علمی و ادبی تنظیم ’’قلم دوست‘‘ کے زیر اہتمام دوسرا عالمی مشاعرہ

(Asghar Hayat, )
 فیصل آباد کا نواحی علاقہ کھرڑیانوالہ کبھی گولیوں کی گھن گرج اور گالی گلوچ کے لیے بدنام تھا لیکن معروف شاعر ، نثر نگار ، ڈرامہ نگار محمد فیضی اس علاقے کے لیے روشنی کی کرن ثابت ہوئے ، انہوں نے کچھ دوستوں کیساتھ مل کرادبی تنظیم ’’قلم دوست ‘‘ کی بنیاد رکھی ، محمد فیضی کی قیادت میں قلم دوست نے چندے ، فنڈزاور حکومتی امداد کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت علم و ادب کے چراغ جلانے شروع کیے ، اس کے قیام کو صرف دوسال کا عرصہ ہوا ہے لیکن یہ تنظیم نہ صرف کھرڑیانوالہ کی نو جوان نسل میں علم واد ب کی آبیاری کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے بلکہ حالات کی چکی میں پسے ہوئے شعراء اور ادیبوں کی تخلیقات کو سامنے لانے کے لئے بھی سرگرم دیکھائی دیتی ہے ، اس تنظیم نے مستحق تخلیق کاروں کی تخلیقات کو کتب کی شکل میں شائع کروانے کے لئے خصوصی فنڈ بھی قائم کررکھا ہے ،قلم دوست نہ صرف مقامی سطح پر علم وادب اور شعری نشستوں کا انعقاد کررہی ہے بلکہ وقتاََ فوقتاََ ملک بھر سے دعوت دے کر شعراء اور ادیبوں کو کھرڑیانوالہ بلا تی ہے اور مقامی لوگوں کا فن ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، کچھ عرصہ قبل قلم دوست نے یہاں عالمی مشاعرے کا انعقاد کیا ، جس میں ملکی و غیر ملکی شعراء کرام نے بھرپور شرکت کی ،یہ مشاعرہ ایک یادگار ثابت ہوا، اس کی حلاوت کو محسوس کرتے ہوئے اور مقامی لوگوں کے مطالبے پر قلم دوست نے گزشتہ دنوں دوسرے بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد کیا ، مشاعرے میں ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نامور شعرا کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک کے شعرا نے بھی شرکت کی جن میں آسٹریلیا، بحرین ، اٹلی ،سعودی عرب ،کویت شامل ہیں ۔

شاندار عالمی مشاعرہ بحرین میں مقیم اردو ادب کے نامور شاعر اقبال طارق کے اعزاز میں منعقد کیا گیا۔ مشاعرہ کی صدارت معروف شاعر نصرت صدیقی نے کی ، مہمان خصوصی خوبصورت لب و لہجے کے معروف شاعر مقصود وفا تھے جبکہ مہمانان تفاخر میں D.C.O فیصل آباد، ڈی او ایچ فیصل آباد ڈاکٹر رانا عمران خان شامل تھے۔ مشاعرے میں کالمسٹ کونسل آف پاکستان (سی سی پی ) کے وفد نے معروف نوجوان شاعر و جنرل سیکرٹری فیصل اظفر علوی کی قیادت میں شرکت کی جن میں سیکرٹری اطلاعات (راقم الحروف) لیگل ایڈوائزر سی سی پی فیصل چوہدری ایڈووکیٹ، ممبر سی سی پی کالم نویس و نوجوان شاعر شیر محمد اعوان شامل تھے۔مشاعرے کے میزبان عطاالحسن نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے صدر مشاعرہ ،مہمان شعرا کرام اور تمام باذوق سامعین کا مشاعرہ میں استقبال کیا،انہوں قلم دوست کے قیام اور ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے روشنی ڈالی اور کہاکہ قلیل عرصہ میں قلم دوست صرف فیصل آباد ہی میں نہیں بلکہ پوری اردو دنیا میں ایک سنجیدہ پہچان بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔گزشتہ دو سال سے اردو کے شیدائیوں کے لئے یہ شام سجاتے ہیں اور نئے چہروں کو متعارف کراتے ہیں اس بار بھی کئی چہرے اس مشاعرے میں شامل کئے گئے ہیں اور ہم پر امید ہیں کہ پچھلے سال کی طرح یہ مشاعرہ بھی تاریخ ساز ہوگا۔
اس کے بعد انہوں نے اپنے ان اشعار سے مشاعر ے کا آغاز کیا ۔۔
دم بدم ایک ساتھ بیٹھے ہیں
پھر بھی کم ایک ساتھ بیٹھے ہیں
صرف تصویر رہ گئی باقی
جس میں ہم ایک ساتھ بیٹھے ہیں

اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے اسلام آباد سے تشریف لائے ہوئے نوجوان شاعر شیر اعوان کو اسٹیج پر مدعو کیا، شیر ایون کی شاعری کو سامعین نے بے حد پسند کیا اور ڈھیر ساری داد سے نوازا۔ ان کے دو منتخب اشعار یہ ہیں
؂الجھی ہے اسی واسطے رنگوں میں بصارت
ہر شاخ پہ ہے پھول کھلا اور طرح کا
ہر رات رہی درد کے نغموں کی توقع
اس دل میں مگر ساز بجا اور طرح کا

قلم دوست کے فنانس سیکرٹری نے پیٹ کی بھوک کا درد کچھ اور انداز میں پیش کرکے حاضرین کو داد دینے پر مجبور کردیا
؂صاحب تم بیکا ر میں عشق کو روتے ہو
لیکن ہم کو پیٹ کی بھوک نے مارا ہے

اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے نوجوان شاعر ، صحافی و کالم نویس فیصل اظفر علوی کو دعوت سخن دی ، جنہوں نے بہت ساری تالیوں کی گونج اور داد کے دوش پرسوار ہوکر اپنا کلام سنایا، ان کے یہ اشعار حاضرین کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے
کھنڈر وجود میں مرے اس کا قیام ہے
میں اس وجہ سے خود کی نو تعمیر سے لڑا
اظفر میں چاہتا تھا کہ وہ جنگ جیت لے
دانستہ اُس کے ساتھ میں تاخیر سے لڑا
۔۔۔۔
سادگی مجھ کو مار سکتی تھی
کیا ضرورت تھی پھر سنورنے کی

اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے مشاعرے کو سنجیدگی کے ماحول سے مزاح کی طرف لے جانے کے لئے اسلام آباد سے تشریف لائے مزاحیہ کلام کے مخصوص شاعر جناب شہباز چوہان کو دعوت سخن دی جنہوں نے طنز و مزاح کے تیر چلا کر محفل کو زعفران زار بنادیا
جے کوئی انہونی ہو جاوے
میری کا لو سونی ہو جاوے
میں لائیاں انت سکیماں نیں
کئی کتیاں مکس کریماں نیں
جو دیساں مینوں لوگاں نیں
میں لتیاں سن بلاکاں نیں
کِتے آدھی پونی ہوجاؤے
میری کالو سونی ہوجاوے

اس کے بعد جناب عطاالحسن نے اپنے فن نظامت کا جوہر دیکھا تے ہوئے اٹلی سے تشریف لائے خوبصورت شاعر بہنام احمد کو دعوت کلا م دی ، جنہوں نے اپنے خوبصورت انداز میں خوب رنگ جمایا
مرحلہ وار اترتی ہے محبت ہم پر
ہم اسیران مصیبت ہیں دعا کی جائے

بہنام احمدکی شاعری کے بعد ناظم ِ مشاعرہ نے پنجابی شاعر مصطفی انور کابہت بہترین انداز میں تعارف کرایا اور کلام سنانے کی دعوت دی ۔پنجابی شاعر مصطفی انور صاحب کی شاعری کو بہت پسند کیا گیا ۔
میں جڑا وی ہنسدا مکھڑا ٹویا اے
اووہی میرے گل نال لگ کے رویا اے

’’سب مجھے ایک ایک دھڑکن دیں ۔۔۔۔۔میں نے کاغذ پر دل بنایا ہے ـ‘‘عطا الحسن نے کر اچی سے تشریف لائے راول حسین کا تعارف اس شعر سے کروایا، یوں توپوری غزل کمال تھی لیکن جس شعر کو زیا دہ پسند کیا گیا وہ قارئین کی نذر
رات ہم اشک پی کے سوئے تھے
اوراب دن کو رنج کھایا ہے

اس کے بعد میاں چنوں کے شاعر عدنان آصف بٹھا نے دل کی بیتابی کو الفاظ کی شکل میں ڈھالا
ہم کو مطلوب ہیں کچھ فیصلے جلدی جلدی
کرہ ِارض ذرا تیز گھمایا جائے ۔۔۔

ان کی ایک اور غزل نے حاضرین سے خوب داد پائی ، غزل کا ایک شعر قائرین کی نظر
وہی لباس کا ٹکرا ہے ننگ کا باعث
خرید کرتے ہوئے جس کا بر زیادہ تھا

