خستہ حال عمارتیں

(Ishrat Javed, )
 لاہور کے مختلف حصوں میں سینکڑوں خستہ حال عمارتیں انسانی زندگیوں کے لیے مستقل خطرہ بن چکی ہیں جن میں سرکاری عمارتیں بھی شامل ہیں

اندرون لاہور جسے پرانا لاہوراور پاکستان کا دل بھی کہا جاتا ہے یہ شہر برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے اوراسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکزمانا جاتا ہے۔ اس کا ماضی بہت رنگین جبکہ اس کی تعمیرات پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں منفرد تھیں مغلیہ دورِ حکومت کے دوران دشمن کے حملوں سے بچاؤ کے لیے فصیل یا دیوار تعمیر کی گئی تھی جس میں بارہ دروازے بنائے گئے تھے جوشہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے تھے جن میں سے کچھ تو وقت کی رفتار کا ساتھ نہ دے پانے کے باعث منہدم ہوگئے تاہم بیشتر ابھی بھی موجود ہیں جو خستہ حالی کے باعث کھنڈرات کا منظر پیش کرتے دکھائی دے رہے ہیں ، خوبصورت و حسین تاریخی عمارتیں جو ماضی میں تو توجہ کا مرکز تھیں اب مخدوش قرار دی جا چکی ہیں ،مگر لوگ اب بھی ان میں رہائش پذیر ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ مخدوش عمارتیں جو کسی بھی وقت قدرتی آفت کے نتیجے میں کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔حال ہی میں لاہور میں خستہ حال عمارت گرنے کا واقعہ 5قیمتی انسانی جانیں لے گیا۔یہ افسوس نا ک حادثہ لاہورکے علاقے مصری شاہ میں 2 منزلہ بوسیدہ مکان کی چھتیں گرنے سے پیش آیا جس کے نتیجے میں خاتون 4 بچوں سمیت جاں بحق ہوگئی ،بدقسمتی یہ کہ مکان اس قدربوسیدہ تھا کہ اس کی اینٹیں تک گل چکی تھیں مگر غربت کی چکی میں پستہ گھرانہ اس میں رہائش پذیر ہونے پر مجبور تھا، خاتون ارم اپنے 3 بیٹوں ایک بیٹی کے ساتھ سوئی ہوئی تھی کہ مکان کی دونوں چھتیں گرپڑیں۔ریسکیوٹیم نے ملبہ ہٹایاتو 38 سالہ ارم ،12 سالہ عمیر،11 سالہ نمرہ، 8 سالہ شایان اور 5 سالہ عبدالرحمن موت کی آغوش میں جاچکے تھے،حادثے کے وقت گھر کا سربراہ محمد زبیر کام پرگیا تھا، واپس آیا تو اس کی دنیااجڑچکی تھی۔گزشتہ کچھ عرصے سے لاہور میں ایسے واقعات منظر عام پر آنا معمول بن چکے ہیں ۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق شہر میں انتہائی خستہ حال عمارتوں کی تعداد کم از کم 430ہیں ان بوسیدہ مکانوں کے سروے تو آئے روز کروائے جاتے ہیں، لیکن کارروائی نہیں ہوتی، اہل علاقہ خستہ حال مکانوں کی تعمیرومرمت کا مطالبہ بھی کرتے ہیں مگرغریبوں کی غربت زدہ آواز سنی ان سنی کر دی جاتی ہے۔قابل غور پہلو یہ ہے کہ کیا انسانی جان کے مقابلے میں عمارتوں کا مول زیادہ تو نہیں لگایا جا رہا کیونکہ ان مکانات کی تاریخی حیثیت کے علاوہ یہاں لوگ بھی رہتے ہیں جو حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ گھر بنانا آسان نہیں ہے بلکہ ہر کسی کے بس میں نہیں ہے لوگ مہنگائی اور غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر نیا گھر بنوانا تو دور اس کی مرمت تک کروانے کی اہلیت نہیں رکھتے ،نیز عوام الناس کی ایک بڑی تعداد اپنا ذاتی گھر نہ ہونے کے باعث کرایے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں اوراگر وہ گھر خستہ حال ہو تو لوگ غربت