پاکستان میں لا ئبریری وانفارمیشن سائنس کی تعلیم کے سو سال(قسط 10 :)

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

پاکستان میں لا ئبریری وانفارمیشن سائنس کی تعلیم کے سو سال(1915-2015)

(یہ مضمون مصنف کے پی ایچ ڈی مقالے بعنوان ’’پاکستان میں لائبریری تحریک کے فروغ اور کتب خانوں
کی تر قی میں شہید حکیم محمد سعید کا کردار‘‘ سے موخوذ ہے۔یہ مقالے کا چوتھا باب ہے۔

مقالے پر مصنف کو جامعہ ہمدرد سے 2009 میں ڈاکٹریٹ کی سند دی)

ہمدرد یو نیورسٹی کے ’ ہمدرد انسٹی ٹیو ٹ آف ایڈوانسڈاسٹڈیز اینڈ ریسرچ ‘نے قلیل مدت میں تحقیق کی نئی روایات قا ئم کی ہیں اور مختلف مو ضوعات جیسے اسلامیات ‘ لسانیات‘ طب اور دیگر متعدد مو ضوعات پر ایم فل اورپی ایچ ڈی پروگرام شروع کیا ہے۔ اس شعبہ کو ڈاکٹر جمیل جالبی ‘ ڈا کٹر قاضی اے قادر اور مسعود احمد بر کاتی جیسے اعلیٰ پا ئے کے ریسرچ اسکالروں کی سر پرستی حاصل ہے (۱۶۳)۔ راقم الحروف کا داخلہ ایم فل ؍پی ایچ ڈی طالب علم کی حیثیت سے اگست ۲۰۰۳ء میں ہوا(۱۶۴)۔ وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی میں لائبریری سائنس میں پی ایچ ڈی کا آغاز۲۰۰۳ء میں ہوا اولین طالب علم مختار اشرف ا سی جامعہ کے لائبریرین بھی ہیں کی تحقیق کا موضوع ’’کراچی کے جامعاتی کتب خانوں میں ذخیرہ اردو کتب کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘ ہے۔

صدر شعبہ اردوڈاکٹر وقارالحسن گلؔ ان کے نگران ہیں(۱۶۵)جولائبریری سائنس میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ بھی کر چکے ہیں۔
 


پا کستان میں لا ئبریری سا ئنس کی تعلیم و تر بیت کو جا معات کے تحت ۴۸ سا ل جب کہ پی ایچ ڈی اور ایم فل شروع ہو ئے ۳۷ سال گزر چکے ہیں۔ ۳۷ سالوں میں صرف پانچ لوگ پی ایچ ڈی کی سند حا صل کرسکے۔ یہ صورت حال لا ئبریری سا ئنس کے ان ما ہرین اورذمہ داران کو دعوت فکر دیتی ہے کہ جنہوں نے اپنی تمام عمر مختلف جا معات میں گزاری ۔ کیا اس پیشہ سے وابستہ لو گ تحقیق کی صلا حیت نہیں رکھتے تھے یاپھر دیگر وجو ہات در میان میں حا ئل رہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس پیشہ سے وابستہ لو گ با صلا حیت اور محنتی ہیں ان میں اعلیٰ تعلیم حا صل کر نے اور تحقیق کر نے کی لگن اور جستجو پا ئی جا تی ہے۔ اس کا وا ضح ثبوت یہ ہے کہ دنیا کی مختلف جا معات سے تقریباً ( ۱۸ )پاکستا نی پی ایچ ڈی کی سند حا صل کر چکے ہیں (۱۶۶)۔ ان میں ڈاکٹر عبدالمعید (۱۷۷) ڈاکٹرعبدا لصبوح قاسمی(۱۶۸)، ڈاکٹرانیس خورشید(۱۶۹)، ڈاکٹر ممتاز انور(۱۷۰)، ڈاکٹر محمد فصیح الدین (۱۷۱) ، ڈاکٹرافتخارخواجہ(۱۷۲)، ڈاکٹرنذیر احمد(۱۷۳)، ڈاکٹرنعیم قریشی(۱۷۴)، ڈاکٹرغنی الا کرم سبزواری(۱۷۵)، ڈاکٹررفیعہ احمد شیخ (۱۷۶) ، ڈاکٹر عبدالستار چودھری(۱۷۷)، ڈاکٹرسجادالرحمٰن(۱۷۸)،پروفیسرڈاکٹراﷲرکھیو بُٹ(۱۷۹)،ڈاکٹر سید جلال الدین حیدر (۱۸۰)، ڈاکٹرحافظ محمد خالد،(۱۸۱) ڈاکٹر سکینہ ملک(۱۸۲)، ڈاکٹر محمد رمضان (۱۸۳) اور ڈاکٹر روبینہ طارق( ۱۸۴)شامل ہیں۔

