تحریک آزادی کا عظیم رہبر

(DR ZAHOOR AHMED DANISH, Karachi)
میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اعتدال کو بروئے کار لاتے ہوئے محتاط تحریر ترتیب دوں ۔آج ایک ایسی تحریر لکھ رہاہوں ۔جس کے پیچھے میرے ارادے سے زیادہ میرے وجدان اور روح کا تعلق ہے ۔ظہوراحمد دانش کے اندر پنپنے والے ایک کشمیری نے جب علم بغاوت بلند کیا تو پھر ایک تحریر کو ترتیب دینے کے لیے سوچوں کے دوش پر چل پڑا۔ بس بے خودی ہی میں بلا روک ٹوک سچ کو عمدہ سچائی کے ساتھ لکھتا چلاگیا۔
آج میں آپ کو ایک شخصیت کا تعارف کروانے لگا ہوں ۔وہ خود تو متعارف ہیں لیکن ان کا تعارف کرواکر میں اپنا قد اور اپنے وژن کو وسیع کرنے کی کوشش کررہاہوں ۔

محترم قارئین !!تحریک آزادی ٔ کشمیر کا ایک عہد ساز رہبر جسے آپ نے مقبول بٹ کے نام سے جانا ہوگا ۔آئیے میں ان کی زندگی اور انکی کوششوں کے متعلق کچھ بتاتاہوں ۔مقبول بٹ اٹھارہ فروری کو کپوارہ ضلع کے قصبے ترہگام گاوں کے ایک کسان غلام قادر بٹ کے ہاں پیدا ہوئے۔

بچپن میں مقبول بٹ کی زندگی بھی اس وقت کی ریاست کے ہزاروں کسان بچوں کی طرح جاگیردارانہ معاشرے کے دکھوں، غموں، امیدوں، خوابوں اور آسوں کی کوکھ میں پلی۔ تاہم بچپن اور لڑکپن کے کچھ ایسے واقعات کی شہادتیں بھی ملتی ہیں جن سے مقبول بٹ کے اندر ناانصافی اور جبر کے خلاف جدوجہد کے جذبات کا پتہ چلتا ہے۔ مثال کے طور پر ابھی وہ سکول میں تھے کہ انہوں نے انعامی تقریبات میں امیر و غریب والدین کی نشستوں میں فرق کو مٹانے اور سکول کو پرائمری سے سیکنڈری درجہ دلانے کی " تحریک " میں بھی قائدانہ کردار ادا کیا۔سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ حاصل کرنے یعنی میٹرک کے بعد مقبول بٹ سنٹ جوزف کالج بارہ مولا میں داخل ہوئے اور یہاں سے سیاسیات اور تاریخ کے مضامین میں بی ۔اے کی ڈگری حاصل کی۔
جس راہ پر مقبول بٹ نے سفر کیا اس سفر میں نہایت کھٹن مراحل ہیں ہے۔ اس راہ میں کبھی سرینگر کی جیل آتی ہے کبھی شاہی قلعہ لاہور اور کبھی تہاڑ جیل دہلی کی کسی خاموش نکر میں گمنام قبر کا گوشہ۔ اس راہ پر چلنا سیاسی بلیک مداریوں کیلئے نہایت مشکل ہے جو دہلی ہو یا پھر۔۔۔۔، ہر جگہ صرف کشمیر اور کشمیریوں کے نام پر اپنی سیاست کیش کراتے ہیں اور مال بناتے ہیں۔

آزاد کشمیر میں مقبول بٹ جیسے سرفروشوں نے اپنی اس آوارہ گردی کو سچا مشن سمجھ کر جاری رکھا، بار بار کنٹرول لائن جسے آج بھی کشمیری سیز فائر لائن کہتے ہیں کی خونی لکیر کو کئی بار ہا ہمالیہ ماند ارادوں سے روندا اور سرینگر تک ایک بار پھر مسلح جدوجہد کی امنگ کو بیدار کیا۔ 1970ء میں گنگا طیارہ اغوا ہواحریت پسند کو غدار اور ایجنٹ کے نام سے پکارا گیا۔ اسکے باوجود جب بھٹو نے مقبول بٹ جیسے کشمیری کو خریدنا چاہا اور اسے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کا صدر بنا کر آزاد کشمیر میں حکومت دینے کی پیشکش کی تو اس عظیم رہبر آزادی نے یہ کہہ کر اسے ٹھکرا دیا کہ ہماری منزل حکومت نہیں آزادی کشمیر ہے۔ دہلی کی تہاڑ جیل میں بدترین حالات میں بھی اس مجاہد نے پاکستان کی طرف سے ایجنٹ بن کر کشمیر میں گڑبڑ پھیلانے کی سازش قبول کر کے رہائی کے مشورے کو قبول نہیں کیا۔