کے باعث بآسانی نہ تووہ نیا گھر خرید پاتے ہیں اور نہ دوسرے کرایے کے گھر میں منتقل ہوپاتے ہیں بلکہ ہوتا یہ ہے کہ مالک مکان جس کے لیے لوگوں کی جان ومال سے کہیں زیادہ اہم روپے پیسے ہوتے ہیں وہ خستہ حال عمارت جو کسی بھوت بنگلے سے کم نہیں ہوتی پھر بھی وہ ایسے گھروں میں کرایے داروں کو رکھتے اور ان سے کرایہ وصول کرتے ہیں اور،مجبوریوں کے ہاتھوں پریشان حال لوگ بھی کرایہ کم ہونے کی وجہ سے وہاں رہنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔عذرا جو کہ محلہ پیر گیلانیاں اندرون لاہور میں ایک ایسے ہی کرایہ کے گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہ رہی ہے اور یہ وہ گھر ہے جس کی خستہ حالی7سالہ پرانی ہے اس کی اینٹیں اس وقت اس قدر گل چکی ہیں کہ اس میں رہائش پذیر ہونا حیران کن بات ہے ،مگر پھر بھی عذرا وہاں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہ رہی ہیں اس حوالے سے عذرا بتاتی ہیں کہ جب وہ اس گھر میں منتقل ہوئیں تو اس کا سامنے والا حصہ مکمل طور پر گر چکا تھا اور کمرے سامنے سے کھلے تھے ،مالک مکان نے اس کی پہلی والی منزل کی دیوار تو تعمیر کروا دی تھی مگر دوسری منزل ویسے ہی چھوڑ دی تھی اب ہم بطورٹاٹ دیوار کا کام لیتے ہیں۔ہمیں یہاں رہتے ہوئے ایک سال ہونے کو ہے ،شدید سردی میں جہاں مشکلات کا سامنا رہا وہیں سال میں ایک رات بھی پر سکون نیند نہیں آئی کیونکہ یہاں چھت اور گھر ہونے کے باوجود گھر کا تحفظ نہیں ہے،ہمارے اتنے وسائل بھی نہیں ہیں کہ ہم اس سے بہتر کرایے کے گھر میں منتقل ہوسکیں اور برسات کے موسم میں ایک الگ خوف گھیرے رکھتا ہے کہ کہیں باقی حصہ بھی زمین بوس نہ ہو جائے۔ ضلعی انتظامیہ کی حدود میں 345 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم ان عمارتوں کی مسماری یا مرمت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا، قابلِ مسمار عمارتوں میں زیادہ تعداد سرکاری بلڈ نگز کی ہے۔ کمشنر لاہور آفس کے مطابق اندرون شہر میں 53عمارتیں قابلِ مسمار اور 4 قابلِ مرمت ہیں، جبکہ اندرون شہر کی 23 خستہ حال عمارتوں کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا، ایل ڈی اے کی حدود میں 10 عمارتیں خستہ حال ہیں، یہ تمام عمارتیں قابلِ مرمت ہیں اورحکم دیا ہے کہ مون سون سے قبل مرمت و مسماری کے حوالے سے کام کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ اس حوالے سے ضلع ننکانہ کیلئے 5 مئی، شیخوپورہ ، قصور، ایل ڈی اے لاہور کیلئے 15 مئی،والڈ سٹی کیلئے 7 مئی 2016کی حتمی تاریخیں مقرر کی گئیں اور اس بارے میں تا دم تحریر کام جاری ہے۔کمشنر کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ضلع ننکانہ میں 251 عمارتوں میں سے قابل مسمار 180 اور قابل مرمت 71 ہیں،شیخوپورہ کی 219 عمارتوں میں سے 136 قابل مسمار اور باقی قابل مرمت ہیں۔ قصور کی 325 عمارتوں میں سے 305 قابل مسمار اور باقی قابل مرمت ہیں، لاہور میں ایل ڈی اے کے پاس فہرست کے مطابق قابل مرمت عمارات 10 جبکہ والڈ سٹی میں 80 میں سے 53 قابل مسمار اور 4 قابل مرمت ہیں، 23 عمارتوں کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کی ٹیکنیکل کمیٹی کے تحت 345 خطرناک و خستہ حال عمارات کو شناخت کرکے 212 کو اپ لوڈ کیا گیا ہے۔