لا ئبریری سائنس میں اعلٰی تعلیم کے حصول کا یہ تناسب واضح کر تا ہے کہ لا ئبریرین شپ کے پیشے میں قابل لو گوں کی کمی نہیں ان میں تحقیق کر نے کی صلا حیت پا ئی جاتی ہے ۔ پاکستانی جامعات میں بعض مشکلات اور مسائل کے باعث وہ نتائج سامنے نہیں آسکے۔ اس موضوع پر پاکستانی ماہرین کی رائے معلوم کر نے کی کوشش کی گئی تاکہ اصل محرکات سامنے آسکیں ۔ ڈا کٹر حید ر کا کہنا ہے کہ’’ آخر لوگ پی ایچ ڈی کیوں کریں ؟ جبکہ انہیں بغیر پی ایچ ڈی کے مراعات مل جا تی ہیں جنہیں پی ایچ ڈی کر نے کے بعد بھی لوگ مدتوں تک ان کے لیے ترستے ہیں۔ علاوہ ازیں لوگ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ پی ایچ ڈی کر نے کے بعد اس نے کیا کچھ حاصل کیا جو اُسے پہلے حاصل نہیں تھا۔ پی ایچ ڈی میں داخلہ ایک مشکل امر بنا دیا گیا ہے۔ جو خود پی ایچ ڈی نہیں تھے وہ نہیں چا ہتے تھے کہ دوسرا شخص بھی پی ایچ ڈی ہو لہٰذا ہمیشہ مشکلات پیدا کر تے رہے تاکہ لوگ نا امید ہو جائیں ، پی ایچ ڈی کو ایک ہوا بنا دیا گیا ۔ جب کہ دوسرے شعبوں میں اس سلسلہ میں کا فی حوصلہ افزائی کی گئی۔ پڑوسی ملک ہندوستان میں تقریباً ۴۰۰ لوگ لا ئبریری سا ئنس کے
مو ضوع پر پی ایچ ڈی کر چکے ہیں ‘‘(۱۸۵)۔

