اﷲ کی برہان

(Muhammad Amjad, )
کشمیری حریت پسند برہان مظفر وانی کے جواں خون نے تحریک آزادی کشمیر کی شمع کو ایسا روشن کیا ہے کہ بھارتی حکومت اور فوج کی آنکھیں چندیاں گئی ہیں۔ وہ بے چینی اور بوکھلاہٹ کے عالم میں طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہے مگر وادی کے حالات دن بدن بگڑتے جارہے ہیں۔ کشمیریوں کا جذبہ حریت اس قدر بڑھ چکا ہے کہ مقبوضہ وادی میں تین ہفتے سے کرفیو نافذ ہونے کے باوجود کشمیری عوام سڑکوں اور گلیوں میں بھارتی فوج کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ ہرنئے دن کا سورج ان کے جذبہ حریت کو جلا بخشتا ہوا ابھرتا ہے۔انہیں کرفیو کی پرواہ ہے نہ بھارتی فوج کی گولیوں کی، وہ تو سرپر کفن باندھ کر نکلے ہیں۔ بھارتی فوج اور سرکاری کارندے بوڑھوں،عورتوں اور بچوں کو گھسیٹ رہے ہیں، ان پر گولیوں اور چھروں سے وار کررہے ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ وادی میں آمریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تمام ریکارڈتوڑ ڈالے ہیں۔ وادی میں ادویات اور اشیائے ضروریہ کا فقدان پیدا ہوگیا ہے۔ اخبارات پر پابندی عائد کی جاچکی ہے، موبائل سروس معطل ہے اور اہم شاہرات بند کردی گئی ہیں۔ برہان مظفروانی کی شہادت کے بعد سے اب تک بھارتی فوج کی فائرنگ اور ظلم و ستم سے پچاس کشمیری شہید ہوچکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد دوہزار سے زائد ہے۔

برہان مظفر کشمیری حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے کمانڈر تھے۔ ان کے والد مظفر وانی سکول پرنسپل ہیں۔ برہان ایک ہونہار طالب علم تھے۔ انہوں نے صرف پندرہ سال کی عمر میں اس وقت ہتھیار اٹھائے جب انہیں اور ان کے بھائی کو بھارتی فوج نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کے والد کے مطابق برہان صرف اس لیے عسکریت پسند نہیں بنا تھا کہ اس پر تشدد کیا گیا بلکہ وہ نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ظلم کو دیکھتا جوان ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت سے آزادی صرف برہان کا ہی نصب العین نہیں تھا بلکہ مجھ سمیت ہر کشمیری کا یہی مطالبہ ہے۔ بلاشبہ آزادی ہرکشمیری کی منزل ہے اسی لیے تو وہ اپنے پیاروں کی قربانیوں پر فخرکرتے ہوئے انہی کی نقش قدم پر رواں دواں ہیں۔ مگر افسوس اقو ام متحدہ اور انسا نی حقوق کے علمبردار ادارے اور سب سے بڑھ کر دنیا کے چوہدری جو اپنے مفادات کے لیے تو دنیا کے ممالک پر چڑھائی کردیتے ہیں اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں، کشمیر کے حوالے سے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہیں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو جنوبی ایشیاء پر ایٹمی جنگ کے سائے منڈھلاتے رہیں گے۔ یہاں اسلحے کی دوڑ جاری رہے گی اور اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتوں کے کردار پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی۔بھارت کو بھی یہ جان لینا چاہئے کہ وہ طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آزادی دبا سکتا ہے نہ چوردروازے سے کسی طریقے سے اسے ہڑپ کرسکتاہے۔

کچھ عرصے سے پاکستان میں بھی کشمیر کے حوالے سے خاموش چھائی رہی۔ شاید حکمرانوں نے اپنے مفادات کی خاطر اس سلسلے میں کوئی توجہ نہ دی۔ یہ تو برہان مظفر وانی کی قربانی تھی جس نے میڈیا کی توجہ حاصل کی اور پھر اقتدار کی جنگ میں الجھے ہمارے سیاستدانوں کو بھی کشمیر کے حوالے سے ہوش آگیا۔حکومت پاکستان نے اس کے بعد کافی سرگرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی طرف سے مختلف ممالک کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ سمیت مختلف اداروں کو خطوط لکھ کر ان کے ضمیر کو جھنجوڑنے کی کوشش کی گئی۔ ملک بھر میں مقبوضہ وادی میں بھارتی ظلم و بربریت کے خلاف یوم سیاہ بھی منایا گیا ۔ وزیراعظم نواز شریف اس حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز ظلم کے بعد بھارت کے پاس شکست تسلیم کرنے کے سوا اب کوئی چارہ نہیں رہا۔ پاکستان کا کشمیریوں سے دیرینہ اور ہمہ گیر رشتہ ہے، اپنے کشمیری بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، سفارتی سمیت ہر محاذ پر کشمیر کا مقدمہ لڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اقوام متحدہ کا موضوع کیوں نہیں بنتی ۔انہوں نے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی اب تھمنے والی نہیں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی کورکمانڈر اجلاس میں دوٹوک موقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور اسے وہاں کے عوام کی تمنا کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ جنرل راحیل شریف کے بیان سے یقینا کشمیریوں کو حوصلہ ملا ہے اور عالمی سطح پر معاملے کی سنگینی بھی اجاگر ہوئی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کی آزادی کی بازگشت پوری دنیا میں سنی جارہی ہے۔ اس دفعہ کشمیر کی آزادی کے جو شعلے بڑھکے ہیں وہ بھارتی غرور کو خاکستر کرکے رہیں گے۔ کشمیر کے معاملے پر حکومت پاکستان کو اپنی پوری ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر کشمیر کے حوالے سے قائم کمیٹیوں اور اداروں کو مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے محض کسی کو سیاسی عہدہ دینے کی بجائے سنجیدہ اور عالمی وکشمیری امور کے ماہرین سے مزید بہتراور موثر بنایا جاسکتا ہے۔ جو کشمیر کے سیاسی و تاریخی پس منظر کو نہ صرف پاکستان کی نئی نسل کو آگاہ کریں بلکہ عالمی سطح پر بھارتی پراپیگنڈہ اور سازشوں کو بے نقاب کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کو بھی یکساں سوچ اپناتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ میڈیا اس حوالے سے بہت اہم کردار ادا کررہا ہے۔ تاہم سیاسی شوز کے ساتھ ساتھ مسئلہ پر بھی خصوصی پروگرام وقت کی ضرورت ہیں ۔ آج انٹرنیٹ پر جس طرح بھارتی پراپیگنڈہ عروج پر ہے ہمارے نوجوانوں کو اس سلسلے میں آگے بڑھنا ہوگا۔ وہ بہت باشعور ہیں اور انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت کے پراپیگنڈہ کو ناکام کردیا ہے تاہم انہیں اپنے اس عزم کو جاری رکھنا ہوگا۔اس طرح بھارت کے گھناؤنے چہرے سے پردہ اٹھانے کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔بے شک برہان مظفر وانی کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا ۔ اس نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو میں جو نئی روح پھونکی ہے، اس سے برہان جنم لیتے رہیں گے جووادی لہورنگ کو بالآخر آزادی سے ہمکنا ر کرکے رہیں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Amjad Ch

Read More Articles by Muhammad Amjad Ch: 94 Articles with 43279 views »
Columnist/Journalist.. View More
22 Jul, 2016 Views: 399

Comments

آپ کی رائے