ماڈلنگ اور شرعی قوانین

(Falah Uddin Falahi, India)
روز اول سے ہی اسلام کے مخالف قوتیں اسلامی تعلیمات پر انگلیاں اٹھاتے رہے ہیں لیکن فی زمانہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ شاید کبھی نہیں ہوا تھا ۔وہی قانون جسے اسلام پندرہ سو سال پہلے لاگو کیا تھا آج دنیا اسی کو لاگو کرنے کیلئے بے چین ہیں بلکہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں لاگو بھی کر دیا گیا ہے ۔مثلا ہندوستان کی چار ریاستوں میں شراب پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس سے نا صرف حکومت بلکہ تمام عوام الناس نے راحت محسوس کی ہے ۔جب سرکاری افسران سے بہار کی حکومت نے حلف نامہ پر دستخط کرانے کے لئے سر کولر جاری کیا تو ایک مسلم پولیس آفسیر نے اس میں دئے گئے خالی جگہ کمنٹ میں لکھ دیا تھا کہ اسلام میں تو شراب پر پندرہ سو سال پہلے پابندی عائد ہے ۔بس کیا تھا ان کے سنیئر آفیسر یہ سن کر بجائے اس کے تعجب یا خوشی کا اظہار کرتے انہوں نے اسے برا بھلا کہا ۔گویا اگر اسی اسلامی تعلیمات کو ہم نافذ کریں تو یہ میری دور اندیشی ہے لیکن اگر اسلام کا نام لے لیا تو آگ بگولہ ہو گئے ۔اسی طرح ملک میں خواتین کی عصمت دری میں بہ انتہا اضافہ ہوا ہے جس کے لئے خصوصی قانون بھی بنائے گئے اور تقریباً ہر خاص و عام نے زانی کو پھانسی کی سزا دینے کی وکالت کی ۔لیکن اگر انہی سے کہا جائے کہ مسلم ممالک میں زانی کو پھانسی دی جاتی ہے تو وہ اسے حقوق انسانی سے منسلک کر کے تنقید کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔اسی طرح چور کے ہاتھ کاٹنے پر زبردست وابیلا مچاتے ہیں لیکن جب ہندوستان میں چور ی ہوتی ہے تو کہتے ہیں چور کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ پھر کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے ۔اسے کہتے ہیں سماج کا دورخا پن اور اسلام دشمنی ۔لیکن ایک بات تو حقیقت ہے کہ نا چاہ کر بھی دنیا اسلام کو اپنانے اب مجبور ہے چاہے اسے وہ شریعت کا نام نا دیں لیکن وہ اسے لاگو کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو اسلام نام سے ہی دشمنی ہے جو انہیں وراثت میں ملا ہے ۔اگر انہیں اسلام کی تعلیمات کے بارے میں تفصیل سے بتایا جائے اور اسلام کی تبلیغ کی جائے تو اس کے خاطر خواہ نتائج آئیں گے لیکن اس کے لئے ایک لائحہ عمل کی ضرورت ہے ۔اب تک تبلیغ دین کا کام جس طرح سے ہو رہا ہے اس سے بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بندگان خدا کو جو دنیا میں پریشانی ہے اس سے انہیں نجات تو ملے ہی ان کی آخرت بھی سنور جائے ۔اسی طرح کا واقعہ حجاب پر ہو رہا ہے جہاں دنیا میں اس کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے لیکن آج غیر مسلم خواتین کثرت سے حجاب کا استعمال کر رہی ہیں چاہے وہ کسی بھی مقصد سے کرتی ہیں لیکن کر رہی ہیں۔چاہے موسم کی وجہ سے ہو یا پھر کوئی اور وجہ ۔آج کل ایران کا معاملہ سرخیوں میں ہے اور اسلام دشمن عناصر اسے خوب خوب ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ہوا یوں کہ ایران میں ماڈلنگ کے لیے مشہور جوڑے کی تصاویر انٹرنیٹ پر شائع ہونے کے بعد ان کو ایران چھوڑنا پڑا۔الناز گل رخ اور ان کے ساتھی حامد فدئی ایران میں انسٹاگرام پر ان کی شائع ہونے والی تصاویر کے لیے بہت مشہور ہیں۔ گل رخ اپنی تصاویر میں سر پر سکارف نہیں لیتیں جو کہ ایران میں انقلاب کے بعد سے لازمی ہے۔یہ جوڑا ایران چھوڑ کر دبئی چلا گیا ہے جہاں سے وہ اپنی تصاویر انسٹاگرام پر اپ لوڈ کر رہے ہیں۔ ان کے انسٹاگرام پر ساڑھے آٹھ لاکھ فالوورز ہیں۔یاد رہے کہ ایران کی سائیبر کرائم عدالت نے حال ہی میں غیر اسلامی سمجھی جانے والی آن لائن ماڈلنگ کرنے کے الزام میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔یہ گرفتاریاں اس آپریشن کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں جس میں ان خواتین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے جو انسٹا گرام اور دیگر سوشل ویب سائٹس پر سر پر سکارف لیے بغیر تصاویر لگاتی ہیں۔انسٹاگرام پر گل رخ نے کہا ہے کہ وہ ان افراد میں شامل نہیں تھیں جن کو ایرانی حکومت نے گرفتار یا متنبہ کیا ہو۔ ’نہ تو میں ضمانت پر رہا ہو کر ایران سے نکلی ہوں نہ ہی میں حراست میں لی گئی۔‘جنوری میں انھوں نے انسٹاگرام پر پوسٹ میں لکھا ’بدقسمتی سے میں کچھ عرصے کے لیے ایران میں کام نہیں کروں گی لیکن میں اپنا کام ایران سے باہر جاری رکھوں گی۔‘ایک اور پوسٹ میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران واپس آنا چاہتی ہیں اور جدید بین الاقوامی سروسز اور کاسمیٹک صنعت ایران لانا چاہتی ہوں۔ایران کی سائبر کرائم عدالت کی جانب سے گرفتار کیے گئے آٹھ افراد میں الہم عرب سامل ہیں جو شادیوں کی تصاویر بنانے کے لیے مشہور ہیں۔ان سے عدالت نے ریاستی ٹی وی پر سوالات پوچھے اور پوچھا کہ وہ اس صنعت میں کیوں داخل ہوئیں۔سر پر سکارف لیے الہم نے معافی مانگی اور کہا کہ وہ غلط کر رہی تھیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Falah Uddin Falahi

Read More Articles by Falah Uddin Falahi: 135 Articles with 64339 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jul, 2016 Views: 528

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