محترم قارئین :فی زمانہ آج کوئی مراعات یافتہ اینکر پرسن مقبول بٹ اور دیگرآزادی کے پروانوں پر کیچڑ اچھالتا ہے تو پاکستان ہی کی سپریم کورٹ کا اس کیس کے بارے میں فیصلہ پڑھ لے جس میں انہیں ایجنٹ نہیں بلکی تحریک آزادی کے محسن کے طورپر تسلیم کیا گیاہے ۔

مقبول بٹ کا نام مجاہدوں اور سرفروشوں کی صف میں ہمیشہ دلوں میں تابندہ رہے گا اور اس فرزندِ کشمیر کا مشن اسکی پھانسی کے صرف 4 سال بعد 1989ء میں اس خونی تحریک کی بنیاد بن گیا جو آج بھی ایک لاکھ سے زائد شہدا کے خون سے لکھی جا رہی ہے۔ 11 فروری کو کشمیر کے دونوں طرف یوم مقبول بٹ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لاکھوں کشمیری گذشتہ کئی برسوں سے اپنی جوانیاں لُٹا کر گھر بار جلا کر عصمتوں کی قربانیاں دیکر اپنے شہر قائد کے مقدس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

محترم قارئین !
میرا کشمیر ایک مقتل گاہ بنا ہوا ہے میری قوم آزادی کے ایک ایک سانس کو ترس رہی ہے مگر بین الاقوامی برادری اپنی آنکھیں بند کیے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوے ہے۔کشمیری قوم کی نظریں انصاف،انسان کی آزادی اور جموہریت کی چمپین اقوام کی طرف امید کی نظریں لگاے انصاف کی طلبگار ہے۔بین الاقوامی برادری کو کشمیر کی آزادی کے لیے اور ساوتھ ایشیا میں مستقل امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اگر ایسا نہ گیا گیا اور یہ جو مجرمانہ غفلت اور خاموشی ہے اسے توڑا نہ گیا تو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا پرہر وقت ایک ایٹمی جنگ کے خطرات منڈلاتے رہینگے۔مقبول بٹ شہید نے کشمیر کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کی اور تاریخ میں امر ہو گیا مقبول بٹ نے کشمیری قوم کو خواب غفلت سے اپنے خون کے چھینٹوں سے بیدار کیا۔انھوں نے ہر دو طرفہ غاصبوں کے ہاتھوں ظلم تشدد جیل کی صعبتیں برداشت کیں یہاں تک کے اپنی قوم کی آزادی کے لیے تختہ دار پر پھانسی کے پھندے کو چوم کر اپنے گلے میں ڈال دیا مگر غاصب قوتوں کے سامنے اپنے اور پوری کشمیری قوم کے سروں کو نگوں نہیں ہونے دیا وہ ایک قومی ہیرو ہیں جنہیں قوم رہتی دنیا تک یاد رکھے گی۔

قارئین !!جس فضا میں ہم جی رہے ہیں ۔یہاں سچ کہنا بھی اس قدر مشکل ہوگیا ہے کہ قلم و قرطاس پر بھی پہرے لگے ہوئے ہیں ۔قلم بھی کپکپی کا شکار ہے اور سوچوں پر بھی لرزہ طاری ہے ۔جب حق گویائی مشکل ہوجائے اور اہل قلم کے لیے راہیں مسدود کی جائیں تو ایسے میں قوموں کا زوال اور ظلمت ان کا مقدر بن جاتی ہے ۔کشمیرایک وجود ہے اس کو مانے بغیر ایشیاء میں کسی طور پر بھی امن ممکن دکھائی نہیں دیتا۔لہذا ہم ظلم و ستم کرنے والی بھارتی حکومت کا مسخ شدہ چہرے عالمی طاقتوں کے سامنے آشکارہ کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔

مقبول بٹ کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی ۔بلکہ آزادی کا سورچ ضرور طلوع ہوگا۔۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 421 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 231 Articles with 219411 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

آپ کے جذبات کی عزت کرتے ہیں۔اچھے انداز میں آپ بہت کچھ کہہ گئے۔لیکن کیا آپ کشمیری خود بھی اس تحریک کے لیے سنجیدہ ہیں ؟معذرت کے ساتھ ڈاکٹر ظہوراحمد صاحب
By: عامر شہزاد, LAHOR on Jul, 18 2016
Reply Reply
0 Like
Language: