80سالہ بشیر بھدرواہی :نوائے قوم سے ساہتیہ اکیڈمی تک کا ادبی سفر

(Altaf HUssain janjua, Poonch, Jammu and kashmir (India))
/چھوٹا کشمیر سے مشہورصوبہ جموں کا انتہائی خوبصورت ودلکش علاقے بھدرواہ سے تعلق رکھنے والے بشیر احمد بشیر کوکشمیر ی زبان و ادب کے فروغ میں ناقابل فراموش خدمات انجام دینے اور گذشتہ برس شاندار کتاب تحریر کرنے کے اعتراف میں ادب وثقافت میں ملکی سطح کی ساہتیہ اکیڈمی نے ایوارڈ سے نوازا ہے
جموں//چھوٹا کشمیر سے مشہورصوبہ جموں کا انتہائی خوبصورت ودلکش علاقے بھدرواہ سے تعلق رکھنے والے بشیر احمد بشیر کوکشمیر ی زبان و ادب کے فروغ میں ناقابل فراموش خدمات انجام دینے اور گذشتہ برس شاندار کتاب تحریر کرنے کے اعتراف میں ادب وثقافت میں ملکی سطح کی ساہتیہ اکیڈمی نے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ بشیر احمد بشیر جوکہ ادبی دنیا میں بشیر بھدرواہی کے نام سے مشہور ہیں، کی کتاب ”جمس تہ کشمیری منزل کاشیر نعتیہ ادبک تواریخ‘ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ امسال جموں وکشمیر ریاست سے صرف 2ادبی شخصیات قومی سطح کے اس اعزاز کوحاصل کرنے میںکامیاب ہوئی ہیں جن میں ڈوگری شاعر دھیان سنگھ اور کشمیری شاعربشیر بھدرواہی شامل ہیں۔ انہیں آئندہ برس فروری ماہ کی 16تاریخ کو نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران یہ اعزاز دیاجائے گا جوکہ 1لاکھ روپے نقد، ایوارڈ اور توصیف نامہ پر مشتمل ہوگا۔ امسال ملک بھر سے شارٹ سٹوریوں کی 6تصانیف، 6شعری کتابوں، 4ناولوں، 2کتابوں اور ایک یادگاری کتاب کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ کے لئے چناگیا ہے۔بشیر بھدرواہی کو اس سے پہلے ریاستی کلچرل اکیڈمی کی طرف سے کشمیری زبان و ادب کی ترقی کےلئے مجموعی طور انجام دی گئی خدمات کے عوض سال 2008کو راجوری میں ایوارڈدیاگیاتھا۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے انہیں سال 2007کو پریڈ گراوؤنڈ جموں میں ریاست جموں وکشمیر میں تعلیم کے فروغ ، ایمانداری بہترین خدمت کے صلہ میں جموں وکشمیر چیف منسٹرایوارڈ سے نوازاجاچکا ہے۔24جنوری 1935کو نگربھدرواہ میں خواجہ محمد سلطان خطیب(جوکہ پیشہ سے ٹیچر تھے)کے گھر پید ا ہوئے بشیر بھدرواہی نے 60کی دہائی میں کشمیری زبان وادب کے فروغ کے لئے اپنی ادبی وعملی سرگرمیاں شروع کی تھیں ، ایک طویل جدوجہد کے دوران کئی باب رقم کرنے کے بعد موصوف قومی سطح کے اس وقاری اعزاز کی حصولی کو یقینی بناسکے۔ بشیر بھدرواہی نے ادبی سفرکے بارے میں اڑان کے ساتھ تفصیلی گفتگوکی ۔موصوف کے مطابق ادب کا شوق انہیں طالبعلمی کے زمانہ سے ہی تھا۔ 1948 میں جب وہ ایس اے ہائی سکول بھدرواہ میں آٹھویں کلاس کے طالبعلم تھے،تب فرقہ وارانہ کشیدگی پر پہلی اردو غزل تحریر کی تھی جس کی کافی پذیرائی ہوئی۔ ان کی پہلی کشمیری نظم سال1960میں ’نوائے قوم ‘جموں میں شائع ہوئی۔ 1956میں سرینگر کے ’استاد‘میں اردو غزل ‘معلم‘منظر عام پر آئی۔ ان کا پہلا تحریرکردہ ڈرامہ’استاد اور سماج‘سال1962کو ہائی سکول جکیاس میں سٹیج کیاگیا۔ آل انڈیا ریڈیو سرینگر سے ان کی پہلی کشمیری غزل جس کو ریتا کول نے اپنی آوزاد دی تھی ، 14دسمبر1969کو ہوا کی دوش پر محبان کشمیری نے سنی۔ پہلی باقاعدہ کشمیری غزل انہوں نے رام بن میں 1953کو لکھی، ان کا پہلا انٹرویو1971میں ٹیپ ریکارڈ کر کے ریڈیوکشمیر سرینگر سے نشر کیاگیا۔ کشمیری زبان میں ’سماج، تعلیم اور استاد‘ نامی کشمیری تحریر سال 1969کو سرینگر کے ’گاش‘میں شائع ہوئی۔ پہلا ٹیلی ویژن انٹرویو ’میوں فن میوں زندگی‘15ستمبر1994کو دور درشن سرینگر سے شائع ہوا۔ غیرمنقسم ڈوڈہ(کشتواڑ، رام بن اور ڈوڈہ)میں کشمیری نثر کے مصنفوں میں80سالہ بشیر بھدرواہی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ موصوف کے مطابق کشمیری زبان کو خط وخطابت، ادبی، سماجی، تجارتی سرگرمیوں کا حصہ بنانے کے لئے انہوں نے 70کی دہائی کے بعد زبردست جدوجہد شروع کی جو اب تک جاری ہے۔ 1967-1968کے دوران ڈوڈہ میں ’Achhir Zan‘کو خریدار کر دلچسپی رکھنے والے افراد، اساتذہ اور ادبی تنظیموں میں کثیر تعداد میں مفت تقسیم کیا۔کشمیری زبان میں خطوط نویسی کا آغاز کیا، اساتذہ ، عام افراد اور متعدد تنظیموں کے ممبران کو کشمیری زبان میں لکھنے اور پڑھنے کی ترغیب دی۔کشمیری زبان و ادب کو فروغ دینے کے لئے عام لوگوں میں بیداری لانے کے لئے وادی چناب کے دوردراز علاقہ جات کے تفصیلی دورے کئے۔ بشیر بھدرواہی نے بتایاکہ انہوں نے 1981سے کشمیری زبان کو سکول، کالج اور یونیورسٹی سطح پر لازمی مضمون کے طور متعارف کرانے کے لئے بحیثیت ”کاشیر ادبی مرکز فورم جموں “کے بینر تلے زبردست جدوجہد کی جوکہ اب بھی جاری ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ جموں یونیورسٹی میں کشمیری زبان کا شعبہ قائم کیاجائے۔ کشمیری زبان کے فروغ کے لئے انجام دی گئی دیگر خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وادی چناب کے کشمیری لوک گیتوں کو جمع کر کے محفوظ رکھنے کیلئے ان کو ریاستی کلچرل اکیڈمی کی مدد سے 1972میں شائع کروایا۔ صوبہ جموں کے جموں اور بھدرواہ مراکز میں کشمیری زبان میں اساتذہ کو تربیت فراہم کرنے کیلئے مقرر خاص (Resource Person)کے طور کام کیا۔ان کی دو مشہور کشمیری نظموں کو ساہتیہ اکیڈمی نے سال2005کے ’اجالہ راجمرگ‘میں دہلی سے ترجمہ کر کے شائع کیا۔ ان کی کشمیری غزلوں اور نظموں کو متعدد موسیقاروں اور فنکاروں جن میں ڈولوال جانباز کشتواڑ ی، راج بیگ،نسیم اختر، جلال جیلانی وغیرہ قابل ذکر ہیںنے اپنی آواز دی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی فنکاروں نثار ڈولوال، رشید جہانگیر، بیتاب بھدرواہی، عساق کشتواڑی، بیتاب بھدرواہ، کھوکر برادر ، روی ٹھاکر اور مرغوب بانہالی وغیرہ نے بھی بشیر بھدرواہی کی غزلوں اور نظموں کو اپنی آواز دیکر آڈیوریکارڈنگ کی ہے جوکہ محبان کشمیری جگہ جگہ سنتے ہیں۔ بشیر بھدرواہی متعدد تنظیموں اور کمیٹیوں کے ممبران وعہداران بھی رہے جن میں تحصیل ٹیچرز ایسو سی ایشن بھدرواہ کے سیکریٹری اور پھر صدر، ایجوکیشن آفیسر ز فورم صوبہ جموں ، صدربزم ادب (اقبال بزم ادب)بھدرواہ کے 1968-1970، پرائمری سکولوں کے لئے سرکار کی نصابی نظرثانی کمیٹی ، انجمن تحریک ادب کشتواڑ، صدر کاشر مرکزی ادبی فورم جموں، فریدیہ بزم ادب ڈوڈہ کی مشاورتی کمیٹی ، کشمیری کلچرل آرگنائزیشن ،سہائی کمیٹی جموں وکشمیر ، دو مرتبہ سٹیٹ لائزن کمیٹی ممبر، رساجاؤدانی لیٹریری سوسائٹی جموں ، ضلع سیکریٹری بھارت سکاؤٹس اینڈ گائیڈز ڈوڈہ، ادبی مرکز کامراز (کشمیر)کے ایڈوائزری بورڈ ممبر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریڈیو کشمیر سرینگر/جموں، ریاستی اکیڈمی برائے فن وتمدن اور لسانیات ، ساہتیہ اکیڈمی دہلی، دو درشن کیندر سرینگر، کلچرل فورم کشتواڑ، کاشر ادبی مرکز کامرز کے ممبر، کاشیر ادبی مرکز بانہال ، پیر پنچال ادبی فورم بانہال، فنکر کلچرل آرگنائزیشن سرینگر، بزم فروغ اردو جموں کے علاوہ دیگر ادبی وثقافتی تنظیموں کے ممبر رہے۔ انہوں نے متعدد تصانیف بھی لکھی ہیں جن میں ضلع ڈوڈہ کے کشمیری لوک گیت(1972)، گوشن ہند پوشن (کشمیری شعری مجموعہ)1953-1998، تحفہ عازمین حجاج (کشمیری نعتیہ کلام)2005، بھدرواہ کی تاریخ وثقافت، ہمالیہ ریاستوں کے تناظر میں2010 (1028صفحات پر مشتمل ہے جس میں 32رنگین تصاویر اور نقشے بھی شامل ہیں) ، نامور موسیقار اور شاعر جی این ڈولوال جانباز کشتواڑی کی حیات وخدمات پر مونوگراف۔اس کے علاوہ متعدد ادبی مضامین، مکالات، شعری مجموعے متعدد جرائید، اردو اور کشمیری زبان کی ضلع ، ریاستی وقومی سطح پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ 1979کو کشمیری زبان میں ’شیرازا کشمیری‘میں انہوں نے ’رسا جاویدانی کی حیات وشاعری‘، اقبال بزم ادب کی طرف سے شائع حیات وشاعری’وفا بھدرواہ‘پر تنقیدی جائزہ قابل ذکر ہیں۔ ان کے ادبی کارناموں پر متعدد ممتاز ادیب اور ادبی شخصیات نے مکالات وتنقیدی تجزیئے بھی لکھے ہیں جن میں محمد یوسف ٹینگ، ڈاکٹر ظہور الدین ظہور نے انگریزی کتاب’صوبہ جموں میں اردو زبان و ادب کی ترقی‘، ڈاکٹر مرغوب بانہالی نے کشمیری کتاب ’کاشیر پال اپارے‘، موہن لال اش نے انگریزی کی ضلع ڈوڈہ کی ثقافتی تاریخ کے علاوہ شاد فرید آبادی نے انور فریدیہ، رند بھدرواہ نے ’کہکشاں‘، تنویر بھدرواہی نے بزم، اسیر کشتواڑی اور منشور بانہالی نے ’گوش ہند پوش‘، شہباز راجوری نے ’گوش ہند پوش ‘ ایک طائرانہ نظر، اسیر کشتواڑی نے بشیر بھدرواہی بحیثیت نظم وشعر، ڈاکٹر بھوشن لال کول نے بشیر بھدرواہ گوش ہند پوش کس اناز منز، کے علاوہ ڈاکٹر شہاب عنایت اللہ، مشتاق فریدی نے متعدد ریاستی وعلاقائی ماہانہ، ہفتہ وار وروزنامہ اخبارات میں لکھے ہیں۔ بشیر بھدرواہی نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول نگر بھدرواہ، مڈل /ہائی سکول گورنمنٹ ایس اے ہائی سکول بھدرواہ، میٹرک 1950میں کشمیر یونیورسٹی، 1955میں ایف اے ،1958میں بی اے اور 1962میں ایم اردو ڈگری فسٹ ڈویژن کے ساتھ کشمیر یونی ورسٹی سے حاصل کی۔ 29جنوری1953میں گورنمنٹ سینٹرل سکول رام بن میں بطور ٹیچر تعینات ہوئے۔ 1953-61تک پرائمری ، مڈل اور ہائی سکول میں بطور ٹیچر فرائض انجام دیئے۔1961-63میں ہائی سکول جکیاس بھلیسہ ، ٹی ٹی ایس سکول بھدرواہ میں بطور ہیڈماسٹر۔ 1963سے 1978تک اودہم پور، کشتواڑ، ڈوڈہ ، مہور، گول گلاب گڑھ میں تحصیل ایجوکیشن افسر، 1978-80کے دورانیہ میں ریسرچ افسر سٹیٹ انسٹی چیوٹ آف ایجوکیشن جموں ، لیکچرر بی ایڈ کالج جموں ، 1980-81میں پروجیکٹ آفسر آڈلٹ ایجوکیشن مہور، 1981تا1991 پرنسپل اور 1984سے1993تک راجوری، ڈوڈہ اور پونچھ میں بطور چیف ایجوکیشن افسر فرائض انجام دینے کے بعد31جنوری1993کو 40سال اور 2دون کی کامیاب سرکاری ملازمت کے بعد سبکدوش ہوئے۔ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ حاصل کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر بشیر بھدرواہی نے کہاکہ یہ کشمیری زبان کو ملکی سطح پر اعزاز ہے۔ موصوف کے مطابق ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی 1994میں اپنی اہلیہ عرشا بیگم کے ہمراہ فریضہ حج ادائیگی رہاہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Altaf HUssain janjua

Read More Articles by Altaf HUssain janjua: 33 Articles with 13801 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2016 Views: 483

Comments

آپ کی رائے