اگر دیکھا جائے تو انا ر کلی بازار میں تا حال متعدد خستہ حال عمارتیں ہیں جن کے باعث کسی بھی وقت بڑا حادثہ ہو سکتا ہے ان عمارتوں میں بمبئی ٹاور ،رفیق ہوٹل،عزیز برادرز ،ارشد برادرز بلڈنگیں شامل ہیں اور ان پلازوں پر مختلف کمپنیوں کی جانب سے ٹاور بھی لگا ئے گئے ہیں،پچھلے سال اپریل میں ہی انار کلی بازار میں کمرشل پلازہ کی چھت گرنے کا افسوس ناک واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں 6 افراد زخمی ہوگئے۔ پلازہ اس قدر بوسیدہ تھا کہ اچانک اس کے تیسرے فلور کی چھت گرگئی جہاں کپڑوں کے علاوہ کھلونوں کی دکانیں تھیں۔
بات صرف کمرشل پلازوں یا مکانوں تک محدود نہیں ہے ۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق شہر میں جہاں 430عمارتیں خستہ حال ہیں وہیں ان میں سرکاری عمارتوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے ۔ان سرکاری عمارتوں کی خستہ حالی کے باوجود ملازمین وہاں کام کر رہے ہیں جن کے باعث حادثات کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا سب سے زیادہ خستہ حال عمارتیں اندروں شہر میں ہیں جن کی تعداد 100سے زائد ہیں ۔ایل ڈی اے کی حدود میں ایسی عمارتوں کی تعداد 15ہے جبکہ شہر کے دیگر حصوں میں بھی خستہ حال عمارتیں موجود ہیں جو کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔اگر سرکاری اعداد و شمار سے ہٹ کر دیکھا جائے تو غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایسی عمارتوں کی تعداد ہزاروں میں ہیں جن کے رہائشیوں میں سے بیشتر کے لیے مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے عمارتوں کی مرمت کروانا ممکن نہیں ہے تو حکومت کی طرف سے بھی اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے جس وجہ سے ایسی عمارتوں کے مکین مستقل خطرے سے دوچار ہیں۔

دوسری جانب لاہور میں قائم بیشتر تھانے پرانی اور خستہ حال عمارتوں کی وجہ سے "بھوت بنگلے " کا منظر پیش کررہے ہیں۔کئی تھانوں کی عمارتیں اس قدر خستہ حال ہیں کہ بارشوں کے دنوں میں ان کی چھتوں سے پانی ٹپکتا ہے جبکہ بعض عمارتیں کسی بھی وقت زمین بوس ہو کرکسی بڑے حادثہ کا سبب بن سکتی ہیں جس کی وجہ سے پولیس اہلکاربھی ان میں داخل ہونے سے کترانے لگے ہیں۔ سروے کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں محکمہ پولیس کی ملکیت میں موجود 6تھانوں کی عمارتیں انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں جبکہ 37 تھانوں کی عمارتیں نئی اور 14تھانے کرائے کی عمارتوں میں واقع ہیں اسی طرح سے 16تھانے دیگر محکموں کی عمارتوں میں قائم کیے گئے ہیں۔ کئی تھانے 80کی دہائی میں تعمیر کیے گئے تھے جن کی عمارتیں خستہ حالی کے دہانہ پر پہنچ چکی ہیں۔گنجان آباد علاقوں میں قائم6تھانوں کی عمارتیں انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں ان میں تھانہ بادامی باغ ، تھانہ گوالمنڈی،تھانہ یکی گیٹ، تھانہ مغلپورہ،تھانہ مزنگ ، تھانہ مستی گیٹ شامل ہیں۔اسی طرح سیشہر میں قائم 175 سے زائد ایسے تعلیمی ادارے ہیں جن کی عمارتیں کئی کئی سال پرانی، انتہائی خستہ حال اور عمارتیں بھوت بنگلہ کی شکل اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جبکہ 300 سے زائد ایسے سکولز ہیں جن کی عمارتوں کے اکثریتی پورشن خستہ حال اور بارش آنے پر چھتیں ٹپکتی ہیں۔ بچوں کو سکولوں میں جاتے ہوئے خوف تو آتا ہے ، لیکن مجبوراً ان سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان سکولوں کی عمارتوں کو خطرناک قرار دئیے جانے کے باوجود لیکن کئی سال گزر جانے کے باوجود ان سکولوں کی حالت کو بہتر نہ بنایا جا سکا،گورنمنٹ سینٹ فرانزنس ہائی سکول کی عمارت 103 سالہ پرانی اور عمارت کا ایک بڑا حصہ انتہائی خستہ حال ہونے پر انتظامیہ نے اسے خطرناک عمارت تو قرار دے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود اس سکول میں 400 سے زائد بچے خوف کے باوجود زیر تعلیم ہے۔ بارش آنے پر اس سکول کی عمارت ٹپکتی ہے اور چھت سے لینٹر اور اینٹیں گرنے پر بچوں سمیت پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ اس سکول کی حالت زار کو بہتر نہ بنانے پر جہاں ہزاروں بچے اس سکول میں زیر تعلیم تھے اب وہاں صرف پونے چار سو کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں۔ اسی طرح گورنمنٹ کرسچن ہائی سکول رنگ محل کی عمارت بھی بھوت بنگلہ کی شکل اختیار کئے ہوئے تھی۔ اس سکول کی عمارت کا سروئے کرنے پر بھی بچوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا تھا ، جبکہ گورنمنٹ مسلم ہائی سکول نمبر دو سول لائن کی عمارت کا ایک بہت بڑا پورشن خستہ حال جبکہ گورنمنٹ چشتیہ ہائی سکول سنت نگر اور گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول مصری شاہ کی عمارتیں بھی سروے کے دوران ایسی پائی گئیں جیسے ان سکولوں کی عمارتیں حکومت اور محکمہ تعلیم کے حکام کی نظروں سے اوجھل اور حکام کی عدم توجہ کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اسی طرح گورنمنٹ کنیرڈ گرلز ہائی سکول ایمپرس روڈ کی عمارت کا ایک پورشن بھی کئی سالوں سے بھوت بنگلہ کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ تاہم اس سکول کی سنی گئی ہے اور حکومت اور محکمہ تعلیم نے توجہ نہیں دی تاہم ایک این جی او نے اس سکول کی عمارت کے اس خستہ حال پورشن کی مرمت کرنا شروع کر رکھی ہے۔ دوسری جانب سروئے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ لاہور کے 1200 سے زائد سکولوں میں سے 175 سکولوں کی حالت انتہائی خستہ خال ہے جبکہ چار سو کے قریب ایسے سکولز ہیں جن کی عمارتوں کے ہم حصے (میجر پورشن) کئی سالوں سے خستہ حال ہیں اور حکومت کے ساتھ محکمہ تعلیم کے حکام نے بھی توجہ پھیر رکھی ہے۔ان سکولوں کی حالت راز سے کا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ سکولز حکومت اور محکمہ تعلیم کے حکام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی ادارے ماضی کی طرح رواں برد بھی صرف میٹینگز کرنے اور احکامات جاری کرنے کی بجائے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ مالی نقصان سے تو بچا جا سکے بلکہ قیمتی انسانی جانیں بھی بچائی جا سکیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ishrat Javed

Read More Articles by Ishrat Javed: 69 Articles with 52514 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2016 Views: 771

Comments

آپ کی رائے