ڈا کٹراﷲ رکھیو بُٹ تعلیمی اور تحقیقی ڈگریوں کا فرق ملحوظ رکھتے ہو ئے دو اسباب کو اس کمی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں ایک رہبری یا نگرانی (Guidance) کا فقدان ہے اور طالب علموں میں عدم دلچسپ بوجہ کسبِ معاش، وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی تحقیق کر نا چا ہتا ہے تو میرے خیا ل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے وہ کرسکتا ہے ‘ (۱۸۶)۔ پروفیسر ڈا کٹر محمد فا ضل خا ن کی رائے میں پہلی وجہ ہمارے پیشہ ور حضرات کی عدم دلچسپی ہے اور دوسری وجہ حا ئل مشکلات بھی ہیں۔ مثلاً جب میں نے لا ئبریرینز کے لیے دوران ملا زمت بلا رخصت پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کا قا نون بنوایا تو اکیڈمک کو نسل کے بہت سے اساتذہ کرام اسے خوش دلی سے قبول نہیں کر رہے تھے ‘ (۱۸۷)۔ڈا کٹر سکینہ ملک صرف تین ا فرادکے پی ایچ ڈی حا صل کر نے کو افسوس ناک قرار دیتی ہیں اور درج ذیل وجوہات بیان کر تی ہیں:
(۱) تحقیق کا ارادہ کر نے وا لے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا تی با لخصوص اسا تذہ کی طرف سے۔
(۲) تحقیقی مواد کی کمیا بی اور اس کے حصول میں مشکلا ت۔
(۳) تحقیق کروانے وا لے سپروائزر دستیاب نہیں۔
(۴) بیرون ملک جا معہ میں داخلہ کے اخراجات اور دیگر مسا ئل پا کستان میں بسنے وا لے ملا زمت پیشہ افراد کے لیے نا ممکنات میں سے ہیں۔
(۵) تحقیق کے آغاز میں محقق کو رہنما ئی کی ضرورت ہو تی ہے مثلاً مو ضوع کا انتخاب ‘ کتا بیات کی تیاری ‘ تحقیقی خا کہ (Synopsis) کی تیا ری ‘ مواد کی حصولیابی ‘ سوالنامہ کی تیا ری وغیرہ ایسے مرا حل ہو تے ہیں کہ جن میں کسی مخلص رہنما ئی کر نے وا لے کی اشد ضرورت ہو تی ہے ۔ عا م طور پر رہنما ئی کر نے وا لے مخلص نہیں ہو تے اور مشکلا ت بتا کر حوصلے پست کر دیتے ہیں۔
(۶) تحقیق کے مکمل ہو نے کا وقت معین نہیں ہو تا ۔ اس کا اندازہ اس با ت سے لگا یا جا سکتا ہے کہ پا کستان میں لا ئبریری سا ئنس میں اول پی ایچ ڈی کی سند حا صل کر نے وا لے ڈا کٹر عبد الحلیم چشتی جنہو ں نے ڈا کٹر عبد ا لمعید مرحوم کی زیر نگرانی تحقیق کی ان کا کا م گیا رہ سا ل میں اختتام کو پہنچا۔ شعبہ لا ئبریری سا ئنس ‘ بلو چستان یو نیورسٹی میں اس وقت تین اسا تذہ ایم فل مو جود ہیں اور پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کر وا رہے ہیں (۱۸۸)۔

پروفیسر خورشید اختر انصاری کے خیال میں پا کستان میں لائبریری سائنس میں پی ایچ ڈی کی سند رکھنے والے حضرات کی تعداد میں کمی کی وجوہ کئی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں :
۱۔ لائبریری سائنس میں ڈاکٹریٹ کر نے والوں نے اپنی مادر علمی اور اس پیشہ کی ترقی کے بجائے بیرون ملک ملازمت اورذاتی مفادکے حصو ل کو تر جیح دی۔
۲۔ یونیور سٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام کا طریقہ کار انتہائی پیچیدہ ‘ سست اور حوصلہ شکن ہے۔
۳۔ بیرونی یونیورسٹیوں کے مطالعاتی پروگرام اوراعلیٰ تعلیمی وظائف کے با رے میں وزارت تعلیم یا تو اس کی تشہیر نہیں کر تی یا قلیل میعاد کے نوٹس پرمعلومات فراہم کی جا تی ہے ۔
۴۔ بعض یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی اور ایم فل کے قوانین بہت سخت ہیں ۔ مثلاً بلوچستان یونیورسٹی میں ایم فل مکمل کر نے کے بعد پی ایچ ڈی کر نے کی اجازت ہے۔ایم فل میں چار سال لگ جا تے ہیں۔ پی ایچ ڈی کے سیمینار لیکچر کے لیے حاضرین میں ۳۰ اساتذہ کی حاضری کا کورم پورا ہوناضروری ہوتاہے ورنہ سیمینار منسوخ کر دیا جا تا ہے۔ اس قسم کے حربے حوصلہ شکنی کے مترادف ہیں(۱۸۹)۔

شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس جامعہ پنجاب کے استاد ڈاکٹر خالد محمودکے خیال میں ’’جن احباب نے پی ایچ ڈی کر لیا انہوں نے دیگر لوگوں کو اس جانب راغب نہیں کیا، یعنی حوصلہ افزائی کر نے کے بجائے حوصلہ شکنی کر تے رہے نیز پی ایچ ڈی ایک مشکل کام ہے ہمارے لا ئبریرینز نے ہمت نہیں کی کہ وہ اس مشکل کا م کو کر گزر نے کی کوشش کرتے(۱۹۰) ۔

ماہرین کی رائے اور حقائق کے تجزیے سے واضح ہو تاہے کہ پاکستان لا ئبریرین شپ میں قا بل اورذہین لوگوں کی کمی نہیں رہی ۔ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسرنہ ہو نے کے باعث بیرون ملک میں موجود سہولتوں سے فائدہ اٹھایا گیا لا ئبریری سا ئنس میں تحقیق کے حوا لہ سے مثبت تبدیلی آئی ہے جا معہ کرا چی کے علا وہ دیگر جا معات میں بھی تحقیق کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ پاکستان کی سات جامعات(کراچی ۷، سندھ ۵، پنجاب ۱۱،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ۱۱، بلو چستان ۲، ہمدرد ۱ اور فاقی اردو یونیورسٹی ۱) میں کل ۲۸ لوگ تحقیق (ایم فل ؍پی ایچ ڈی) میں مصروف ہیں۔ تحقیق میں معا ونت کر نے وا لوں کی فکر بھی تبدیل ہو ئی ہے۔اعلیٰ تعلیمی اداروں خا ص طور پر جا معات میں تقرری و ترقی کے لیے نئے قوانین کے سبب امید ہے کہ با وجود مشکلات کے مزید افراد تحقیق کے میدان میں قدم رکھیں گے۔

حوالے و ذحواشی
۱۶۳۔ ’’ ہمدرد انسٹی ٹیو ٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ ، ہمدرد یو نیورسٹی ایم فل ؍پی ایچ ڈی پروگرامز ایک جا ئزہ‘‘ ۔
خبرنامہ ہمدرد ۔ ۴۳ نمبر۸ ( اگست ۲۰۰۳ء) : ۱۳ ۔۱۴
164. (1) Major (R) Mazharuddin Ahmed, Dy Registrar (Academics), Hamdard

University, Notification No. No.HU/DRA/2002/73, dated July 12, 2003.
(2) Major (R) Mazharuddin Ahmed, Dy Registrar (Academics)Hamdard
University Notification No. HU/DRA/2002/ 200, October 28, 2003.
۱۶۵۔ مجاریہ۔ مجلس اعلیٰ تعلیم و تحقیق ، وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنا لوجی نمبر ا ت ت؍۱۱، ۶ ‘ ؍۰۳ ، مورخہ ۱۷
اکتوبر ۲۰۰۳ء۔(اصل کاپی مختار اشرف یونیورسٹی لائبریرین کی فائل میں محفوظ ہے)
166. Usmani, M. Adil. "Ph. D Research by Pakistani Librarians'. ref.144, p.24

167. Abdul Moid. "Urdu Language Collection in American Libraries." (Ph. D
dissertation, USA: llinois University, 1964)
168. Qasmi, A. S.A "Code for Cataloguing Material Published in Urdu, Pushto
and Punjabi". (Ph.D dissertation, USA: Columbia , 1967)
169. Anis Khurshid. "Standards for Library Education in Burma, Ceylon,
India and Pakistan". (Ph.D dissertation, USA: Pittsburgh, 1973),740p.
170. Anwar, Mumtaz A. "The Career of the Pakistan Libraries : A Study of
Socio- Economic backgrounds Influences in the Vocational Choice and
Appraisal of Librarianship in Pakistan." (Ph.D dissertation , USA:
Pittsburgh, 1973)
171. Fasihuddin. "A Study of Indexing Policies and practices and the Literature
of Taxicology." (Ph. D dissertation, USA: Pittsburgh, 1976)
172. Khawaja, Iftikharuddin. "Standards for the Evaluation of Library
Programmes of the Secondary Schools of Pakistan. "(Ph.D dissertation,
USA Virginia Univesity, 1979)
173. Nazir Ahmed. "An Analysis of Academic Libraries in the Punjab (Pakistan)
and Proposal for their Development." (Ph. D dissertation, UK : London:
External , 1981)
174. Qureshi, Naimuddin. "Standards for University Libraries in Pakistan."
(Ph. D dissertation, USA: Pittsburgh, 1982)
175. Sabzwari, Ghaniul Akram. (Ph. D dissertation), ref. 145.
176. Rafia Ahmed Sheikh. "A General Information Programme for Pakistan
with special Reference to the Promotion of Cultures in Libraries and other
Information Centres in Pakistan." (Ph. D dissertation, London: University
College, UK. 1983)
177. Abdus Sattar Chaudhary. "Relationship between Political Alignment and
Scientific Communication: A Bibliometric Study of Egyptian Science
Publications." (Ph. D dissertation, USA: Illinois, 1985)
178. Sajjadur Rehman. "Teaching of Management in Relation to Different
Management Theories in the Library Schools of North America: an

