کیا محکمہ نیب ایک اور این آر او ہے؟

(Mian Ihsan Bari, )
بلا شبہ قومی احتساب بیورو(نیب) 1999میں احتساب کے لیے وجود میں لایا گیاتاکہ احتسابی عمل کو مرکوز کرکے جلد از جلد کاروائیاں عمل میں لائی جائیں اور کرپٹ لٹیرے ملک دشمن اور اسلام دشمن افراد کے گرد سخت شکنجہ کسا جائے اور انھیں فوراً کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے راقم الحروف نے چند روز قبل"مک مکا کا موجد محکمہ نیب"کے نام سے ایک کالم لکھا تھا دو روز ہی بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے نیب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے فرمایا کہ نیب غالباً کرپٹ مجرموں سے ساز بازاور مک مکا کر چکی ہے جو کہ سخت افسوس ناک عمل ہے۔میرے کالم کی تحریر کے تیسرے دن ہی احمد طاہرصاحب نے"قومی احتساب بیورو کا کامیابی کا سفر " نامی کالم تحریر فرمایا جس میں انہوں نے محکمہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ابتدا ہی میں انہوں نے بتایاکہ نیب کے ادارہ کے وجود 1999سے آج تک یعنی17سالوں میں کل تین لاکھ تیرہ ہزار چار سو باسٹھ درخواستیں دائر کی گئی ہیں ان میں سے6935پریعنی کل.212 2فیصد۔

