اسلام اور جہاد کی فرضیّت : قسط نمر[1]

(muhammad farooq hassan, sialkot)
جہاد کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے کیوں کہ اللہ پاک نے قرآن میں مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ تم پرقتال کرنا فرض ہے اور ایک اور مقام پہ فرمایا کہ کافروں کے خلاف قوت تیار کروجہاں تک تمھارا بس چلےاورجنگ کے لیے سدھائے ہوئے گھوڑے تیار کروتاکہ اللہ کے دشمن اورتمھارے دشمن خوف زدہ رہیں اسلام کی عظمت کو دنیا میں قائم کرنا سب مسلمانوں پر لازم اور فرض ہےاوراسلام کوغالب کرنے کے لیے جہاد کرنا ضروری ہے
جہاد کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے کیوں کہ اللہ پاک نے قرآن میں مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ تم پرقتال کرنا فرض ہے اور ایک اور مقام پہ فرمایا کہ کافروں کے خلاف قوت تیار کروجہاں تک تمھارا بس چلےاورجنگ کے لیے سدھائے ہوئے گھوڑے تیار کروتاکہ اللہ کے دشمن اورتمھارے دشمن خوف زدہ رہیں اسلام کی عظمت کو دنیا میں قائم کرنا سب مسلمانوں پر لازم اور فرض ہےاوراسلام کوغالب کرنے کے لیے جہاد کرنا ضروری ہے سب سےبڑھ کر یہ کہ جہاد کرنا اس لیے بھی ضروری اور لازم ہے کہ یہ اللہ تبارک وتعالی کا حکم ہے قرآن پاک میں جس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں اگر تم جہاد کرو گے تو تم
کافروں کو اپنا غلام بنا لو گے دنیا میں عدل و انصاف اورامن وامان قائم کرنےکےقابل ہو جاو گے اور مظلوموں کو ظلموں اور ظالموں سے نجات دلا سکو گے اللہ کے دین کو دنیا میں نافذ کر سکو گے اور اگر تم جہاد نہیں کرو گے توکافر اور ظالم اور بے دین لو گ تمھیں اپنا غلام بنا لیں گے اور تم ان سے رحم کی توقع رکھوگے مگر وہ تم پر ہرگز رحم نہیں کریں گے تمھیں دین پر سے گمراہ کردیں گے تم جتنا مرضی ان سے کہو گے سر جی ہم پرظلم نا کرو سر جی ہمیں مسجد بنانے دو ہمیں نماز پڑھنے دو وہ تمھیں دین پر چلنے نہیں دیں گے الغرض تمھارا مال جان اور عزّت بھی محفوظ نہیں رہے گا یہاں میں یہ بات ضرور بیان کرنا چاہوں گا کہ مسلمانوں کو تربِیّت تو حاصل کرنی چاہیے اس بات کی جہاد کیسے کرنا ہے غلام بننے سے کیسے بچنا چاہیے فتوحات کی صورت میں جو لونڈیاں اور غلام حاصل ہوں گے ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے ان کو کیسے آزادی اور اسلام اور ایمان کا علم دینا ہے خصوصی طور پر ان کو کیسے ایک قابل اور مہذّب شہری بنانا ہے مگر ہماری قوم ان باتوں کو بھول چکی ہے اور فلموں اور ڈراموں میں مگن ہو چکی ہے جو کچھ ڈراموں اورفلموں میں ہوتا ہے-

اسی کو اپنا کر اسی کے مطابق زندگی گرارتے ہیں اور فلموں اور ڈراموں میں سیکولرازم اور لیڈیز فرسٹ اور انگریزوں کے بنائے ہوئےقوانین کو اجاگر کیا گیا ہوتا ہے ہندوستان میں تعزیرات ہند اور پاکستان میں تعزیرات پاکستان کے نام سے جو قوانین رائج ہیں وہی 70سال سے چل رہے ہیں دوچار اسی انداز کی ملتی جلتی ترمیمات ہوگئی ہوںگی باقی سب وہی باتیں وہی مسائل وہی بے دینی اور ظلموں کا لامتناہی سلسلہ اور جس کی لاٹھی اس کی بھیس والا معاملہ میں تو اس بات سے حیران ہوں کہ ہمارے حکمران اللہ سے ڈرتے ہی نہیں ہیں اگر وہ اللہ سے ڈرتے ہوتے تو اللہ کے دین کو ملک میں نافذ نہ کر دیتے ابھی سے سب خاص وعام کو اللہ کے دین کو دل سے قبول کرکے نافذ کرنے کے لیے جہاد شروع کردینا چاہیے یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم یہ فلسفہ اپنائیں گے کام کام کام جہاد جہاد جہاد اور جہاد مانا کہ سکول میں کالج میں یونیورسٹی میں پڑھنا چاہیے پر جہاد کا ہی ہر ایک پیریڈ ہونا چاہیے سود سمیت شرک سمیت فرقہ پرستی سمیت فحاشی وعریانی سمیت جادو گری سمیت تمام کبیرہ گناہوں کی مخالفت کرتے رہیں گے ان شاءاللہ ہمارے کالمسٹ بھی بے چارے نادانستگی میں کافروں اور بے دین لوگوں کی سیکولر اور کیمیونسٹ لوگوں کی ترجمانی اور طرف داری کرتے ہیں ان کو اسلام سے لگتا ہے مایوسی ہو چکی ہے اور بے چارے شکست خوردہ ہو کراپنے آپ کو دشمنوں کے ہوالے کردیتے ہیں اور ان کی طرف سے ملنے والے ٹکڑوں پر پلنا شروع ہوجاتے ہیں اور پھر حق نمک ادا کرنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اللہ کی پناہ ایسی صورت حال سے اللہ کی پناہ فرقہ پرستوں کے شر سے اللہ کی پناہ مجرموں اور ظالموں کے شر سے میں حکمرانوں اوردانشوروں اور لکھاریوں اورمصنفین سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ وہ جہاد کو جاری کرنے کے لیے قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں اور اس کے مطابق سکولوں میں کالجوں میں اور ییونیورسٹیز میں جہادی تعلیم کو عام کرنے کے لیے تخیّل کے گھوڑے دوڑائیں فتح کے بعد سکولوں میں غلاموں اور لونڈیوں کو قید کیا جائے اور جتنے ہمارے سکول ہیں ان میں کروڑوں کی تعداد میں غلام قید کیے جاِسکتے ہیں ان کو سدھاتے ہوئے دکھایا جائے اور ان کے لیے آزادی حاصل کرکے معززانسان بننے کے بارے میں تعلیم ہونفاذ اسلام کے بعد معاشرہ کس قدر ترقی کرتا ہے اس کی جھلق دکھائی جا ئے سب کے سب تنقید پر اور ناشکری پر گلے شکووں پر ہی لگے ہوے ہیں یہ کیوں نہیں دکھایا جاتا کہ یہ ایک متقی پرہیزگار بندہ ہے اور یہ خوش حال اور خوش گوارزندگی گزارتا ہے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کوظالموں کے ظلم سے بچاتا ہے اور یہ ایک برا آدمی ہے اور اس کی کرتوتوں پر اس کو ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوتے ہوئے دکھائیں مگر ہوتا کیا جو حق کی بات کرتا ہے اس کو ولن بنا دیا جاتا ہے اور اس کی آتمہ رولی جاتی ہے اسلام کو تنگ نظری بتایا اور دکھایا جاتا ہے او بھائی اہل اسلام سے دہشت گردی کی چھاپ اتارو اللہ کا نام لو اور کوشش کرو اور یہ سب تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہو لیکن میں جو باتیں لکھ رہا ہوں اس پر عمل انڈیا والے اپنے مذہب کے مطابق کر رہے ہوتے ہیں یہ غدّاروں کی کارستانی ہے اور کیا اللہ کی پناہ غدّاروں کے شر سے تعلیم شعبہ میں تبدیلی کی ضرورت ہےاسلام کے مطابق تعلیم حاصل کرنا سب مسلمانوں کے لیے از حد ضروری ہے اسلام کے مطابق تعلیم کیسے حاصل کریں آئیں آپ کو میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں-

اسلام کے مطابق تعلیم حاصل کرنا ایساعمل ہے جس سے بچے تعلیم بھی حاصل کر سکتے ہیں اور مناسب کمائی بھی کر سکتے ہیں اس لیے ضرورت ہےایسے سکولز کی جن میں بچے کام بھی کریں اور ساتھ ساتھ ان کو تعلیم بھی دی جائے ہنر بھی سیکھیں اورکام بھی کریں اور جہاد کی ٹریننگ بھی کریں اور مہینے بعد گھروالوں کو پانچ ہزار یا دس ہزار تنخواہ بھی دیں اور ان کو نماز بھی سکھائی جائے اور اسلامی قوانین بھی سکھائے جائیں اور ان کی جسمانی فٹنس کے لیے ان کو ورزشیں کرائی جائیں الغرض ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ بچہ جب سکول چھوڑے تو ایک بہادر اور جنگجو فوجی اور مجاہد بن کے فارغ التحصیل ہو اور ایک ہنر مند کاریگر بن کر نکلے ڈاکٹر اور انجنئیر بن کر ایک تاجر اور ایماندار امانت کی حفاظت کرنے والا حساب کتاب کا ماہر اچھے اخلاق کا حامل انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والا ایک پڑھا لکھا سلجھا ہواانسان بن کر