٹیکل میں لکھے ہوئے سوالات کے جوابات دیں بجائے یہاں وقت برباد کرنے کے۔
By: Ibn e Chishti, Dubai on Jun, 22 2015
0 Like
آپ الشیخ محدث حافظ زبیر علی زئ رحمہ اللہ کی، تراویح کے موضوع پر، اس تصنیف کو ضرور پڑھیں.

http://www.ircpk.com/books/zubair-ali-zai/3582-tadad-rakat-e-qayam-ka-tahkiki-jaiza.html




By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Jun, 20 2015
0 Like
رضوی صاحب،

میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ تراویح نفل عبادت ہے 8 پڑھو، 20 پڑھو، 30 پڑھو یا چالس، سب جائز ہے. لیکن اگر متشدد ہو کر صرف 20 کو سنت کہا تو یہ صحیح نہیں بلکہ باطل ہے. اصل میں ہمارے لیے دلیل قرآن والسنۃ اور سلف الصالحین کے صحیح اور حسن اسناد پر روایات اور جمہور علماء حق کا عمل و اجماع ہے.

آپ کے اندر اتنا تکبر ہے کہ آپ مقلد ہو کر بھی ابن ہمام، طحطاوی، ملا علی قاری، شرنبلانی، عبدالاحی لکھنوی، اور انور شاء کشمیری وغیرہ کی بات پر کان نہیں دھر رہے جو آپ کے علماء ہیں اور انہوں نے 8 کو سنت ہونا تسلیم کیا.

بہر حال میں نے 20 رکعات تراویح کے بارے میں آپ اور آپ جیسوں کے لیے علامہ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کا لکھا ہوا ایک ارٹکل پوسٹ کر دیا، جس میں 20 رکعت تراویح کے بارے میں بتایا گیا ہے اور وہ سب ضعیف ہیں، جو ان شاء اللہ جلد ہی منظر عام آجاۓ گا. اللہ عثمان احمد بھائ کو جزاۓ خیر دے.

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دیوبند، بریلوی ہو یا کوئ اور مکتبہ فکر کا عالم. ضروری نہیں کہ ان کے پاس وہ علم موجود ہو جس کی بنیاد پر ان کے اقوال یا کتابوں کو آنکھیں بند کر کے صحیح کہا جاۓ، اسی لیے امت میں محدثین گزرے ہیں اور اب بھی ہیں جنکی تحقیق سے فاعدہ اٹھایا جاتا ہے. اور محدثین نے ہر ہر روایت پر جدا جدا تحقیق کی ہے.

آپ الشیخ محدث حافظ زبیر علی زئ رحمہ اللہ کی، تراویح کے موضوع پر، اس تصنیف کو ضرور پڑھیں.

اللہ ھمیں حق کی طرف رجوع کرنے والا دل عطا فرماۓ، آمین.



فرح بہن، اللہ آپ کو بھی جزاۓ خیر دے.
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Jun, 20 2015
2 Like
اتنی لمبی بحث کی ضرورت ہی نہیں، فقط ان سوالات کا ترتیب سے جواب دیں جو اس مضمون میں اٹھائے گئے ہیں،۔
By: افتخار الحسن رضوی, گوجرانوالہ on Jun, 19 2015
0 Like
جزاک اللہ خیراً منہاج بھائی
By: farah ejaz, Karachi on Jun, 19 2015
2 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