اس کے بعد جدیدیت پر مبنی کلام کے حوالے سے از حد مقبولیت حاصل کرنیوالے شاعر شعیب الطاف ، جو کہ قلم دوست کے بانی بھی ہیں اپنا کلا م پیش کیا، حاضرین ان کے کلام کو انتہائی دلجمعی سے سنااور بے پناہ داد دی، اورسینئر شاعر انکی غزلوں میں پنہاں شاعرانہ باریکیوں سے لطف اٹھاتے نظر آئے۔ ان کی ایک غزل کے منتخب اشعار
منزلیں صرف اسی وقت قدم چومتی ہیں
پاؤں جب وقت کی رفتا ر پہ رکھا جائے
سر بھی کٹ جائے تو تکلیف کہاں ہوتی ہے
دھیان اگر حرمت دستا ر پہ رکھا جائے

یوں توناظم مشاعرہ نے پشاور سے تشریف لائے اسحاق وردگ کا تعارف اس شعر سے کروا دیا تھا ، لیکن حاضرین کو ان کی زبانی مخصوص اسٹائل میں یہ شعر اس قدر پسند آیا کہ ہر طرف سے مقرر مقرر کی صدائیں گونجتی رہیں ۔
میں نے بھی راہ محبت میں قدم رکھا ہے
قیس کو آخری معیار نہ سمجھا جائے

شیخوپورہ سے تشریف لائے دھیمے لہجے کے شاعر اظہر عباس کا ایک ایک شعر غور طلب تھا، جب انہیں دعوت سخن دیا گیا تو حاضرین کی تالیاں کم تھیں ، لیکن جب وہ شعر سنا کر واپس لوٹ رہے تھے تو ہر طرف تالیوں کی گونج تھی ،
دیکھ قندیل رُخ یار کی جانب مت دیکھ
تیز تلوار ہے تلوار کی جانب مت دیکھ
بول کتنی ہے تیرے سامنے قیمت میری
چھوڑ بازار کو بازار کی جانب مت دیکھ

لاہور سے تشریف لائے ندیم بھابھہ نے جیسے شاعر ی کی سلطنت ہی لوٹ لی ہو ، مخصوص لب ولہجہ اور کیفیت سے بھرپور انداز سخن نے انہیں دوسروں سے منفرد رکھا
؂میں کجھوروں بھر ے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں
تخت کے بعد تیرے پاؤں میں دیکھا گیا ہوں ،
پھر مجھے خود بھی خبر ہو نہ سکی میں ہوں کہاں
آخری بار تیرے گاؤں میں دیکھا گیا ہوں

اس کے بعد اسلام آباد سے تشریف لائے جنید آزرکو دعوت کلا م دی گئی ، جنید آزر پختہ لہجے کے شاعر ہیں اور اسلام آباد کے ادبی حلقوں میں اپنا مقام رکھتے ہیں، ان کے منتخب اشعار
؂کھلی آنکوں سے سونے کی اذیت مار دیتی ہے
ہمیں تو نیند کی بے معنویت مار دیتی ہے
کہیں ورثے میں آندھی خواہشیں پروان چڑھتی ہیں
کہیں زندوں کو مردوں کی وصیت مار دیتی ہے

میاں چنوں کی پہچان ظفر اقبال سجل نے پوری قوم کا دکھ اپنی نظم کے ذریعے بیان کردیا، نظم کا عنوان تھا ’’ساڈے دیس وچ لیڈر کوئی نہیں ‘‘

اس کے بعد عدنان آصف کو مدعو کیا گیا جن کے خوبصورت اشعارسن کر حاضرین بہت لطف و اندوز ہوئے اور انہوں نے ڈھیروں داد سمیٹی، ان کا منتخب شعر
؂ہم کو مطلوب ہیں کچھ فیصلے جلدی جلدی
کرۃ ارض ذرا تیز گمایا جائے

سرور خان سرور کی اس غزل نے مشاعرہ لوٹ لیا حاظرین محفل نے ڈھیروں ڈھیر داد سے نوازا بلا شبہ یہ غزل اتنی پزیرائی کا حق رکھتی تھی
؂ جُھک کے ملنا مری عادت نہیں مجبوری ہے
میں نے احباب کے احسان اُٹھائے ہوئے ہیں
کتنے اچھے ہیں مرے گھر کے پُرانے برتن
چھت ٹپکتی ہے تو کیچڑ نہیں ہونے دیتے

علمی و ادبی تنظیم قلم دوست کے سرپرست اعلی محمد فیضی کے کلام نے مشاعرے کو بامِ عروج پر پہنچا دیا، کلام کے دوران بار بار محفل داد وتحسین اورتالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونجتی رہی
؂کیسے روشن کروں زمانے کو
سوچتا ہوں تو خون جلتا ہے

اس شعر کا پڑھنا تھا کہ ہال واہ۔۔واہ۔۔۔کی آوازوں سے گونج اٹھا ، ان کی ایک اور غزل کا منتخب شعر
میں جس کے ہاتھ لگا ہوں اُسے مبارک ہو
مگر جو میرا مقدر تھا کیا ہوا اُس کا

اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے عصرِ حاضر کے نامور شاعر جناب شاہد ذکی کو کلام سنانے کے لیے مدعو کیا۔شاہد ذکی کی بہترین شاعری کو سامعین نے بہت دلجمعی سے سنا اور ایک ایک شعر پر خوب داد دے کر یہ ثابت کیا کہ کھڑیاں نوالہ کے سامعین اچھی شاعری اور اچھے شعر کی بھرپور سمجھ رکھتے ہیں۔۔شاہد ذکی کے دو منتخب اشعار پیش خدمت ہیں
میں وہ دریا ہوں جو آہستہ روی میں سوکھا
میں اگر سُست نہ ہوتا تو سمندر ہوتا
یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے

اس کے بعد معروف شاعر مقصود وفا کو اپنا کلام پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا ، جن کا سامعین نے والہانہ خیرمقدم کیااور تاریخی داد سے نوازا۔ ان کے منتخب اشعار
؂ایک دیوار پہ لٹکی ہوئی تصویروں کو
ایسے تکتا ہوں کہ پھر سانس بھی کم لیتا ہوں
گھر میں ترتیب سے رکھی ہوئی چیزوں سے
اپنی برباد تمنا کا پتا چلتا ہے

بحرین سے تشریف لائے اقبال طارق کے کلام نے مشاعرہ گویا لوٹ لیا۔ انکا ایک ایک شعر سونے میں تولنے کے مترادف تھا۔ حاضرین انکے کلام سے خوب محظوظ ہوئے، خوبصورت تراکیب، استعارے، تشبہیہات اور علتوں کا استعمال اقبال طارق کا خاصہ ہے، ان کے منتخب اشعار
؂ تمام رات ہی آنکھوں میں کٹ گئی طارق
میں اپنی ماں کی دعا کاغذوں پہ لکھتا رہا
ہم تو لاشیں ہیں سانس لیتی ہوئی
زندگی اور چیز ہوتی ہے

اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے اسی مائک سے اس ممتاز شاعر کو دعوت دی جس کو سننے کے لئے ہزار وں کا مجمع بے تاب تھا ،منصرت صدیقی نے آدھ گھنٹہ مسلسل اپنا منتخب کلا م پیش کیا ،اور ہر شعر پر حاضرین سے خوب داد وصول کی ،
مجھے اب احتیاطاََ خط نہ لکھنا
مرے بیٹے کو پڑھنا آ گیا ہے
ایک ظلم کرتا ہے ایک ظلم سہتا ہے
آپ کا تعلق ہے کون سے گھرانے سے

صدر محفل معروف شاعر نصرت صدیقی کے کلام سے مشاعرے کا یاد گار اختتام ہوا،مقامی شاعروں کے کلام اور حاضرین کی دلچسپی نے یہ ثابت کیا کہ کھرڑیانوالہ میں صرف سخن ور ہی نہیں بلکہ سخن پرور بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔مشاعرہ رات ساڑھے بارہ بجے اختتام کو پہنچا،اس موقع پر ضلع بھر سے سیاسی ، سماجی ، علمی و ادبی شخصیات موجود تھیں جنہوں نے قلم دوست کے سرپرست اعلی محمد فیضی سمیت قلم دوست کے تمام عہدیداران و ممبران کو کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔مشاعرے کی انتظامیہ اور اہلیان فیصل آباد نے خصوصی وقت نکال کر بیرون ملک سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر اقبال طارق و دیگر شعراء کاشکریہ ادا کیا اور مشاعرے میں پیش کیے گئے کلام کی خوب تعریف کی ۔مشاعرے کے بعد سامعین کی ایک بڑی تعداد شعراء کرام سے ملنے اور منتظمین کو مبارکباد دینے اسٹیج کے پاس پہنچ گئی۔مشاعرے کے اختتام پر علمی و ادبی تنظیم ’’قلم دوست‘‘ کی کاوشوں کو سراہنے اور فیصل آباد میں ادبی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے میں کردار ادا کرنے پر کالمسٹ کونسل آف پاکستان (سی سی پی ) کی جانب سے قلم دوست کے عہدیداران کو یادگاری اسناد اعزاز دی گئیں۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل سی سی پی فیصل علوی و سیکرٹری اطلاعات سی سی پی(راقم الحروف) کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مستقبل قریب میں کالمسٹ کونسل آف پاکستان (سی سی پی) ملک بھر میں علمی و ادبی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے میں معروف علمی و ادبی تنظیم قلم دوست کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asghar Hayat

Read More Articles by Asghar Hayat: 13 Articles with 10816 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2016 Views: 1208

Comments

آپ کی رائے