اور سالانہ0.138 فیصد پر انکوائریاں ہوئیں اور نیب نے2544ریفرنس دائر کئے یعنی کل کا0.081فیصداور 17سالوں کی اوسط فی سال کل0.004فیصد بنتی ہے۔اسی طرح جن مقدمات پر آجکل تحقیقات ہورہی ہیں وہ3537ہیں جو کہ کل کا 1.128فیصد ہیں۔یعنی مقدمات کی سالانہ تحقیق 0.066فیصدبنتی ہے اس طرح پاکستان کے باشعور عوام و خواص اس بات کو بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ17سالوں کی کارکردگی کل کیا ہے اور فی سال کیا بنتی ہے ۔اس ادارہ کو مکمل بااختیار اورخود مختاراسی لیے قرار دیا گیا تھاکہ یہ بغیر کسی سفارش اور پریشر کے بڑی مچھلیوں بلکہ مگر مچھوں پر ہاتھ ڈال کر انھیں کیفر کردار تک پہنچائے گا تاکہ چھوٹے چھوٹے سنپولیے و دیگر کرپٹ بچونگڑے خود بخود ہوش کے ناخن لیں اور آئندہ ملک جو کرپشنستان بن کر معا شی قبرستان بنتا جارہا ہے وہ واقعی باوقارو خوشحال پاکستان کا روپ دھار لے ۔پھر بڑے مقدمات جن کے فیصلے تک سپریم کورٹ سے بھی ہو چکے ہیں ان ملزمان کو چھوٹ دینا کسی طورپر بھی مستحسن عمل نہ ہے۔اصغر خان کیس میں جنرل اسلم بیگ نے خود تسلیم کیا کہ سیاستدانوں کو رقوم بانٹی گئی تھیں تاکہ وہ مخالفین کو شکست دے سکیں کہ ہر دور میں " جیدھے گھر دانے ۔اودھے کملے وی سیانے "والا فارمولہ فٹ چلا آتارہا ہے ۔مگر آج تک یہ سبھی سیاست میں دندناتے پھر رہے ہیں اب شریف برادران کے سمدھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو کلین چٹ دے ڈالنا جس کی کوئی فوری ضرورت اور عوامی ڈیمانڈ بھی نہ تھی نہ ہی کوئی پریشر کہ ملک میں ن لیگی جلسے جلوس اور دھرنے دے رہے ہوں کہ جلد از جلدہمارے وزیر خزانہ کودو دھ میں دھلا ہوا ہونے کا اعلان کرو وگرنہ ہم نیب کے دفاتر کا گھیراؤ یا دھرنا دیں گے۔میں پریشر قبول کرنے کی بات نہیں کرتا ۔لیکن پھر بھی کسی نے جب کوئی ایسا مطالبہ ہی نہیں کیاتو ایسا لگتا ہے کہ"جیدھا کھائیے اودھاگائیے "والی بات اظہر من الشمس لگتی ہے کہ چونکہ ملک کے تمام ملازمین بشمول نیب کی تنخواہیں سرکاری خزانہ سے وزیر موصوف کی اجازت اور دستخطوں سے ہی جار ی ہوتی ہے اس لیے تنخواہ دینے والے کی رعایت مطلوب تھی کیا؟اس پر اپوزیشن کو خواہ مخواہ شور و غوغا کرنے کے لیے ایک اور پانامہ لیکسی ٹائپ مسئلہ ہاتھ آگیا ہے پانامہ لیکس کے چار سو ملزمان کی طرف سے منی لانڈرنگ وغیرہ کے اعلان کو کئی ماہ ہو چکے ہیں مگر"زمیں جنبد آسمان جنبد نہ جنبد گل محمد(نیب)"والی بات ہے کہ نیب کی ایسے خونخوار کرپٹ معاشی دہشت گردوں کی طرف بالکل تو جہ ہی نہیں گئی عوامی رائے یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کو بھی پکڑیں تو شریف صاحبزادگان کو پہلے پکڑنا پڑے گااسلیے اس پنڈورا باکس کو کھولا ہی نہیں گیا اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا تحقیقات کی بھی ضرورت نہ ہے کہ ان کی انکوائریاں کرنے سے سالانہ کارکردگی جو کہ عملاً0.138فیصد ہے وہ کیا بڑھ سکتی ہے؟اور اس سے کارکردگی کو بھی کوئی boost نہیں مل سکتا۔سکہ بند عوامی رائے یہی ہے کہ اصغر خان کیس والے ملزمان جن میں خواہ موجودہ وزیر اعظم کا نام گرامی ہی کیوں نہ ہو ان کی پکڑ دھکڑ فوراً نیب کرے ۔سینٹ پرسینٹ زرداری صاحب جو بیرون ممالک بلوں میں گھسے بیٹھے ہیں انھیں بھی واپس لا کر کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور راجہ رینٹل و ہ گیلانی وزرائے اعظم بھی کیفر کردار کو پہنچائے جائیں اور پانامہ لیکس کے تمام ملزمان سے رقوم فوراً واپس لائی جائیں تاکہ ہم آئندہ قرضے لینے کی کوفت سے بچ سکیں اور سود در سودکی گھم چکری سے چھٹکارا حاصل ہو۔عوامی نظروں میں نیب اب کوئی نیا این آر او لگتا ہے کہ دوسرا کوئی کاروائی کر نہیں سکتا اور نیب والے کرتے نہیں ملزمان زمین و آسمان کے درمیان لٹکے ہوئے ضرور ہیں مگر خوش و خرم اور سیاسی میدانوں میں کامیابی سے غراتے اور چنگھاڑتے پھرتے ہیں ۔عمرانی اے ٹی ایم کارڈز اور خود سر پرست پر نیازی لیکس لندن میں بنا کر بھاری رقوم اینٹھنے پر کاروائی اس لئے نہیں ہوسکتی کہ بڑی پارٹی کے لوگ اور ان کا سربراہ ہے اصل میں پسے ہوئے بھوکے ننگے خود کشیاں کرتے مظلوم لوٹے گئے لوگ یہی چاہتے ہیں کہ کرپٹ سیاستدان ٹکٹکیوں پر بندھے بڑے شہروں کے مشہور چوکوں پر لٹکتے نظر آئیں اور انگریزوں کے پالتو غدار ابن غداروڈیروں اور سود در سود ڈبکیاں لگاتے نو دولتیوں سے نیب کے سربراہ قمر الزمان چوہدری فوری کاروائی کرکے حرام دولت واپس لیں تاکہ ایٹمی پاکستان عالم اسلام کی قیادت کرسکے اور اس طرح نیب والوں کا بھی وقار بلند اور عاقبت سنور جائے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Ihsan Bari

Read More Articles by Mian Ihsan Bari: 278 Articles with 114353 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2016 Views: 303

Comments

آپ کی رائے