Explanatory Study." (Ph. D dissertation, G. B College of Librarianhsip,
Wales. 1987)
179. Butt, Allah Rakhio. "Development of the Publishing Industry in Sindh."
(Ph. D dissertation, G. B College of Librarianhsip, Wales. 1987)
180. Haider, Syed Jalaluddin. "Acquiring Foreign Materials for Pakistani
Libraries: A Study." (Ph. D dissertation, London: Loughborough
University of Technology, 1993) , 307p.
181. Khalid, Hafiz Muhammad. "Cooperation and networking in University

Libraries: A Model for Invitation and Implementation in Countries with
less Developed Systems." (Ph. D dissertation, Manchester Metropolitan
University.1997)
182. Sakina Malik. "Problems of Library Education in Asian Countires:
Suggession and Recommendations" (Ph. D dissertation, Concordia
University, USA. 2000)
183. Muhammad Ramzan. "Utilization Levels and Librarians' Attitudes toward
Information Technilogy (IT): Application in Academic and Research Libraries in Pakistan." (Ph. D. dissertation, St. George University
International, U. K.), 2003.
184. Rubina Tariq Chohan."Perceptions of User Education in University
Libraries of Pakistan" (Ph. D dissertation, University of Manchester,
U. K. 2003)
۱۸۵۔ حیدر‘پروفیسر ڈاکٹرسید جلال الدین ۔ سابق صدرشعبہ ،لائبریری وانفارمیشن سائنس ،جامعہ کراچی،انٹر ویو از محقق ،
۱۲ مارچ۲۰۰۴ء ، کراچی( متن ضمیمہ ۱۲)
۱۸۶۔ بٹ ‘ پروفیسر ڈاکٹراﷲ رکھیو۔انٹر ویو، حوالہ ۱۵۲( متن ضمیمہ ۱۲)
۱۸۷۔ خان ‘پروفیسر ڈاکٹر محمد فاضل ۔ ایچ ای سی پروفیسرو صدر شعبہ ،،شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس، علامہ اقبال اوپن
یونیورسٹی،اسلام آباد، ،انٹر ویو از محقق ، ۱۴ ا کتوبر ۲۰۰۵ء ، کوئٹہ ( متن ضمیمہ ۱۲)
۱۸۸۔ سکینہ ملک۔ چیف لائبریرین بلوچستان یونیورسٹی،انٹر ویو از محقق ، ۱۹ جون ۳۰۰۳ء ، کوئٹہ(متن ضمیمہ ۱۲)
۱۸۹۔ انصاری‘ خورشید اختر۔ چیر مین شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس، بلوچستان یونیورسٹی ،انٹر ویو از محقق، ۱۹ جون۳۰۰۳ء
( متن ضمیمہ ۱۲)
۱۹۰۔ خالد محمود‘ ڈاکٹر۔لیکچرر ،شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور ،انٹر ویو از محقق ،۲۸ دسمبر ۲۰۰۴ء ( متن ضمیمہ ۱۲)
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 753 Articles with 640859 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
22 Jul, 2016 Views: 689

Comments

آپ کی رائے