سکول چھوڑے اور اس طرح سے ہماری افواج کی تعداداور جنگ لڑنے کی صلاحیّتیں اس قدر بڑھ جائیں گی کہ ہم دوسرے ظالم ملکوں کو فتح کرکے وہاں امن وامان قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اللہ کے حکم کو پورا کر پائیں گے اللہ کا حکم پورا کرنا ہم سب پر فرض ہے لیکن ہم غلامی کی دلدل میں دھنسے ہوے ہیں اگر ہم اللہ کے حکم کے مطابق اپنے بچوں کو تعلیم دینے کا بندوبست کرپائیں تو ہمارے ملک کے پاس کروڑوں کی تعداد میں فوج ہو گی اور کم از کم عالم اسلام کے پاس دس کروڑ مسلح فوج ہو تو دنیا کے ظالم اورانسانیّت کے قاتل اور اپنی عبادت کرانے والے فرعونوں کے سر قلم کرکے اور گرفتار کرکے ان کو اللہ کا عبادت گزار بنایا جاسکتا ہے اللہ کے دین کو ناماننے والوں کو اور ان کی اولادوں کو اسلام کی ملکییّت بنایا جاسکتا ہے دنیا سے ظلم اور جرائم اور فحاشی و عریانی اور بدکرداری اور بداخلاقی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے-

اسلام کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں اللہ نے قرآن میں بہت سارے احکامات نازل فرمائے ہیں اورفرمایا کہ اے مسلمانوں اس بات کا علم حاصل کرو کہ صرف اور صرف اللہ ہی عبادت کے لائق ہے اور ایک مسلمان کے لیے اللہ کا حکم پورا کرنا سب معاملات سے بڑھ کر اہم معاملہ ہے اور آج کل کے نام نہاد ترقّی یافتہ ممالک کےدانشور بھی اس بات کو مانتےہیں کہ علم بہت بڑی دولت ہے اور طاقت ہے مسلمانوں کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ مسلمانوں جہاں تک تمھارا بس چلے کافروں کے خلاف قوّت تیّار کرو بلکل ایسے ہی انداز میں جیسے اللہ نے نماز کے بارے میں حکم فرمایا اور نماز قائم کرو اورزکواۃ ادا کرو اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ معلوم ہوا کہ نماز قائم کرنے جتنا اہم فریضہ ہے علم حاصل کرنا ہےعلم حاصل کرنا ایک اہم فریضہ ہے اور جو بھی فرض ہوتا ہے اس پر لوگوں کو عمل درامد کرانے کےلیے حکمرانوں کو اپنا اثررسوخ استعمال کرنا چاہیے حکمرانوں کواپنی کرسی مضبوط کرنے میں ہی اوراپنی تجوریاں بھرنے میں ہی مشغول نہیں رہنا چاہیےفرض وہ ہوتا ہے جس کو معاشرے میں رائج کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوتے ہیں اور نماز اور زکواۃ کا نظام قائم کرنا اور رائج کرنا بھی علم حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے نماز میں حاضری آدمی کو سب کے سامنے لوگوں کی نظروں رکھتی ہے اور انسان شیطان کا شکار ہونے سے بچا رہتا ہے جب آدمی کی ہر حرکت لوگوں کے سامنے رہتی ہے تو آدمی کو جرائم پیشہ بننے کے امکانات سے ہی دور کر دیا جاتا ہے اور زکواۃ کے نظام میں آدمی کو حرام کی کمائی سے بچنے میں مدد ملتی ہے-

اسلام کے مطابق تعلیم حاصل کرناایسا اہم فریضہ ہے کہ قرآن پاک حفظ کرنا بہت قابل عزّت واحترام ہے اور دنیا و آخرت میں خیراور بھلائی اور اعزاز والی بات ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم میں سے سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے اور پڑھاتے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ قانون کی کتاب کا علم یعنی دنیاوی قانون کی کتاب کا علم حاصل کرنا وہ ٹریفک قانون ہو یا ریلوے کا قانون ہو کسی فیکٹری کا قانون ہو یا کسی محکمے یا شعبے کا قانوں ہو قانون کی کتاب کی تعلیم حاصل کرنا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے اورقرآن پاک تواللہ کے قانون کی کتاب ہے اسلامی قانون کی کتاب ہے اس کی تعلیم حاصل کرنا تو سب سے زیادہ اہم ہے اور اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے اور حدیث میں ہے کہ فرصت کے وقت جو آدمی مسجد میں جائے اور قران کی ایک یا دوآیات حاصل کرے یعنی آیات کو پڑھے اور یاد کرے اور اس پر عمل کیسے کرنا ہے اور یہ آیات سے کیا احکام ومسائل معلوم ہوئے ہیں اس کا علم حاصل کرنا تاکہ بوقت ضرورت بطور دلیل لیا جا سکے یہ ہوتا ہے آیات کا حاصل کرنا فرمایا جو دو آیات حاصل کرے تو اس کو دو سرخ اونٹنیاں حاصل کرنے سے زیادہ بہتر متاع اور عزت حاصل ہوتی ہے اور آج کل کی سرخ اونٹنی کی مثال ہے پجارو اور پراڈو سپورٹس کار لیموزین کار اداکار میرے مطابق سارے کے سارے مشرک بے غیّرت اوربے دین ہوتے ہیں کیوں کہ اداکاری کی الف بے اس وقت ان کوسکھائی جاتی ہے جب وہ اس بات کا اقرار کریں کہ ہم سیکولر ہی٘ں مزہب وزہب غیرت ویرت کو ہم نہیں مانتے اور پھر ان سے باقائدہ امتحان بھی لیے جاتے ہیں اس وقت تک ان کو یعنی اداکاروں کو فلم انڈسٹری یا ڈرامہ کمپنی میں شامل نہیں کیا جاتا جب تک وہ کسی کو گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ نا بنائے لیڈیز فرسٹ کا عقیدہ بھی اس طرح منوایا جاتا ہے کہ عورتوں کو سجدہ کرایا جاتا ہے الغرض یہ منوایا جاتا ہے کہ باقی دیاں گلّاں چھڈّو سب جائز ہونا چاہی دا یعنی کہ ماں بہن بیٹی پھوپھی خالہ سے زنا بھی کرو تو کوئی پرابلم نہیں ان کی موویاں ٹرپل ایکس یا ایکس این ایکس ایکس میں اپ لوڈ بھی کرو تو بھِی نو پرابلم اور کہ یہ ہمارا کلچر ہے لیکن میں ایمان دار اور مسلمان اداکاروں اور اداکاراوں سے یہ کہوں گا کہ حقائق کی تلخیوں کواجاگر کرنے کی بجائے نیک نیّتی کو اجاگر کیا جائے کیوں کہ اچھی نیّت کرنے سے ہی آدمی کو ایک نیکی حاصل ہو جاتی ہے تو میں یہ کہنا چاہوں گا سب میڈیا والوں سے چاہے وہ رائٹر ہو یا کالم نگار یا ہدایت کا ر ہوں یا اداکار وہ ایسا کچھ لکھیں کہ وزیر اعظم اور گورنر اور حکومت میں اعلی عہدہ داروں کو اسلام نافذ کرنے میں کوئی دشواری نا محسوس ہو یا کم از کم ان تک ہماری دعوت تو پہنچ جائے-

جہاد اور والدین کی فرمان برداری
شرک و بدعت سود خوری فرقہ پرستی زنا کاری مردوں کی مردوں سے بدکاری جھوٹ حرام کی کمائی ظلم نشہ فضول خرچی مردوں کا داڑھی منڈھوانہ عورتوں کا بےپردگی کرنا نماز نہ پڑھنا استطاعت ہوتے ہوئے زکواۃ نہ دینا روزے نہ رکھنا حج نہ کرنا جہاد نہ کرنا عورتوں کا مردوں کی مشابہت اختیار کرنا مردوں کا عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا فلموں ڈراموں میں نامحرم مردوں کے ساتھ کام کرنا کسی فلم یا ڈرامے میں ماں کا کردار ادا کرنا اور کسی فلم یا ڈرامے میں بہن کا کسی فلم یا ڈرامے میں بیوی کا اور کسی میں بیٹی کا کردار ادا کرنا یہ سراسر اللہ تعالی کی حرمتوں کو پامال کرنا ہے ناچ گانے والے پروگرام دیکھنا فحاشی وعریانی والی فلمیں اور نیٹ پر سیکسی مویز دیکھنا جن میں زناکاری کرتے ہوئے اور انتہائی بےحیائی کے ساتھ ننگے مرد اور عورتیں ایک دوسرے کی شرم گاہوں کو اور پورے جسم کے اعضاء کو چومتے چاٹتے اور چوستے ہوئے دکھایا گیا ہوتا ہے یہ سب کبیرہ گناہ ہیں جوسب اداکار کرتے ہیں اور نیکی سمجھ کر کرتے ہیں اور اس کام کو اب کاروبار بنایا جا چکا ہے کافر ملکوں میں اور اب مسلمانوں کے ملکوں میں بھی تیزی سے اس کاروبار کو پھیلایا جا رہا ہے کہ حکومتیں اس کاروبار کو بند کرنے کی ہمت نہیں رکھتیں اور مسلمان حکومتوں کو مذہبی لوگوں کے خاتمے پر لگا دیا گیا ہے اس کام کو انڈیا امریکہ اور یورپ اور اسرائیل مسلمان ملکوں میں پھیلا رہے ہیں جو اس کاروبار کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کو دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے حکومتیں گرا دی جاتی ہیں جماعتیں کلعدم قرار دے دی جاتی ہیں اس لیے میں کہتا ہوں کہ مانا کہ سکول میں کالج میں یونیورسٹی میں پڑھنا چاہیے پر جہاد کا ہی ہر ایک پیریڈ ہونا چاہیے تاکہ عدل وانصاف قائم ہو سکے تاکہ امن و امان قائم ہو سکے کیوں کہ جہاد ہی ایک واحد راستہ ہے جس پر چل کر مسلمان غلبہ اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں لیکن آج کے مسلمان جہاد کو سمجھنے کے لیے ہی تیار نہیں ہیں میں ایک مثال کےذریعہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں جب میں کہتا ہوں جہاد کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے تو سب کا جواب مخالف اور مختلف ہی ہوتا ہے کوئی کہتا ہے کہ جہاد کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے ہمارے تو کھانے کمانے کے لالے پڑے ہوئے اور حلال کمانا اور ہیوی بچوں کو کھلانا اور والدین کی خدمت کرنا بھی تو جہاد ہے کوئی کہتا ہے کہ جہاد فرض عین نہیں ہے بلکہ فرض کفایہ ہے کوئی کہتا ہے کہ جہاد کرنا فوج کا کام ہے فوج کس لیے ہے کوئی کہتا ہے کہ میں جہاد کو مانتا ہوں پر میرے والدین بوڑھے ہیں اور میرے علاوہ ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں حالانکہ میرے دوسرے بھی تین چار بھائی ہیں لیکن سب اپنے اپنے بیوی بچوں کو لے کر علیحدہ ہوگئے ہیں وہ والدین کا خیال بلکل بھی نہیں رکھتےمیں ہی اپنے والدین کی دیکھ بھال کرتا ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اویس کرنی رضی اللہ تعالی عنہ کو کہا تھا کہ والدین کی خدمت کر یہی تمھارا جہاد ہے وغیرہ وغیرہ یہ سب ناسمجھی کی باتیں کرتے ہیں آج کل کے بہانے باز اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے وہ بلکل درست اور صحیح ہے مگر اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ جہاد کو چھوڑ دیا جائے بلکہ اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جہاد کرتے ہوئے امیر صاحب اگر والدین کی خدمت کا حکم دیں تو جا کر والدین کی خدمت پر لگ جانا چاہیے یہ بھی جہاد ہے کیونکہ اس وقت حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہی وقت کے امیر بھی تھے تو انھوں نے حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کی ڈیوٹی لگا دی تھی کہ تم اپنے والدین کی خدمت کرو یہی تمھارا جہاد ہے میں تو کہا کرتا ہوں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جہاد کرنا ہمارا کام نہیں ہے فوج کس لیے ہے ہم پرائیویٹ جہاد پر یقین نہیں رکھتے ہم گورنمنٹ جہاد پر یقین رکھتے ہیں میں ان سے یہ عرض کرنا چاہوں گا دنیا کا کافر سے کافر ملک بھی فوج رکھتا ہے تو کیا ان کافر ملکوں کو اللہ نے جہاد کا حکم دے رکھا ہے اس لیے انھوں فوجیں رکھی ہوئی ہیں نہیں نا لیکن مسلمانوں کو اللہ نے جہاد کرنے کا حکم دے رکھا ہے اس لیے جہاد کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے اس لیے حکومت کو جہاد کو لازم قرار دینا چاہیے اورجہاد کی تربیّت اور اسلحہ سازی کے مواقع ذیادہ سے ذیادہ فراہم کیے جانے چاہیں قریہ قریہ شہر شہر جہاد کی تربیّت اور اسلحہ سازی فیکٹریاں اور ٹریننگ سنٹر بنائے جانے چاہییں وگرنہ حکمران گناہ گار ہو جائیں گے اللہ ربّ العزّت کے۔۔۔۔۔ جاری ہے-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad farooq hassan

Read More Articles by muhammad farooq hassan: 40 Articles with 32168 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jul, 2016 Views: 618

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